فہرست خطبات

1- معرفت باری تعالیٰ، زمین و آسمان اور آدمؑ کی خلقت، احکام و حج
2- عرب قبل از بعثت، اہل بیتؑ کی فضیلت اور ایک جماعت کی منقصت
3- (خطبہ شقشقیہ) خلفائے ثلاثہ کی حکومت کے بارے میں آپؑ کا نظریہ
4- آپکیؑ کی دوررس بصیرت، یقین کامل اور موسیؑ کا خوفزدہ ہونا
5- پیغمبرﷺ کے بعد جب ابو سفیان نے آپؑ کی بیعت کرنا چاہی
6- طلحہ و زبیر کے تعاقب سےآپؑ کو روکا گیا تو اس موقع پر فرمایا
7- منافقین کی حالت
8- جب زبیر نے یہ کہا میں نے دل سے بیعت نہ کی تھی تو آپؑ نے فرما
9- اصحاب جمل کا بوداپن
10- طلحہ و زبیر کے بارے میں
11- محمد بن حنفیہ کو آداب حرم کی تعلیم
12- عمل کا کردار اور مدار نیت پر ہے۔
13- بصرہ اور اہل بصرہ کی مذمت میں
14- اہل بصرہ کی مذمت میں
15- عثمان کی دی ہوئی جا گیریں جب پلٹا لیں تو فرمایا
16- جب اہل مدینہ نے آپؑ کے ہاتھ پر بیعت کی تو فرمایا
17- مسند قضا پر بیٹھنے والے نا اہلوں کی مذمت میں
18- علماء کے مختلف الاراء ہونے کی مذمت اور تصویب کی رد
19- اشعث بن قیس کی غداری و نفاق کا تذکرہ
20- موت کی ہولناکی اور اس سے عبرت اندوزی
21- دنیا میں سبکبار رہنے کی تعلیم
22- قتل عثمان کا الزام عائد کرنے والوں کے بارے میں
23- حسد سے باز رہنے اور عزیزو اقارب سے حسن سلوک کے بارے میں
24- جنگ پر آمادہ کرنے کے لیے فرمایا
25- بسر کے حملے کے بعد جنگ سے جی چرانے والوں سے فرمایا
26- عرب قبل از بعثت اور پیغمبرﷺ کے بعد دنیا کی بے رخی
27- جہاد پر برانگیختہ کرنےکے لیے فرمایا
28- دنیا کی بے ثباتی اور زاد آخرت کی اہمیت کا تذکرہ
29- جنگ کے موقعہ پر حیلے بہانے کرنے والوں کے متعلق فرمایا
30- قتل عثمان کے سلسلے میں آپؑ کی روش
31- جنگ جمل پہلے ابن عباس کو زبیر کے پاس جب بھیجنا
32- دنیا کی مذمت اور اہل دنیا کی قسمیں
33- جب جنگ جمل کے لیے روانہ ہوئے تو فرمایا
34- اہل شام کے مقابلے میں لوگوں کو آمادۂ جنگ کرنے کے لیے فرمایا
35- تحکیم کے بارے میں فرمایا
36- اہل نہروان کو ان کے انجام سے مطلع کرنے کے لیے فرمایا
37- اپنی استقامت دینی و سبقت ایمانی کے متعلق فرمایا
38- شبہہ کی وجہ تسمیہ اور دوستان خدا و دشمنان خدا کی مذمت
39- جنگ سے جی چرانے والوں کی مذمت میں
40- خوارج کے قول «لاحکم الا للہ» کے جواب میں فرمایا
41- غداری کی مذمت میں
42- نفسانی خواہشوں اور لمبی امیدوں کے متعلق فرمایا
43- جب ساتھیوں نے جنگ کی تیاری کے لیے کہا تو آپؑ نے فرمایا
44- جب مصقلہ ابن ہبیرہ معاویہ کے پاس بھاگ گیا تو آپؑ نے فرمایا
45- اللہ کی عظمت اور جلالت اور دنیا کی سبکی و بے وقاری کے متعلق
46- جب شام کی جانب روانہ ہوئے تو فرمایا
47- کوفہ پر وارد ہونے والی مصیبتوں کے متعلق فرمایا
48- جب شام کی طرف روانہ ہوئے تو فرمایا
49- اللہ کی عظمت و بزرگی کے بارے میں فرمایا
50- حق و باطل کی آمیزش کے نتائج
51- جب شامیوں نے آپؑ کے ساتھیوں پر پانی بند کر دیا تو فرمایا
52- دنیا کے زوال وفنا اور آخرت کے ثواب و عتاب کے متعلق فرمایا
53- گوسفند قربانی کے اوصاف
54- آپؑ کے ہاتھ پر بیعت کرنے والوں کا ہجوم
55- میدان صفین میں جہاد میں تاخیر پر اعتراض ہوا تو فرمایا
56- میدان جنگ میں آپؑ کی صبر و ثبات کی حالت
57- معاویہ کے بارے میں فرمایا
58- خوارج کےبارے میں آپؑ کی پیشینگوئی
59- خوارج کی ہزیمت کے متعلق آپؑ کی پیشینگوئی
60- جب اچانک قتل کر دیے جانے سے ڈرایا گیا تو آپؑ نے فرمایا
61- دنیا کی بے ثباتی کا تذکرہ
62- دنیا کے زوال و فنا کے سلسلہ میں فرمایا
63- صفات باری کا تذکرہ
64- جنگ صفین میں تعلیم حرب کےسلسلے میں فرمایا
65- سقیفہ بنی ساعدہ کی کاروائی سننے کے بعد فرمایا
66- محمد بن ابی بکرکی خبر شہادت سن کر فرمایا
67- اپنے اصحاب کی کجروی اور بے رخی کے بارے میں فرمایا
68- شب ضربت سحر کے وقت فرمایا
69- اہل عراق کی مذمت میں فرمایا
70- پیغمبرﷺ پر درود بھیجنے کا طریقہ
71- حسنینؑ کی طرف سے مروان کی سفارش کی گئی تو آپؑ نے فرمایا
72- جب لوگوں نے عثمان کی بیعت کا ارادہ کیا تو آپؑ نے فرمایا
73- قتل عثمان میں شرکت کا الزام آپؑ پر لگایا گیا تو فرمایا
74- پند و نصیحت کے سلسلے میں فرمایا
75- بنی امیہ کے متعلق فرمایا
76- دعائیہ کلمات
77- منجمین کی پیشینگوئی کی رد
78- عورتوں کے فطری نقائص
79- پند و نصیحت کے سلسلے میں فرمایا
80- اہل دنیا کے ساتھ دنیا کی روش
81- موت اور اس کے بعد کی حالت، انسانی خلقت کے درجات اور نصائح
82- عمرو بن عاص کے بارے میں
83- تنزیہ بازی اور پند و نصائح کے سلسلے میں فرمایا
84- آخرت کی تیاری اور احکام شریعت کی نگہداشت کے سلسلے میں فرمایا
85- دوستان خدا کی حالت اور علماء سوء کی مذمت میں فرمایا
86- امت کے مختلف گروہوں میں بٹ جانے کے متعلق فرمایا
87- بعثت سے قبل دنیا کی حالت پراگندگی اور موجودہ دور کے لوگ
88- صفات باری اور پند و موعظت کےسلسلے میں فرمایا
89- (خطبہ اشباح) آسمان و زمین کی خلقت
90- جب آپؑ کے ہاتھ پر بیعت ہوئی تو فرمایا
91- خوارج کی بیخ کنی اور اپنے علم کی ہمہ گیری و فتنہ بنی امیہ
92- خداوند عالم کی حمد و ثناء اور انبیاء کی توصیف میں فرمایا
93- بعثت کے وقت لوگوں کی حالت اور پیغمبرﷺ کی مساعی
94- نبی کریم ﷺ کی مدح و توصیف میں فرمایا
95- اپنے اصحاب کو تنبیہہ اور سرزنش کرتے ہوئے فرمایا
96- بنی امیہ اور ان کے مظالم کے متعلق فرمایا
97- ترکِ دینا اور نیرنگیٔ عالم کے سلسلہ میں فرمایا
98- اپنی سیرت و کردار اور اہل بیتؑ کی عظمت کے سلسلہ میں فرمایا
99- عبد الملک بن مروان کی تاراجیوں کے متعلق فرمایا
100- بعد میں پیدا ہونے والے فتنوں کے متعلق فرمایا
101- زہد و تقو یٰ اور اہل دنیا کی حالت کے متعلق فرمایا
102- بعثت سے قبل لوگوں کی حالت اور پیغمبر ﷺکی تبلیغ و ہدایت
103- پیغمبر اکرمﷺ کی مدح و توصیف اور فرائضِ امام کے سلسلہ میں
104- شریعت اسلام کی گرانقدری اور پیغمبرﷺ کی عظمت کے متعلق فرمایا
105- صفین میں جب حصہ لشکر کے قدم اکھڑنے کے جم گئے تو فرمایا
106- پیغمبرﷺ کی توصیف اور لوگوں کے گوناگون حالات کے بارے میں
107- خداوند عالم کی عظمت، ملائکہ کی رفعت ،نزع کی کیفیت اور آخرت
108- فرائضِ اسلام اور علم وعمل کے متعلق فرمایا
109- دنیا کی بے ثباتی کے متعلق فرمایا
110- ملک الموت کے قبضِ رُوح کرنے کے متعلق فرمایا
111- دنیا اور اہل دنیا کے متعلق فرمایا
112- زہد و تقویٰ اور زادِ عقبیٰ کی اہمیت کے متعلق
113- طلب باران کے سلسلہ میں فرمایا
114- آخرت کی حالت اور حجاج ابن یوسف ثقفی کے مظالم کے متعلق
115- خدا کی راہ میں جان و مال سے جہاد کرنے کے متعلق فرمایا
116- اپنے دوستوں کی حالت اور اپنی اولیت کے متعلق فرمایا
117- جب اپنے ساتھیوں کو دعوت جہاد دی اور وہ خاموش رہے تو فرمایا
118- اہل بیتؑ کی عظمت اور قوانین شریعت کی اہمیت کے متعلق فرمایا
119- تحکیم کے بارے میں آپؑ پر اعتراض کیا گیا تو فرمایا
120- جب خوارج تحکیم کے نہ ماننے پر اڑ گئے تو احتجاجاً فرمایا
121- جنگ کے موقع پر کمزور اور پست ہمتوں کی مدد کرنے کی سلسلہ میں
122- میدان صفین میں فنونِ جنگ کی تعلیم دیتے ہوئے فرمایا
123- تحکیم کو قبول کرنے کے وجوہ و اسباب
124- بیت المال کی برابر کی تقسیم پر اعتراض ہوا تو فرمایا
125- خوارج کے عقائد کے رد میں
126- بصرہ میں ہونے والے فتنوں، تباہ کاریوں اور حملوں کے متعلق
127- دنیا کی بے ثباتی اور اہل دنیا کی حالت
128- حضرت ابوذر کو مدینہ بدر کیا گیا تو فرمایا
129- خلافت کو قبول کرنے کی وجہ اور والی و حاکم کے اوصاف
130- موت سے ڈرانے اور پند و نصیحت کے سلسلہ میں فرمایا
131- خداوند ِعالم کی عظمت، قرآن کی اہمیت اور پیغمبرﷺ کی بعثت
132- جب مغیرہ بن اخنس نے عثمان کی حمایت میں بولنا چاہا تو فرمایا
133- غزوہ روم میں شرکت کے لیے مشورہ مانگا گیا تو فرمایا
134- اپنی نیت کے اخلاص اور مظلوم کی حمایت کے سلسلہ میں فرمایا
135- طلحہ و زبیر اور خونِ عثمان کے قصاص اور اپنی بیعت کے متعلق
136- ظہورِ حضرت قائم علیہ السلام کے وقت دُنیا کی حالت
137- شوریٰ کے موقع پر فرمایا
138- غیبت اور عیب جوئی سے ممانعت کے سلسلہ میں فرمایا
139- سُنی سُنائی باتوں کو سچا نہ سمجھنا چاہئے
140- بے محل داد و دہش سے ممانعت اور مال کا صحیح مصرف
141- طلبِ باران کے سلسلہ میں فرمایا
142- اہل بیتؑ راسخون فی العلم ہیں اور وہی امامت وخلافت کے اہل ہیں
143- دُنیا کی اہل دُنیا کے ساتھ روش اور بدعت و سنت کا بیان
144- جب حضرت عمر نے غزوہ فارس کیلئے مشورہ لیا تو فرمایا
145- بعثتِ پیغمبر کی غرض و غایت اور اُس زمانے کی حالت
146- طلحہ وزبیر کے متعلق فرمایا
147- موت سے کچھ قبل بطور وصیّت فرمایا
148- حضرت حجتؑ کی غیبت اور پیغمبرﷺ کے بعد لوگوں کی حالت
149- فتنوں میں لوگوں کی حالت اور ظلم اور اکل حرام سے اجتناب
150- خداوند عالم کی عظمت و جلالت کا تذکرہ اور معرفت امام کے متعلق
151- غفلت شعاروں، چوپاؤں، درندوں اور عورتوں کے عادات و خصائل
152- اہل بیتؑ کی توصیف، علم وعمل کا تلازم اور اعمال کا ثمرہ
153- چمگادڑ کی عجیب و غریب خلقت کے بارے میں
154- حضرت عائشہ کے عناد کی کیفیت اور فتنوں کی حالت
155- دُنیا کی بے ثباتی، پندو موعظت اور اعضاء و جوارح کی شہادت
156- بعثت پیغمبرﷺ کا تذکرہ، بنی اُمیّہ کے مظالم اور ان کا انجام
157- لوگوں کے ساتھ آپ کا حُسنِ سلوک اور ان کی لغزشوں سے چشم پوشی
158- خداوندِعالم کی توصیف ،خوف ورجاء، انبیاءؑ کی زندگی
159- دین اسلام کی عظمت اور دُنیا سے درس عبرت حاصل کرنے کی تعلیم
160- حضرتؑ کو خلافت سے الگ رکھنے کے وجوہ
161- اللہ کی توصیف، خلقت انسان اور ضروریات زندگی کی طرف رہنمائی
162- امیرالمومنینؑ کا عثمان سے مکالمہ اور ان کی دامادی پر ایک نظر
163- مور کی عجیب و غریب خلقت اور جنّت کے دلفریب مناظر
164- شفقت و مہربانی اور ظاہر و باطن کی تعلیم اور بنی امیہ کا زوال
165- حقوق و فرائض کی نگہداشت اور تمام معاملات میں اللہ سے خوف
166- جب لوگوں نے قاتلین عثمان سے قصاص لینے کی فرمائش کی تو فرمایا
167- جب اصحاب جمل بصرہ کی جانب روانہ ہوئے تو فرمایا
168- اہل بصرہ سے تحقیق حال کے لئے آنے والے شخص سے فرمایا
169- صفین میں جب دشمن سے دوبدو ہوکر لڑنے کا ارادہ کیا تو فرمایا
170- جب آپؑ پر حرص کا الزام رکھا گیا تو اس کی رد میں فرمایا
171- خلافت کا مستحق کون ہے اور ظاہری مسلمانوں سے جنگ کرنا
172- طلحہ بن عبیداللہ کے بارے میں فرمایا
173- غفلت کرنے والوں کو تنبیہ اور آپؑ کے علم کی ہمہ گیری
174- پند دو موعظت، قرآن کی عظمت اور ظلم کی اقسام
175- حکمین کے بارے میں فرمایا
176- خداوند عالم کی توصیف، دُنیا کی بے ثباتی اور اسباب زوال نعمت
177- جب پوچھا گیا کہ کیا آپؑ نے خدا کو دیکھا ہے تو فرمایا
178- اپنے اصحاب کی مذمت میں فرمایا
179- خوارج سے مل جانے کا تہیّہ کرنے والی جماعت سے فرمایا
180- خداوند عالم کی تنزیہ و تقدیس اور قدرت کی کا ر فرمائی
181- خداوند عالم کی توصیف، قرآن کی عظمت اور عذاب آخرت سے تخویف
182- جب «لا حکم الا اللہ» کا نعرہ لگایا گیا تو فرمایا
183- خداوند عالم کی عظمت و توصیف اور ٹڈی کی عجیب و غریب خلقت
184- مسائل الٰہیات کے بُنیادی اُصول کا تذکرہ
185- فتنوں کے ابھرنے اور رزقِ حلال کے ناپید ہو جانے کے بارے میں
186- خداوند عالم کے احسانات، مرنے والوں کی حالت اور بے ثباتی دنیا
187- پختہ اور متزلزل ایمان اور دعویٰ سلونی «قبل ان تفقدونی»
188- تقویٰ کی اہمیت، ہولناکی قبر، اللہ، رسول اور اہل بیت کی معرفت
189- خداوند عالم کی توصیف، تقویٰ کی نصیحت، دنیا اور اہل دنیا
190- (خطبہ قاصعہ) جس میں ابلیس کی مذمت ہے۔
191- متقین کے اوصاف اور نصیحت پذیر طبیعتوں پر موعظت کا اثر
192- پیغمبر ﷺکی بعثت، قبائلِ عرب کی عداوت اور منافقین کی حالت
193- خداوند عالم کی توصیف، تقویٰ کی نصیحت اور قیامت کی کیفیت
194- بعثتِ پیغمبرؐ کے وقت دنیا کی حالت، دنیا کی بے ثباتی
195- حضورﷺ کے ساتھ آپؑ کی خصوصیات اور حضور ﷺ کی تجہیز و تکفین
196- خداوند عالم کے علم کی ہمہ گیری، تقویٰ کے فوائد
197- نماز، زکوٰة اور امانت کے بارے میں فرمایا
198- معاویہ کی غداری و فریب کاری اور غداروں کا انجام
199- راہ ہدایت پر چلنے والوں کی کمی اور قوم ثمود کا تذکرہ
200- جناب سیدہ سلام اللہ علیہا کے دفن کے موقع پر فرمایا
201- دنیا کی بے ثباتی اور زاد آخرت مہیا کرنے کے لیے فرمایا
202- اپنے اصحاب کو عقبیٰ کے خطرات سے متنبہ کرتے ہوئے فرمایا
203- طلحہ و زبیر نے مشورہ نہ کرنے کا شکوہ کیا تو فرمایا
204- صفین میں شامیوں پر شب و ستم کیا گیا تو فرمایا
205- جب امام حسنؑ صفین کے میدان میں تیزی سے بڑھے تو فرمایا
206- صفین میں لشکر تحکیم کے سلسلہ میں سرکشی پر اُتر آیا تو فرمایا
207- علاء ابن زیاد حارثی کی عیادت کو موقع پر فرمایا
208- اختلاف احادیث کے وجوہ و اسباب اور رواة حدیث کے اقسام
209- خداوند عالم کی عظمت اور زمین و آسمان اور دریاؤں کی خلقت
210- حق کی حمایت سے ہاتھ اٹھا لینے والوں کے بارے میں فرمایا
211- خداوند عالم کی عظمت اور پیغمبرؐ کی توصیف و مدحت
212- پیغمبرﷺ کی خاندانی شرافت اور نیکو کاروں کے اوصاف
213- آپؑ کے دُعائیہ کلمات
214- حکمران اور رعیّت کے باہمی حقوق کے بارے میں فرمایا
215- قریش کے مظالم کے متعلق فر مایا اور بصرہ پر چڑھائی کے متعلق
216- طلحہ اور عبد الرحمن بن عتاب کو مقتول دیکھا تو فرمایا
217- متقی و پرہیزگار کے اوصاف
218- ”الہاکم التکاثر حتی زرتم المقابر“ کی تلاوت کے وقت فرمایا
219- ” رجال لا تلہیھم تجارة و لا بیع عن ذکر اللہ “ کی تلاوت کے وق
220- ” یا اٴیھا الانسان ما غرّک بربک الکریم “ کی تلاوت کے وقت فرم
221- ظلم و غصب سے کنارہ کشی، عقیل کی حالت فقر و احتیاج، اور اشعث
222- آپؑ کے دُعائیہ کلمات
223- دنیا کی بے ثباتی اور اہل قبور کی حالت بے چارگی
224- آپؑ کے دُعائیہ کلمات
225- انتشار و فتنہ سے قبل دنیا سے اٹھ جانے والوں کے متعلق فرمایا
226- اپنی بیعت کے متعلق فرمایا
227- تقویٰ کی نصیحت موت سے خائف رہنے اور زہد اختیار کرنے کے متعلق
228- جب بصرہ کی طرف روانہ ہوئے تو فرمایا
229- عبد اللہ ابن زمعہ نے آپؑ سے مال طلب کیا تو فرمایا
230- جب جعدہ ابن ہبیرہ خطبہ نہ دے سکے تو فرمایا
231- لوگوں کے اختلاف صورت و سیرت کی وجوہ و اسباب
232- پیغمبر ﷺ کو غسل و کفن دیتے وقت فرمایا
233- ہجرتِ پیغمبر ﷺ کے بعد اُن کے عقب میں روانہ ہونے کے متعلق
234- زادِ آخرت مہیا کرنے اور موت سے پہلے عمل بجا لانے کے متعلق
235- حکمین کے بارے میں فرمایا اور اہل شام کی مذمت میں فرمایا
236- آلِ محمدؑ کی توصیف اور روایت میں عقل و درایت سے کام لینا
237- جب عثمان نے ینبع چلے جانے کے لیے پیغام بھجوایا تو فرمایا
238- اصحاب کو آمادہ جنگ کرنے اور آرام طلبی سے بچنے کے لئے فرمایا

Quick Contact

’’یقین‘‘ کی بھی چار شاخیں ہیں: روشن نگاہی، حقیقت رسی، عبرت اندوزی اور اَگلوں کا طور طریقہ۔ حکمت 30
(٣٥) وَ مِنْ خُطْبَةٍ لَّهٗ عَلَیْهِ السَّلَامُ
خطبہ (۳۵)
بَعْدَ التَّحْكِیْمِ
تحکیم [۱] کے بعد فرمایا
اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ وَ اِنْ اَتَی الدَّهْرُ بِالْخَطْبِ الْفَادِحِ، وَ الْحَدَثِ الْجَلِیْلِ. وَ اَشْهَدُ اَنْ لَّاۤ اِلٰهَ اِلَّا اللهُ،وَحْدَہٗ لَا شَرِیْكَ لَهٗ، لَیْسَ مَعَهٗۤ اِلٰهٌ غَیْرُهٗ، وَ اَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهٗ وَ رَسُوْلُهٗ ﷺ.
(ہر حالت میں) اللہ کیلئے حمد و ثنا ہے۔ گو زمانہ (ہمارے لئے) جانکاہ مصیبتیں اور صبر آزما حادثے لے آیا ہے۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ اس کے علاوہ کوئی معبود نہیں، وہ یکتا ولا شریک ہے، اس کے ساتھ کوئی دوسرا خدا نہیں اور محمد ﷺ اس کے عبد اور رسول ہیں۔
اَمَّا بَعْدُ! فَاِنَّ مَعْصِیَةَ النَّاصِحِ الشَّفِیْقِ الْعَالِمِ الْمُجَرِّبِ تُوْرِثُ الْحَسْرَةَ، وَتُعْقِبُ النَّدَامَةَ. وَقَدْ كُنْتُ اَمَرْتُكُمْ فِیْ هٰذِهِ الْحُكُوْمَةِ اَمْرِیْ، وَ نَخَلْتُ لَكُمْ مَخزُوْنَ رَاْیِیْ، لَوْ كَانَ یُطَاعُ لِقَصِیْرٍ اَمْرٌ! فَاَبَیْتُمْ عَلَیَّ اِبَآءَ الْمُخَالِفِیْنَ الْجُفَاةِ، وَ الْمُنَابِذِیْنَ الْعُصَاةِ، حَتَّی ارْتَابَ النَّاصِحُ بِنُصْحِهٖ، وَ ضَنَّ الزَّنْدُ بِقَدْحِهٖ، فَكُنْتُ اَنَا وَ اِیَّاكُمْ كَمَا قَالَ اَخُوْ هَوَازِنَ:
(تمہیں معلوم ہونا چاہیے کہ) مہربان، باخبر اور تجربہ کار ناصح کی مخالفت کا ثمرہ، حسرت و ندامت ہوتا ہے۔ میں نے اس تحکیم کے متعلق اپنا فرمان سنا دیا تھا اور اپنی قیمتی رائے کا نچوڑ تمہارے سامنے رکھ دیا تھا۔ کاش کہ ’’قصیر [۲] ‘‘ کا حکم مان لیا جاتا، لیکن تم تو تند خو مخالفین اور عہد شکن نافرمانوں کی طرح انکار پر تل گئے۔ یہاں تک کہ ناصح خود اپنی نصیحت کے متعلق سوچ میں پڑ گیا اور طبیعت اس چقماق کی طرح بجھ گئی کہ جس نے شعلے بھڑکانا بند کر دیا ہو۔ میری اور تمہاری حالت شاعر بنی ہوازن [۳] کے اس قول کے مطابق ہے:
اَمَرْتُكُمُ اَمْرِیْ بِمُنْعَرِجِ اللِّوٰی فَلَمْ تَسْتَبِیْنُوا النُّصْحَ اِلَّا ضُحَی الْغَدِ
’’میں نے مقامِ منعرج اللوی (ٹیلے کا موڑ) پر تمہیں اپنے حکم سے آگاہ کیا(گو اس وقت تم نے میری نصیحت پر عمل نہ کیا) لیکن دوسرے دن کی چاشت کو میری نصیحت کی صداقت دیکھ لی‘‘۔

۱؂جب اہل عراق کی خونریز تلواروں سے شامیوں کی ہمت ٹوٹ گئی اور لیلة الہریر کے تابڑ توڑ حملوں نے ان کے حوصلے پست اور ولولے ختم کر دیئے تو عمرو بن عاص نے معاویہ کو یہ چال سوجھائی کہ قرآن کو نیزوں پر بلند کر کے اسے حکم ٹھہرانے کا نعرہ لگایا جائے، جس کا اثر یہ ہو گا کہ کچھ لوگ جنگ کو رکوانا چاہیں گے اور کچھ جاری رکھنا چاہیں گے اور ہم اس طرح ان میں پھوٹ ڈلوا کر جنگ کو دوسرے موقعہ کیلئے ملتوی کرا سکیں گے۔ چنانچہ قرآن نیزوں پر بلند کئے گئے۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ چند سر پھروں نے شور و غوغا مچا کر تمام لشکر میں انتشار و برہمی پیدا کر دی اور سادہ لوح مسلمانوں کی سرگرمیاں فتح کے قریب پہنچ کر دھیمی پڑ گئیں اور بے سوچے سمجھے پکارنے لگے کہ: ہمیں جنگ پر قرآن کے فیصلے کو ترجیح دینا چاہیے۔
امیر المومنین علیہ السلام نے جب قرآن کو آلہ کار بنتے ہوئے دیکھا تو فرمایا کہ: اے لوگو! اس مکر و فریب میں نہ آؤ۔ یہ صرف شکست کی روسیاہیوں سے بچنے کیلئے چال چل رہے ہیں۔ میں ان میں سے ایک ایک کی سیرت کو جانتا ہوں۔ نہ یہ قرآن والے ہیں اور نہ دین و مذہب سے انہیں کوئی لگاؤ ہے۔ ہمارے جنگ کرنے کا تو مقصد ہی یہ تھا کہ یہ لوگ قرآن کو مانیں اور اس کے احکام پر عمل پیرا ہوں۔ خدا کیلئے ان کی فریب کاریوں میں نہ آؤ۔ عزم و ہمت کے ولولوں کے ساتھ آگے بڑھو اور دم توڑتے ہوئے دشمن کو ختم کر کے دم لو۔
مگر باطل کا پر فریب حربہ چل چکا تھا۔ لوگ طغیان و سرکشی پر اتر آئے۔ سعد ابن فدکی تمیمی اور زید ابنِ حصین طائی دونوں بیس ہزار آدمیوں کے ساتھ آگے بڑھے اور امیر المومنین علیہ السلام سے کہا کہ اے علیؑ! اگر آپؑ نے قرآن کی آواز پر لبیک نہ کہی تو پھر ہم آپ کا وہی حشر کریں گے جو عثمان کا کیا تھا۔ آپؑ فوراً جنگ ختم کرائیں اور قرآن کے فیصلے کے سامنے سر تسلیم خم کریں۔ حضرتؑ نے بہت سمجھانے بجھانے کی کوشش کی، لیکن شیطان قرآن کا جامہ پہنے ہوئے سامنے کھڑا تھا۔ اس نے ایک نہ چلنے دی اور ان لوگوں نے امیر المومنین علیہ السلام کو مجبور کر دیا کہ وہ کسی کو بھیج کر مالک اشتر کو میدان جنگ سے واپس لوٹائیں۔
حضرتؑ نے لاچار ہو کر یزید ابن ہانی کو مالک کے بلانے کیلئے بھیجا۔ مالک نے جب یہ حکم سنا تو وہ چکرا سے گئے اور کہا کہ ان سے کہیے کہ یہ موقعہ مورچہ سے الگ ہونے کا نہیں ہے، کچھ دیر توقف فرمائیں تو میں نوید فتح لے کر حاضرِ خدمت ہوتا ہوں۔ یزید ابن ہانی نے پلٹ کر یہ پیغام دیا تو لوگوں نے غل مچایا کہ آپؑ نے چپکے سے انہیں جنگ پر جمے رہنے کیلئے کہلوا بھیجا ہے۔ حضرتؑ نے فرمایا کہ مجھے اس کا موقعہ کہاں ملا ہے کہ میں علیحدگی میں اسے کوئی پیغام دیتا۔ جو کچھ کہا ہے تمہارے سامنے کہا ہے۔ لوگوں نے کہا آپؑ اسے دوبارہ بھیجیں اور اگر مالک نے آنے میں تاخیر کی تو پھر آپؑ اپنی جان سے ہاتھ دھو لیں۔ حضرتؑ نے ہانی کو پھر روانہ کیا اور کہلوا بھیجا کہ فتنہ اٹھ کھڑا ہوا ہے، جس حالت میں ہو فوراً آؤ۔ چنانچہ ہانی نے مالک سے جا کر کہا کہ: تمہیں فتح عزیز ہے یا امیر المومنین علیہ السلام کی جان؟ اگر ان کی جان عزیز ہے تو جنگ سے ہاتھ اٹھاؤ اور ان کے پاس پہنچو۔ مالک فتح کی کامرانیوں کو چھوڑ کر اٹھ کھڑے ہوئے اور حسرت و اندوہ لئے ہوئے حضرتؑ کی خدمت میں پہنچے۔ وہاں ایک ہڑبونگ مچا ہوا تھا۔ آپؑ نے لوگوں کو بہت بُرا بھلا کہا، مگر حالات اس طرح پلٹا کھا چکے تھے کہ انہیں سدھارا نہ جا سکتا تھا۔
اب یہ طے پایا کہ دونوں فریق میں سے ایک ایک حکم منتخب کر لیا جائے تا کہ وہ قرآن و سنت کے مطابق خلافت کا فیصلہ کریں۔ معاویہ کی طرف سے عمرو ابن عاص قرار پایا اور حضرتؑ کی طرف سے لوگوں نے ابو موسیٰ اشعری کا نام پیش کیا۔ حضرتؑ نے اس غلط انتخاب کو دیکھتے ہوئے فرمایا کہ: اگر تم نے تحکیم کے بارے میں میرا حکم نہیں مانا تو اتنا تو کرو کہ اس (ابو موسیٰ) کو حَکَم نہ بناؤ۔ یہ بھروسے کا آدمی نہیں ہے۔ یہ عبداللہ ابن عباس ہیں، یہ مالک اشتر ہیں، ان میں سے کسی ایک کو منتخب کر لو۔ مگر انہوں نے ایک نہ سنی اور اسی کے نام پر اَڑ گئے۔ حضرتؑ نے فرمایا کہ: اچھا جو چاہو کرو اور وہ دن دور نہیں ہے کہ اپنی بے راہ رویوں پر اپنے ہاتھ کاٹو گے۔
حکمین کی نامزدگی کے بعد جب عہد نامہ لکھا جانے لگا تو ’’علی ابنِ ابی طالبؑ‘‘ کے نام کے ساتھ ’’امیر المومنین‘‘ لکھا گیا۔ عمرو ابنِ عاص نے کہا کہ اس لفظ کو مٹا دیا جائے۔ اگر ہم انہیں امیر المومنین سمجھتے ہوتے تو یہ جنگ ہی کیوں لڑی جاتی۔ حضرتؑ نے پہلے تو اسے مٹانے سے انکار کیا اور جب وہ کسی طرح نہ مانے تو اسے مٹا دیا اور فرمایا کہ یہ واقعہ حدیبیہ کے واقعہ سے بالکل ملتا جلتا ہے کہ جب کفار اس پر اَڑ گئے تھے کہ پیغمبر ﷺ کے نام کے ساتھ ’’رسول اللہ‘‘ کی لفظ مٹا دی جائے اور پیغمبر ﷺ نے اسے مٹا دیا۔ اس پر عمرو ابن عاص نے بگڑ کر کہا کہ: کیا آپؑ ہمیں کفار کی طرح سمجھتے ہیں؟ حضرتؑ نے فرمایا کہ: تمہیں کس دن ایمان والوں سے لگاؤ رہا ہے اور کب ان کے ہمنوا رہے ہو؟
بہر صورت اس قرارداد کے بعد لوگ منتشر ہو گئے اور ان دونوں حکموں نے آپس میں صلاح و مشورہ کرنے کے بعد یہ طے کیا کہ علی ابن ابی طالب علیہ السلام اور معاویہ دونوں کو معزول کر کے لوگوں کو یہ اختیار دے دیا جائے کہ وہ جسے چاہیں منتخب کر لیں۔ جب اس کے اعلان کا وقت آیا تو عراق اور شام کے درمیان مقام دومة الجندل میں اجتماع ہوا اور یہ دونوں حَکَم بھی مسلمانوں کی قسمت کا فیصلہ سنانے کیلئے پہنچ گئے۔ عمرو ابن عاص نے چالاکی سے کام لیتے ہوئے ابو موسیٰ سے کہا کہ میں آپ پر سبقت کرنا سوءِ اَدب سمجھتا ہوں، آپ سن وسال کے لحاظ سے بزرگ ہیں، لہٰذا پہلے آپ اعلان فرمائیں۔ چنانچہ ابوُ موسیٰ تاننے میں آ گئے اور جھوُمتے ہوئے مجمع کے سامنے آ کھڑے ہوئے اور لوگوں کو خطاب کرتے ہوئے کہا کہ: اے مسلمانو! ہم نے مل کر یہ فیصلہ کیا ہے کہ علی ابن ابی طالبؑ اور معاویہ کو معزول کر دیا جائے اور انتخاب خلافت کا حق مسلمانوں کو دے دیا جائے، وہ جسے چاہیں منتخب کر لیں اور یہ کہہ کر بیٹھ گئے۔ اب عمرو ابنِ عاص کی باری آئی اور اس نے کہا کہ اے مسلمانو! تم نے سن لیا ہے کہ ابو موسیٰ نے علی ابنِ ابی طالب علیہ السلام کو معزول کر دیا ہے، میں بھی اس سے متفق ہوں، رہا معاویہ تو اس کے معزول کرنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، لہٰذا میں اسے اس جگہ پر نصب کرتا ہوں۔ یہ کہنا تھا کہ ہر طرف شور مچ گیا۔ ابو موسیٰ بہت چیخے چلائے کہ یہ دھوکا ہے، فریب ہے اور عمرو ابن عاص سے کہا کہ تم نے چالبازی سے کام لیا ہے اور تمہاری مثال اس کتے کی سی ہے کہ جس پر کچھ لادو، جب ہانپے گا، چھوڑ دو جب ہانپے گا۔ عمرو ابن عاص نے کہا کہ تمہاری مثال اس گدھے کی سی ہے جس پر کتابیں لدی ہوئی ہوں۔ غرض عمرو ابن عاص کی چالاکی کام کر گئی اور معاویہ کے اکھڑے ہوئے قدم پھر سے جم گئے۔
یہ تھا اس تحکیم کا مختصر سا خاکہ جس کی اساس قرآن و سنت کو قرار دیا گیا تھا۔ مگر کیا یہ قرآن و سنت کا فیصلہ تھا؟ یا ان فریب کاریوں کا نتیجہ کہ جو دنیا والے اپنے اقتدار کو برقرار رکھنے کیلئے کام میں لایا کرتے ہیں؟ کاش کہ تاریخ کے ان اوراق کو مستقبل کیلئے مشعل راہ بنایا جائے اور قرآن و سنت کو آڑ بنا کر حصول اقتدار کا ذریعہ اور دنیا طلبی کا وسیلہ نہ بننے دیا جائے۔
امیرالمومنین علیہ السلام کو جب تحکیم کے اس افسوسناک نتیجہ کی اطلاع ملی تو آپؑ منبر پر تشریف لائے اور یہ خطبہ ارشاد فرمایا جس کے لفظ لفظ سے آپؑ کا اندوہ و قلق جھلک رہا ہے اور ساتھ ہی آپؑ کی صحت فکر و نظر، اصابتِ رائے اور دُور رس بصیرت پر بھی روشنی ڈالتا ہے۔
۲؂یہ ایک مثل ہے جو ایسے موقعہ پر استعمال کی جاتی ہے کہ جہاں کسی نصیحت کرنے والے کی بات ٹھکرا دی جائے اور بعد میں پچھتایا جائے۔ اس کا واقعہ یہ ہے کہ حیرہ کے فرمانروا جذیمہ ابرش نے جزیرہ کے تاجدار عمرو ابن طرب کو قتل کر دیا جس کے بعد اس کی بیٹی زباء جزیرہ کی حکمران قرار پائی۔ اُس نے تخت نشین ہوتے ہی اپنے باپ کے انتقام لینے کی یہ تدبیر کی کہ جذیمہ کو پیغام بھیجا کہ میں تنہا امور سلطنت کی انجام دہی نہیں کر سکتی، اگر تم مجھے اپنے حبالہ عقد میں لے کر میری سرپرستی کرو تو میں شکر گزار رہوں گی۔ جذیمہ اس پیشکش پر پھولا نہ سمایا اور ہزار سوار ہمراہ لے کر جزیرہ جانے کیلئے آمادہ ہو گیا۔ اس کے غلام قصیر نے بہت سمجھایا بجھایا کہ یہ دھوکا اور فریب ہے۔ اس خطرے میں اپنے آپ کو نہ ڈالئے، مگر اس کی عقل پر ایسا پردہ پڑا ہوا تھا کہ اس کی سمجھ میں یہ بات نہ آتی تھی کہ زباء نے اپنی رفاقت کیلئے اپنے باپ کے قاتل ہی کو کیوں منتخب کیا ہے۔ بہر صورت یہ چل کھڑا ہوا اور جب حدودِ جزیرہ میں پہنچا تو گوزباء کا لشکر استقبال کیلئے موجود تھا مگر نہ اس نے کوئی خاص آؤ بھگت کی، نہ پر تپاک خیر مقدم کیا۔یہ رنگ دیکھ کر قصیر کا پھر ماتھا ٹھنکا اور اس نے جذیمہ سے پلٹ جانے کو کہا۔ مگر منزل کے نزدیک پہنچ کر آتشِِ شوق اور بھڑک اٹھی تھی۔ اس نے پرواہ نہ کی اور قدم بڑھا کر شہر کے اندر داخل ہو گیا۔ وہاں پہنچتے ہی قتل کر ڈالا گیا۔ قصیر نے یہ دیکھا تو کہا: «لَوْ كَانَ یُطَاعُ لِقَصِیْرٍ اَمْرٌ» (کاش قصیر کی بات مان لی ہوتی) اور اس وقت سے یہ مثل چل نکلی۔
۳؂شاعر بنی ہوازن سے مراد ’’دُرید ابنِ صمہ‘‘ ہے اور یہ شعر اس نے اپنے بھائی عبد اللہ ابن صمہ کے مرنے کے بعد کہا۔ جس کا واقعہ یہ ہے کہ عبد اللہ اپنے بھائی کے ہمراہ بنی بکر ابن ہوازن پر حملہ آور ہوا اور ان کے بہت سے اونٹ ہنکا لایا۔ واپسی پر جب مقام منعرج اللوی میں سستانے کا ارادہ کیا تو دُرید نے کہا کہ: یہاں ٹھہرنا مصلحت کے خلاف ہے، ایسا نہ ہو کہ پیچھے سے دشمن ٹوٹ پڑے، مگر عبد اللہ نہ مانا اور وہاں ٹھہر گیا۔ جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ صبح ہوتے ہی دشمنوں نے حملہ کیا اور عبد اللہ کو وہیں پر قتل کر دیا۔ دُرید کے بھی زخم آئے، لیکن وہ بچ نکلا اور اس کے بعد چند اشعار کہے ان میں سے ایک شعر یہ ہے جس میں اس کی رائے کے ٹھکرا دیئے جانے سے جو تباہی آئی تھی اس کی طرف اشارہ کیا ہے۔