فہرست خطبات

1- معرفت باری تعالیٰ، زمین و آسمان اور آدمؑ کی خلقت، احکام و حج
2- عرب قبل از بعثت، اہل بیتؑ کی فضیلت اور ایک جماعت کی منقصت
3- (خطبہ شقشقیہ) خلفائے ثلاثہ کی حکومت کے بارے میں آپؑ کا نظریہ
4- آپکیؑ کی دوررس بصیرت، یقین کامل اور موسیؑ کا خوفزدہ ہونا
5- پیغمبرﷺ کے بعد جب ابو سفیان نے آپؑ کی بیعت کرنا چاہی
6- طلحہ و زبیر کے تعاقب سےآپؑ کو روکا گیا تو اس موقع پر فرمایا
7- منافقین کی حالت
8- جب زبیر نے یہ کہا میں نے دل سے بیعت نہ کی تھی تو آپؑ نے فرما
9- اصحاب جمل کا بوداپن
10- طلحہ و زبیر کے بارے میں
11- محمد بن حنفیہ کو آداب حرم کی تعلیم
12- عمل کا کردار اور مدار نیت پر ہے۔
13- بصرہ اور اہل بصرہ کی مذمت میں
14- اہل بصرہ کی مذمت میں
15- عثمان کی دی ہوئی جا گیریں جب پلٹا لیں تو فرمایا
16- جب اہل مدینہ نے آپؑ کے ہاتھ پر بیعت کی تو فرمایا
17- مسند قضا پر بیٹھنے والے نا اہلوں کی مذمت میں
18- علماء کے مختلف الاراء ہونے کی مذمت اور تصویب کی رد
19- اشعث بن قیس کی غداری و نفاق کا تذکرہ
20- موت کی ہولناکی اور اس سے عبرت اندوزی
21- دنیا میں سبکبار رہنے کی تعلیم
22- قتل عثمان کا الزام عائد کرنے والوں کے بارے میں
23- حسد سے باز رہنے اور عزیزو اقارب سے حسن سلوک کے بارے میں
24- جنگ پر آمادہ کرنے کے لیے فرمایا
25- بسر کے حملے کے بعد جنگ سے جی چرانے والوں سے فرمایا
26- عرب قبل از بعثت اور پیغمبرﷺ کے بعد دنیا کی بے رخی
27- جہاد پر برانگیختہ کرنےکے لیے فرمایا
28- دنیا کی بے ثباتی اور زاد آخرت کی اہمیت کا تذکرہ
29- جنگ کے موقعہ پر حیلے بہانے کرنے والوں کے متعلق فرمایا
30- قتل عثمان کے سلسلے میں آپؑ کی روش
31- جنگ جمل پہلے ابن عباس کو زبیر کے پاس جب بھیجنا
32- دنیا کی مذمت اور اہل دنیا کی قسمیں
33- جب جنگ جمل کے لیے روانہ ہوئے تو فرمایا
34- اہل شام کے مقابلے میں لوگوں کو آمادۂ جنگ کرنے کے لیے فرمایا
35- تحکیم کے بارے میں فرمایا
36- اہل نہروان کو ان کے انجام سے مطلع کرنے کے لیے فرمایا
37- اپنی استقامت دینی و سبقت ایمانی کے متعلق فرمایا
38- شبہہ کی وجہ تسمیہ اور دوستان خدا و دشمنان خدا کی مذمت
39- جنگ سے جی چرانے والوں کی مذمت میں
40- خوارج کے قول «لاحکم الا للہ» کے جواب میں فرمایا
41- غداری کی مذمت میں
42- نفسانی خواہشوں اور لمبی امیدوں کے متعلق فرمایا
43- جب ساتھیوں نے جنگ کی تیاری کے لیے کہا تو آپؑ نے فرمایا
44- جب مصقلہ ابن ہبیرہ معاویہ کے پاس بھاگ گیا تو آپؑ نے فرمایا
45- اللہ کی عظمت اور جلالت اور دنیا کی سبکی و بے وقاری کے متعلق
46- جب شام کی جانب روانہ ہوئے تو فرمایا
47- کوفہ پر وارد ہونے والی مصیبتوں کے متعلق فرمایا
48- جب شام کی طرف روانہ ہوئے تو فرمایا
49- اللہ کی عظمت و بزرگی کے بارے میں فرمایا
50- حق و باطل کی آمیزش کے نتائج
51- جب شامیوں نے آپؑ کے ساتھیوں پر پانی بند کر دیا تو فرمایا
52- دنیا کے زوال وفنا اور آخرت کے ثواب و عتاب کے متعلق فرمایا
53- گوسفند قربانی کے اوصاف
54- آپؑ کے ہاتھ پر بیعت کرنے والوں کا ہجوم
55- میدان صفین میں جہاد میں تاخیر پر اعتراض ہوا تو فرمایا
56- میدان جنگ میں آپؑ کی صبر و ثبات کی حالت
57- معاویہ کے بارے میں فرمایا
58- خوارج کےبارے میں آپؑ کی پیشینگوئی
59- خوارج کی ہزیمت کے متعلق آپؑ کی پیشینگوئی
60- جب اچانک قتل کر دیے جانے سے ڈرایا گیا تو آپؑ نے فرمایا
61- دنیا کی بے ثباتی کا تذکرہ
62- دنیا کے زوال و فنا کے سلسلہ میں فرمایا
63- صفات باری کا تذکرہ
64- جنگ صفین میں تعلیم حرب کےسلسلے میں فرمایا
65- سقیفہ بنی ساعدہ کی کاروائی سننے کے بعد فرمایا
66- محمد بن ابی بکرکی خبر شہادت سن کر فرمایا
67- اپنے اصحاب کی کجروی اور بے رخی کے بارے میں فرمایا
68- شب ضربت سحر کے وقت فرمایا
69- اہل عراق کی مذمت میں فرمایا
70- پیغمبرﷺ پر درود بھیجنے کا طریقہ
71- حسنینؑ کی طرف سے مروان کی سفارش کی گئی تو آپؑ نے فرمایا
72- جب لوگوں نے عثمان کی بیعت کا ارادہ کیا تو آپؑ نے فرمایا
73- قتل عثمان میں شرکت کا الزام آپؑ پر لگایا گیا تو فرمایا
74- پند و نصیحت کے سلسلے میں فرمایا
75- بنی امیہ کے متعلق فرمایا
76- دعائیہ کلمات
77- منجمین کی پیشینگوئی کی رد
78- عورتوں کے فطری نقائص
79- پند و نصیحت کے سلسلے میں فرمایا
80- اہل دنیا کے ساتھ دنیا کی روش
81- موت اور اس کے بعد کی حالت، انسانی خلقت کے درجات اور نصائح
82- عمرو بن عاص کے بارے میں
83- تنزیہ بازی اور پند و نصائح کے سلسلے میں فرمایا
84- آخرت کی تیاری اور احکام شریعت کی نگہداشت کے سلسلے میں فرمایا
85- دوستان خدا کی حالت اور علماء سوء کی مذمت میں فرمایا
86- امت کے مختلف گروہوں میں بٹ جانے کے متعلق فرمایا
87- بعثت سے قبل دنیا کی حالت پراگندگی اور موجودہ دور کے لوگ
88- صفات باری اور پند و موعظت کےسلسلے میں فرمایا
89- (خطبہ اشباح) آسمان و زمین کی خلقت
90- جب آپؑ کے ہاتھ پر بیعت ہوئی تو فرمایا
91- خوارج کی بیخ کنی اور اپنے علم کی ہمہ گیری و فتنہ بنی امیہ
92- خداوند عالم کی حمد و ثناء اور انبیاء کی توصیف میں فرمایا
93- بعثت کے وقت لوگوں کی حالت اور پیغمبرﷺ کی مساعی
94- نبی کریم ﷺ کی مدح و توصیف میں فرمایا
95- اپنے اصحاب کو تنبیہہ اور سرزنش کرتے ہوئے فرمایا
96- بنی امیہ اور ان کے مظالم کے متعلق فرمایا
97- ترکِ دینا اور نیرنگیٔ عالم کے سلسلہ میں فرمایا
98- اپنی سیرت و کردار اور اہل بیتؑ کی عظمت کے سلسلہ میں فرمایا
99- عبد الملک بن مروان کی تاراجیوں کے متعلق فرمایا
100- بعد میں پیدا ہونے والے فتنوں کے متعلق فرمایا
101- زہد و تقو یٰ اور اہل دنیا کی حالت کے متعلق فرمایا
102- بعثت سے قبل لوگوں کی حالت اور پیغمبر ﷺکی تبلیغ و ہدایت
103- پیغمبر اکرمﷺ کی مدح و توصیف اور فرائضِ امام کے سلسلہ میں
104- شریعت اسلام کی گرانقدری اور پیغمبرﷺ کی عظمت کے متعلق فرمایا
105- صفین میں جب حصہ لشکر کے قدم اکھڑنے کے جم گئے تو فرمایا
106- پیغمبرﷺ کی توصیف اور لوگوں کے گوناگون حالات کے بارے میں
107- خداوند عالم کی عظمت، ملائکہ کی رفعت ،نزع کی کیفیت اور آخرت
108- فرائضِ اسلام اور علم وعمل کے متعلق فرمایا
109- دنیا کی بے ثباتی کے متعلق فرمایا
110- ملک الموت کے قبضِ رُوح کرنے کے متعلق فرمایا
111- دنیا اور اہل دنیا کے متعلق فرمایا
112- زہد و تقویٰ اور زادِ عقبیٰ کی اہمیت کے متعلق
113- طلب باران کے سلسلہ میں فرمایا
114- آخرت کی حالت اور حجاج ابن یوسف ثقفی کے مظالم کے متعلق
115- خدا کی راہ میں جان و مال سے جہاد کرنے کے متعلق فرمایا
116- اپنے دوستوں کی حالت اور اپنی اولیت کے متعلق فرمایا
117- جب اپنے ساتھیوں کو دعوت جہاد دی اور وہ خاموش رہے تو فرمایا
118- اہل بیتؑ کی عظمت اور قوانین شریعت کی اہمیت کے متعلق فرمایا
119- تحکیم کے بارے میں آپؑ پر اعتراض کیا گیا تو فرمایا
120- جب خوارج تحکیم کے نہ ماننے پر اڑ گئے تو احتجاجاً فرمایا
121- جنگ کے موقع پر کمزور اور پست ہمتوں کی مدد کرنے کی سلسلہ میں
122- میدان صفین میں فنونِ جنگ کی تعلیم دیتے ہوئے فرمایا
123- تحکیم کو قبول کرنے کے وجوہ و اسباب
124- بیت المال کی برابر کی تقسیم پر اعتراض ہوا تو فرمایا
125- خوارج کے عقائد کے رد میں
126- بصرہ میں ہونے والے فتنوں، تباہ کاریوں اور حملوں کے متعلق
127- دنیا کی بے ثباتی اور اہل دنیا کی حالت
128- حضرت ابوذر کو مدینہ بدر کیا گیا تو فرمایا
129- خلافت کو قبول کرنے کی وجہ اور والی و حاکم کے اوصاف
130- موت سے ڈرانے اور پند و نصیحت کے سلسلہ میں فرمایا
131- خداوند ِعالم کی عظمت، قرآن کی اہمیت اور پیغمبرﷺ کی بعثت
132- جب مغیرہ بن اخنس نے عثمان کی حمایت میں بولنا چاہا تو فرمایا
133- غزوہ روم میں شرکت کے لیے مشورہ مانگا گیا تو فرمایا
134- اپنی نیت کے اخلاص اور مظلوم کی حمایت کے سلسلہ میں فرمایا
135- طلحہ و زبیر اور خونِ عثمان کے قصاص اور اپنی بیعت کے متعلق
136- ظہورِ حضرت قائم علیہ السلام کے وقت دُنیا کی حالت
137- شوریٰ کے موقع پر فرمایا
138- غیبت اور عیب جوئی سے ممانعت کے سلسلہ میں فرمایا
139- سُنی سُنائی باتوں کو سچا نہ سمجھنا چاہئے
140- بے محل داد و دہش سے ممانعت اور مال کا صحیح مصرف
141- طلبِ باران کے سلسلہ میں فرمایا
142- اہل بیتؑ راسخون فی العلم ہیں اور وہی امامت وخلافت کے اہل ہیں
143- دُنیا کی اہل دُنیا کے ساتھ روش اور بدعت و سنت کا بیان
144- جب حضرت عمر نے غزوہ فارس کیلئے مشورہ لیا تو فرمایا
145- بعثتِ پیغمبر کی غرض و غایت اور اُس زمانے کی حالت
146- طلحہ وزبیر کے متعلق فرمایا
147- موت سے کچھ قبل بطور وصیّت فرمایا
148- حضرت حجتؑ کی غیبت اور پیغمبرﷺ کے بعد لوگوں کی حالت
149- فتنوں میں لوگوں کی حالت اور ظلم اور اکل حرام سے اجتناب
150- خداوند عالم کی عظمت و جلالت کا تذکرہ اور معرفت امام کے متعلق
151- غفلت شعاروں، چوپاؤں، درندوں اور عورتوں کے عادات و خصائل
152- اہل بیتؑ کی توصیف، علم وعمل کا تلازم اور اعمال کا ثمرہ
153- چمگادڑ کی عجیب و غریب خلقت کے بارے میں
154- حضرت عائشہ کے عناد کی کیفیت اور فتنوں کی حالت
155- دُنیا کی بے ثباتی، پندو موعظت اور اعضاء و جوارح کی شہادت
156- بعثت پیغمبرﷺ کا تذکرہ، بنی اُمیّہ کے مظالم اور ان کا انجام
157- لوگوں کے ساتھ آپ کا حُسنِ سلوک اور ان کی لغزشوں سے چشم پوشی
158- خداوندِعالم کی توصیف ،خوف ورجاء، انبیاءؑ کی زندگی
159- دین اسلام کی عظمت اور دُنیا سے درس عبرت حاصل کرنے کی تعلیم
160- حضرتؑ کو خلافت سے الگ رکھنے کے وجوہ
161- اللہ کی توصیف، خلقت انسان اور ضروریات زندگی کی طرف رہنمائی
162- امیرالمومنینؑ کا عثمان سے مکالمہ اور ان کی دامادی پر ایک نظر
163- مور کی عجیب و غریب خلقت اور جنّت کے دلفریب مناظر
164- شفقت و مہربانی اور ظاہر و باطن کی تعلیم اور بنی امیہ کا زوال
165- حقوق و فرائض کی نگہداشت اور تمام معاملات میں اللہ سے خوف
166- جب لوگوں نے قاتلین عثمان سے قصاص لینے کی فرمائش کی تو فرمایا
167- جب اصحاب جمل بصرہ کی جانب روانہ ہوئے تو فرمایا
168- اہل بصرہ سے تحقیق حال کے لئے آنے والے شخص سے فرمایا
169- صفین میں جب دشمن سے دوبدو ہوکر لڑنے کا ارادہ کیا تو فرمایا
170- جب آپؑ پر حرص کا الزام رکھا گیا تو اس کی رد میں فرمایا
171- خلافت کا مستحق کون ہے اور ظاہری مسلمانوں سے جنگ کرنا
172- طلحہ بن عبیداللہ کے بارے میں فرمایا
173- غفلت کرنے والوں کو تنبیہ اور آپؑ کے علم کی ہمہ گیری
174- پند دو موعظت، قرآن کی عظمت اور ظلم کی اقسام
175- حکمین کے بارے میں فرمایا
176- خداوند عالم کی توصیف، دُنیا کی بے ثباتی اور اسباب زوال نعمت
177- جب پوچھا گیا کہ کیا آپؑ نے خدا کو دیکھا ہے تو فرمایا
178- اپنے اصحاب کی مذمت میں فرمایا
179- خوارج سے مل جانے کا تہیّہ کرنے والی جماعت سے فرمایا
180- خداوند عالم کی تنزیہ و تقدیس اور قدرت کی کا ر فرمائی
181- خداوند عالم کی توصیف، قرآن کی عظمت اور عذاب آخرت سے تخویف
182- جب «لا حکم الا اللہ» کا نعرہ لگایا گیا تو فرمایا
183- خداوند عالم کی عظمت و توصیف اور ٹڈی کی عجیب و غریب خلقت
184- مسائل الٰہیات کے بُنیادی اُصول کا تذکرہ
185- فتنوں کے ابھرنے اور رزقِ حلال کے ناپید ہو جانے کے بارے میں
186- خداوند عالم کے احسانات، مرنے والوں کی حالت اور بے ثباتی دنیا
187- پختہ اور متزلزل ایمان اور دعویٰ سلونی «قبل ان تفقدونی»
188- تقویٰ کی اہمیت، ہولناکی قبر، اللہ، رسول اور اہل بیت کی معرفت
189- خداوند عالم کی توصیف، تقویٰ کی نصیحت، دنیا اور اہل دنیا
190- (خطبہ قاصعہ) جس میں ابلیس کی مذمت ہے۔
191- متقین کے اوصاف اور نصیحت پذیر طبیعتوں پر موعظت کا اثر
192- پیغمبر ﷺکی بعثت، قبائلِ عرب کی عداوت اور منافقین کی حالت
193- خداوند عالم کی توصیف، تقویٰ کی نصیحت اور قیامت کی کیفیت
194- بعثتِ پیغمبرؐ کے وقت دنیا کی حالت، دنیا کی بے ثباتی
195- حضورﷺ کے ساتھ آپؑ کی خصوصیات اور حضور ﷺ کی تجہیز و تکفین
196- خداوند عالم کے علم کی ہمہ گیری، تقویٰ کے فوائد
197- نماز، زکوٰة اور امانت کے بارے میں فرمایا
198- معاویہ کی غداری و فریب کاری اور غداروں کا انجام
199- راہ ہدایت پر چلنے والوں کی کمی اور قوم ثمود کا تذکرہ
200- جناب سیدہ سلام اللہ علیہا کے دفن کے موقع پر فرمایا
201- دنیا کی بے ثباتی اور زاد آخرت مہیا کرنے کے لیے فرمایا
202- اپنے اصحاب کو عقبیٰ کے خطرات سے متنبہ کرتے ہوئے فرمایا
203- طلحہ و زبیر نے مشورہ نہ کرنے کا شکوہ کیا تو فرمایا
204- صفین میں شامیوں پر شب و ستم کیا گیا تو فرمایا
205- جب امام حسنؑ صفین کے میدان میں تیزی سے بڑھے تو فرمایا
206- صفین میں لشکر تحکیم کے سلسلہ میں سرکشی پر اُتر آیا تو فرمایا
207- علاء ابن زیاد حارثی کی عیادت کو موقع پر فرمایا
208- اختلاف احادیث کے وجوہ و اسباب اور رواة حدیث کے اقسام
209- خداوند عالم کی عظمت اور زمین و آسمان اور دریاؤں کی خلقت
210- حق کی حمایت سے ہاتھ اٹھا لینے والوں کے بارے میں فرمایا
211- خداوند عالم کی عظمت اور پیغمبرؐ کی توصیف و مدحت
212- پیغمبرﷺ کی خاندانی شرافت اور نیکو کاروں کے اوصاف
213- آپؑ کے دُعائیہ کلمات
214- حکمران اور رعیّت کے باہمی حقوق کے بارے میں فرمایا
215- قریش کے مظالم کے متعلق فر مایا اور بصرہ پر چڑھائی کے متعلق
216- طلحہ اور عبد الرحمن بن عتاب کو مقتول دیکھا تو فرمایا
217- متقی و پرہیزگار کے اوصاف
218- ”الہاکم التکاثر حتی زرتم المقابر“ کی تلاوت کے وقت فرمایا
219- ” رجال لا تلہیھم تجارة و لا بیع عن ذکر اللہ “ کی تلاوت کے وق
220- ” یا اٴیھا الانسان ما غرّک بربک الکریم “ کی تلاوت کے وقت فرم
221- ظلم و غصب سے کنارہ کشی، عقیل کی حالت فقر و احتیاج، اور اشعث
222- آپؑ کے دُعائیہ کلمات
223- دنیا کی بے ثباتی اور اہل قبور کی حالت بے چارگی
224- آپؑ کے دُعائیہ کلمات
225- انتشار و فتنہ سے قبل دنیا سے اٹھ جانے والوں کے متعلق فرمایا
226- اپنی بیعت کے متعلق فرمایا
227- تقویٰ کی نصیحت موت سے خائف رہنے اور زہد اختیار کرنے کے متعلق
228- جب بصرہ کی طرف روانہ ہوئے تو فرمایا
229- عبد اللہ ابن زمعہ نے آپؑ سے مال طلب کیا تو فرمایا
230- جب جعدہ ابن ہبیرہ خطبہ نہ دے سکے تو فرمایا
231- لوگوں کے اختلاف صورت و سیرت کی وجوہ و اسباب
232- پیغمبر ﷺ کو غسل و کفن دیتے وقت فرمایا
233- ہجرتِ پیغمبر ﷺ کے بعد اُن کے عقب میں روانہ ہونے کے متعلق
234- زادِ آخرت مہیا کرنے اور موت سے پہلے عمل بجا لانے کے متعلق
235- حکمین کے بارے میں فرمایا اور اہل شام کی مذمت میں فرمایا
236- آلِ محمدؑ کی توصیف اور روایت میں عقل و درایت سے کام لینا
237- جب عثمان نے ینبع چلے جانے کے لیے پیغام بھجوایا تو فرمایا
238- اصحاب کو آمادہ جنگ کرنے اور آرام طلبی سے بچنے کے لئے فرمایا

Quick Contact

تسلیم و رضا بہترین مصاحب، اور علم شریف ترین میراث ہے حکمت 4
(١٦٣) وَ مِنْ خُطْبَةٍ لَّهٗ عَلَیْهِ السَّلَامُ
خطبہ (۱۶۳)
یَذْكُرُ فِیْهَا عَجِیْبَ خِلْقَةِ الطَّاوٗسِ
جس میں مور [۱] کی عجیب و غریب آفرینش کا تذکرہ فرمایا ہے
اِبْتَدَعَهُمْ خَلْقًا عَجِیْبًا مِّنْ حَیَوَانٍ وَّ مَوَاتٍ، وَ سَاكِنٍ وَّ ذِیْ حَرَكَاتٍ، وَ اَقَامَ مِنْ شَوَاهِدِ الْبَیِّنَاتِ عَلٰی لَطِیْفِ صَنْعَتِهٖ، وَ عَظِیْمِ قُدْرَتِهٖ، مَا انْقَادَتْ لَهُ الْعُقُوْلُ مُعْتَرِفَةًۢ بِهٖ، وَ مُسَلِّمَةً لَّهٗ، وَ نَعَقَتْ فِیْۤ اَسْمَاعِنَا دَلَآئِلُهٗ عَلٰی وَحْدَانِیَّتِهٖ، وَ مَا ذَرَاَ مِنْ مُّخْتَلِفِ صُوَرِ الْاَطْیَارِ الَّتِیْۤ اَسْكَنَهَاۤ اَخَادِیْدَ الْاَرْضِ، وَ خُرُوْقَ فِجَاجِهَا، وَ رَوَاسِیَ اَعْلَامِهَا، مِنْ ذَاتِ اَجْنِحَةٍ مُّخْتَلِفَةٍ، وَ هَیْئَاتٍ مُّتَبَایِنَةٍ، مُصَرَّفَةٍ فِیْ زِمَامِ التَّسْخِیْرِ، وَ مُرَفْرِفَةٍ بِاَجْنِحَتِهَا فِیْ مَخَارِقِ الْجَوِّ الْمُنْفَسِحِ وَ الْفَضَآءِ الْمُنْفَرِجِ. كَوَّنَهَا بَعْدَ اِذْ لَمْ تَكُنْ فِیْ عَجآئِبِ صُوَرٍ ظَاهِرَةٍ، وَ رَكَّبَهَا فِیْ حِقَاقِ مَفَاصِلَ مُحْتَجِبَةٍ.
قدرت نے ہر قسم کی مخلوق کو وہ جاندار ہو یا بے جان، ساکن ہو یا متحرک عجیب و غریب آفرینش کا جامہ پہنا کر ایجاد کیا ہے اور اپنی لطیف صنعت اور عظیم قدرت پر ایسی واضح نشانیاں شاہد بنا کر قائم کی ہیں کہ جن کے سامنے عقلیں اس کی ہستی کا اعتراف اور اس کی (فرمانبرداری) کا اقرار کرتے ہوئے سر اطاعت خم کر چکی ہیں اور اس کی یکتائی پر یہی عقل کی تسلیم کی ہوئی اور (اس کے خالق بے مثال ہونے پر) مختلف شکل و صورت کے پرندوں کی آفرینش سے ابھری ہوئی دلیلیں ہمارے کانوں میں گونج رہی ہیں۔ وہ پرندے جن کو اس نے زمین کے گڑھوں، درّوں کے شگافوں اور مضبوط پہاڑوں کی چوٹیوں پر بسایا ہے، جو مختلف طرح کے پر و بال اور جداگانہ شکل و صورت والے ہیں۔ جنہیں تسلط (الٰہی) کی باگ ڈور میں گھمایا پھرایا جاتا ہے اور جو کشادہ ہوا کی وسعتوں اور کھلی فضاؤں میں پروں کو پھڑپھڑاتے ہیں۔ انہیں جبکہ یہ موجود نہ تھے عجیب و غریب ظاہری صورتوں سے (آراستہ کرکے) پیدا کیا اور (گوشت و پوست میں) ڈھکے ہوئے جوڑوں کے سروں سے ان کے (جسموں کی) ساخت قائم کی۔
وَ مَنَعَ بَعْضَهَا بِعَبَالَةِ خَلْقِهٖ اَنْ یَّسْمُوَ فِی الْهَوَآءِ خُفُوْفًا، وَ جَعَلَهٗ یَدِفُّ دَفِیْفًا، وَ نَسَقَهَا عَلَی اخْتِلَافِهَا فِی الْاَصَابِیْغِ بِلَطِیْفِ قُدْرَتِهٖ، وَ دَقِیْقِ صَنْعَتِهٖ، فَمِنْهَا مَغْمُوْسٌ فِیْ قَالَبِ لَوْنٍ لَّا یَشُوْبُهٗ غَیْرُ لَوْنِ مَا غُمِسَ فِیْهِ، وَ مِنْهَا مَغْمُوْسٌ فِیْ لَوْنِ صِبْغٍ قَدْ طُوِّقَ بِخِلَافِ مَا صُبِـغَ بِهٖ.
ان میں سے بعض وہ ہیں جنہیں ان کے جسموں کے بوجھل ہونے کی وجہ سے فضا میں بلند ہو کر تیز پروازی سے روک دیا ہے اور انہیں ایسا بنایا ہے کہ وہ زمین سے کچھ تھوڑے ہی اونچے ہو کر پرواز کر سکیں۔ اس نے اپنی لطیف قدرت اور باریک صنعت سے ان قسم قسم کے پرندوں کو (مختلف) رنگوں سے ترتیب دیا ہے۔ چنانچہ ان میں سے بعض ایسے ہیں جو ایک ہی رنگ کے سانچے میں ڈھلے ہوئے ہیں۔ یوں کہ جس رنگ میں انہیں ڈبویا گیا ہے اس کے علاوہ کسی اور رنگ کی ان میں آمیزش نہیں کی گئی اور بعض اس طرح رنگ میں ڈبوئے گئے ہیں کہ جس رنگ کا طوق انہیں پہنا دیا گیا ہے وہ اس رنگ سے نہیں ملتا جس سے خود رنگین ہیں۔
وَ مِنْ اَعْجَبِهَا خَلْقًا الطَّاوٗسُ، الَّذِیْۤ اَقَامَهٗ فِیْۤ اَحْكَمِ تَعْدِیْلٍ، وَ نَضَّدَ اَلْوَانَهٗ فِیْۤ اَحْسَنِ تَنْضِیْدٍ، بِجَنَاحٍ اَشْرَجَ قَصَبَهٗ، وَ ذَنَبٍ اَطَالَ مَسْحَبَهٗ. اِذَا دَرَجَ اِلَی الْاُنْثٰی نَشَرَهٗ مِنْ طَیِّهِ، وَ سَمَا بِهٖ مُطِلًّا عَلٰی رَاْسِهٖ، كَاَنَّهٗ قِلْعُ دَارِیٍّ عَنَجَهٗ نُوْتِیُّهٗ، یَخْتَالُ بِاَلْوَانِهٖ، وَ یَمِیْسُ بِزَیَفَانِهٖ، یُفْضِیْ كَاِفْضَآءِ الدِّیَكَةِ، وَ یَؤُرُّ بِمُلَاقَحَۃٍ اَرَّ الْفُحُوْلِ الْمُغْتَلِمَةِ لِلضِّرَابِ.
ان سب پرندوں سے زائد عجیب الخلقت مور ہے کہ (اللہ نے) جس کے (اعضاء کو) موزونیت کے محکم ترین سانچے میں ڈھالا ہے اور اس کے رنگوں کو ایک حسین ترتیب سے مرتب کیا ہے۔ یہ (حسن و توازن) ایسے پروں سے ہے کہ جن کی جڑوں کو (ایک دوسرے سے) جوڑ دیا ہے اور ایسی دُم سے ہے جو دور تک کھنچتی چلی جاتی ہے۔ جب وہ اپنی مادہ کی طرف بڑھتا ہے تو اپنی لپٹی ہوئی دُم کو پھیلا دیتا ہے اور اسے اس طرح اونچا لے جاتا ہے کہ وہ اس کے سر پر سایہ افگن ہو کر پھیل جاتی ہے۔ گویا وہ (مقام) دارین کی اس کشتی کا بادبان ہے جسے اس کا ملاح اِدھر ُادھر موڑ رہا ہو، وہ اس کے رنگوں پر اتراتا ہے اور اس کی جنبشوں کے ساتھ جھومنے لگتا ہے اور مرغوں کی طرح جفتی کھاتا ہے اور (اپنی مادہ کو) حاملہ کرنے کیلئے جوش و ہیجان میں بھرے ہوئے نروں کی طرح جوڑ کھاتا ہے۔
اُحِیْلُكَ مِنْ ذٰلِكَ عَلٰی مُعَایَنَةٍ، لَا كَمَنْ یُحِیْلُ عَلٰی ضَعِیْفٍ اِسْنَادُهٗ، وَ لَوْ كَانَ كَزَعْمِ مَنْ یَزْعُمُ اَنَّهٗ یُلْقِحُ بِدَمْعَةٍ تَسْفَحُهَا مَدَامِعُهٗ، فَتَقِفُ فِیْ ضَفَّتَیْ جُفُوْنِهٖ، وَ اَنَّ اُنْثَاهُ تَطْعَمُ ذٰلِكَ، ثُمَّ تَبِیْضُ لَا مِنْ لِّقَاحِ فَحْلٍ سِوَی الدَّمْعِ الْمُنْبَجِسِ، لَمَا كَانَ ذٰلِكَ بِاَعْجَبَ مِنْ مُّطَاعَمَةِ الْغُرَابِ!.
میں اس (بیان) کیلئے مشاہدہ کو تمہارے سامنے پیش کرتا ہوں۔ اس شخص کی طرح نہیں کہتا جو کسی کمزور سند کا حوالہ دے رہا ہو۔ گمان کرنے والوں کا یہ صرف وہم و گمان ہے کہ وہ اپنے گوشہ ہائے چشم کے بہائے ہوئے اس آنسو سے اپنی مادہ کو انڈوں پر لاتا ہے کہ جو اس کی پلکوں کے دونوں کناروں میں آ کر ٹھہر جاتا ہے اور مورنی اسے پی لیتی ہے اور پھر وہ انڈے دینے لگتی ہے اور اس پھوٹ کر نکلنے والے آنسو کے علاوہ یوں نر اُس سے جفتی نہیں کھاتا۔ اگر ایسا ہو تو بھی (ان کے خیال کے مطابق) کوے کے اپنی مادہ کو (پوٹے سے دانا پانی) بھرا کر انڈوں پر لانے سے زیادہ تعجب خیز نہیں ہے۔
تَخَالُ قَصَبَهٗ مَدَارِیَ مِنْ فِضَّةٍ، وَ مَاۤ اُنْۢبِتَ عَلَیْهَا مِنْ عَجِیْبِ دَارَاتِهٖ، وَ شُمُوْسِهٖ خَالِصَ الْعِقْیَانِ، وَ فِلَذَ الزَّبَرْجَدِ. فَاِنْ شَبَّهْتَهٗ بِمَاۤ اَنْۢبَتَتِ الْاَرْضُ قُلْتَ: جَنِیٌ جُنِیَ مِنْ زَهْرَةِ كُلِّ رَبِیْعٍ، وَ اِنْ ضَاهَیْتَهٗ بِالْمَلَابِسِ فَهُوَ كَمَوْشِیِّ الْحُلَلِ اَوْ كَمُوْنِقِ عَصْبِ الْیَمَنِ، وَ اِنْ شَاكَلْتَهٗ بِالْحُلِیِّ فَهُوَ كَفُصُوْصٍ ذَاتِ اَلْوَانٍ، قَدْ نُطِّقَتْ بِاللُّجَیْنِ الْمُكَلَّلِ.
(تم اگر بغور دیکھو گے) تو اس کے پروں کی درمیانی تیلیوں کو چاندی کی سلائیاں تصور کرو گے اور ان پر جو عجیب و غریب ہالے بنے ہوئے ہیں اور سورج (کی شعاعوں) کے مانند (جو پر و بال) اُگے ہوئے ہیں (انہیں زردی میں) خالص سونا اور (سبزی میں) زمرد کے ٹکڑے خیال کرو گے۔ اگر تم اسے زمین کی اُگائی ہوئی چیزوں سے تشبیہ دو گے تو یہ کہو گے کہ وہ ہر موسم بہار کے چنے ہوئے شگوفوں کا گلدستہ ہے اور اگر کپڑوں سے تشبیہ دو گے تو وہ منقش حُلّوں یا خوشنما یمنی چادروں کے مانند ہے اور اگر زیورات سے تشبیہ دو گے تو وہ رنگ برنگ کے ان نگینوں کی طرح ہے جو مرصع بجواہر چاندی میں دائروں کی صورت میں پھیلا دئیے گئے ہوں۔
یَمْشِیْ مَشْیَ الْمَرِحِ الْمُخْتَالِ، وَ یَتَصَفَّحُ ذَنَۢبَهٗ وَ جَنَاحَیْهٗ، فَیُقَهْقِهٗ ضَاحِكًا لِّجَمَالِ سِرْبَالِهٖ، وَ اَصَابِیْغِ وِشَاحِهٖ، فَاِذَا رَمٰی بِبَصَرِهٖۤ اِلٰی قَوَآئِمِهٖ زَقَا مُعْوِلًۢا بِصَوْتٍ یَّكَادُ یُبِیْنُ عَنِ اسْتِغَاثَتِهٖ، وَ یَشْهَدُ بِصَادِقِ تَوَجُّعِهٖ، لِاَنَّ قَوَآئِمَهٗ حُمْشٌ كَقَوَآئِمِ الدِّیَكَةِ الْخِلَاسِیَّةِ.
وہ اس طرح چلتا ہے جس طرح کوئی ہشاش بشاش اور متکبر محو خرام ہوتا ہے اور اپنی دم اور پر و بال کو غور سے دیکھتا ہے تو اپنے پیراہن کے حسن و جمال اور اپنے گلوبند کی رنگتوں کی وجہ سے قہقہہ لگا کر ہنستا ہے، مگر جب اپنے پیروں پر نظر ڈالتا ہے تو اس طرح اونچی آواز سے روتا ہے کہ گویا اپنی فریاد کو ظاہر کر رہا ہے اور اپنے سچے درد (دل) کی گواہی دے رہا ہے۔ کیونکہ اس کے پیر خاکستری رنگ کے دوغلے مرغوں کے پیروں کی طرح باریک اور پتلے ہوتے ہیں اور اس کی پنڈلی کے کنارے پر ایک باریک سا کانٹا نمایاں ہوتا ہے۔
وَ قَدْ نَجَمَتْ مِنْ ظُنْبُوْبِ سَاقِهٖ صِیْصِیَّةٌ خَفِیَّةٌ، وَ لَهٗ فِیْ مَوْضِعِ الْعُرْفِ قُنْزُعَةٌ خَضْرَآءُ مُوَشَّاةٌ، وَ مَخْرَجُ عَنُقِهٖ كَالْاِبْرِیْقِ، وَ مَغْرَزُهَاۤ اِلٰی حَیْثُ بَطْنُهٗ كَصِبْغِ الْوَسِمَةِ الْیَمَانِیَّةِ، اَوْ كَحَرِیْرَةٍ مُّلْبَسَةٍ مِّرْاٰةً ذَاتَ صِقَالٍ، وَ كَاَنَّهٗ مُتَلَفِّـعٌۢ بِمِعْجَرٍ اَسْحَمَ، اِلَّاۤ اَنَّهٗ یُخَیَّلُ لِكَثْرَةِ مَآئِهٖ، وَ شِدَّةِ بَرِیْقِهٖ، اَنَّ الْخُضْرَةَ النَّاضِرَةَ مُمْتَزِجَةٌۢ بِهٖ، وَ مَعَ فَتْقِ سَمْعِهٖ خَطٌّ كَمُسْتَدَقِّ الْقَلَمِ فِیْ لَوْنِ الْاُقْحُوَانِ، اَبْیَضُ یَّقَقٌ، فَهُوَ بِبَیَاضِهٖ فِیْ سَوَادِ مَا هُنَالِكَ یَاْتَلِقُ.
اور اس کی (گردن پر) ایال کی جگہ سبز رنگ کے منقش پروں کا گچھا ہوتا ہے اور گردن کا پھیلاؤ یوں معلوم ہوتا ہے جیسے صراحی (کی گردن) اور اس کے گڑنے کی جگہ سے لے کر وہاں تک کا حصہ کہ جہاں اس کا پیٹ ہے یمنی وسمہ کے رنگ کی طرح (گہرا سبز) ہے یا اس ریشم کی طرح ہے جو صیقل کئے ہوئے آئینہ پر پہنا دیا گیا ہو، گویا کہ وہ سیاہ رنگ کی اوڑھنی میں لپٹا ہوا ہے، لیکن اس کی آب و تاب کی فراوانی اور چمک دمک کی بہتات سے ایسا گمان ہوتا ہے کہ اس میں تر و تازہ سبزی کی (الگ سے) آمیزش کر دی گئی ہے۔ اس کے کانوں کے شگاف سے ملی ہوئی بابونہ کے پھولوں جیسی ایک سفید چمکیلی لکیر ہوتی ہے۔ جو قلم کی باریک نوک کے مانند ہے وہ (لکیر) اپنی سفیدی کے ساتھ اس جگہ کی سیاہیوں میں جگمگاتی ہے۔
وَ قَلَّ صِبْغٌ اِلَّا وَ قَدْ اَخَذَ مِنْهُ بِقِسْطٍ، وَ عَلَاهُ بِكَثْرَةِ صِقَالِهٖ وَ بَرِیْقِهٖ، وَ بَصِیْصِ دِیْبَاجِهٖ وَ رَوْنَقِهٖ، فَهُوَ كَالْاَزَاهِیْرِ الْمَبْثُوثَةِ، لَمْ تُرَبِّهَاۤ اَمْطَارُ رَبِیْعٍ، وَ لَا شُمُوْسُ قَیْظٍ. وَ قَدْ یَتَحَسَّرُ مِنْ رِّیْشِهٖ، وَ یَعْرٰی مِنْ لِّبَاسِهٖ، فَیَسْقُطُ تَتْرٰی، وَ یَنْۢبُتُ تِبَاعًا، فَیَنْحَتُّ مِنْ قَصَبِهِ انْحِتَاتَ اَوْرَاقِ الْاَغْصَانِ، ثُمَّ یَتَلَاحَقُ نَامِیًا حَتّٰی یَعُوْدَ كَهَیْئَتِهٖ قَبْلَ سُقُوْطِهٖ، لَا یُخَالِفُ سَالِفَ اَلْوَانِهٖ، وَ لَا یَقَعُ لَوْنٌ فِیْ غَیْرِ مَكَانِهٖ! وَ اِذَا تَصَفَّحْتَ شَعْرَةً مِّنْ شَعَرَاتِ قَصَبِهٖ اَرَتْكَ حُمْرَةً وَّرْدِیَّةً، وَ تَارَةً خُضْرَةً زَبَرْجَدِیَّةً، وَ اَحْیَانًا صُفْرَةً عَسْجَدِیَّةً.
کم ہی ایسے رنگ ہوں گے جس نے سفید دھاری کا کچھ حصہ نہ لیا ہو اور وہ ان رنگوں پر اپنی آب و تاب کی زیادتی، اپنے پیکر ِریشمیں کی چمک دمک اور زیبائش کی وجہ سے چھائی ہوئی ہے۔ وہ ان بکھری ہوئی کلیوں کے مانند ہے کہ جنہیں نہ فصل بہار کی بارشوں نے پروان چڑھایا ہو اور نہ گرمیوں کے سورج نے پرورش کیا ہو وہ کبھی اپنے پر و بال سے برہنہ اور اپنے رنگین لباس سے عریاں ہو جاتا ہے، اس کے بال و پر لگاتار جھڑتے ہیں اور پھر پے درپے اُگنے لگتے ہیں، وہ اس کے بازوؤں سے اس طرح جھڑتے ہیں جس طرح ٹہنیوں سے پتے، یہاں تک کہ جھڑنے سے پہلے جو شکل و صورت تھی اسی کی طرف پلٹ آتا ہے اور اپنے پہلے رنگوں سے سر مو اِدھر سے اُدھر نہیں ہوتا اور نہ کوئی رنگ اپنی جگہ چھوڑ کر دوسری جگہ اختیار کرتا ہے۔ جب اس کے پروں کے ریشوں سے کسی ریشے کو تم غور سے دیکھو گے تو وہ تمہیں کبھی گلاب کے پھولوں جیسی سرخی اور کبھی زمرد جیسی سبزی اور کبھی سونے جیسی زردی کی (جھلکیاں) دکھائے گا۔
فَكَیْفَ تَصِلُ اِلٰی صِفَةِ هٰذَا عَمَآئِقُ الْفِطَنِ، اَوْ تَبْلُغُهٗ قَرَآئِحُ الْعُقُوْلِ، اَوْ تَسْتَنْظِمُ وَصْفَهٗ اَقْوَالُ الْوَاصِفِیْنَ! وَ اَقَلُّ اَجْزَآئِهٖ قَدْ اَعْجَزَ الْاَوْهَامَ اَنْ تُدْرِكَهٗ، وَ الْاَلْسِنَةَ اَنْ تَصِفَهٗ!.
(غور تو کرو کہ) ایک ایسی مخلوق کی صفتوں تک فکروں کی گہرائیاں کیوں کر پہنچ سکتی ہیں؟ یا عقلوں کی طبع آزمائیاں کس طرح وہاں تک رسائی پا سکتی ہیں؟ یا بیان کرنے والوں کے کلمات کیونکر اس کے وصفوں کو ترتیب دے سکتے ہیں؟ کہ جس کے چھوٹے سے چھوٹے جز نے بھی واہموں کو سمجھنے سے عاجز اور زبانوں کو بیان کرنے سے درماندہ کر دیا ہو۔
فَسُبْحَانَ الَّذِیْ بَهَرَ الْعُقُوْلَ عَنْ وَّصْفِ خَلْقٍ جَلَّاهُ لِلْعُیُوْنِ، فَاَدْرَكَتْهُ مَحْدُوْدًا مُّكَوَّنًا، وَ مُؤَلَّفًا مُّلَـوَّنًا، وَ اَعْجَزَ الْاَلْسُنَ عَنْ تَلْخِیْصِ صِفَتِهٖ، وَ قَعَدَ بِهَا عَنْ تَاْدِیَةِ نَعْتِهٖ!.
تو پاک ہے وہ ذات کہ جس نے ایک ایسی مخلوق کی حالت بیان کرنے سے بھی عقلوں کو مغلوب کر رکھا ہے کہ جسے آنکھوں کے سامنے نمایاں کر دیا تھا اور ان (آنکھوں) نے اس کو ایک حد میں گھرا ہوا اور (اجزا) سے مرکب اور (مختلف رنگوں سے) رنگین صورت میں دیکھ بھی لیا اور جس نے زبانوں کو اس (مخلوق) کے وصفوں کا خلاصہ کرنے سے عاجز اور اس کی صفتوں کے بیان کرنے سے درماندہ کر دیا ہے۔
وَ سُبْحَانَ مَنْ اَدْمَجَ قَوَآئِمَ الذَّرَّةِ وَ الْهَمَجَةِ اِلٰی مَا فَوْقَهُمَا مِنْ خَلْقِ الْحِیْتَانِ وَ الْفِیَلَةِ! وَ وَاٰی عَلٰی نَفْسِهٖۤ اَنْ لَّا یَضْطَرِبَ شَبَحٌ مِّمَّاۤ اَوْلَجَ فِیْهِ الرُّوْحَ، اِلَّا وَ جَعَلَ الْحِمَامَ مَوْعِدَهٗ، وَ الْفَنَآءَ غَایَتَهٗ.
اور پاک ہے وہ خدا کہ جس نے چیونٹی اور مچھر سے لے کر ان سے بڑی مخلوق مچھلیوں اور ہاتھیوں تک کے پیروں کو مضبوط و مستحکم کیا ہے اور اپنی ذات پر لازم کر لیا ہے کہ کوئی پیکر کہ جس میں اس نے روح داخل کی ہے جنبش نہیں کھائے گا مگر یہ کہ موت کو اس کی وعدہ گاہ اور فنا کو اس کی حد آخر قرار دے گا۔
[مِنْهَا: فِیْ صِفَةِ الْجَنَّةِ]
[اس خطبہ کا یہ حصہ جنت کے بیان میں ہے]
فَلَوْ رَمَیْتَ بِبَصَرِ قَلْبِكَ نَحْوَ مَا یُوْصَفُ لَكَ مِنْهَا لَعَزَفَتْ نَفْسُكَ عَنْۢ بَدَآئِعِ مَاۤ اُخْرِجَ اِلَی الدُّنْیَا مِنْ شَهَوَاتِهَا وَ لَذَّاتِهَا، وَ زَخَارِفِ مَنَاظِرِهَا، وَ لَذَهِلَتْ بِالْفِكْرِ فِی اصْطِفَاقِ اَشْجَارٍ غُیِّبَتْ عُرُوْقُهَا فِیْ كُثْبَانِ الْمِسْكِ عَلٰی سَوَاحِلِ اَنْهَارِهَا، وَ فِیْ تَعْلِیْقِ كَبَآئِسِ اللُّؤْلُؤِ الرَّطْبِ فِیْ عَسَالِیْجِهَا وَ اَفْنَانِهَا، وَ طُلُوْعِ تِلْكَ الثِّمَارِ مُخْتَلِفَةً فِیْ غُلُفِ اَكْمَامِهَا، تُجْنٰی مِنْ غَیْرِ تَكَلُّفٍ فَتَاْتِیْ عَلٰی مُنْیَةِ مُجْتَنِیْهَا، وَ یُطَافُ عَلٰی نُزَّالِهَا فِیْۤ اَفْنِیَةِ قُصُوْرِهَا بِالْاَعْسَالِ الْمُصَفَّقَةِ، وَ الْخُمُوْرِ الْمُرَوَّقَةِ. قَوْمٌ لَّمْ تَزَلِ الْكَرَامَةُ تَتَمَادٰی بِهِمْ حَتّٰی حَلُّوْا دَارَ الْقَرَارِ، وَ اَمِنُوْا نُقْلَةَ الْاَسْفَارِ.
اگر تم دیدہ دل سے جنت کی ان کیفیتوں پر نظر کرو جو تم سے بیان کی جاتی ہیں تو تمہارا نفس دنیا میں پیش کی ہوئی عمدہ سے عمدہ خواہشوں اور لذتوں اور اس کے مناظر کی زیبائشوں سے نفرت کرنے لگے گا اور وہ ان درختوں کے پتوں کے کھڑکھڑانے کی آوازوں میں کہ جن کی جڑیں جنت کی نہروں کے کناروں پر مشک کے ٹیلوں میں ڈوبی ہوئی ہیں کھو جائے گا اور ان کی بڑی اور چھوٹی ٹہنیوں میں تر و تازہ موتیوں کے گچھوں کے لٹکنے اور سبز پتیوں کے غلافوں میں مختلف قسم کے پھلوں کے نکلنے کے (نظاروں) میں محو ہو جائے گا۔ ایسے پھل کہ جو بغیر کسی زحمت کے چنے جا سکتے ہیں اور چننے والے کی خواہش کے مطابق آگے بڑھ آتے ہیں۔ وہاں کے بلند ایوانوں کے صحنوں میں اترنے والے مہمانوں کے گرد پاک و صاف شہد اور صاف ستھری شراب (کے جام) گردش میں لائے جائیں گے۔ وہ ایسے لوگ ہیں کہ اللہ کی بخشش و عنایت ہمیشہ ان کے شامل حال رہی یہاں تک کہ وہ اپنی جائے قیام میں اتر پڑے اور سفروں کی نقل و حرکت سے آسودہ ہو گئے۔
فَلَوْ شَغَلْتَ قَلْبَكَ اَیُّهَا الْمُسْتَمِـعُ بِالْوُصُوْلِ اِلٰی مَا یَهْجُمُ عَلَیكَ مِنْ تِلْكَ الْمَنَاظِرِ الْمُوْنِقَةِ، لَزَهَقَتْ نَفْسُكَ شَوْقًا اِلَیْهَا، وَ لَتَحَمَّلْتَ مِنْ مَجْلِسِیْ هٰذَاۤ اِلٰی مُجَاوَرَةِ اَهْلِ الْقُبُوْرِ اسْتِعْجَالًۢا بِهَا. جَعَلَـنَا اللهُ وَ اِیَّاكُمْ مِمَّنْ یَّسْعٰی بِقَلْبِهٖ اِلٰی مَنَازِلِ الْاَبْرَارِ بِرَحْمَتِهٖ.
اے سننے والے! اگر تو ان دلکش مناظر تک پہنچنے کیلئے اپنے نفس کو متوجہ کرے جو تیری طرف ایک دم آنے والے ہیں تو اس کے اشتیاق میں تیری جان ہی نکل جائے گی اور اسے جلد سے جلد پا لینے کیلئے میری اس مجلس سے اٹھ کر قبروں میں رہنے والوں کی ہمسائیگی اختیار کرنے کیلئے آمادہ ہو جائے گا۔ اللہ سبحانہ اپنی رحمت سے ہمیں اور تمہیں ان لوگوں میں سے قرار دے کہ جو نیک بندوں کی منزل تک پہنچنے کی (سر توڑ) کوشش کرتے ہیں۔
[تَفْسِیْرُ بَعْضِ مَا فِیْ هٰذِهِ الْخُطْبَةِ مِنَ الْغَرِیْبِ]
[سیّد رضی اس خطبہ کے بعض مشکل الفاظ کی توضیح و تشریح کے سلسلہ میں فرماتے ہیں کہ:]
قَوْلُهٗ عَلَیْهِ السَّلَامُ: «وَ یَؤُرُّ بِمُلَاقَحَۃٍ» الْاَرُّ: كِنَایَةٌ عَنِ النِّكَاحِ، یُقَالُ: اَرَّ الْمَرْاَةَ یَؤُرُّهَا، اِذَا نَكَحَهَا.
آپ کے ارشاد «وَ یَؤُرُّ بِمُلَاقَحَۃٍ» میں لفظ ’’اَرّ‘‘ سے مباشرت کی طرف کنایہ ہے۔ یوں کہا جاتا ہے کہ «اَرَّ الْمَرْاَةَ یَؤُرُّهَا» یعنی اس نے عورت سے مباشرت کی۔
وَ قَوْلُهٗ عَلَیْهِ السَّلَامُ: «كَاَنَّهٗ قِلْعُ دَارِیٍّ عَنَجَهٗ نُوْتِیُّهٗ» الْقِلْعُ: شِرَاعُ السَّفِیْنَةِ، وَ دَارِیٍّ: مَنْسُوْبٌ اِلٰی دَارِیْنَ، وَ هِیَ بَلْدَةٌ عَلَی الْبَحْرِ یُجْلَبُ مِنْهَا الطِّیْبُ. وَ عَنَجَهٗ: اَیْ عَطَفَهٗ. یُقَالُ: عَنَجْتُ النّاقَةَ کَنَصَرْتُ اَعْنُجُهَا عَنْجًا اِذَا عَطَفْتَهَا. وَ النُّوْتِیُّ: الْمَلَّاحُ.
اور آپؑ کے اس ارشاد «كَاَنَّهٗ قِلْعُ دَارِیٍّ عَنَجَهٗ نُوْتِیُّهٗ» میں ’’قلع‘‘ کے معنی کشتی کے بادبان کے ہیں اور لفظ ’’داری‘‘ دارین کی طرف منسوب ہے اور ’’دارین‘‘ سمندر کے کنارے ایک شہر کا نام ہے کہ جہاں سے خوشبو دار چیزیں لائی جاتی ہیں اور ’’عنجہ‘‘ کے معنی ہیں اس کو موڑا اور استعمال یوں ہوتا ہے: «عَنَجْتُ النّاقَةَ» (عنجت بروزن نصرت) یعنی میں نے اونٹنی کے رخ کو موڑا اور «اَعْنُجُهَا عَنْجًا» اس وقت کہو گے کہ جب تم اس کے رخ کو موڑو گے اور ’’نوتی‘‘ کے معنی ملاح کے ہیں۔
وَ قَوْلُهُ عَلَیْهِ السَّلَامُ: «ضَفَّتَیْ جُفُوْنِهٖ» اَرَادَ جَانِبَیْ جُفُوْنِهٖ. وَ الضَّفَّتَانِ: الْجَانِبَانِ.
اور آپؑ کے ارشاد «ضَفَّتَیْ جُفُوْنِهٖ» سے مراد مور کی پلکوں کے دونوں کنارے ہیں اور یوں ’’ضفتان‘‘ کے معنی دو کناروں کے ہوتے ہیں۔
وَ قَوْلُهٗ عَلَیْهِ السَّلَامُ: «وَ فِلَذَ الزَّبَرْجَدِ» الْفِلَذُ: جَمْعُ فِلْذَةٍ، وَ هِیَ الْقِطْعَةُ.
اور آپؑ کے قول «وَ فِلَذَ الزَّبَرْجَدِ» میں ’’فلذ‘‘ فلذة کی جمع ہے جس کے معنی ٹکڑے کے ہیں۔
وَ قَوْلُهُ عَلَیْهِ السَّلَامُ: «كَبَآئِسِ اللُّؤْلُؤِ الرَّطْبِ فِیْ عَسَالِیْجِهَا» الْكِبَاسَةُ: الْعِذْقُ. وَ الْعَسَالِیْجُ: الْغُصُوْنُ، وَاحِدُهَا عُسْلُوْجٌ.
اور آپؑ کے قول «كَبَآئِسِ اللُّؤْلُؤِ الرَّطْبِ فِیْ عَسَالِیْجِهَا» میں ’’کبائس‘‘ کباسہ کی جمع ہے جس کے معنی کھجور کے خوشے کے ہیں اور ’’عسالیج‘‘ عسلوج کی جمع ہے جس کے معنی ٹہنی کے ہیں۔

۱؂’’مور‘‘ ایک خوبصورت دلکش اور انتہائی چوکنا رہنے والا پرندہ ہے جو برما، جاوا، ہند و پاکستان اور مشرقی ایشیا کے ممالک میں پایا جاتا ہے اس کے پروں کی رنگینی، دُم کا پھیلاؤ اور رقص انتہائی جاذب نظر ہوتا ہے۔ جب یہ اپنی دم کو جو ۵۵ انچ سے ۷۲ انچ تک لمبی ہوتی ہے پھیلا کر چکر کاٹتا ہے تو نظروں میں مختلف رنگوں کی دنیا آباد ہو جاتی ہے۔ جس طرح خزاں میں درختوں کے پتے جھڑتے اور بہار میں اُگتے ہیں، اسی طرح اس کے پر خزاں میں جھڑ جاتے ہیں اور بہار میں دوبارہ اُگ آتے ہیں۔ بہار کا موسم اس کے حسن کے نکھار کا زمانہ ہوتا ہے۔ اسی موسم میں جوڑ کھاتا ہے۔ مورنی تین سال کی عمر سے انڈے دینے لگتی ہے اور اس کی اوسط عمر پینتیس برس ہوتی ہے۔ ایک سال میں کم و بیش بارہ انڈے دیتی اور ایک مہینہ تک انہیں سیتی ہے۔ مور اکثر ان انڈوں کو توڑ دیتا ہے۔ اس لئے اس کے انڈے مرغی کے نیچے بھی بٹھا دئیے جاتے ہیں، مگر مرغی کے سینے سے بچوں کی خوبصورتی اور جسمانی ہیئت میں فرق آ جاتا ہے۔ مور اپنی دلکشی و خوبصورتی کے باوجود منحوس تصور ہوتا ہے اور گھروں میں رکھنا برا سمجھا جاتا ہے۔