فہرست خطبات

1- معرفت باری تعالیٰ، زمین و آسمان اور آدمؑ کی خلقت، احکام و حج
2- عرب قبل از بعثت، اہل بیتؑ کی فضیلت اور ایک جماعت کی منقصت
3- (خطبہ شقشقیہ) خلفائے ثلاثہ کی حکومت کے بارے میں آپؑ کا نظریہ
4- آپکیؑ کی دوررس بصیرت، یقین کامل اور موسیؑ کا خوفزدہ ہونا
5- پیغمبرﷺ کے بعد جب ابو سفیان نے آپؑ کی بیعت کرنا چاہی
6- طلحہ و زبیر کے تعاقب سےآپؑ کو روکا گیا تو اس موقع پر فرمایا
7- منافقین کی حالت
8- جب زبیر نے یہ کہا میں نے دل سے بیعت نہ کی تھی تو آپؑ نے فرما
9- اصحاب جمل کا بوداپن
10- طلحہ و زبیر کے بارے میں
11- محمد بن حنفیہ کو آداب حرم کی تعلیم
12- عمل کا کردار اور مدار نیت پر ہے۔
13- بصرہ اور اہل بصرہ کی مذمت میں
14- اہل بصرہ کی مذمت میں
15- عثمان کی دی ہوئی جا گیریں جب پلٹا لیں تو فرمایا
16- جب اہل مدینہ نے آپؑ کے ہاتھ پر بیعت کی تو فرمایا
17- مسند قضا پر بیٹھنے والے نا اہلوں کی مذمت میں
18- علماء کے مختلف الاراء ہونے کی مذمت اور تصویب کی رد
19- اشعث بن قیس کی غداری و نفاق کا تذکرہ
20- موت کی ہولناکی اور اس سے عبرت اندوزی
21- دنیا میں سبکبار رہنے کی تعلیم
22- قتل عثمان کا الزام عائد کرنے والوں کے بارے میں
23- حسد سے باز رہنے اور عزیزو اقارب سے حسن سلوک کے بارے میں
24- جنگ پر آمادہ کرنے کے لیے فرمایا
25- بسر کے حملے کے بعد جنگ سے جی چرانے والوں سے فرمایا
26- عرب قبل از بعثت اور پیغمبرﷺ کے بعد دنیا کی بے رخی
27- جہاد پر برانگیختہ کرنےکے لیے فرمایا
28- دنیا کی بے ثباتی اور زاد آخرت کی اہمیت کا تذکرہ
29- جنگ کے موقعہ پر حیلے بہانے کرنے والوں کے متعلق فرمایا
30- قتل عثمان کے سلسلے میں آپؑ کی روش
31- جنگ جمل پہلے ابن عباس کو زبیر کے پاس جب بھیجنا
32- دنیا کی مذمت اور اہل دنیا کی قسمیں
33- جب جنگ جمل کے لیے روانہ ہوئے تو فرمایا
34- اہل شام کے مقابلے میں لوگوں کو آمادۂ جنگ کرنے کے لیے فرمایا
35- تحکیم کے بارے میں فرمایا
36- اہل نہروان کو ان کے انجام سے مطلع کرنے کے لیے فرمایا
37- اپنی استقامت دینی و سبقت ایمانی کے متعلق فرمایا
38- شبہہ کی وجہ تسمیہ اور دوستان خدا و دشمنان خدا کی مذمت
39- جنگ سے جی چرانے والوں کی مذمت میں
40- خوارج کے قول «لاحکم الا للہ» کے جواب میں فرمایا
41- غداری کی مذمت میں
42- نفسانی خواہشوں اور لمبی امیدوں کے متعلق فرمایا
43- جب ساتھیوں نے جنگ کی تیاری کے لیے کہا تو آپؑ نے فرمایا
44- جب مصقلہ ابن ہبیرہ معاویہ کے پاس بھاگ گیا تو آپؑ نے فرمایا
45- اللہ کی عظمت اور جلالت اور دنیا کی سبکی و بے وقاری کے متعلق
46- جب شام کی جانب روانہ ہوئے تو فرمایا
47- کوفہ پر وارد ہونے والی مصیبتوں کے متعلق فرمایا
48- جب شام کی طرف روانہ ہوئے تو فرمایا
49- اللہ کی عظمت و بزرگی کے بارے میں فرمایا
50- حق و باطل کی آمیزش کے نتائج
51- جب شامیوں نے آپؑ کے ساتھیوں پر پانی بند کر دیا تو فرمایا
52- دنیا کے زوال وفنا اور آخرت کے ثواب و عتاب کے متعلق فرمایا
53- گوسفند قربانی کے اوصاف
54- آپؑ کے ہاتھ پر بیعت کرنے والوں کا ہجوم
55- میدان صفین میں جہاد میں تاخیر پر اعتراض ہوا تو فرمایا
56- میدان جنگ میں آپؑ کی صبر و ثبات کی حالت
57- معاویہ کے بارے میں فرمایا
58- خوارج کےبارے میں آپؑ کی پیشینگوئی
59- خوارج کی ہزیمت کے متعلق آپؑ کی پیشینگوئی
60- جب اچانک قتل کر دیے جانے سے ڈرایا گیا تو آپؑ نے فرمایا
61- دنیا کی بے ثباتی کا تذکرہ
62- دنیا کے زوال و فنا کے سلسلہ میں فرمایا
63- صفات باری کا تذکرہ
64- جنگ صفین میں تعلیم حرب کےسلسلے میں فرمایا
65- سقیفہ بنی ساعدہ کی کاروائی سننے کے بعد فرمایا
66- محمد بن ابی بکرکی خبر شہادت سن کر فرمایا
67- اپنے اصحاب کی کجروی اور بے رخی کے بارے میں فرمایا
68- شب ضربت سحر کے وقت فرمایا
69- اہل عراق کی مذمت میں فرمایا
70- پیغمبرﷺ پر درود بھیجنے کا طریقہ
71- حسنینؑ کی طرف سے مروان کی سفارش کی گئی تو آپؑ نے فرمایا
72- جب لوگوں نے عثمان کی بیعت کا ارادہ کیا تو آپؑ نے فرمایا
73- قتل عثمان میں شرکت کا الزام آپؑ پر لگایا گیا تو فرمایا
74- پند و نصیحت کے سلسلے میں فرمایا
75- بنی امیہ کے متعلق فرمایا
76- دعائیہ کلمات
77- منجمین کی پیشینگوئی کی رد
78- عورتوں کے فطری نقائص
79- پند و نصیحت کے سلسلے میں فرمایا
80- اہل دنیا کے ساتھ دنیا کی روش
81- موت اور اس کے بعد کی حالت، انسانی خلقت کے درجات اور نصائح
82- عمرو بن عاص کے بارے میں
83- تنزیہ بازی اور پند و نصائح کے سلسلے میں فرمایا
84- آخرت کی تیاری اور احکام شریعت کی نگہداشت کے سلسلے میں فرمایا
85- دوستان خدا کی حالت اور علماء سوء کی مذمت میں فرمایا
86- امت کے مختلف گروہوں میں بٹ جانے کے متعلق فرمایا
87- بعثت سے قبل دنیا کی حالت پراگندگی اور موجودہ دور کے لوگ
88- صفات باری اور پند و موعظت کےسلسلے میں فرمایا
89- (خطبہ اشباح) آسمان و زمین کی خلقت
90- جب آپؑ کے ہاتھ پر بیعت ہوئی تو فرمایا
91- خوارج کی بیخ کنی اور اپنے علم کی ہمہ گیری و فتنہ بنی امیہ
92- خداوند عالم کی حمد و ثناء اور انبیاء کی توصیف میں فرمایا
93- بعثت کے وقت لوگوں کی حالت اور پیغمبرﷺ کی مساعی
94- نبی کریم ﷺ کی مدح و توصیف میں فرمایا
95- اپنے اصحاب کو تنبیہہ اور سرزنش کرتے ہوئے فرمایا
96- بنی امیہ اور ان کے مظالم کے متعلق فرمایا
97- ترکِ دینا اور نیرنگیٔ عالم کے سلسلہ میں فرمایا
98- اپنی سیرت و کردار اور اہل بیتؑ کی عظمت کے سلسلہ میں فرمایا
99- عبد الملک بن مروان کی تاراجیوں کے متعلق فرمایا
100- بعد میں پیدا ہونے والے فتنوں کے متعلق فرمایا
101- زہد و تقو یٰ اور اہل دنیا کی حالت کے متعلق فرمایا
102- بعثت سے قبل لوگوں کی حالت اور پیغمبر ﷺکی تبلیغ و ہدایت
103- پیغمبر اکرمﷺ کی مدح و توصیف اور فرائضِ امام کے سلسلہ میں
104- شریعت اسلام کی گرانقدری اور پیغمبرﷺ کی عظمت کے متعلق فرمایا
105- صفین میں جب حصہ لشکر کے قدم اکھڑنے کے جم گئے تو فرمایا
106- پیغمبرﷺ کی توصیف اور لوگوں کے گوناگون حالات کے بارے میں
107- خداوند عالم کی عظمت، ملائکہ کی رفعت ،نزع کی کیفیت اور آخرت
108- فرائضِ اسلام اور علم وعمل کے متعلق فرمایا
109- دنیا کی بے ثباتی کے متعلق فرمایا
110- ملک الموت کے قبضِ رُوح کرنے کے متعلق فرمایا
111- دنیا اور اہل دنیا کے متعلق فرمایا
112- زہد و تقویٰ اور زادِ عقبیٰ کی اہمیت کے متعلق
113- طلب باران کے سلسلہ میں فرمایا
114- آخرت کی حالت اور حجاج ابن یوسف ثقفی کے مظالم کے متعلق
115- خدا کی راہ میں جان و مال سے جہاد کرنے کے متعلق فرمایا
116- اپنے دوستوں کی حالت اور اپنی اولیت کے متعلق فرمایا
117- جب اپنے ساتھیوں کو دعوت جہاد دی اور وہ خاموش رہے تو فرمایا
118- اہل بیتؑ کی عظمت اور قوانین شریعت کی اہمیت کے متعلق فرمایا
119- تحکیم کے بارے میں آپؑ پر اعتراض کیا گیا تو فرمایا
120- جب خوارج تحکیم کے نہ ماننے پر اڑ گئے تو احتجاجاً فرمایا
121- جنگ کے موقع پر کمزور اور پست ہمتوں کی مدد کرنے کی سلسلہ میں
122- میدان صفین میں فنونِ جنگ کی تعلیم دیتے ہوئے فرمایا
123- تحکیم کو قبول کرنے کے وجوہ و اسباب
124- بیت المال کی برابر کی تقسیم پر اعتراض ہوا تو فرمایا
125- خوارج کے عقائد کے رد میں
126- بصرہ میں ہونے والے فتنوں، تباہ کاریوں اور حملوں کے متعلق
127- دنیا کی بے ثباتی اور اہل دنیا کی حالت
128- حضرت ابوذر کو مدینہ بدر کیا گیا تو فرمایا
129- خلافت کو قبول کرنے کی وجہ اور والی و حاکم کے اوصاف
130- موت سے ڈرانے اور پند و نصیحت کے سلسلہ میں فرمایا
131- خداوند ِعالم کی عظمت، قرآن کی اہمیت اور پیغمبرﷺ کی بعثت
132- جب مغیرہ بن اخنس نے عثمان کی حمایت میں بولنا چاہا تو فرمایا
133- غزوہ روم میں شرکت کے لیے مشورہ مانگا گیا تو فرمایا
134- اپنی نیت کے اخلاص اور مظلوم کی حمایت کے سلسلہ میں فرمایا
135- طلحہ و زبیر اور خونِ عثمان کے قصاص اور اپنی بیعت کے متعلق
136- ظہورِ حضرت قائم علیہ السلام کے وقت دُنیا کی حالت
137- شوریٰ کے موقع پر فرمایا
138- غیبت اور عیب جوئی سے ممانعت کے سلسلہ میں فرمایا
139- سُنی سُنائی باتوں کو سچا نہ سمجھنا چاہئے
140- بے محل داد و دہش سے ممانعت اور مال کا صحیح مصرف
141- طلبِ باران کے سلسلہ میں فرمایا
142- اہل بیتؑ راسخون فی العلم ہیں اور وہی امامت وخلافت کے اہل ہیں
143- دُنیا کی اہل دُنیا کے ساتھ روش اور بدعت و سنت کا بیان
144- جب حضرت عمر نے غزوہ فارس کیلئے مشورہ لیا تو فرمایا
145- بعثتِ پیغمبر کی غرض و غایت اور اُس زمانے کی حالت
146- طلحہ وزبیر کے متعلق فرمایا
147- موت سے کچھ قبل بطور وصیّت فرمایا
148- حضرت حجتؑ کی غیبت اور پیغمبرﷺ کے بعد لوگوں کی حالت
149- فتنوں میں لوگوں کی حالت اور ظلم اور اکل حرام سے اجتناب
150- خداوند عالم کی عظمت و جلالت کا تذکرہ اور معرفت امام کے متعلق
151- غفلت شعاروں، چوپاؤں، درندوں اور عورتوں کے عادات و خصائل
152- اہل بیتؑ کی توصیف، علم وعمل کا تلازم اور اعمال کا ثمرہ
153- چمگادڑ کی عجیب و غریب خلقت کے بارے میں
154- حضرت عائشہ کے عناد کی کیفیت اور فتنوں کی حالت
155- دُنیا کی بے ثباتی، پندو موعظت اور اعضاء و جوارح کی شہادت
156- بعثت پیغمبرﷺ کا تذکرہ، بنی اُمیّہ کے مظالم اور ان کا انجام
157- لوگوں کے ساتھ آپ کا حُسنِ سلوک اور ان کی لغزشوں سے چشم پوشی
158- خداوندِعالم کی توصیف ،خوف ورجاء، انبیاءؑ کی زندگی
159- دین اسلام کی عظمت اور دُنیا سے درس عبرت حاصل کرنے کی تعلیم
160- حضرتؑ کو خلافت سے الگ رکھنے کے وجوہ
161- اللہ کی توصیف، خلقت انسان اور ضروریات زندگی کی طرف رہنمائی
162- امیرالمومنینؑ کا عثمان سے مکالمہ اور ان کی دامادی پر ایک نظر
163- مور کی عجیب و غریب خلقت اور جنّت کے دلفریب مناظر
164- شفقت و مہربانی اور ظاہر و باطن کی تعلیم اور بنی امیہ کا زوال
165- حقوق و فرائض کی نگہداشت اور تمام معاملات میں اللہ سے خوف
166- جب لوگوں نے قاتلین عثمان سے قصاص لینے کی فرمائش کی تو فرمایا
167- جب اصحاب جمل بصرہ کی جانب روانہ ہوئے تو فرمایا
168- اہل بصرہ سے تحقیق حال کے لئے آنے والے شخص سے فرمایا
169- صفین میں جب دشمن سے دوبدو ہوکر لڑنے کا ارادہ کیا تو فرمایا
170- جب آپؑ پر حرص کا الزام رکھا گیا تو اس کی رد میں فرمایا
171- خلافت کا مستحق کون ہے اور ظاہری مسلمانوں سے جنگ کرنا
172- طلحہ بن عبیداللہ کے بارے میں فرمایا
173- غفلت کرنے والوں کو تنبیہ اور آپؑ کے علم کی ہمہ گیری
174- پند دو موعظت، قرآن کی عظمت اور ظلم کی اقسام
175- حکمین کے بارے میں فرمایا
176- خداوند عالم کی توصیف، دُنیا کی بے ثباتی اور اسباب زوال نعمت
177- جب پوچھا گیا کہ کیا آپؑ نے خدا کو دیکھا ہے تو فرمایا
178- اپنے اصحاب کی مذمت میں فرمایا
179- خوارج سے مل جانے کا تہیّہ کرنے والی جماعت سے فرمایا
180- خداوند عالم کی تنزیہ و تقدیس اور قدرت کی کا ر فرمائی
181- خداوند عالم کی توصیف، قرآن کی عظمت اور عذاب آخرت سے تخویف
182- جب «لا حکم الا اللہ» کا نعرہ لگایا گیا تو فرمایا
183- خداوند عالم کی عظمت و توصیف اور ٹڈی کی عجیب و غریب خلقت
184- مسائل الٰہیات کے بُنیادی اُصول کا تذکرہ
185- فتنوں کے ابھرنے اور رزقِ حلال کے ناپید ہو جانے کے بارے میں
186- خداوند عالم کے احسانات، مرنے والوں کی حالت اور بے ثباتی دنیا
187- پختہ اور متزلزل ایمان اور دعویٰ سلونی «قبل ان تفقدونی»
188- تقویٰ کی اہمیت، ہولناکی قبر، اللہ، رسول اور اہل بیت کی معرفت
189- خداوند عالم کی توصیف، تقویٰ کی نصیحت، دنیا اور اہل دنیا
190- (خطبہ قاصعہ) جس میں ابلیس کی مذمت ہے۔
191- متقین کے اوصاف اور نصیحت پذیر طبیعتوں پر موعظت کا اثر
192- پیغمبر ﷺکی بعثت، قبائلِ عرب کی عداوت اور منافقین کی حالت
193- خداوند عالم کی توصیف، تقویٰ کی نصیحت اور قیامت کی کیفیت
194- بعثتِ پیغمبرؐ کے وقت دنیا کی حالت، دنیا کی بے ثباتی
195- حضورﷺ کے ساتھ آپؑ کی خصوصیات اور حضور ﷺ کی تجہیز و تکفین
196- خداوند عالم کے علم کی ہمہ گیری، تقویٰ کے فوائد
197- نماز، زکوٰة اور امانت کے بارے میں فرمایا
198- معاویہ کی غداری و فریب کاری اور غداروں کا انجام
199- راہ ہدایت پر چلنے والوں کی کمی اور قوم ثمود کا تذکرہ
200- جناب سیدہ سلام اللہ علیہا کے دفن کے موقع پر فرمایا
201- دنیا کی بے ثباتی اور زاد آخرت مہیا کرنے کے لیے فرمایا
202- اپنے اصحاب کو عقبیٰ کے خطرات سے متنبہ کرتے ہوئے فرمایا
203- طلحہ و زبیر نے مشورہ نہ کرنے کا شکوہ کیا تو فرمایا
204- صفین میں شامیوں پر شب و ستم کیا گیا تو فرمایا
205- جب امام حسنؑ صفین کے میدان میں تیزی سے بڑھے تو فرمایا
206- صفین میں لشکر تحکیم کے سلسلہ میں سرکشی پر اُتر آیا تو فرمایا
207- علاء ابن زیاد حارثی کی عیادت کو موقع پر فرمایا
208- اختلاف احادیث کے وجوہ و اسباب اور رواة حدیث کے اقسام
209- خداوند عالم کی عظمت اور زمین و آسمان اور دریاؤں کی خلقت
210- حق کی حمایت سے ہاتھ اٹھا لینے والوں کے بارے میں فرمایا
211- خداوند عالم کی عظمت اور پیغمبرؐ کی توصیف و مدحت
212- پیغمبرﷺ کی خاندانی شرافت اور نیکو کاروں کے اوصاف
213- آپؑ کے دُعائیہ کلمات
214- حکمران اور رعیّت کے باہمی حقوق کے بارے میں فرمایا
215- قریش کے مظالم کے متعلق فر مایا اور بصرہ پر چڑھائی کے متعلق
216- طلحہ اور عبد الرحمن بن عتاب کو مقتول دیکھا تو فرمایا
217- متقی و پرہیزگار کے اوصاف
218- ”الہاکم التکاثر حتی زرتم المقابر“ کی تلاوت کے وقت فرمایا
219- ” رجال لا تلہیھم تجارة و لا بیع عن ذکر اللہ “ کی تلاوت کے وق
220- ” یا اٴیھا الانسان ما غرّک بربک الکریم “ کی تلاوت کے وقت فرم
221- ظلم و غصب سے کنارہ کشی، عقیل کی حالت فقر و احتیاج، اور اشعث
222- آپؑ کے دُعائیہ کلمات
223- دنیا کی بے ثباتی اور اہل قبور کی حالت بے چارگی
224- آپؑ کے دُعائیہ کلمات
225- انتشار و فتنہ سے قبل دنیا سے اٹھ جانے والوں کے متعلق فرمایا
226- اپنی بیعت کے متعلق فرمایا
227- تقویٰ کی نصیحت موت سے خائف رہنے اور زہد اختیار کرنے کے متعلق
228- جب بصرہ کی طرف روانہ ہوئے تو فرمایا
229- عبد اللہ ابن زمعہ نے آپؑ سے مال طلب کیا تو فرمایا
230- جب جعدہ ابن ہبیرہ خطبہ نہ دے سکے تو فرمایا
231- لوگوں کے اختلاف صورت و سیرت کی وجوہ و اسباب
232- پیغمبر ﷺ کو غسل و کفن دیتے وقت فرمایا
233- ہجرتِ پیغمبر ﷺ کے بعد اُن کے عقب میں روانہ ہونے کے متعلق
234- زادِ آخرت مہیا کرنے اور موت سے پہلے عمل بجا لانے کے متعلق
235- حکمین کے بارے میں فرمایا اور اہل شام کی مذمت میں فرمایا
236- آلِ محمدؑ کی توصیف اور روایت میں عقل و درایت سے کام لینا
237- جب عثمان نے ینبع چلے جانے کے لیے پیغام بھجوایا تو فرمایا
238- اصحاب کو آمادہ جنگ کرنے اور آرام طلبی سے بچنے کے لئے فرمایا

Quick Contact

لوگوں سے اس طریقہ سے ملو کہ اگر مرجاؤ تو تم پر روئیں، اور زندہ رہو تو تمہارے مشتاق ہوں۔ حکمت 9
(١٨) وَ مِنْ كَلَامٍ لَّهٗ عَلَیْهِ السَّلَامُ
خطبہ (۱۸)
فِیْ ذَمِّ اخْتِلَافِ الْعُلَمَآءِ فِی الْفُتْيَا
فتاویٰ میں علماء کے مختلف الآرا ہونے کی مذمت میں فرمایا
تَرِدُ عَلٰۤى اَحَدِهِمُ الْقَضِیَّةُ فِیْ حُكْمٍ مِّنَ الْاَحْكَامِ فَیَحْكُمُ فِیْهَا بِرَاْیِهٖ، ثُمَّ تَرِدُ تِلْكَ الْقَضِیَّةُ بِعَیْنِهَا عَلٰى غَیْرِهٖ فَیَحْكُمُ فِیْهَا بِخِلَافِهٖ، ثُمَّ یَجْتَمِـعُ الْقُضَاةُ بِذٰلِكَ عِنْدَ الْاِمَامِ الَّذِی اسْتَقْضَاهُمْ، فَیُصَوِّبُ اٰرَآءَهُمْ جَمِیْعًا، وَ اِلٰهُهُمْ وَاحِدٌ، وَ نَبِیُّهُمْ وَاحِدٌ، وَ كِتَابُهُمْ وَاحِدٌ.
جب [۱] ان میں سے کسی ایک کے سامنے کوئی معاملہ فیصلہ کیلئے پیش ہوتا ہے تو وہ اپنی رائے سے اس کا حکم لگا دیتا ہے۔ پھر وہی مسئلہ بعینہٖ دوسرے کے سامنے پیش ہوتا ہے تو وہ اس پہلے کے حکم کے خلاف حکم دیتا ہے۔ پھر یہ تمام کے تمام قاضی اپنے اس خلیفہ کے پاس جمع ہوتے ہیں جس نے انہیں قاضی بنا رکھا ہے تو وہ سب کی رایوں کو صحیح قرار دیتا ہے، حالانکہ ان کا اللہ ایک، نبی ایک اور کتاب ایک ہے۔
اَفَاَمَرَهُمُ اللهُ تَعَالٰی بِالْاِخْتِلَافِ فَاَطَاعُوْهُ؟ اَمْ نَهَاهُمْ عَنْهُ فَعَصَوْهُ؟ اَمْ اَنْزَلَ اللهُ دِیْنًا نَّاقِصًا فَاسْتَعَانَ بِهِمْ عَلٰۤى اِتْمَامِهٖ؟ اَمْ كَانُوْا شُرَكَآءَ لَهٗ فَلَهُمْ اَنْ یَّقُوْلُوْا وَ عَلَیْهِ اَنْ یَّرْضٰى؟ اَمْ اَنْزَلَ اللهُ سُبْحَانَهُ دِیْنًا تَامًّا فَقَصَّرَ الرَّسُوْلُ ﷺ عَنْ تَبْلِیْغِهٖ وَ اَدَآئِهٖ؟ وَاللهُ سُبْحَانَهٗ یَقُوْلُ: ﴿مَا فَرَّطْنَا فِی الْكِتٰبِ مِنْ شَیْءٍ﴾، فِیْهِ تِبْیَانُ كُلِّ شَیْءٍ، وَ ذَكَرَ اَنَّ الْكِتَابَ یُصَدِّقُ بَعْضُہٗ بَعْضًا، وَ اَنَّهٗ لَا اخْتِلَافَ فِیْهِ، فَقَالَ سُبْحَانَهٗ: ﴿وَ لَوْ كَانَ مِنْ عِنْدِ غَیْرِ اللّٰهِ لَوَجَدُوْا فِیْهِ اخْتِلَافًا كَثِیْرًا۝﴾. وَ اِنَّ الْقُرْاٰنَ ظَاهِرُهٗ اَنِیْقٌ وَّ بَاطِنُهٗ عَمِیْقٌ، لَا تَفْنٰى عَجَآئِبُهٗ، وَ لَا تَنْقَضِیْ غَرَآئِبُهٗ، وَ لَا تُكْشَفُ الظُّلُمٰتُ اِلَّا بِهٖ.
(انہیں غور تو کرنا چاہیے) کیا اللہ نے انہیں اختلاف کا حکم دیا تھا اور یہ اختلاف کر کے اس کا حکم بجا لاتے ہیں۔ یا اس نے تو حقیقتاً اختلاف سے منع کیا ہے اور یہ اختلاف کر کے عمداً اس کی نافرمانی کرنا چاہتے ہیں۔ یا یہ کہ اللہ نے دین کو ادھورا چھوڑ دیا تھا اور ان سے تکمیل کیلئے ہاتھ بٹانے کا خواہشمند ہوا تھا۔ یا یہ کہ اللہ کے شریک تھے کہ انہیں اس کے احکام میں دخل دینے کا حق ہو اور اس پر لازم ہو کہ وہ اس پر رضا مند رہے۔ یا یہ کہ اللہ نے تو دین کو مکمل اتارا تھا مگر اس کے رسول ﷺ نے اس کے پہنچانے اور ادا کرنے میں کوتاہی کی تھی۔ اللہ نے قرآن میں تو یہ فرمایا ہے کہ: ’’ہم نے کتاب میں کسی چیز کے بیان کرنے میں کوتاہی نہیں کی‘‘اور اس میں ہر چیز کا واضح بیان کیا ہے اور یہ بھی کہا ہے کہ: قرآن کے بعض حصے بعض حصوں کی تصدیق کرتے ہیں اور اس میں کوئی اختلاف نہیں۔ چنانچہ اللہ کا یہ ارشاد ہے کہ: ’’ اگر یہ قرآن اللہ کے علاوہ کسی اور کا بھیجا ہوا ہوتا تو تم اس میں کافی اختلاف پاتے‘‘ اور یہ کہ اس کا ظاہر خوش نما اور باطن گہرا ہے۔ نہ اس کے عجائبات مٹنے والے اور نہ اس کے لطائف ختم ہونے والے ہیں۔ ظلمت (جہالت) کا پردہ اسی سے چاک کیا جاتا ہے۔

۱؂یہ مسئلہ محل نزاع ہے کہ جس چیز پر شرع کی رو سے کوئی قطعی دلیل قائم نہ ہو، آیا واقعی میں اس کا کوئی حکم ہوتا بھی ہے یا نہیں؟
ابو الحسن اشعری اور ان کے استاد ابو علی جبائی کا مسلک یہ ہے کہ اللہ نے اس کیلئے کوئی حکم تجویز ہی نہیں کیا بلکہ ایسے موارد میں تشریع و حکم کا اختیار مجتہدین کو سونپ دیا ہے کہ وہ اپنی صوابدید سے جسے حرام ٹھہرا لیں اسے واقعی حرام قرار دے دیا جائے گا اور جسے حلال کر دیں اسے واقعی حلال سمجھ لیا جائے گا اور اگر کوئی کچھ کہے اور کوئی کچھ تو پھر جتنی ان کی رائے ہوں گی اتنے احکام بنتے چلے جائیں گے اور ان میں سے ہر ایک کا نقطہ نگاہ حکم واقعی کا ترجمان ہو گا۔ مثلاً اگر ایک مجتہد کی رائے یہ ٹھہری کہ نبیذ حرام ہے اور دوسرے مجتہد کی رائے یہ ہوئی کہ نبیذ حلال ہے تو وہ واقعی میں حلال بھی ہو گی اور حرام بھی۔ یعنی جو اسے حرام سمجھے اس کیلئے پینا ناجائز ہے اور جو حلال سمجھ کر پئے اس کیلئے پینا جائز ہے۔ چنانچہ شہرستانی اس تصویب کے متعلق تحریر کرتے ہیں:
فَمِنَ الْاُصُوْلِيِّيْنَ مَنْ صَارَ اِلٰۤى اَنْ لَّا حُكْمَ لِلّٰهِ تَعَالٰى فِی الْوَقَآئِعِ الْمُجْتَهَدِ فِيْهَا حُكْمًۢا بِعَيْنِهٖ قَبْلَ الْاِجْتِهَادِ مِنْ جَوَازٍ وَّ حَظَرٍ وَّ حَلَالٍ وَّ حَرَامٍ، وَ اِنَّمَا حُكْمُهٗ تَعَالٰى مَاۤ اَدّٰى اِلَيْهِ اجْتِهَادُ الْمُجْتَهِدِ وَ اَنَّ هٰذَا الْحُكْمَ مَنُوْطٌۢ بِهٰذَا السَّبَبِ، فَمَا لَمْ يُوْجَدِ السَّبَبُ لَمْ يَثْبُتِ الْحُكْمُ۔۔۔ وَ عَلٰى هٰذَا الْمَذْهَبِ كُلُّ مُجْتَهِدٍ مُصِيْبٌ فِی الْحُكْمِ.
اصولیین کا ایک گروہ اس کا قائل ہے کہ جن مسائل میں اجتہاد کیا جاتا ہے، ان کیلئے جواز و عدم جواز اور حلال و حرام کے اعتبار سے کوئی طے شدہ حکم نہیں ہوتا، بلکہ جو مجتہد کی رائے ہوتی ہے وہی خدا کا حکم ہوتا ہے۔ کیونکہ حکم کا قرار پانا ہی اس پر موقوف ہے کہ وہ کسی مجتہد کے نظرئیے سے طے ہو۔ اگر یہ چیز نہ ہو گی تو حکم بھی ثابت نہ ہو گا۔ اور اس مسلک کی بنا پر ہر مجتہد اپنی رائے میں درست ہو گا۔ (کتاب الملل و النحل، ص۹۸)
اس صورت میں مجتہد کو خطا سے اس لئے محفوط سمجھا جاتا ہے کہ خطا تو وہاں متصور ہوا کرتی ہے جہاں کوئی قدم واقع کے خلاف اُٹھے اور جہاں کوئی واقع ہی نہ ہو وہاں خطا کے کیا معنی؟۔
اس کے علاوہ اس صورت میں بھی مجتہد سے خطا کا امکان نہ ہو گا کہ جب یہ نظریہ قائم کر لیا جائے کہ مجتہدین کی آئندہ جتنی رائیں ہونے والی تھیں اللہ نے ان سے با خبر ہونے کی بنا پر پہلے ہی سے اتنے احکام بنا رکھے ہیں کہ جس کی وجہ سے ہر رائے حکم واقعی کے مطابق ہی پڑتی ہے۔
یا یہ کہ اس نے یہ التزام کر رکھا ہے کہ مجتہدین کی رایوں کو ان طے شدہ احکام سے باہر نہ ہونے دے گا۔
یا یہ کہ برسبیل اتفاق ان میں سے ہر ایک کی رائے ان احکام میں سے کسی ایک نہ ایک حکم سے بہر صورت موافقت کرے گی۔
لیکن فرقہ امامیہ کا نظریہ یہ ہے کہ اللہ نے نہ کسی کو شریعت سازی کا حق دیا ہے اور نہ کسی چیز کے حکم کو مجتہد کی رائے کے تابع ٹھہرایا ہے اور نہ آراء کے مختلف ہونے کی صورت میں ایک ہی چیز کیلئے واقعی میں متعدد احکامات بنائے ہیں۔ البتہ جب مجتہد کی حکم واقعی تک رسائی نہیں ہونے پاتی تو تلاش و تفحص کے بعد جو نظریہ اس کا قرار پاتا ہے اس پر عمل پیرا ہونا اس کیلئے اور اس کے مقلدین کیلئے کفایت کر جاتا ہے، لیکن اس کی حیثیت صرف حکم ظاہری کی ہوتی ہے جو حکم واقعی کا بدل ہے اور ایسی صورت میں حکم واقعی کے چھوٹ جانے پر وہ معذور قرار پا جاتا ہے۔ کیونکہ اس نے اس دریائے نا پیدا کنار میں غوطہ لگانے اور اس کی تہ تک پہنچنے میں کوئی کوشش اٹھا نہیں رکھی۔ مگر اس پر کیا اختیار کہ در شاہوار کے بجائے خالی صدف ہی اس کے ہاتھ لگے۔ لیکن وہ یہ نہیں کہتا کہ دیکھنے والے اسے موتی سمجھیں اور موتی کے بھاؤ بکے۔ یہ دوسری بات ہے کہ کوششوں کا پرکھنے والا اس کی بھی آدھی قیمت لگا دے تا کہ نہ اس کی محنت اَکارت جائے اور نہ اس کی ہمت ٹوٹنے پائے۔
اگر اس تصویب کے اصول کو مان لیا جائے تو پھر ہر فتویٰ کو درست اور ہر قول کو صحیح ماننا پڑے گا۔ جیسا کہ میبذی نے فواتح میں لکھا ہے:
حق در این مسئلہ مذھب اشعری است، پس تو اند بود کہ مذاھب متناقضہ ھمہ حق باشند زنہار در شانِ علماء گمان بد مبر و زبان بطعن ایشان مکشا۔
جب متضاد نظرئیے اور مختلف فتوے تک صحیح تسلیم کئے جاتے ہیں تو حیرت ہے کہ بعض نمایاں افراد کے اقدامات کو خطائے اجتہادی سے کیوں تعبیر کیا جاتا ہے، جب کہ مجتہد کیلئے خطا کا تصور ہی نہیں ہو سکتا۔ اگر عقیدہ تصویب صحیح ہے تو امیر شام اور اُمّ المومنین کے اقدامات درست ماننا پڑیں گے اور اگر ان کے اقدامات غلط سمجھے جاتے ہیں تو تسلیم کیجئے کہ اجتہاد ٹھوکر بھی کھا سکتا ہے اور تصویب کا عقیدہ غلط ہے اور یہ اپنے مقام پر طے ہوتا رہے گا کہ اُمّ المومنین کے اجتہاد میں انوثیت تو سد راہ نہیں ہوتی یا امیر شام کا یہ اجتہاد تھا یا کچھ اور۔ بہر صورت یہ تصویب کا عقیدہ خطاؤں کو چھپانے اور غلطیوں پر حکم الٰہی کی نقاب ڈالنے کیلئے ایجاد کیا گیا تھا تا کہ نہ مقصد برآریوں میں روک پیدا ہو اور نہ من مانی کارروائیوں کے خلاف کوئی زبان کھول سکے۔
امیر المومنین علیہ السلام نے اس خطبہ میں ایسے ہی لوگوں کا ذکر کیا ہے جو اللہ کی راہ سے کٹ کر اور وحی الٰہی کی روشنی سے آنکھیں بند کر کے قیاس و رائے کے اندھیروں میں ٹامک ٹوئیاں مارتے رہتے ہیں اور دین کو افکار و آراء کی آماجگاہ بنا کر نت نئے فتوے دیتے رہتے ہیں اور اپنے جی سے احکام گھڑ کر اختلافات کے شاخسانے چھوڑتے رہتے ہیں اور پھر تصویب کی بنا پر تمام مختلف و متضاد احکام کو اللہ کی طرف سے سمجھ لیتے ہیں۔ گویا ان کا ہر حکم وحی الٰہی کا ترجمان ہے کہ نہ ان کا کوئی حکم غلط ہو سکتا ہے اور نہ کسی موقعہ پر وہ ٹھوکر کھا سکتے ہیں۔ چنانچہ حضرتؑ اس مسلک کے رد میں فرماتے ہیں کہ:
۱۔ جب اللہ ایک، کتاب ایک اور رسول ایک ہے، تو پھر دین بھی ایک ہی ہونا چاہیے اور جب دین ایک ہے تو ایک ہی چیز کیلئے مختلف و متضاد احکام کیونکر ہو سکتے ہیں، کیونکہ حکم میں تضاد اس صورت میں ہوا کرتا ہے کہ جب حکم دینے والا پہلا حکم بھول چکا ہو، یا اس پر غفلت یا مدہوشی طاری ہو گئی ہو، یا جان بوجھ کر ان بھول بھلیوں میں رکھنا چاہتا ہو اور اللہ و رسولؐ ان چیزوں سے بلند تر ہیں۔ لہٰذا اس اختلاف کو ان کی طرف منسوب نہیں کیا جا سکتا، بلکہ یہ اختلافات ان لوگوں کے خیالات و آراء کا نتیجہ ہیں کہ جنہوں نے قیاس آرائیوں سے دین کے نقوش کو مسخ کرنے کا تہیہ کر لیا تھا۔
۲۔اللہ نے یا تو ان اختلافات سے منع کیا ہو گا یا اختلاف پیدا کرنے کا حکم دیا ہو گا۔ اگر حکم دیا ہے تو وہ کہاں اور کس مقام پر ہے اور ممانعت کو سننا چاہو تو قرآن کہتا ہے:
﴿قُلْ آٰللّٰهُ اَذِنَ لَـكُمْ‌ اَمْ عَلَى اللّٰهِ تَفْتَرُوْنَ﴾
ان سے کہو کہ کیا اللہ نے تمہیں اجازت دے دی ہے یا تم اللہ پر افترا کرتے ہو۔[۱]
یعنی ہر وہ چیز جو بحکم خدا نہ ہو وہ افترا ہے اور افترا ممنوع و حرام ہے اور افترا پر دازوں کیلئے عقبیٰ میں نہ فوز و کامرانی ہے نہ فلاح و بہبود۔ چنانچہ ارشادِ قدرت ہے:
﴿وَلَا تَقُوْلُوْا لِمَا تَصِفُ اَلْسِنَـتُكُمُ الْكَذِبَ هٰذَا حَلٰلٌ وَّهٰذَا حَرَامٌ لِّـتَفْتَرُوْا عَلَى اللّٰهِ الْكَذِبَ‌ؕ اِنَّ الَّذِيْنَ يَفْتَرُوْنَ عَلَى اللّٰهِ الْكَذِبَ لَا يُفْلِحُوْنَؕ‏ ﴾
جو تمہاری زبانوں پر جھوٹی باتیں چڑھی ہوئی ہیں انہیں کہا نہ کرو اور نہ اپنی طرف سے حکم لگایا کرو کہ یہ حلال ہے اور یہ حرام ہے تا کہ اللہ پر جھوٹ بہتان باندھنے لگو اور جو افترا پردازیاں کرتے ہیں وہ کامیابی و کامرانی سے ہمکنار نہ ہوں گے۔[۲]
۳۔ اگر اللہ ہی نے دین کو ناتمام رکھا ہے تو اسے ادھورا چھوڑنے کی یہ وجہ ہو گی کہ اس نے اپنے بندوں سے یہ چاہا ہو گا کہ وہ شریعت کو پایہ تکمیل تک پہنچانے میں اس کا ہاتھ بٹائیں اور شریعت سازی میں اس کے شریک ہوں ،تو یہ عقیدہ سراسر شرک ہے۔ اگر اس نے دین کو مکمل اتارا ہے تو پھر پیغمبر ﷺ نے اس کے پہنچانے میں کوتاہی کی ہو گی تا کہ دوسروں کیلئے اس میں قیاس و رائے کی گنجائش رہے تو معاذ اللہ! یہ پیغمبر ﷺ کی کمزوری اور انتخابِ قدرت پر بدنما دھبہ ہو گا۔
۴۔ اللہ سبحانہ نے قرآن میں فرمایا ہے کہ: ’’ہم نے کتاب میں کسی چیز کو اٹھا نہیں رکھا اور ہر ایک چیز کو کھول کر بیان کر دیا ہے‘‘ تو پھر قرآن سے ہٹ کر جو حکم تراشا جائے گا وہ شریعت سے باہر ہو گا اور اس کی اساس علم و بصیرت اور قرآن و سنت پر نہ ہو گی، بلکہ اپنی ذاتی رائے اور اپنا ذاتی فیصلہ ہو گا جس کا دین و مذہب سے کوئی لگاؤ نہیں سمجھا جا سکتا۔
۵۔ قرآن دین کا مبنٰی و ماخذ اور احکامِ شریعت کا سرچشمہ ہے۔ اگر احکامِ شریعت مختلف اور جدا جدا ہوتے تو پھر اس میں بھی اختلاف ہونا چاہیے تھا اور اس میں اختلاف ہوتا تو یہ اللہ کا کلام نہ رہتا اور جب یہ اللہ کا کلام ہے تو پھر شریعت کے احکام مختلف ہو ہی نہیں سکتے کہ تمام مختلف و متضاد نظریوں کو صحیح سمجھ لیا جائے اور قیاسی فتووں کو اس کا حکم قرار دے دیا جائے۔

[۱]۔ سورۂ یونس، آیت ۵۹۔
[۲]۔ سورۂ نحل، آیت ۱۱۶۔