فہرست خطبات

1- معرفت باری تعالیٰ، زمین و آسمان اور آدمؑ کی خلقت، احکام و حج
2- عرب قبل از بعثت، اہل بیتؑ کی فضیلت اور ایک جماعت کی منقصت
3- (خطبہ شقشقیہ) خلفائے ثلاثہ کی حکومت کے بارے میں آپؑ کا نظریہ
4- آپکیؑ کی دوررس بصیرت، یقین کامل اور موسیؑ کا خوفزدہ ہونا
5- پیغمبرﷺ کے بعد جب ابو سفیان نے آپؑ کی بیعت کرنا چاہی
6- طلحہ و زبیر کے تعاقب سےآپؑ کو روکا گیا تو اس موقع پر فرمایا
7- منافقین کی حالت
8- جب زبیر نے یہ کہا میں نے دل سے بیعت نہ کی تھی تو آپؑ نے فرما
9- اصحاب جمل کا بوداپن
10- طلحہ و زبیر کے بارے میں
11- محمد بن حنفیہ کو آداب حرم کی تعلیم
12- عمل کا کردار اور مدار نیت پر ہے۔
13- بصرہ اور اہل بصرہ کی مذمت میں
14- اہل بصرہ کی مذمت میں
15- عثمان کی دی ہوئی جا گیریں جب پلٹا لیں تو فرمایا
16- جب اہل مدینہ نے آپؑ کے ہاتھ پر بیعت کی تو فرمایا
17- مسند قضا پر بیٹھنے والے نا اہلوں کی مذمت میں
18- علماء کے مختلف الاراء ہونے کی مذمت اور تصویب کی رد
19- اشعث بن قیس کی غداری و نفاق کا تذکرہ
20- موت کی ہولناکی اور اس سے عبرت اندوزی
21- دنیا میں سبکبار رہنے کی تعلیم
22- قتل عثمان کا الزام عائد کرنے والوں کے بارے میں
23- حسد سے باز رہنے اور عزیزو اقارب سے حسن سلوک کے بارے میں
24- جنگ پر آمادہ کرنے کے لیے فرمایا
25- بسر کے حملے کے بعد جنگ سے جی چرانے والوں سے فرمایا
26- عرب قبل از بعثت اور پیغمبرﷺ کے بعد دنیا کی بے رخی
27- جہاد پر برانگیختہ کرنےکے لیے فرمایا
28- دنیا کی بے ثباتی اور زاد آخرت کی اہمیت کا تذکرہ
29- جنگ کے موقعہ پر حیلے بہانے کرنے والوں کے متعلق فرمایا
30- قتل عثمان کے سلسلے میں آپؑ کی روش
31- جنگ جمل پہلے ابن عباس کو زبیر کے پاس جب بھیجنا
32- دنیا کی مذمت اور اہل دنیا کی قسمیں
33- جب جنگ جمل کے لیے روانہ ہوئے تو فرمایا
34- اہل شام کے مقابلے میں لوگوں کو آمادۂ جنگ کرنے کے لیے فرمایا
35- تحکیم کے بارے میں فرمایا
36- اہل نہروان کو ان کے انجام سے مطلع کرنے کے لیے فرمایا
37- اپنی استقامت دینی و سبقت ایمانی کے متعلق فرمایا
38- شبہہ کی وجہ تسمیہ اور دوستان خدا و دشمنان خدا کی مذمت
39- جنگ سے جی چرانے والوں کی مذمت میں
40- خوارج کے قول «لاحکم الا للہ» کے جواب میں فرمایا
41- غداری کی مذمت میں
42- نفسانی خواہشوں اور لمبی امیدوں کے متعلق فرمایا
43- جب ساتھیوں نے جنگ کی تیاری کے لیے کہا تو آپؑ نے فرمایا
44- جب مصقلہ ابن ہبیرہ معاویہ کے پاس بھاگ گیا تو آپؑ نے فرمایا
45- اللہ کی عظمت اور جلالت اور دنیا کی سبکی و بے وقاری کے متعلق
46- جب شام کی جانب روانہ ہوئے تو فرمایا
47- کوفہ پر وارد ہونے والی مصیبتوں کے متعلق فرمایا
48- جب شام کی طرف روانہ ہوئے تو فرمایا
49- اللہ کی عظمت و بزرگی کے بارے میں فرمایا
50- حق و باطل کی آمیزش کے نتائج
51- جب شامیوں نے آپؑ کے ساتھیوں پر پانی بند کر دیا تو فرمایا
52- دنیا کے زوال وفنا اور آخرت کے ثواب و عتاب کے متعلق فرمایا
53- گوسفند قربانی کے اوصاف
54- آپؑ کے ہاتھ پر بیعت کرنے والوں کا ہجوم
55- میدان صفین میں جہاد میں تاخیر پر اعتراض ہوا تو فرمایا
56- میدان جنگ میں آپؑ کی صبر و ثبات کی حالت
57- معاویہ کے بارے میں فرمایا
58- خوارج کےبارے میں آپؑ کی پیشینگوئی
59- خوارج کی ہزیمت کے متعلق آپؑ کی پیشینگوئی
60- جب اچانک قتل کر دیے جانے سے ڈرایا گیا تو آپؑ نے فرمایا
61- دنیا کی بے ثباتی کا تذکرہ
62- دنیا کے زوال و فنا کے سلسلہ میں فرمایا
63- صفات باری کا تذکرہ
64- جنگ صفین میں تعلیم حرب کےسلسلے میں فرمایا
65- سقیفہ بنی ساعدہ کی کاروائی سننے کے بعد فرمایا
66- محمد بن ابی بکرکی خبر شہادت سن کر فرمایا
67- اپنے اصحاب کی کجروی اور بے رخی کے بارے میں فرمایا
68- شب ضربت سحر کے وقت فرمایا
69- اہل عراق کی مذمت میں فرمایا
70- پیغمبرﷺ پر درود بھیجنے کا طریقہ
71- حسنینؑ کی طرف سے مروان کی سفارش کی گئی تو آپؑ نے فرمایا
72- جب لوگوں نے عثمان کی بیعت کا ارادہ کیا تو آپؑ نے فرمایا
73- قتل عثمان میں شرکت کا الزام آپؑ پر لگایا گیا تو فرمایا
74- پند و نصیحت کے سلسلے میں فرمایا
75- بنی امیہ کے متعلق فرمایا
76- دعائیہ کلمات
77- منجمین کی پیشینگوئی کی رد
78- عورتوں کے فطری نقائص
79- پند و نصیحت کے سلسلے میں فرمایا
80- اہل دنیا کے ساتھ دنیا کی روش
81- موت اور اس کے بعد کی حالت، انسانی خلقت کے درجات اور نصائح
82- عمرو بن عاص کے بارے میں
83- تنزیہ بازی اور پند و نصائح کے سلسلے میں فرمایا
84- آخرت کی تیاری اور احکام شریعت کی نگہداشت کے سلسلے میں فرمایا
85- دوستان خدا کی حالت اور علماء سوء کی مذمت میں فرمایا
86- امت کے مختلف گروہوں میں بٹ جانے کے متعلق فرمایا
87- بعثت سے قبل دنیا کی حالت پراگندگی اور موجودہ دور کے لوگ
88- صفات باری اور پند و موعظت کےسلسلے میں فرمایا
89- (خطبہ اشباح) آسمان و زمین کی خلقت
90- جب آپؑ کے ہاتھ پر بیعت ہوئی تو فرمایا
91- خوارج کی بیخ کنی اور اپنے علم کی ہمہ گیری و فتنہ بنی امیہ
92- خداوند عالم کی حمد و ثناء اور انبیاء کی توصیف میں فرمایا
93- بعثت کے وقت لوگوں کی حالت اور پیغمبرﷺ کی مساعی
94- نبی کریم ﷺ کی مدح و توصیف میں فرمایا
95- اپنے اصحاب کو تنبیہہ اور سرزنش کرتے ہوئے فرمایا
96- بنی امیہ اور ان کے مظالم کے متعلق فرمایا
97- ترکِ دینا اور نیرنگیٔ عالم کے سلسلہ میں فرمایا
98- اپنی سیرت و کردار اور اہل بیتؑ کی عظمت کے سلسلہ میں فرمایا
99- عبد الملک بن مروان کی تاراجیوں کے متعلق فرمایا
100- بعد میں پیدا ہونے والے فتنوں کے متعلق فرمایا
101- زہد و تقو یٰ اور اہل دنیا کی حالت کے متعلق فرمایا
102- بعثت سے قبل لوگوں کی حالت اور پیغمبر ﷺکی تبلیغ و ہدایت
103- پیغمبر اکرمﷺ کی مدح و توصیف اور فرائضِ امام کے سلسلہ میں
104- شریعت اسلام کی گرانقدری اور پیغمبرﷺ کی عظمت کے متعلق فرمایا
105- صفین میں جب حصہ لشکر کے قدم اکھڑنے کے جم گئے تو فرمایا
106- پیغمبرﷺ کی توصیف اور لوگوں کے گوناگون حالات کے بارے میں
107- خداوند عالم کی عظمت، ملائکہ کی رفعت ،نزع کی کیفیت اور آخرت
108- فرائضِ اسلام اور علم وعمل کے متعلق فرمایا
109- دنیا کی بے ثباتی کے متعلق فرمایا
110- ملک الموت کے قبضِ رُوح کرنے کے متعلق فرمایا
111- دنیا اور اہل دنیا کے متعلق فرمایا
112- زہد و تقویٰ اور زادِ عقبیٰ کی اہمیت کے متعلق
113- طلب باران کے سلسلہ میں فرمایا
114- آخرت کی حالت اور حجاج ابن یوسف ثقفی کے مظالم کے متعلق
115- خدا کی راہ میں جان و مال سے جہاد کرنے کے متعلق فرمایا
116- اپنے دوستوں کی حالت اور اپنی اولیت کے متعلق فرمایا
117- جب اپنے ساتھیوں کو دعوت جہاد دی اور وہ خاموش رہے تو فرمایا
118- اہل بیتؑ کی عظمت اور قوانین شریعت کی اہمیت کے متعلق فرمایا
119- تحکیم کے بارے میں آپؑ پر اعتراض کیا گیا تو فرمایا
120- جب خوارج تحکیم کے نہ ماننے پر اڑ گئے تو احتجاجاً فرمایا
121- جنگ کے موقع پر کمزور اور پست ہمتوں کی مدد کرنے کی سلسلہ میں
122- میدان صفین میں فنونِ جنگ کی تعلیم دیتے ہوئے فرمایا
123- تحکیم کو قبول کرنے کے وجوہ و اسباب
124- بیت المال کی برابر کی تقسیم پر اعتراض ہوا تو فرمایا
125- خوارج کے عقائد کے رد میں
126- بصرہ میں ہونے والے فتنوں، تباہ کاریوں اور حملوں کے متعلق
127- دنیا کی بے ثباتی اور اہل دنیا کی حالت
128- حضرت ابوذر کو مدینہ بدر کیا گیا تو فرمایا
129- خلافت کو قبول کرنے کی وجہ اور والی و حاکم کے اوصاف
130- موت سے ڈرانے اور پند و نصیحت کے سلسلہ میں فرمایا
131- خداوند ِعالم کی عظمت، قرآن کی اہمیت اور پیغمبرﷺ کی بعثت
132- جب مغیرہ بن اخنس نے عثمان کی حمایت میں بولنا چاہا تو فرمایا
133- غزوہ روم میں شرکت کے لیے مشورہ مانگا گیا تو فرمایا
134- اپنی نیت کے اخلاص اور مظلوم کی حمایت کے سلسلہ میں فرمایا
135- طلحہ و زبیر اور خونِ عثمان کے قصاص اور اپنی بیعت کے متعلق
136- ظہورِ حضرت قائم علیہ السلام کے وقت دُنیا کی حالت
137- شوریٰ کے موقع پر فرمایا
138- غیبت اور عیب جوئی سے ممانعت کے سلسلہ میں فرمایا
139- سُنی سُنائی باتوں کو سچا نہ سمجھنا چاہئے
140- بے محل داد و دہش سے ممانعت اور مال کا صحیح مصرف
141- طلبِ باران کے سلسلہ میں فرمایا
142- اہل بیتؑ راسخون فی العلم ہیں اور وہی امامت وخلافت کے اہل ہیں
143- دُنیا کی اہل دُنیا کے ساتھ روش اور بدعت و سنت کا بیان
144- جب حضرت عمر نے غزوہ فارس کیلئے مشورہ لیا تو فرمایا
145- بعثتِ پیغمبر کی غرض و غایت اور اُس زمانے کی حالت
146- طلحہ وزبیر کے متعلق فرمایا
147- موت سے کچھ قبل بطور وصیّت فرمایا
148- حضرت حجتؑ کی غیبت اور پیغمبرﷺ کے بعد لوگوں کی حالت
149- فتنوں میں لوگوں کی حالت اور ظلم اور اکل حرام سے اجتناب
150- خداوند عالم کی عظمت و جلالت کا تذکرہ اور معرفت امام کے متعلق
151- غفلت شعاروں، چوپاؤں، درندوں اور عورتوں کے عادات و خصائل
152- اہل بیتؑ کی توصیف، علم وعمل کا تلازم اور اعمال کا ثمرہ
153- چمگادڑ کی عجیب و غریب خلقت کے بارے میں
154- حضرت عائشہ کے عناد کی کیفیت اور فتنوں کی حالت
155- دُنیا کی بے ثباتی، پندو موعظت اور اعضاء و جوارح کی شہادت
156- بعثت پیغمبرﷺ کا تذکرہ، بنی اُمیّہ کے مظالم اور ان کا انجام
157- لوگوں کے ساتھ آپ کا حُسنِ سلوک اور ان کی لغزشوں سے چشم پوشی
158- خداوندِعالم کی توصیف ،خوف ورجاء، انبیاءؑ کی زندگی
159- دین اسلام کی عظمت اور دُنیا سے درس عبرت حاصل کرنے کی تعلیم
160- حضرتؑ کو خلافت سے الگ رکھنے کے وجوہ
161- اللہ کی توصیف، خلقت انسان اور ضروریات زندگی کی طرف رہنمائی
162- امیرالمومنینؑ کا عثمان سے مکالمہ اور ان کی دامادی پر ایک نظر
163- مور کی عجیب و غریب خلقت اور جنّت کے دلفریب مناظر
164- شفقت و مہربانی اور ظاہر و باطن کی تعلیم اور بنی امیہ کا زوال
165- حقوق و فرائض کی نگہداشت اور تمام معاملات میں اللہ سے خوف
166- جب لوگوں نے قاتلین عثمان سے قصاص لینے کی فرمائش کی تو فرمایا
167- جب اصحاب جمل بصرہ کی جانب روانہ ہوئے تو فرمایا
168- اہل بصرہ سے تحقیق حال کے لئے آنے والے شخص سے فرمایا
169- صفین میں جب دشمن سے دوبدو ہوکر لڑنے کا ارادہ کیا تو فرمایا
170- جب آپؑ پر حرص کا الزام رکھا گیا تو اس کی رد میں فرمایا
171- خلافت کا مستحق کون ہے اور ظاہری مسلمانوں سے جنگ کرنا
172- طلحہ بن عبیداللہ کے بارے میں فرمایا
173- غفلت کرنے والوں کو تنبیہ اور آپؑ کے علم کی ہمہ گیری
174- پند دو موعظت، قرآن کی عظمت اور ظلم کی اقسام
175- حکمین کے بارے میں فرمایا
176- خداوند عالم کی توصیف، دُنیا کی بے ثباتی اور اسباب زوال نعمت
177- جب پوچھا گیا کہ کیا آپؑ نے خدا کو دیکھا ہے تو فرمایا
178- اپنے اصحاب کی مذمت میں فرمایا
179- خوارج سے مل جانے کا تہیّہ کرنے والی جماعت سے فرمایا
180- خداوند عالم کی تنزیہ و تقدیس اور قدرت کی کا ر فرمائی
181- خداوند عالم کی توصیف، قرآن کی عظمت اور عذاب آخرت سے تخویف
182- جب «لا حکم الا اللہ» کا نعرہ لگایا گیا تو فرمایا
183- خداوند عالم کی عظمت و توصیف اور ٹڈی کی عجیب و غریب خلقت
184- مسائل الٰہیات کے بُنیادی اُصول کا تذکرہ
185- فتنوں کے ابھرنے اور رزقِ حلال کے ناپید ہو جانے کے بارے میں
186- خداوند عالم کے احسانات، مرنے والوں کی حالت اور بے ثباتی دنیا
187- پختہ اور متزلزل ایمان اور دعویٰ سلونی «قبل ان تفقدونی»
188- تقویٰ کی اہمیت، ہولناکی قبر، اللہ، رسول اور اہل بیت کی معرفت
189- خداوند عالم کی توصیف، تقویٰ کی نصیحت، دنیا اور اہل دنیا
190- (خطبہ قاصعہ) جس میں ابلیس کی مذمت ہے۔
191- متقین کے اوصاف اور نصیحت پذیر طبیعتوں پر موعظت کا اثر
192- پیغمبر ﷺکی بعثت، قبائلِ عرب کی عداوت اور منافقین کی حالت
193- خداوند عالم کی توصیف، تقویٰ کی نصیحت اور قیامت کی کیفیت
194- بعثتِ پیغمبرؐ کے وقت دنیا کی حالت، دنیا کی بے ثباتی
195- حضورﷺ کے ساتھ آپؑ کی خصوصیات اور حضور ﷺ کی تجہیز و تکفین
196- خداوند عالم کے علم کی ہمہ گیری، تقویٰ کے فوائد
197- نماز، زکوٰة اور امانت کے بارے میں فرمایا
198- معاویہ کی غداری و فریب کاری اور غداروں کا انجام
199- راہ ہدایت پر چلنے والوں کی کمی اور قوم ثمود کا تذکرہ
200- جناب سیدہ سلام اللہ علیہا کے دفن کے موقع پر فرمایا
201- دنیا کی بے ثباتی اور زاد آخرت مہیا کرنے کے لیے فرمایا
202- اپنے اصحاب کو عقبیٰ کے خطرات سے متنبہ کرتے ہوئے فرمایا
203- طلحہ و زبیر نے مشورہ نہ کرنے کا شکوہ کیا تو فرمایا
204- صفین میں شامیوں پر شب و ستم کیا گیا تو فرمایا
205- جب امام حسنؑ صفین کے میدان میں تیزی سے بڑھے تو فرمایا
206- صفین میں لشکر تحکیم کے سلسلہ میں سرکشی پر اُتر آیا تو فرمایا
207- علاء ابن زیاد حارثی کی عیادت کو موقع پر فرمایا
208- اختلاف احادیث کے وجوہ و اسباب اور رواة حدیث کے اقسام
209- خداوند عالم کی عظمت اور زمین و آسمان اور دریاؤں کی خلقت
210- حق کی حمایت سے ہاتھ اٹھا لینے والوں کے بارے میں فرمایا
211- خداوند عالم کی عظمت اور پیغمبرؐ کی توصیف و مدحت
212- پیغمبرﷺ کی خاندانی شرافت اور نیکو کاروں کے اوصاف
213- آپؑ کے دُعائیہ کلمات
214- حکمران اور رعیّت کے باہمی حقوق کے بارے میں فرمایا
215- قریش کے مظالم کے متعلق فر مایا اور بصرہ پر چڑھائی کے متعلق
216- طلحہ اور عبد الرحمن بن عتاب کو مقتول دیکھا تو فرمایا
217- متقی و پرہیزگار کے اوصاف
218- ”الہاکم التکاثر حتی زرتم المقابر“ کی تلاوت کے وقت فرمایا
219- ” رجال لا تلہیھم تجارة و لا بیع عن ذکر اللہ “ کی تلاوت کے وق
220- ” یا اٴیھا الانسان ما غرّک بربک الکریم “ کی تلاوت کے وقت فرم
221- ظلم و غصب سے کنارہ کشی، عقیل کی حالت فقر و احتیاج، اور اشعث
222- آپؑ کے دُعائیہ کلمات
223- دنیا کی بے ثباتی اور اہل قبور کی حالت بے چارگی
224- آپؑ کے دُعائیہ کلمات
225- انتشار و فتنہ سے قبل دنیا سے اٹھ جانے والوں کے متعلق فرمایا
226- اپنی بیعت کے متعلق فرمایا
227- تقویٰ کی نصیحت موت سے خائف رہنے اور زہد اختیار کرنے کے متعلق
228- جب بصرہ کی طرف روانہ ہوئے تو فرمایا
229- عبد اللہ ابن زمعہ نے آپؑ سے مال طلب کیا تو فرمایا
230- جب جعدہ ابن ہبیرہ خطبہ نہ دے سکے تو فرمایا
231- لوگوں کے اختلاف صورت و سیرت کی وجوہ و اسباب
232- پیغمبر ﷺ کو غسل و کفن دیتے وقت فرمایا
233- ہجرتِ پیغمبر ﷺ کے بعد اُن کے عقب میں روانہ ہونے کے متعلق
234- زادِ آخرت مہیا کرنے اور موت سے پہلے عمل بجا لانے کے متعلق
235- حکمین کے بارے میں فرمایا اور اہل شام کی مذمت میں فرمایا
236- آلِ محمدؑ کی توصیف اور روایت میں عقل و درایت سے کام لینا
237- جب عثمان نے ینبع چلے جانے کے لیے پیغام بھجوایا تو فرمایا
238- اصحاب کو آمادہ جنگ کرنے اور آرام طلبی سے بچنے کے لئے فرمایا

Quick Contact

جاہل کو نہ پاؤ گے، مگر یا حد سے آگے بڑھا ہوا اور یا اس سے بہت پیچھے۔ حکمت 70
(٨٥) وَ مِنْ خُطْبَةٍ لَّهٗ عَلَیْهِ السَّلَامُ
خطبہ (۸۵)
عِبَادَ اللهِ! اِنَّ مِنْ اَحَبِّ عِبَادِ اللهِ اِلَیْهِ عَبْدًا اَعَانَهُ اللهُ عَلٰی نَفْسِهٖ، فَاسْتَشْعَرَ الْحُزْنَ، وَ تَجَلْبَبَ الْخَوْفَ، فَزَهَرَ مِصْبَاحُ الْهُدٰی فِیْ قَلْبِهٖ، وَ اَعَدَّ الْقِرٰی لِیَوْمِهِ النَّازِلِ بِهٖ، فَقَرَّبَ عَلٰی نَفْسِهِ الْبَعِیْدَ، وَ هَوَّنَ الشَّدِیْدَ، نَظَرَ فَاَبْصَرَ،وَ ذَكَرَ فَاسْتَكْثَرَ، وَ ارْتَوٰی مِنْ عَذْبٍ فُرَاتٍ سُهِّلَتْ لَهٗ مَوَارِدُهٗ، فَشَرِبَ نَهَلًا، وَ سَلَكَ سَبِیْلًا جَدَدًا.قَدْ خَلَعَ سَرَابِیْلَ الشَّهَوَاتِ، وَ تَخَلّٰی مِنَ الْهُمُوْمِ، اِلَّا هَمًّا وَّاحِدًا انْفَرَدَ بِهٖ، فَخَرَجَ مِنْ صِفَةِ الْعَمٰی، وَ مُشَارَكَةِ اَهْلِ الْهَوٰی، وَ صَارَ مِنْ مَّفَاتِیْحِ اَبْوَابِ الْهُدٰی، وَ مَغَالِیْقِ اَبْوَابِ الرَّدٰی.
اللہ کے بندو! اللہ کو اپنے بندوں میں سب سے زیادہ وہ بندہ محبوب ہے جسے اس نے نفس کی خلاف ورزی کی قوت دی ہے، جس کا اندرونی لباس حزن اور بیرونی جامہ خوف ہے (یعنی اندوہ و ملال اسے چمٹا رہتا ہے اور خوف اس پر چھایا رہتا ہے)۔ اس کے دل میں ہدایت کا چراغ روشن ہے اور آنے والے دن کی مہمانی کا اس نے تہیہ کر رکھا ہے، (موت کو) جو دور ہے اسے وہ قریب سمجھتا ہے اور سختیوں کو اپنے لئے آسان سمجھ لیا ہے، دیکھتا ہے تو بصیرت و معرفت حاصل کرتا ہے، (اللہ کو) یاد کرتا ہے تو عمل کرنے پر تل جاتا ہے۔ (وہ اس سر چشمہ ہدایت کا) شیریں و خوشگوار پانی پی کر سیراب ہوا ہے جس کے گھاٹ تک (اللہ کی رہنمائی سے) وہ با آسانی پہنچ گیا ہے۔ اس نے پہلی ہی دفعہ چھک کر پی لیا ہے اور ہموار راستے پر چل پڑا ہے، شہوتوں کا لباس اتار پھینکا ہے، (دنیا کے) سارے اندیشوں سے بے فکر ہو کر صرف ایک ہی دھن میں لگا ہوا ہے۔ وہ گمراہی کی حالت اور ہوس پرستوں کی ہوس رانیوں میں حصہ لینے سے دور رہتا ہے۔ وہ ہدایت کے ابواب کھولنے اور ہلاکت و گمراہی کے دروازے بند کرنے کا ذریعہ بن گیا ہے۔
قَدْ اَبْصَرَ طَرِیْقَهٗ، وَ سَلَكَ سَبِیْلَهٗ، وَ عَرَفَ مَنَارَهٗ، وَ قَطَعَ غِمَارَهٗ، اسْتَمْسَكَ مِنَ الْعُرٰی بِاَوْثَقِهَا، وَ مِنَ الْحِبَالِ بِاَمْتَنِهَا، فَهُوَ مِنَ الْیَقِیْنِ عَلٰی مِثْلِ ضَوْءِ الشَّمْسِ، قَدْ نَصَبَ نَفْسَهٗ لِلّٰهِ سُبْحَانَهٗ فِیْۤ اَرْفَعِ الْاُمُوْرِ، مِنْ اِصْدَارِ كُلِّ وَارِدٍ عَلَیْهِ، وَ تَصْیِیْرِ كُلِّ فَرْعٍ اِلٰۤی اَصْلِهٖ. مِصْبَاحُ ظُلُمَاتٍ، كَشَّافُ عَشَوَاتٍ، مِفْتَاحُ مُبْهَمَاتٍ، دَفَّاعُ مُعْضِلَاتٍ، دَلِیْلُ فَلَوَاتٍ، یَقُوْلُ فَیُفْهِمُ، وَ یَسْكُتُ فَیَسْلَمُ.
اس نے اپنا راستہ دیکھ لیا ہے اور اس پر گامزن ہے، (ہدایت کے) مینار کو پہچان لیا ہے اور دھاروں کو طے کر کے اس تک پہنچ گیا ہے، محکم وسیلوں اور مضبوط سہاروں کو تھام لیا ہے۔ وہ یقین کی وجہ سے ایسے اجالے میں ہے جو سورج کی چمک دمک کے مانند ہے۔ وہ صرف اللہ کی خاطر سب سے اونچے مقصد کو پورا کرنے کیلئے اٹھ کھڑا ہوا ہے کہ ہر مشکل کو جو اس کے سامنے آئے، مناسب طور سے حل کر دے، ہر فرع کو اس کے اصل و مآخذ کی طرف راجع کرے۔ وہ تاریکیوں میں روشنی پھیلانے والا، مشتبہ باتوں کو حل کرنے والا، الجھے ہوئے مسئلوں کو سلجھانے والا، گنجلکوں کو دور کرنے والا اور لق و دق صحراؤں میں راہ دکھانے والا ہے۔ وہ بولتا ہے تو پوری طرح سمجھا دیتا ہے اور کبھی چپ ہو جاتا ہے اس وقت جب چپ رہنا ہی سلامتی کا ذریعہ ہے۔
قَدْ اَخْلَصَ لِلّٰهِ فَاسْتَخْلَصَهٗ، فَهُوَ مِنْ مَّعَادِنِ دِیْنِهٖ، وَ اَوْتَادِ اَرْضِهٖ. قَدْ اَلْزَمَ نَفْسَهُ الْعَدْلَ، فَكَانَ اَوَّلُ عَدْلِهٖ نَفْیَ الْهَوٰی عَنْ نَّفْسِهٖ، یَصِفُ الْحَقَّ وَ یَعْمَلُ بِهٖ، لَا یَدَعُ لِلْخَیْرِ غَایَةً اِلَّاۤ اَمَّهَا، وَ لَا مَظِنَّةً اِلَّا قَصَدَهَا، قَدْ اَمْكَنَ الْكِتَابَ مِنْ زِمَامِهٖ، فَهُوَ قَآئِدُهٗ وَ اِمَامُهٗ، یَحُلُّ حَیْثُ حَلَّ ثَقَلُهٗ، وَ یَنْزِلُ حَیْثُ كَانَ مَنْزِلُهٗ.
اس نے ہر کام اللہ کیلئے کیا تو اللہ نے بھی اسے اپنا بنا لیا ہے۔ وہ دین خدا کا معدن اور اس کی زمین میں گڑی ہوئی میخ کی طرح ہے۔ اس نے اپنے لئے عدل کو لازم کر لیا ہے چنانچہ اس کے عدل کا پہلا قدم خواہشوں کو اپنے نفس سے دور رکھنا ہے۔ حق کو بیان کرتا ہے تو اس پر عمل بھی کرتا ہے۔ کوئی نیکی کی حد ایسی نہیں جس کا اس نے ارادہ نہ کیا ہو اور کوئی جگہ ایسی نہیں ہے کہ جہاں نیکی کا امکان ہو اور اس نے قصد نہ کیا ہو۔ اس نے اپنی باگ ڈور قرآن کے ہاتھوں میں دے دی ہے۔ وہی اس کا رہبر اور وہی اس کا پیشوا ہے۔ جہاں اس کا بارِ گراں اترتا ہے وہیں اس کا سامان اترتا ہے اور جہاں اس کی منزل ہوتی ہے وہیں یہ بھی اپنا پڑاؤ ڈال دیتا ہے۔
وَ اٰخَرُ قَدْ تَسَمّٰی عَالِمًا وَّ لَیْسَ بِهٖ، فَاقْتَبَسَ جَهَآئِلَ مِنْ جُهَّالٍ وَّ اَضَالِیْلَ مِنْ ضُلَّالٍ، وَ نَصَبَ لِلنَّاسِ اَشْرَاكًا مِّنْ حَبَآئِلِ غُرُوْرٍ، وَ قَوْلِ زُوْرٍ، قَدْ حَمَلَ الْكِتَابَ عَلٰۤی اٰرَآئِهٖ، وَ عَطَفَ الْحَقَّ عَلٰۤی اَهْوَآئِهٖ، یُؤَمِّنُ النَّاسَ مِنَ الْعَظَآئِمِ، وَ یُهَوِّنُ كَبِیْرَ الْجَرَآئِمِ، یَقُوْلُ: اَقِفُ عِنْدَ الشُّبُهَاتِ، وَ فِیْهَا وَقَعَ، وَ یَقُوْلُ: اَعْتَزِلُ الْبِدَعَ، وَ بَیْنَهَا اضْطَجَعَ، فَالصُّوْرَةُ صُوْرَةُ اِنْسَانٍ، وَ الْقَلْبُ قَلْبُ حَیَوَانٍ، لَا یَعْرِفُ بَابَ الْهُدٰی فَیَتَّبِعَهٗ، وَ لَا بَابَ الْعَمٰی فیَصُدَّ عَنْهُ، وَ ذٰلِكَ مَیِّتُ الْاَحْیَآءَ!.
(اس کے علاوہ) ایک دوسرا شخص ہوتا ہے جس نے (زبردستی) اپنا نام عالم رکھ لیا ہے، حالانکہ وہ عالم نہیں۔ اس نے جاہلوں اور گمراہوں سے جہالتوں اور گمراہیوں کو بٹور لیا ہے اور لوگوں کیلئے مکرو فریب کے پھندے اور غلط سلط باتوں کے جال بچھا رکھے ہیں۔ قرآن کو اپنی رائے پر اور حق کو اپنی خواہشوں پر ڈھالتا ہے۔ بڑے سے بڑے جرموں کا خوف لوگوں کے دلوں سے نکال دیتا ہے اور کبیرہ گناہوں کی اہمیت کو کم کرتا ہے۔ کہتا تو یہ ہے کہ: میں شبہات میں توقف کرتا ہوں حالانکہ انہی میں پڑا ہوا ہے۔ اس کا قول یہ ہے کہ: میں بدعتوں سے الگ تھلگ رہتا ہوں، حالانکہ انہی میں اس کا اٹھنا بیٹھنا ہے۔ صورت تو اس کی انسانوں کی سی ہے اور دل حیوانوں کا سا۔ نہ اسے ہدایت کا دروازہ معلوم ہے کہ وہاں تک آ سکے اور نہ گمراہی کا دروازہ پہچانتا ہے کہ اس سے اپنا رخ موڑ سکے۔ یہ تو زندوں میں (چلتی پھرتی ہوئی) لاش ہے۔
﴿فَاَیْنَ تَذْهَبُوْنَ﴾ وَ ﴿اَنّٰی تُؤْفَكُوْنَ﴾! وَ الْاَعْلَامُ قَآئِمَةٌ،وَ الْاٰیَاتُ وَاضِحَةٌ، وَ الْمَنَارُ مَنْصُوْبَةٌ، فَاَیْنَ یُتَاهُ بِكُمْ؟ بَلْ كَیْفَ تَعْمَهُوْنَ وَ بَیْنَكُمْ عِتْرَةُ نَبِیِّكُمْ؟ وَ هُمْ اَزِمَّةُ الْحَقِّ، وَ اَعْلَامُ الدِّیْنِ، وَ اَلْسِنَةُ الصِّدْقِ! فاَنْزِلُوْهُمْ بِاَحْسَنِ مَنَازِلِ الْقُرْاٰنِ، وَ رِدُوْهُمْ وُرُوْدَ الْهِیْمِ الْعِطَاشِ.
اب تم کہاں جا رہے ہو؟ اور تمہیں کدھر موڑا جا رہا ہے؟ حالانکہ ہدایت کے جھنڈے بلند، نشانات ظاہر و روشن اور حق کے مینار نصب ہیں اور تمہیں کہاں بہکایا جا رہا ہے اور کیوں ادھر ادھر بھٹک رہے ہو؟ جبکہ تمہارے نبی ﷺ کی عترتؑ تمہارے اندر موجود ہے جو حق کی باگیں، دین کے پرچم اور سچائی کی زبانیں ہیں۔ جو قرآن کی بہتر سے بہتر منزل سمجھ سکو وہیں انہیں بھی جگہ دو اور پیاسے اونٹوں کی طرح ان کے سر چشمہ ہدایت پر اترو۔
اَیُّهَا النَّاسُ! خُذُوْهَا عَنْ خَاتَمِ النَّبِیِّیْنَ ﷺ: «اِنَّهٗ یَمُوْتُ مَنْ مَّاتَ مِنَّا وَ لَیْسَ بِمَیِّتٍ، وَ یَبْلٰی مَنْۢ بَلِیَ مِنَّا وَ لَیْسَ بِبَالٍ».
اے لوگو! خاتم النبیین ﷺ کے اس ارشاد [۱] کو سنو کہ (انہوں نے فرمایا:) «ہم میں سے جو مر جاتا ہے وہ مردہ نہیں ہے اور ہم میں سے (جو بظاہر مر کر) بوسیدہ ہو جاتا ہے وہ حقیقت میں کبھی بوسیدہ نہیں ہوتا»۔
فَلَا تَقُوْلُوْا بِمَا لَا تَعْرِفُوْنَ، فَاِنَّ اَكْثَرَ الْحَقِّ فِیْمَا تُنْكِرُوْنَ، وَ اعْذِرُوْا مَنْ لَّا حُجَّةَ لَكُمْ عَلَیْهِ ـ وَ اَنَا هُوَ ـ.
جو باتیں تم نہیں جانتے ان کے متعلق زبان سے کچھ نہ نکالو۔ اس لئے کہ حق کا بیشتر حصہ انہی چیزوں میں ہوتا ہے کہ جن سے تم بیگانہ و ناآشنا ہو۔ (جس شخص کی تم پر حجت تمام ہو) اور تمہاری کوئی حجت اس پر تمام نہ ہو اسے معذور سمجھو اور وہ میں ہوں۔
اَ لَمْ اَعْمَلْ فِیْكُمْ بِالثَّقَلِ الْاَكْبَرِ؟! وَ اَتْرُكْ فِیْكُمُ الثَّقَلَ الْاَصْغَرَ؟! وَ رَكَزْتُ فِیكُمْ رَایَةَ الْاِیْمَانِ، وَ وَقَفْتُكُمْ عَلٰی حُدُوْدِ الْحَلَالِ وَ الْحَرَامِ، وَ اَلْبَسْتُكُمُ الْعَافِیَةَ مِنْ عَدْلِیْ، وَ فَرَشْتُكُمُ الْمَعْرُوْفَ مِنْ قَوْلِیْ وَ فِعْلِیْ، وَ اَرَیْتُكُمْ كَرَآئِمَ الْاَخْلَاقِ مِنْ نَّفْسِیْ، فَلَا تَسْتَعْمِلُوا الرَّاْیَ فِیْمَا لَا یُدْرِكُ قَعْرَهُ الْبَصَرُ، وَ لَا تَتَغَلْغَلُ اِلَیْهِ الْفِكَرُ.
کیا میں نے تمہارے سامنے ثقلِ اکبر (قرآن) پر عمل نہیں کیا اور ثقلِ اصغر (اہلبیت علیہم السلام) کو تم میں نہیں رکھا [۲] ۔ میں نے تمہارے درمیان ایمان کا جھنڈا گاڑا، حلال و حرام کی حدیں بتائیں اور اپنے عدل سے تمہیں عافیت کے جامے پہنائے اور اپنے قول و عمل سے حسنِ سلوک کا فرش تمہارے لئے بچھا دیا اور تم سے ہمیشہ پاکیزہ اخلاق کے ساتھ پیش آیا۔ جس چیز کی گہرائیوں تک نگاہ نہ پہنچ سکے اور فکر کی جولانیاں عاجز رہیں اس میں اپنی رائے کو کار فرما نہ کرو۔
[وَ مِنْهَا]
[اسی خطبہ کا ایک جز و بنی امیہ کے متعلق ہے]
حَتّٰی یَظُنَّ الظَّانُّ اَنَّ الدُّنْیَا مَعْقُوْلَةٌ عَلٰی بَنِیْۤ اُمَیَّةَ، تَمْنَحُهُمْ دَرَّهَا، وَ تُوْرِدُهُمْ صَفْوَهَا، وَ لَا یُرْفَعُ عَنْ هٰذِهِ الْاُمَّةِ سَوْطُهَا وَ لَا سَیْفُهَا، وَ كَذَبَ الظَّانُّ لِذٰلِكَ. بَلْ هِیَ مَجَّةٌ مِّنْ لَّذِیْذِ الْعَیْشِ یَتَطَعَّمُوْنَهَا بُرْهَةً، ثُمَّ یَلْفِظُوْنَهَا جُمْلَةً!.
یہاں تک کہ گمان کرنے والے یہ گمان کرنے لگیں گے کہ بس اب دنیا بنی امیہ ہی کے دامن سے بندھی رہے گی اور انہیں ہی اپنے سارے فائدے بخشتی رہے گی اور انہیں ہی اپنے صاف چشمہ پر سیراب ہونے کیلئے اتارتی رہے گی اور اس اُمت کی (گردن پر) ان کی تلوار اور (پشت پر) ان کا تازیانہ ہمیشہ رہے گا۔ جو یہ خیال کرے گا، غلط خیال کرے گا، بلکہ یہ تو زندگی کے مزوں میں سے چند شہد کے قطرے ہیں، جنہیں کچھ دیر تک وہ چوسیں گے اور پھر سارے کا سارا تھوک دیں گے۔

۱؂پیغمبر اکرم ﷺ کا یہ ارشاد اس امر کی قطعی دلیل ہے کہ اہل بیت علیہم السلام میں سے کسی فرد کی زندگی ختم نہیں ہوتی اور ظاہری موت سے ان کے مرگ و حیات میں شعورِ زندگی کے لحاظ سے کچھ فرق نہیں پڑتا۔ اگرچہ اس زندگی کے احوال و واردات کے سمجھنے سے انسانی شعور عاجز ہے، مگر ماورائے محسوسات کتنی ہی حقیقتیں ایسی ہیں جن تک انسان کا شعور و ادراک نہیں پہنچ سکتا۔ کون بتا سکتا ہے کہ قبر کے تنگ گوشے میں کہ جہاں سانس بھی نہیں لی جا سکتی کیونکر منکر و نکیر کے سوالات کا جواب دیا جا سکے گا۔ یونہی شہدائے راهِ خدا کہ جو نہ حس و حرکت رکھتے ہیں نہ دیکھ سکتے ہیں اور نہ سن سکتے ہیں ان کی زندگی کا مفہوم کیا ہے۔ گو ہمیں وہ بظاہر مُردہ نظر آتے ہیں، مگر قرآن ان کی زندگی کی شہادت دیتا ہے:
﴿وَلَا تَقُوْلُوْا لِمَنْ يُّقْتَلُ فِىْ سَبِيْلِ اللّٰهِ اَمْوَاتٌ ؕ بَلْ اَحْيَآءٌ وَّلٰـكِنْ لَّا تَشْعُرُوْنَ‏﴾
جو لوگ خدا کی راہ میں قتل کئے گئے انہیں مردہ نہ کہنا، بلکہ وہ جیتے جاگتے ہیں، مگر تم ان کی زندگی کا شعور نہیں رکھتے۔(۱)
دوسرے مقام پر ان کی زندگی کے متعلق ارشاد ہوتا ہے:
﴿وَلَا تَحْسَبَنَّ الَّذِيْنَ قُتِلُوْا فِىْ سَبِيْلِ اللّٰهِ اَمْوَاتًا ‌ؕ بَلْ اَحْيَآءٌ عِنْدَ رَبِّهِمْ يُرْزَقُوْنَۙ‏ ﴾
جو اللہ کی راہ میں مارے گئے انہیں مردہ گمان نہ کرنا، بلکہ وہ زندہ ہیں اور اپنے پروردگار کے ہاں سے روزی پاتے ہیں۔(۲)
جب عام شہدائے راهِ خدا کے بارے میں قلب و زبان پر پہرہ بٹھا دیا گیا ہے کہ نہ انہیں مردہ کہا جائے اور نہ انہیں مردہ سمجھا جائے تو وہ معصوم ہستیاں کہ جن کی گردنیں تلوار کیلئے اور کام و دہن زہر کیلئے وقف ہو کر رہ گئے تھے کیونکر زندۂ جاوید نہ ہوں گے۔
پھر ان جسموں کے متعلق فرمایا ہے کہ امتدادِ زمانہ سے ان میں کہنگی و بوسیدگی کے آثار پیدا نہیں ہوتے، بلکہ وہ اسی حالت میں رہتے ہیں جس حالت میں شہید ہوتے ہیں۔ اور اس میں کوئی استبعاد نہیں ہے، کیونکہ مادی ذرائع سے ہزارہا برس کی محفوظ کی ہوئی میتیں اس وقت تک موجود ہیں تو جب مادی اسباب سے یہ ممکن ہے تو کیا قادرِ مطلق کے احاطۂ قدرت سے یہ باہر ہے کہ جن کی موت میں زندگی کے احساسات ودیعت کر دیئے ہوں ان کے جسموں کو تغیر و تبدل سے محفوظ رکھے؟ چنانچہ شہدائے بدر کے متعلق پیغمبر ﷺ نے فرمایا:
زَمِّلُوْهُمْ بِكُلُوْمِهِمْ - وَدِمَآئِهِمْ فَاِنَّهُمْ يُحْشَرُوْنَ يَوْمَ الْقِيٰمَةِ وَ اَوْدَاجُهُمْ تَشْخَبُ دَمًا.
انہیں انہی زخموں اور خون کی روانیوں کے ساتھ لپیٹ دو، کیونکہ جب یہ قیامت میں محشور ہوں گے تو ان کے رگہائے گلو سے خون اُبلتا ہو گا۔(۳)
۲؂۲’’ثقلِ اکبر‘‘ سے مراد قرآن اور ’’ثقلِ اصغر‘‘ سے اہل بیت علیہم السلام مراد ہیں۔ جیسا کہ پیغمبر ﷺ نے اپنے ارشاد «اِنِّیْ تَارِکٌ فِیْکُمُ الثَّقَلَیْنِ» میں لفظ ’’ثقلین‘‘ سے قرآن و اہل بیت علیہم السلام کی طرف اشارہ فرمایا ہے۔ اس لفظ سے تعبیر کرنے کے چند وجوہ ہیں:
پہلی وجہ یہ ہے کہ چونکہ تعلیماتِ قرآن و سیرتِ اہل بیت علیہم السلام پر عمل پیرا ہونا عموماً طبائع پر ثقیل و گراں گزرتا ہے، اس لئے انہیں ’’ثقلین‘‘ سے تعبیر فرمایا ہے۔
دوسری وجہ یہ ہے کہ ’’ثقل‘‘ کے معنی سامانِ مسافر کے ہوتے ہیں، جس کے محل احتیاج ہونے کی وجہ سے اس کی ہر وقت حفاظت کی جاتی ہے اور چونکہ قدرت نے انہیں قیامت تک باقی و برقرار رکھ کر ان کی حفاظت کا سروسامان کیا ہے، اس لئے انہیں’’ثقلین‘‘ کہا گیا ہے۔ یا یہ کہ پیغمبر ﷺ نے راہ پیمائے جادۂ آخرت ہونے کے وقت انہیں اپنا متاعِ بے بہا قرار دے کر اُمت سے ان کی حفاظت چاہی ہے۔
تیسری وجہ یہ ہے کہ ان کی نفاست و گرانقدری کے پیشِ نظر انہیں ’’ثقلین‘‘ سے یاد کیا گیا ہے، کیونکہ ’’ثقل‘‘ کے معنی نفیس اور پاکیزہ شے کے ہوتے ہیں۔ چنانچہ ابنِ حجر مکی نے تحریر کیا ہے:
سَمّٰى رَسُوْلُ اللهِ ﷺ الْقُرْاٰنَ وَ عِتْرَتَهٗ ثَقَلَيْنِ، لِاَنَّ الثِّقْلَ كُلُّ نَفِيْسٍ خَطِيْرٍ مَصُوْنٍ، وَ هٰذَانِ كَذٰلِكَ، اِذْ كُلٌّ مِّنْهُمَا مَعْدِنٌ لِّلْعُلُوْمِ اللَّدُنِّيَّةِ وَ الْاَسْرَارِ وَ الْحِكَمِ الْعُلْيَةِ وَ الْاَحْكَامِ الشَّرْعِيَّةِ، وَ لِذَا حَثَّ ﷺ عَلَى الْاِقْتِدَآءِ وَ التَّمَسُّكِ بِهِمْ وَ التَّعَلُّمِ مِنْهُمْ، ثُمَّ اَحَقُّ مَنْ يُّتَمَسَّكُ بِهٖ مِنْهُمْ اِمَامُهُمْ وَ عَالِمُهُمْ عَلِیُّ بْنُ اَبِیْ طَالِبٍ كَرَّمَ اللهُ وَجْهَهٗ لِمَا قَدَّمْنَاهُ مِنْ مَّزِيْدِ عِلْمِهٖ وَ دَقَآئِقِ مُسْتَنْۢبِطَاتِهٖ.
پیغمبر ﷺ نے قرآن اور اپنی عترت کا نام ’’ثقلین‘‘ رکھا ہے، کیونکہ ’’ثقل‘‘ ہر نفیس، عمدہ اور محفوظ چیز کو کہتے ہیں اور یہ دونوں ایسے ہی تھے۔ ان میں سے ہر ایک علم لدنی کا گنجینہ اور بلند پایہ اسرار و حکم اور احکام شرعیہ کا مخزن ہے۔ اسی لئے پیغمبرﷺ نے ان کی اقتدا اور ان کے دامن سے وابستگی اور ان سے تحصیل علوم کیلئے اُمت کو آمادہ کیا اور ان میں سے تمسک کئے جانے کے زیادہ حقدار امام و عالمِ آلِ محمد علی ابن ابی طالب کرم اللہ وجہہ ہیں، آپؑ کی اس علمی فراوانی اور استنباط میں دقت پسندی کی بنا پر کہ جس کا ہم پہلے تذکرہ کر چکے ہیں۔ (صواعق محرقہ، ص۹۰)
پیغمبر اکرم ﷺ نے چونکہ مقامِ تعبیر میں ’’کتاب‘‘ کی نسبت ’’اللہ‘‘ کی جانب دی ہے اور ’’عترت‘‘ کی نسبت اپنی طرف، اس لئے حفظِ مراتب کا لحاظ کرتے ہوئے اُسے ’’اکبر‘‘ اور اسے ’’اصغر‘‘ سے تعبیر فرمایا ہے، ورنہ مقامِ تمسک میں اہمیت کے لحاظ سے دونوں یکساں اور تعمیر اخلاق میں افادیت کے لحاظ سے ناطق کا درجہ صامت پر مقدم ہونے میں گنجائش انکار نہیں ہے۔

[۱]۔ سورۂ بقرہ، آیت ۱۵۴۔
[۲]۔ سورۂ آل عمران، آیت ۱۶۹۔
[۳]۔ منہاج البراعۃ، ج ۶، ص ۲۱۲، تیسر التحریر، ج ۴، ص ۳۹۔