فہرست خطبات

1- معرفت باری تعالیٰ، زمین و آسمان اور آدمؑ کی خلقت، احکام و حج
2- عرب قبل از بعثت، اہل بیتؑ کی فضیلت اور ایک جماعت کی منقصت
3- (خطبہ شقشقیہ) خلفائے ثلاثہ کی حکومت کے بارے میں آپؑ کا نظریہ
4- آپکیؑ کی دوررس بصیرت، یقین کامل اور موسیؑ کا خوفزدہ ہونا
5- پیغمبرﷺ کے بعد جب ابو سفیان نے آپؑ کی بیعت کرنا چاہی
6- طلحہ و زبیر کے تعاقب سےآپؑ کو روکا گیا تو اس موقع پر فرمایا
7- منافقین کی حالت
8- جب زبیر نے یہ کہا میں نے دل سے بیعت نہ کی تھی تو آپؑ نے فرما
9- اصحاب جمل کا بوداپن
10- طلحہ و زبیر کے بارے میں
11- محمد بن حنفیہ کو آداب حرم کی تعلیم
12- عمل کا کردار اور مدار نیت پر ہے۔
13- بصرہ اور اہل بصرہ کی مذمت میں
14- اہل بصرہ کی مذمت میں
15- عثمان کی دی ہوئی جا گیریں جب پلٹا لیں تو فرمایا
16- جب اہل مدینہ نے آپؑ کے ہاتھ پر بیعت کی تو فرمایا
17- مسند قضا پر بیٹھنے والے نا اہلوں کی مذمت میں
18- علماء کے مختلف الاراء ہونے کی مذمت اور تصویب کی رد
19- اشعث بن قیس کی غداری و نفاق کا تذکرہ
20- موت کی ہولناکی اور اس سے عبرت اندوزی
21- دنیا میں سبکبار رہنے کی تعلیم
22- قتل عثمان کا الزام عائد کرنے والوں کے بارے میں
23- حسد سے باز رہنے اور عزیزو اقارب سے حسن سلوک کے بارے میں
24- جنگ پر آمادہ کرنے کے لیے فرمایا
25- بسر کے حملے کے بعد جنگ سے جی چرانے والوں سے فرمایا
26- عرب قبل از بعثت اور پیغمبرﷺ کے بعد دنیا کی بے رخی
27- جہاد پر برانگیختہ کرنےکے لیے فرمایا
28- دنیا کی بے ثباتی اور زاد آخرت کی اہمیت کا تذکرہ
29- جنگ کے موقعہ پر حیلے بہانے کرنے والوں کے متعلق فرمایا
30- قتل عثمان کے سلسلے میں آپؑ کی روش
31- جنگ جمل پہلے ابن عباس کو زبیر کے پاس جب بھیجنا
32- دنیا کی مذمت اور اہل دنیا کی قسمیں
33- جب جنگ جمل کے لیے روانہ ہوئے تو فرمایا
34- اہل شام کے مقابلے میں لوگوں کو آمادۂ جنگ کرنے کے لیے فرمایا
35- تحکیم کے بارے میں فرمایا
36- اہل نہروان کو ان کے انجام سے مطلع کرنے کے لیے فرمایا
37- اپنی استقامت دینی و سبقت ایمانی کے متعلق فرمایا
38- شبہہ کی وجہ تسمیہ اور دوستان خدا و دشمنان خدا کی مذمت
39- جنگ سے جی چرانے والوں کی مذمت میں
40- خوارج کے قول «لاحکم الا للہ» کے جواب میں فرمایا
41- غداری کی مذمت میں
42- نفسانی خواہشوں اور لمبی امیدوں کے متعلق فرمایا
43- جب ساتھیوں نے جنگ کی تیاری کے لیے کہا تو آپؑ نے فرمایا
44- جب مصقلہ ابن ہبیرہ معاویہ کے پاس بھاگ گیا تو آپؑ نے فرمایا
45- اللہ کی عظمت اور جلالت اور دنیا کی سبکی و بے وقاری کے متعلق
46- جب شام کی جانب روانہ ہوئے تو فرمایا
47- کوفہ پر وارد ہونے والی مصیبتوں کے متعلق فرمایا
48- جب شام کی طرف روانہ ہوئے تو فرمایا
49- اللہ کی عظمت و بزرگی کے بارے میں فرمایا
50- حق و باطل کی آمیزش کے نتائج
51- جب شامیوں نے آپؑ کے ساتھیوں پر پانی بند کر دیا تو فرمایا
52- دنیا کے زوال وفنا اور آخرت کے ثواب و عتاب کے متعلق فرمایا
53- گوسفند قربانی کے اوصاف
54- آپؑ کے ہاتھ پر بیعت کرنے والوں کا ہجوم
55- میدان صفین میں جہاد میں تاخیر پر اعتراض ہوا تو فرمایا
56- میدان جنگ میں آپؑ کی صبر و ثبات کی حالت
57- معاویہ کے بارے میں فرمایا
58- خوارج کےبارے میں آپؑ کی پیشینگوئی
59- خوارج کی ہزیمت کے متعلق آپؑ کی پیشینگوئی
60- جب اچانک قتل کر دیے جانے سے ڈرایا گیا تو آپؑ نے فرمایا
61- دنیا کی بے ثباتی کا تذکرہ
62- دنیا کے زوال و فنا کے سلسلہ میں فرمایا
63- صفات باری کا تذکرہ
64- جنگ صفین میں تعلیم حرب کےسلسلے میں فرمایا
65- سقیفہ بنی ساعدہ کی کاروائی سننے کے بعد فرمایا
66- محمد بن ابی بکرکی خبر شہادت سن کر فرمایا
67- اپنے اصحاب کی کجروی اور بے رخی کے بارے میں فرمایا
68- شب ضربت سحر کے وقت فرمایا
69- اہل عراق کی مذمت میں فرمایا
70- پیغمبرﷺ پر درود بھیجنے کا طریقہ
71- حسنینؑ کی طرف سے مروان کی سفارش کی گئی تو آپؑ نے فرمایا
72- جب لوگوں نے عثمان کی بیعت کا ارادہ کیا تو آپؑ نے فرمایا
73- قتل عثمان میں شرکت کا الزام آپؑ پر لگایا گیا تو فرمایا
74- پند و نصیحت کے سلسلے میں فرمایا
75- بنی امیہ کے متعلق فرمایا
76- دعائیہ کلمات
77- منجمین کی پیشینگوئی کی رد
78- عورتوں کے فطری نقائص
79- پند و نصیحت کے سلسلے میں فرمایا
80- اہل دنیا کے ساتھ دنیا کی روش
81- موت اور اس کے بعد کی حالت، انسانی خلقت کے درجات اور نصائح
82- عمرو بن عاص کے بارے میں
83- تنزیہ بازی اور پند و نصائح کے سلسلے میں فرمایا
84- آخرت کی تیاری اور احکام شریعت کی نگہداشت کے سلسلے میں فرمایا
85- دوستان خدا کی حالت اور علماء سوء کی مذمت میں فرمایا
86- امت کے مختلف گروہوں میں بٹ جانے کے متعلق فرمایا
87- بعثت سے قبل دنیا کی حالت پراگندگی اور موجودہ دور کے لوگ
88- صفات باری اور پند و موعظت کےسلسلے میں فرمایا
89- (خطبہ اشباح) آسمان و زمین کی خلقت
90- جب آپؑ کے ہاتھ پر بیعت ہوئی تو فرمایا
91- خوارج کی بیخ کنی اور اپنے علم کی ہمہ گیری و فتنہ بنی امیہ
92- خداوند عالم کی حمد و ثناء اور انبیاء کی توصیف میں فرمایا
93- بعثت کے وقت لوگوں کی حالت اور پیغمبرﷺ کی مساعی
94- نبی کریم ﷺ کی مدح و توصیف میں فرمایا
95- اپنے اصحاب کو تنبیہہ اور سرزنش کرتے ہوئے فرمایا
96- بنی امیہ اور ان کے مظالم کے متعلق فرمایا
97- ترکِ دینا اور نیرنگیٔ عالم کے سلسلہ میں فرمایا
98- اپنی سیرت و کردار اور اہل بیتؑ کی عظمت کے سلسلہ میں فرمایا
99- عبد الملک بن مروان کی تاراجیوں کے متعلق فرمایا
100- بعد میں پیدا ہونے والے فتنوں کے متعلق فرمایا
101- زہد و تقو یٰ اور اہل دنیا کی حالت کے متعلق فرمایا
102- بعثت سے قبل لوگوں کی حالت اور پیغمبر ﷺکی تبلیغ و ہدایت
103- پیغمبر اکرمﷺ کی مدح و توصیف اور فرائضِ امام کے سلسلہ میں
104- شریعت اسلام کی گرانقدری اور پیغمبرﷺ کی عظمت کے متعلق فرمایا
105- صفین میں جب حصہ لشکر کے قدم اکھڑنے کے جم گئے تو فرمایا
106- پیغمبرﷺ کی توصیف اور لوگوں کے گوناگون حالات کے بارے میں
107- خداوند عالم کی عظمت، ملائکہ کی رفعت ،نزع کی کیفیت اور آخرت
108- فرائضِ اسلام اور علم وعمل کے متعلق فرمایا
109- دنیا کی بے ثباتی کے متعلق فرمایا
110- ملک الموت کے قبضِ رُوح کرنے کے متعلق فرمایا
111- دنیا اور اہل دنیا کے متعلق فرمایا
112- زہد و تقویٰ اور زادِ عقبیٰ کی اہمیت کے متعلق
113- طلب باران کے سلسلہ میں فرمایا
114- آخرت کی حالت اور حجاج ابن یوسف ثقفی کے مظالم کے متعلق
115- خدا کی راہ میں جان و مال سے جہاد کرنے کے متعلق فرمایا
116- اپنے دوستوں کی حالت اور اپنی اولیت کے متعلق فرمایا
117- جب اپنے ساتھیوں کو دعوت جہاد دی اور وہ خاموش رہے تو فرمایا
118- اہل بیتؑ کی عظمت اور قوانین شریعت کی اہمیت کے متعلق فرمایا
119- تحکیم کے بارے میں آپؑ پر اعتراض کیا گیا تو فرمایا
120- جب خوارج تحکیم کے نہ ماننے پر اڑ گئے تو احتجاجاً فرمایا
121- جنگ کے موقع پر کمزور اور پست ہمتوں کی مدد کرنے کی سلسلہ میں
122- میدان صفین میں فنونِ جنگ کی تعلیم دیتے ہوئے فرمایا
123- تحکیم کو قبول کرنے کے وجوہ و اسباب
124- بیت المال کی برابر کی تقسیم پر اعتراض ہوا تو فرمایا
125- خوارج کے عقائد کے رد میں
126- بصرہ میں ہونے والے فتنوں، تباہ کاریوں اور حملوں کے متعلق
127- دنیا کی بے ثباتی اور اہل دنیا کی حالت
128- حضرت ابوذر کو مدینہ بدر کیا گیا تو فرمایا
129- خلافت کو قبول کرنے کی وجہ اور والی و حاکم کے اوصاف
130- موت سے ڈرانے اور پند و نصیحت کے سلسلہ میں فرمایا
131- خداوند ِعالم کی عظمت، قرآن کی اہمیت اور پیغمبرﷺ کی بعثت
132- جب مغیرہ بن اخنس نے عثمان کی حمایت میں بولنا چاہا تو فرمایا
133- غزوہ روم میں شرکت کے لیے مشورہ مانگا گیا تو فرمایا
134- اپنی نیت کے اخلاص اور مظلوم کی حمایت کے سلسلہ میں فرمایا
135- طلحہ و زبیر اور خونِ عثمان کے قصاص اور اپنی بیعت کے متعلق
136- ظہورِ حضرت قائم علیہ السلام کے وقت دُنیا کی حالت
137- شوریٰ کے موقع پر فرمایا
138- غیبت اور عیب جوئی سے ممانعت کے سلسلہ میں فرمایا
139- سُنی سُنائی باتوں کو سچا نہ سمجھنا چاہئے
140- بے محل داد و دہش سے ممانعت اور مال کا صحیح مصرف
141- طلبِ باران کے سلسلہ میں فرمایا
142- اہل بیتؑ راسخون فی العلم ہیں اور وہی امامت وخلافت کے اہل ہیں
143- دُنیا کی اہل دُنیا کے ساتھ روش اور بدعت و سنت کا بیان
144- جب حضرت عمر نے غزوہ فارس کیلئے مشورہ لیا تو فرمایا
145- بعثتِ پیغمبر کی غرض و غایت اور اُس زمانے کی حالت
146- طلحہ وزبیر کے متعلق فرمایا
147- موت سے کچھ قبل بطور وصیّت فرمایا
148- حضرت حجتؑ کی غیبت اور پیغمبرﷺ کے بعد لوگوں کی حالت
149- فتنوں میں لوگوں کی حالت اور ظلم اور اکل حرام سے اجتناب
150- خداوند عالم کی عظمت و جلالت کا تذکرہ اور معرفت امام کے متعلق
151- غفلت شعاروں، چوپاؤں، درندوں اور عورتوں کے عادات و خصائل
152- اہل بیتؑ کی توصیف، علم وعمل کا تلازم اور اعمال کا ثمرہ
153- چمگادڑ کی عجیب و غریب خلقت کے بارے میں
154- حضرت عائشہ کے عناد کی کیفیت اور فتنوں کی حالت
155- دُنیا کی بے ثباتی، پندو موعظت اور اعضاء و جوارح کی شہادت
156- بعثت پیغمبرﷺ کا تذکرہ، بنی اُمیّہ کے مظالم اور ان کا انجام
157- لوگوں کے ساتھ آپ کا حُسنِ سلوک اور ان کی لغزشوں سے چشم پوشی
158- خداوندِعالم کی توصیف ،خوف ورجاء، انبیاءؑ کی زندگی
159- دین اسلام کی عظمت اور دُنیا سے درس عبرت حاصل کرنے کی تعلیم
160- حضرتؑ کو خلافت سے الگ رکھنے کے وجوہ
161- اللہ کی توصیف، خلقت انسان اور ضروریات زندگی کی طرف رہنمائی
162- امیرالمومنینؑ کا عثمان سے مکالمہ اور ان کی دامادی پر ایک نظر
163- مور کی عجیب و غریب خلقت اور جنّت کے دلفریب مناظر
164- شفقت و مہربانی اور ظاہر و باطن کی تعلیم اور بنی امیہ کا زوال
165- حقوق و فرائض کی نگہداشت اور تمام معاملات میں اللہ سے خوف
166- جب لوگوں نے قاتلین عثمان سے قصاص لینے کی فرمائش کی تو فرمایا
167- جب اصحاب جمل بصرہ کی جانب روانہ ہوئے تو فرمایا
168- اہل بصرہ سے تحقیق حال کے لئے آنے والے شخص سے فرمایا
169- صفین میں جب دشمن سے دوبدو ہوکر لڑنے کا ارادہ کیا تو فرمایا
170- جب آپؑ پر حرص کا الزام رکھا گیا تو اس کی رد میں فرمایا
171- خلافت کا مستحق کون ہے اور ظاہری مسلمانوں سے جنگ کرنا
172- طلحہ بن عبیداللہ کے بارے میں فرمایا
173- غفلت کرنے والوں کو تنبیہ اور آپؑ کے علم کی ہمہ گیری
174- پند دو موعظت، قرآن کی عظمت اور ظلم کی اقسام
175- حکمین کے بارے میں فرمایا
176- خداوند عالم کی توصیف، دُنیا کی بے ثباتی اور اسباب زوال نعمت
177- جب پوچھا گیا کہ کیا آپؑ نے خدا کو دیکھا ہے تو فرمایا
178- اپنے اصحاب کی مذمت میں فرمایا
179- خوارج سے مل جانے کا تہیّہ کرنے والی جماعت سے فرمایا
180- خداوند عالم کی تنزیہ و تقدیس اور قدرت کی کا ر فرمائی
181- خداوند عالم کی توصیف، قرآن کی عظمت اور عذاب آخرت سے تخویف
182- جب «لا حکم الا اللہ» کا نعرہ لگایا گیا تو فرمایا
183- خداوند عالم کی عظمت و توصیف اور ٹڈی کی عجیب و غریب خلقت
184- مسائل الٰہیات کے بُنیادی اُصول کا تذکرہ
185- فتنوں کے ابھرنے اور رزقِ حلال کے ناپید ہو جانے کے بارے میں
186- خداوند عالم کے احسانات، مرنے والوں کی حالت اور بے ثباتی دنیا
187- پختہ اور متزلزل ایمان اور دعویٰ سلونی «قبل ان تفقدونی»
188- تقویٰ کی اہمیت، ہولناکی قبر، اللہ، رسول اور اہل بیت کی معرفت
189- خداوند عالم کی توصیف، تقویٰ کی نصیحت، دنیا اور اہل دنیا
190- (خطبہ قاصعہ) جس میں ابلیس کی مذمت ہے۔
191- متقین کے اوصاف اور نصیحت پذیر طبیعتوں پر موعظت کا اثر
192- پیغمبر ﷺکی بعثت، قبائلِ عرب کی عداوت اور منافقین کی حالت
193- خداوند عالم کی توصیف، تقویٰ کی نصیحت اور قیامت کی کیفیت
194- بعثتِ پیغمبرؐ کے وقت دنیا کی حالت، دنیا کی بے ثباتی
195- حضورﷺ کے ساتھ آپؑ کی خصوصیات اور حضور ﷺ کی تجہیز و تکفین
196- خداوند عالم کے علم کی ہمہ گیری، تقویٰ کے فوائد
197- نماز، زکوٰة اور امانت کے بارے میں فرمایا
198- معاویہ کی غداری و فریب کاری اور غداروں کا انجام
199- راہ ہدایت پر چلنے والوں کی کمی اور قوم ثمود کا تذکرہ
200- جناب سیدہ سلام اللہ علیہا کے دفن کے موقع پر فرمایا
201- دنیا کی بے ثباتی اور زاد آخرت مہیا کرنے کے لیے فرمایا
202- اپنے اصحاب کو عقبیٰ کے خطرات سے متنبہ کرتے ہوئے فرمایا
203- طلحہ و زبیر نے مشورہ نہ کرنے کا شکوہ کیا تو فرمایا
204- صفین میں شامیوں پر شب و ستم کیا گیا تو فرمایا
205- جب امام حسنؑ صفین کے میدان میں تیزی سے بڑھے تو فرمایا
206- صفین میں لشکر تحکیم کے سلسلہ میں سرکشی پر اُتر آیا تو فرمایا
207- علاء ابن زیاد حارثی کی عیادت کو موقع پر فرمایا
208- اختلاف احادیث کے وجوہ و اسباب اور رواة حدیث کے اقسام
209- خداوند عالم کی عظمت اور زمین و آسمان اور دریاؤں کی خلقت
210- حق کی حمایت سے ہاتھ اٹھا لینے والوں کے بارے میں فرمایا
211- خداوند عالم کی عظمت اور پیغمبرؐ کی توصیف و مدحت
212- پیغمبرﷺ کی خاندانی شرافت اور نیکو کاروں کے اوصاف
213- آپؑ کے دُعائیہ کلمات
214- حکمران اور رعیّت کے باہمی حقوق کے بارے میں فرمایا
215- قریش کے مظالم کے متعلق فر مایا اور بصرہ پر چڑھائی کے متعلق
216- طلحہ اور عبد الرحمن بن عتاب کو مقتول دیکھا تو فرمایا
217- متقی و پرہیزگار کے اوصاف
218- ”الہاکم التکاثر حتی زرتم المقابر“ کی تلاوت کے وقت فرمایا
219- ” رجال لا تلہیھم تجارة و لا بیع عن ذکر اللہ “ کی تلاوت کے وق
220- ” یا اٴیھا الانسان ما غرّک بربک الکریم “ کی تلاوت کے وقت فرم
221- ظلم و غصب سے کنارہ کشی، عقیل کی حالت فقر و احتیاج، اور اشعث
222- آپؑ کے دُعائیہ کلمات
223- دنیا کی بے ثباتی اور اہل قبور کی حالت بے چارگی
224- آپؑ کے دُعائیہ کلمات
225- انتشار و فتنہ سے قبل دنیا سے اٹھ جانے والوں کے متعلق فرمایا
226- اپنی بیعت کے متعلق فرمایا
227- تقویٰ کی نصیحت موت سے خائف رہنے اور زہد اختیار کرنے کے متعلق
228- جب بصرہ کی طرف روانہ ہوئے تو فرمایا
229- عبد اللہ ابن زمعہ نے آپؑ سے مال طلب کیا تو فرمایا
230- جب جعدہ ابن ہبیرہ خطبہ نہ دے سکے تو فرمایا
231- لوگوں کے اختلاف صورت و سیرت کی وجوہ و اسباب
232- پیغمبر ﷺ کو غسل و کفن دیتے وقت فرمایا
233- ہجرتِ پیغمبر ﷺ کے بعد اُن کے عقب میں روانہ ہونے کے متعلق
234- زادِ آخرت مہیا کرنے اور موت سے پہلے عمل بجا لانے کے متعلق
235- حکمین کے بارے میں فرمایا اور اہل شام کی مذمت میں فرمایا
236- آلِ محمدؑ کی توصیف اور روایت میں عقل و درایت سے کام لینا
237- جب عثمان نے ینبع چلے جانے کے لیے پیغام بھجوایا تو فرمایا
238- اصحاب کو آمادہ جنگ کرنے اور آرام طلبی سے بچنے کے لئے فرمایا

Quick Contact

ہمارا ایک حق ہے اگر وہ ہمیں دیا گیا تو ہم لے لینگے، ورنہ ہم اونٹ کے پیچھے والے پٹھوں پر سوار ہوں گے۔ اگرچہ شب روی طویل ہو۔ حکمت 21
(٩٥) وَ مِنْ كَلَامٍ لَّهٗ عَلَیْهِ السَّلَامُ
خطبہ (۹۵)
وَ لَئِنْ اَمْهَلَ اللهُ الظَّالِمَ فَلَنْ یَفُوْتَ اَخْذُهٗ، وَ هُوَ لَهٗ بِالْمِرْصَادِ عَلٰی مَجَازِ طَرِیْقِهٖ، وَ بِمَوْضِعِ الشَّجَا مِنْ مَّسَاغِ رِیْقِهٖ.
اگر اللہ نے ظالم کو مہلت دے رکھی ہے تو اس کی گرفت سے تو وہ ہرگز نہیں نکل سکتا اور وہ اس کی گزر گاہ اور گلے میں ہڈی پھنسنے کی جگہ پر موقع کا منتظر ہے۔
اَمَا وَ الَّذِیْ نَفْسِیْ بِیَدِهٖ! لَیَظْهَرَنَّ هٰٓؤُلَآءِ الْقَوْمُ عَلَیْكُمْ، لَیْسَ لِاَنَّهُمْ اَوْلٰی بِالْحَقِّ مِنْكُمْ، وَ لٰكِنْ لِّاِسْرَاعِهِمْ اِلٰی بَاطِلِ صَاحِبِهِمْ، وَ اِبْطَآئِكُمْ عَنْ حَقِّیْ.
اس ذات کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے! یہ قوم (اہل شام) تم پر غالب آ کر رہے گی۔ اس لئے نہیں کہ ان کا حق تم سے فائق ہے، بلکہ اس لئے کہ وہ اپنے ساتھی (معاویہ) کی طرف باطل پر ہونے کے باوجود تیزی سے لپکتے ہیں اور تم میرے حق پر ہونے کے باوجود سستی کرتے ہو۔
وَ لَقَدْ اَصْبَحَتِ الْاُمَمُ تَخَافُ ظُلْمَ رُعَاتِهَا، وَ اَصْبَحْتُ اَخَافُ ظُلْمَ رَعِیَّتِیْ. اَسْتَنْفَرْتُكُمْ لِلْجِهَادِ فَلَمْ تَنْفِرُوْا، وَ اَسْمَعْتُكُمْ فَلَمْ تَسْمَعُوْا، وَ دَعَوْتُكُمْ سِرًّا وَّ جَهْرًا فَلَمْ تَسْتَجِیْبُوْا، وَ نَصَحْتُ لَكُمْ فَلَمْ تَقْبَلُوْا. اَ شُهُوْدٌ كَغُیَّابٍ، وَ عَبِیْدٌ كَاَرْبَابٍ؟!.
رعیتیں [۱] اپنے حکمرانوں کے ظلم و جور سے ڈرا کرتی تھیں اور میں اپنی رعیت کے ظلم سے ڈرتا ہوں۔ میں نے تمہیں جہاد کیلئے ابھارا لیکن تم (اپنے گھروں سے) نہ نکلے۔ میں نے تمہیں (کارآمد باتوں کو) سنانا چاہا مگر تم نے ایک نہ سنی اور میں نے پوشیدہ بھی اور علانیہ بھی تمہیں جہاد کیلئے پکارا اور للکارا لیکن تم نے ایک نہ مانی اور سمجھایا بجھایا مگر تم نے میری نصیحتیں قبول نہ کیں۔ کیا تم موجود ہوتے ہوئے بھی غائب رہتے ہو؟ حلقہ بگوش ہوتے ہوئے گویا خود مالک ہو؟۔
اَتْلُوْا عَلَیْكُمُ الْحِكَمَ فَتَنْفِرُوْنَ مِنْهَا، وَ اَعِظُكُمْ بِالْمَوْعِظَةِ الْبَالِغَةِ فَتَتَفَرَّقُوْنَ عَنْهَا، وَ اَحُثُّكُمْ عَلٰی جِهَادِ اَهْلِ الْبَغْیِ فَمَاۤ اٰتِیْ عَلٰۤی اٰخِرِ قَوْلِیْ حَتّٰۤی اَرَاكُمْ مُتَفَرِّقِیْنَ اَیَادِیَ سَبَا، تَرْجِعُوْنَ اِلٰی مَجَالِسِكُمْ، وَ تَتَخَادَعُوْنَ عَنْ مَّوَاعِظِكُمْ، اُقَوِّمُكُمْ غُدْوَةً، وَ تَرْجِعُوْنَ اِلَیَّ عَشِیَّةً، كَظَهْرِ الْحَنِیَّةِ، عَجَزَ الْمُقَوِّمُ، وَ اَعْضَلَ الْمُقَوَّمُ.
میں تمہارے سامنے حکمت اور دانائی کی باتیں بیان کرتا ہوں اور تم ان سے بھڑکتے ہو۔ تمہیں بلند پایہ نصیحتیں کرتا ہوں اور تم پراگندہ خاطر ہو جاتے ہو۔ میں ان باغیوں سے جہاد کرنے کیلئے تمہیں آمادہ کرتا ہوں تو ابھی میری بات ختم بھی نہیں ہوتی کہ میں دیکھتا ہوں کہ تم اولادِ سبا [۲] کی طرح تتر بتر ہو کر اپنی نشست گاہوں کی طرف واپس چلے جاتے ہو اور ان نصیحتوں سے غافل ہو کر ایک دوسرے کے چکمے میں آ جاتے ہو۔ صبح کو میں تمہیں سیدھا کرتا ہوں اور شام کو جب آتے ہو تو (ویسے کے ویسے) کمان کی پشت کی طرح ٹیڑھے۔ سیدھا کرنے والا عاجز آ گیا اور جسے سیدھا کیا جا رہا ہے وہ لاعلاج ثابت ہوا۔
اَیُّهَا الشَّاهِدَةُ اَبْدَانُهُمْ، الْغَآئِبَةُ عَنْهُمْ عُقُوْلُهُمْ، الْمُخْتَلِفَةُ اَهْوَآئُهُمْ، الْمُبْتَلٰی بِهمْ اُمَرَآئُهُمْ! صَاحِبُكُمْ یُطِیْعُ اللهَ وَ اَنْتُمْ تَعْصُوْنَهٗ، وَ صَاحِبُ اَهْلِ الشَّامِ یَعْصِی اللهَ وَ هُمْ یُطِیْعُوْنَهٗ، لَوَدِدْتُّ وَاللهِ! اَنَّ مُعَاوِیَةَ صَارَفَنِیْ بِكُمْ صَرْفَ الدِّیْنَارِ بِالدِّرْهَمِ، فَاَخَذَ مِنِّیْ عَشَرَةً مِّنْكُمْ وَ اَعْطَانِیْ رَجُلًا مِّنْهُمْ!.
اے وہ لوگو جن کے جسم تو حاضر ہیں اور عقلیں غائب اور خواہشیں جُدا جدا ہیں، ان پر حکومت کرنے والے ان کے ہاتھوں آزمائش میں پڑے ہوئے ہیں، تمہارا حاکم اللہ کی اطاعت کرتا ہے اور تم اس کی نافرمانی کرتے ہو اور اہل شام کا حاکم اللہ کی نافرمانی کرتا ہے مگر وہ اس کی اطاعت کرتے ہیں۔ خدا کی قسم! میں یہ چاہتا ہوں کہ معاویہ تم میں سے دس مجھ سے لے لے اور بدلے میں اپنا ایک آدمی مجھے دے دے، جس طرح دینار کا تبادلہ درہموں سے ہوتا ہے۔
یَاۤ اَهْلَ الْكُوْفَةِ! مُنِیْتُ مِنْكُمْ بِثَلَاثٍ وَّ اثنَتَیْنِ: صُمٌّ ذَوُوْ اَسْمَاعٍ، وَ بُكُمٌ ذَوُوْ كَلَامٍ، وَ عُمْیٌ ذَوُوْۤ اَبْصَارٍ، لَاۤ اَحْرَارُ صِدْقٍ عِنْدَ اللِّقَآءِ، وَ لَاۤ اِخْوَانُ ثِقَةٍ عِنْدَ الْبَلَآءِ! تَرِبَتْ اَیْدِیْكُمْ! یَاۤ اَشْبَاهَ الْاِبِلِ غَابَ عَنْهَا رُعَاتُهَا! كُلَّمَا جُمِعَتْ مِنْ جَانِبٍ تَفَرَّقَتْ مِنْ جَانِبٍ اٰخَرَ، وَاللهِ! لَكَاَنِّیْ بِكُمْ فِیْمَاۤ اِخَالُ: اَنْ لَّوْ حَمِسَ الْوَغٰی، وَ حَمِیَ الضِّرَابُ، قَدِ انْفَرَجْتُمْ عَنِ ابْنِ اَبِیْ طَالِبٍ انْفِرَاجَ الْمَرْاَةِ عَنْ قُبُلِهَا، وَ اِنِّیْ لَعَلٰی بَیِّنَةٍ مِّنْ رَّبِّیْ، وَ مِنْهَاجٍ مِّنْ نَّبِیِّیْ، وَ اِنِّیْ لَعَلَی الطَّرِیْقِ الْوَاضِحِ اَلْقُطُهٗ لَقْطًا.
اے اہل کوفہ! میں تمہاری تین اور ان کے علاوہ دو باتوں میں مبتلا ہوں۔ پہلے تو یہ کہ تم کان رکھتے ہوئے بہرے ہو اور بولنے چالنے کے باوجود گونگے ہو اور آنکھیں ہوتے ہوئے اندھے ہو، اور پھر یہ کہ نہ تم جنگ کے موقعہ پر سچے جواں مرد ہو اور نہ قابل اعتماد بھائی ہو۔ اے ان اونٹوں کی چال ڈھال والو کہ جن کے چرواہے گم ہو چکے ہوں اور انہیں ایک طرف سے گھیر کر لایا جاتا ہے تو دوسری طرف سے بکھر جاتے ہیں، خدا کی قسم! جیسا کہ میرا تمہارے متعلق خیال ہے، گویا یہ منظر میرے سامنے ہے کہ اگر جنگ شدت اختیار کر لے اور میدان کارزار گرم ہو جائے تو تم ابن ابی طالب علیہ السلام سے ایسے شرمناک طریقے پر علیحدہ ہو جاؤ گے جیسے عورت بالکل برہنہ ہو جائے۔ میں اپنے پروردگار کی طرف سے روشن دلیل اور اپنے نبی ﷺ کے طریقے اور شاہراہ حق پر ہوں جسے میں باطل کے راستوں میں سے ڈھونڈ ڈھونڈ کر پاتا رہتا ہوں۔
اُنْظُرُوْۤا اَهْلَ بَیْتِ نَبِیِّكُمْ فَالْزَمُوْا سَمْتَهُمْ، وَ اتَّبِعُوْۤا اَثَرَهُمْ فَلَنْ یُّخْرِجُوْكُمْ مِنْ هُدًی، وَ لَنْ یُّعِیْدُوْكُمْ فِیْ رَدًی، فَاِنْ لَّبَدُوْا فَالْبُدُوْا، وَ اِنْ نَّهَضُوْا فَانْهَضُوْا، وَ لَا تَسْبِقُوْهُمْ فَتَضِلُّوْا، وَ لَا تَتَاَخَّرُوْا عَنْهُمْ فَتَهْلِكُوْا.
اپنے نبی ﷺ کے اہل بیت علیہم السلام کو دیکھو، ان کی سیرت پر چلو اور ان کے نقش قدم کی پیروی کرو۔ وہ تمہیں ہدایت سے باہر نہیں ہونے دیں گے اور نہ گمراہی و ہلاکت کی طرف پلٹائیں گے۔ اگر وہ کہیں ٹھہریں تو تم بھی ٹھہر جاؤ اور اگر وہ اٹھیں تو تم بھی اٹھ کھڑے ہو۔ ان سے آگے نہ بڑھ جاؤ ورنہ گمراہ ہو جاؤ گے اور نہ (انہیں چھوڑ کر) پیچھے رہ جاؤ ورنہ تباہ ہو جاؤ گے۔
لَقَدْ رَاَیْتُ اَصْحَابَ مُحَمَّدٍ ﷺ، فَمَاۤ اَرٰی اَحَدًا مِنْكُمْ یُشْبِهُهُمْ! لَقَدْ كَانُوْا یُصْبِحُوْنَ شُعْثًا غُبْرًا، قَدْ بَاتُوْا سُجَّدًا وَّ قِیَامًا، یُرَاوِحُوْنَ بَیْنَ جِبَاهِهِمْ وَ خُدُوْدِهِمْ، وَ یَقِفُوْنَ عَلٰی مِثْلِ الْجَمْرِ مِنْ ذِكْرِ مَعَادِهِمْ! كَاَنَّ بَیْنَ اَعْیُنِهِمْ رُكَبَ الْمِعْزٰی مِنْ طُوْلِ سُجُوْدِهِمْ! اِذَا ذُكِرَ اللهُ هَمَلَتْ اَعْیُنُهُمْ حَتّٰی تَبُلَّ جُیُوْبَهُمْ، وَ مَادُوْا كَمَا یَمِیْدُ الشَّجَرُ یَوْمَ الرِّیْحِ الْعَاصِفِ، خَوْفًا مِّنَ الْعِقَابِ، وَ رَجَآءً لِلثَّوَابِ!.
میں نے محمد ﷺ کے خاص خاص اصحاب دیکھے ہیں۔ مجھے تو تم میں سے ایک بھی ایسا نظر نہیں آتا جو ان کے مثل ہو۔ وہ اس عالم میں صبح کرتے تھے کہ ان کے بال بکھرے ہوئے اور چہرے خاک سے اَٹے ہوتے تھے جب کہ رات کو وہ سجود و قیام میں کاٹ چکے ہوتے تھے، اس عالم میں کہ کبھی پیشانیاں سجدے میں رکھتے تھے اور کبھی رخسار، اور حشر کی یاد سے اس طرح (بے چین رہتے تھے کہ) جیسے انگاروں پر ٹھہرے ہوئے ہوں، اور لمبے سجدوں کی وجہ سے ان کی آنکھوں کے درمیان (پیشانیوں پر) بکری کے گھٹنوں ایسے گٹے پڑے ہوئے تھے۔ جب بھی ان کے سامنے اللہ کا ذکر آ جاتا تھا تو ان کی آنکھیں برس پڑتی تھیں، یہاں تک کہ ان کے گریبانوں کو بھگو دیتی تھیں۔ وہ اس طرح کانپتے رہتے تھے جس طرح تیز جھکڑ والے دن درخت تھرتھراتے ہیں، سزا کے خوف اور ثواب کی امید میں۔

۱؂پیغمبر ﷺ کے بعد جو فضا پیدا کر دی گئی تھی اس میں اہل بیت علیہم السلام کیلئے گوشہ گزینی کے سوا کوئی چارہ نہ تھا جس کی وجہ سے دنیا ان کے اصلی خد و خال سے بیگانہ اور ان کے علوم و کمالات سے نا آشنا ہو کر رہ گئی اور انہیں نظروں سے گرانا اور اقتدار سے الگ رکھنا ہی اسلام کی سب سے بڑی خدمت تصور کر لیا گیا۔ اگر حضرت عثمان کی کھلم کھلا بے عنوانیاں مسلمانوں کو کروٹ لینے اور آنکھ کھولنے کا موقع نہ دیتیں تو ان کے بعد بھی امیر المومنین علیہ السلام کی بیعت کا کوئی سوال پیدا نہ ہوتا تھا، بلکہ اقتدار جس رخ پر بڑھ رہا تھا اسی رخ پر بڑھتا رہتا۔ لیکن جن لوگوں کا اس سلسلہ میں نام لیا جا سکتا تھا وہ اپنے دامن و بند قبا کو دیکھ کر آگے بڑھنے کی جرأت نہ کرتے تھے اور معاویہ مرکز سے دور اپنی راجدھانی میں بیٹھا ہوا تھا۔ ان حالات میں امیر المومنین علیہ السلام کے سوا کوئی ایسا نہ تھا جس کی طرف نظریں اٹھتیں۔ چنانچہ نگاہیں آپؑ کے گرد طواف کرنے لگیں اور وہی عوام جو سیلاب کے بہاؤ اور ہوا کا رخ دیکھ کر دوسروں کی بیعت کرتے رہے تھے، آپؑ کے ہاتھوں پر بیعت کیلئے ٹوٹ پڑے۔ لیکن یہ بیعت اس حیثیت سے نہ تھی کہ وہ آپؑ کی خلافت کو منجانب اللہ اور آپؑ کو امام مفترض الطاعۃ سمجھ رہے ہوں، بلکہ انہی کے قرار دادہ اصول کے ماتحت تھی جسے جمہوری و شورائی قسم کے ناموں سے یاد کیا جاتا تھا۔ البتہ ایک گروہ ایسا تھا جو آپؑ کی خلافت کو نصّی سمجھتے ہوئے دینی فریضہ کی حیثیت سے بیعت کر رہا تھا، ورنہ اکثریت تو آپؑ کو دوسرے خلفاء کی طرح ایک فرمانروا اور بلحاظ فضیلت چوتھے درجہ پر یا خلفائے ثلاثہ کے بعد عام صحابہ کی سطح پر سمجھتی تھی اور چونکہ رعیت، فوج اور عہدہ دار سابقہ حکمرانوں کے عقائد و اعمال سے متاثر اور ان کے رنگ میں رنگے ہوئے تھے، اس لئے جب کوئی بات اپنی منشا کے خلاف پاتے تو بگڑتے، الجھتے، جنگ سے جی چراتے اور سرکشی و نافرمانی پر اتر آتے تھے۔ اور پھر جس طرح پیغمبر ﷺ کے ساتھ شریک جہاد ہونے والے کچھ دنیا کے طلبگار تھے اور کچھ آخرت کے، اسی طرح یہاں بھی دنیا پرستوں کی کمی نہ تھی جو بظاہر امیر المومنین علیہ السلام سے ملے ہوئے تھے اور درپردہ معاویہ سے ساز باز رکھتے تھے جس نے ان میں سے کسی سے منصب کا وعدہ کر رکھا تھا اور کسی کو دولت کا لالچ دے رکھا تھا۔
ان لوگوں کو شیعانِ امیر المومنین علیہ السلام قرار دے کر شیعیت کو مورد الزام ٹھہرانا حقائق سے چشم پوشی کرنا ہے جب کہ ان لوگوں کا مسلک وہی ہو سکتا ہے جو امیر المومنین علیہ السلام کو چوتھے درجہ پر سمجھنے والوں کا ہونا چاہئے۔ چنانچہ ابن ابی الحدید ان لوگوں کے مسلک و مذہب پر واشگاف لفظوں میں روشنی ڈالتے ہیں:
وَ مَنْ تَاَمَّلَ اَحْوَالَهٗ ؑ فِیْ خِلَافَتِهٖ - عَلِمَ اَنَّهٗ كَانَ كَالْمَحْجُوْرِ عَلَيْهِ - لَا يَتَمَكَّنُ مِنْۢ بُلُوْغِ مَا فِیْ نَفْسِهٖ،- وَ ذٰلِكَ لِاَنَّ الْعَارِفِيْنَ بِحَقِيْقَةِ حَالِهٖ كَانُوْا قَلِيْلِيْنَ - وَ كَانَ السَّوَادُ الْاَعْظَمُ - لَا يَعْتَقِدُوْنَ فِيْهِ الْاَمْرَ الَّذِیْ يَجِبُ اعْتِقَادُهٗ فِيْهِ،- وَ يَرَوْنَ تَفْضِيْلَ مَنْ تَقَدَّمَهٗ مِنَ الْخُلَفَآءِ عَلَيْهِ- وَ يَظُنُّوْنَ اَنَّ الْاَفْضَلِيَّةَ اِنَّمَا هِیَ الْخِلَافَةُ- وَ يُقَلِّدُ اَخْلَافُهُمْ اَسْلَافَهُمْ - وَ يَقُوْلُوْنَ لَوْ لَا اَنَّ الْاَوَآئِلَ عَلِمُوْا - فَضْلَ الْمُتَقَدِّمِيْنَ عَلَيْهِ لَمَا قَدَّمُوْهُمْ - وَ لَا يَرَوْنَهٗ اِلَّا بِعَيْنِ التَبَعِيَّةِ لِمَنْ سَبَقَهٗ - وَ اَنَّهٗ كَانَ رَعِيَّةً لَّهُمْ - وَ اَكْثَرُهُمْ اِنَّمَا يُحَارِبُ مَعَهٗ بِالْحَمِيَّةِ - وَ بِنَخْوَةِ الْعَرَبِيَّةِ، لَا بِالدِّيْنِ وَ الْعَقِيْدَةِ-.
جو شخص امیر المومنین علیہ السلام کے زمانہ خلافت کے واقعات کو گہری نظروں سے دیکھے گا، وہ اس امر کو جان لے گا کہ امیر المومنین علیہ السلام مجبور و بے بس بنا دیئے گئے تھے۔ کیونکہ آپؑ کی حقیقی منزلت کے پہچاننے والے بہت کم تھے اور سوادِ اعظم آپؑ کے بارے میں وہ اعتقاد نہ رکھتا تھا جو اعتقاد آپؑ کے متعلق رکھنا واجب و ضروری تھا۔ وہ پہلے خلفاء کو آپؑ پر فضیلت دیتے تھے اور یہ خیال کرتے تھے کہ فضیلت کا معیار خلافت ہے اور اس مسئلہ میں بعد والے اگلوں کی تقلید و پیروی کرتے تھے اور یہ کہتے تھے کہ اگر پہلے لوگوں کو یہ علم نہ ہوتا کہ پہلے خلفاء آپؑ پر فضیلت رکھتے تھے تو وہ آپؑ پر انہیں مقدم نہ کرتے اور یہ لوگ تو آپؑ کو ایک تابع اور ان کی رعیت کی حیثیت سے جانتے پہچانتے تھے اور جو لوگ آپؑ کے ساتھ شریک ہو کر جنگ کرتے تھے، ان میں اکثر حمیت اور عربی عصبیت کے پیش نظر شریک جنگ ہوتے تھے، نہ کہ دین اور عقیدہ کی بنا پر۔[۱]
’’سبا ابن یشجب ابن یعرب ابن قحطان‘‘ کی اولاد قبیلہ ’’سبا‘‘ کے نام سے موسوم ہے۔ جب ان لوگوں نے انبیاء علیہم السلام کو جھٹلانا شروع کیا تو قدرت نے انہیں جھنجوڑنے کیلئے ان پر پانی کا سیلاب مسلّط کر دیا جس سے ان کے باغات تہہ آب ہو گئے اور وہ خود گھربار چھوڑ کر مختلف شہروں میں بکھر گئے۔ اس واقعہ سے یہ مثل چل نکلی اور جہاں کہیں لوگ اس طرح جدا ہو جائیں کہ پھر مجتمع ہونے کی توقع نہ رہے تو یہ مثل استعمال کی جاتی ہے۔

[۱]۔ شرح ابن ابی الحدید، ج ۷، ص ۷۲۔