فہرست خطبات

1- معرفت باری تعالیٰ، زمین و آسمان اور آدمؑ کی خلقت، احکام و حج
2- عرب قبل از بعثت، اہل بیتؑ کی فضیلت اور ایک جماعت کی منقصت
3- (خطبہ شقشقیہ) خلفائے ثلاثہ کی حکومت کے بارے میں آپؑ کا نظریہ
4- آپکیؑ کی دوررس بصیرت، یقین کامل اور موسیؑ کا خوفزدہ ہونا
5- پیغمبرﷺ کے بعد جب ابو سفیان نے آپؑ کی بیعت کرنا چاہی
6- طلحہ و زبیر کے تعاقب سےآپؑ کو روکا گیا تو اس موقع پر فرمایا
7- منافقین کی حالت
8- جب زبیر نے یہ کہا میں نے دل سے بیعت نہ کی تھی تو آپؑ نے فرما
9- اصحاب جمل کا بوداپن
10- طلحہ و زبیر کے بارے میں
11- محمد بن حنفیہ کو آداب حرم کی تعلیم
12- عمل کا کردار اور مدار نیت پر ہے۔
13- بصرہ اور اہل بصرہ کی مذمت میں
14- اہل بصرہ کی مذمت میں
15- عثمان کی دی ہوئی جا گیریں جب پلٹا لیں تو فرمایا
16- جب اہل مدینہ نے آپؑ کے ہاتھ پر بیعت کی تو فرمایا
17- مسند قضا پر بیٹھنے والے نا اہلوں کی مذمت میں
18- علماء کے مختلف الاراء ہونے کی مذمت اور تصویب کی رد
19- اشعث بن قیس کی غداری و نفاق کا تذکرہ
20- موت کی ہولناکی اور اس سے عبرت اندوزی
21- دنیا میں سبکبار رہنے کی تعلیم
22- قتل عثمان کا الزام عائد کرنے والوں کے بارے میں
23- حسد سے باز رہنے اور عزیزو اقارب سے حسن سلوک کے بارے میں
24- جنگ پر آمادہ کرنے کے لیے فرمایا
25- بسر کے حملے کے بعد جنگ سے جی چرانے والوں سے فرمایا
26- عرب قبل از بعثت اور پیغمبرﷺ کے بعد دنیا کی بے رخی
27- جہاد پر برانگیختہ کرنےکے لیے فرمایا
28- دنیا کی بے ثباتی اور زاد آخرت کی اہمیت کا تذکرہ
29- جنگ کے موقعہ پر حیلے بہانے کرنے والوں کے متعلق فرمایا
30- قتل عثمان کے سلسلے میں آپؑ کی روش
31- جنگ جمل پہلے ابن عباس کو زبیر کے پاس جب بھیجنا
32- دنیا کی مذمت اور اہل دنیا کی قسمیں
33- جب جنگ جمل کے لیے روانہ ہوئے تو فرمایا
34- اہل شام کے مقابلے میں لوگوں کو آمادۂ جنگ کرنے کے لیے فرمایا
35- تحکیم کے بارے میں فرمایا
36- اہل نہروان کو ان کے انجام سے مطلع کرنے کے لیے فرمایا
37- اپنی استقامت دینی و سبقت ایمانی کے متعلق فرمایا
38- شبہہ کی وجہ تسمیہ اور دوستان خدا و دشمنان خدا کی مذمت
39- جنگ سے جی چرانے والوں کی مذمت میں
40- خوارج کے قول «لاحکم الا للہ» کے جواب میں فرمایا
41- غداری کی مذمت میں
42- نفسانی خواہشوں اور لمبی امیدوں کے متعلق فرمایا
43- جب ساتھیوں نے جنگ کی تیاری کے لیے کہا تو آپؑ نے فرمایا
44- جب مصقلہ ابن ہبیرہ معاویہ کے پاس بھاگ گیا تو آپؑ نے فرمایا
45- اللہ کی عظمت اور جلالت اور دنیا کی سبکی و بے وقاری کے متعلق
46- جب شام کی جانب روانہ ہوئے تو فرمایا
47- کوفہ پر وارد ہونے والی مصیبتوں کے متعلق فرمایا
48- جب شام کی طرف روانہ ہوئے تو فرمایا
49- اللہ کی عظمت و بزرگی کے بارے میں فرمایا
50- حق و باطل کی آمیزش کے نتائج
51- جب شامیوں نے آپؑ کے ساتھیوں پر پانی بند کر دیا تو فرمایا
52- دنیا کے زوال وفنا اور آخرت کے ثواب و عتاب کے متعلق فرمایا
53- گوسفند قربانی کے اوصاف
54- آپؑ کے ہاتھ پر بیعت کرنے والوں کا ہجوم
55- میدان صفین میں جہاد میں تاخیر پر اعتراض ہوا تو فرمایا
56- میدان جنگ میں آپؑ کی صبر و ثبات کی حالت
57- معاویہ کے بارے میں فرمایا
58- خوارج کےبارے میں آپؑ کی پیشینگوئی
59- خوارج کی ہزیمت کے متعلق آپؑ کی پیشینگوئی
60- جب اچانک قتل کر دیے جانے سے ڈرایا گیا تو آپؑ نے فرمایا
61- دنیا کی بے ثباتی کا تذکرہ
62- دنیا کے زوال و فنا کے سلسلہ میں فرمایا
63- صفات باری کا تذکرہ
64- جنگ صفین میں تعلیم حرب کےسلسلے میں فرمایا
65- سقیفہ بنی ساعدہ کی کاروائی سننے کے بعد فرمایا
66- محمد بن ابی بکرکی خبر شہادت سن کر فرمایا
67- اپنے اصحاب کی کجروی اور بے رخی کے بارے میں فرمایا
68- شب ضربت سحر کے وقت فرمایا
69- اہل عراق کی مذمت میں فرمایا
70- پیغمبرﷺ پر درود بھیجنے کا طریقہ
71- حسنینؑ کی طرف سے مروان کی سفارش کی گئی تو آپؑ نے فرمایا
72- جب لوگوں نے عثمان کی بیعت کا ارادہ کیا تو آپؑ نے فرمایا
73- قتل عثمان میں شرکت کا الزام آپؑ پر لگایا گیا تو فرمایا
74- پند و نصیحت کے سلسلے میں فرمایا
75- بنی امیہ کے متعلق فرمایا
76- دعائیہ کلمات
77- منجمین کی پیشینگوئی کی رد
78- عورتوں کے فطری نقائص
79- پند و نصیحت کے سلسلے میں فرمایا
80- اہل دنیا کے ساتھ دنیا کی روش
81- موت اور اس کے بعد کی حالت، انسانی خلقت کے درجات اور نصائح
82- عمرو بن عاص کے بارے میں
83- تنزیہ بازی اور پند و نصائح کے سلسلے میں فرمایا
84- آخرت کی تیاری اور احکام شریعت کی نگہداشت کے سلسلے میں فرمایا
85- دوستان خدا کی حالت اور علماء سوء کی مذمت میں فرمایا
86- امت کے مختلف گروہوں میں بٹ جانے کے متعلق فرمایا
87- بعثت سے قبل دنیا کی حالت پراگندگی اور موجودہ دور کے لوگ
88- صفات باری اور پند و موعظت کےسلسلے میں فرمایا
89- (خطبہ اشباح) آسمان و زمین کی خلقت
90- جب آپؑ کے ہاتھ پر بیعت ہوئی تو فرمایا
91- خوارج کی بیخ کنی اور اپنے علم کی ہمہ گیری و فتنہ بنی امیہ
92- خداوند عالم کی حمد و ثناء اور انبیاء کی توصیف میں فرمایا
93- بعثت کے وقت لوگوں کی حالت اور پیغمبرﷺ کی مساعی
94- نبی کریم ﷺ کی مدح و توصیف میں فرمایا
95- اپنے اصحاب کو تنبیہہ اور سرزنش کرتے ہوئے فرمایا
96- بنی امیہ اور ان کے مظالم کے متعلق فرمایا
97- ترکِ دینا اور نیرنگیٔ عالم کے سلسلہ میں فرمایا
98- اپنی سیرت و کردار اور اہل بیتؑ کی عظمت کے سلسلہ میں فرمایا
99- عبد الملک بن مروان کی تاراجیوں کے متعلق فرمایا
100- بعد میں پیدا ہونے والے فتنوں کے متعلق فرمایا
101- زہد و تقو یٰ اور اہل دنیا کی حالت کے متعلق فرمایا
102- بعثت سے قبل لوگوں کی حالت اور پیغمبر ﷺکی تبلیغ و ہدایت
103- پیغمبر اکرمﷺ کی مدح و توصیف اور فرائضِ امام کے سلسلہ میں
104- شریعت اسلام کی گرانقدری اور پیغمبرﷺ کی عظمت کے متعلق فرمایا
105- صفین میں جب حصہ لشکر کے قدم اکھڑنے کے جم گئے تو فرمایا
106- پیغمبرﷺ کی توصیف اور لوگوں کے گوناگون حالات کے بارے میں
107- خداوند عالم کی عظمت، ملائکہ کی رفعت ،نزع کی کیفیت اور آخرت
108- فرائضِ اسلام اور علم وعمل کے متعلق فرمایا
109- دنیا کی بے ثباتی کے متعلق فرمایا
110- ملک الموت کے قبضِ رُوح کرنے کے متعلق فرمایا
111- دنیا اور اہل دنیا کے متعلق فرمایا
112- زہد و تقویٰ اور زادِ عقبیٰ کی اہمیت کے متعلق
113- طلب باران کے سلسلہ میں فرمایا
114- آخرت کی حالت اور حجاج ابن یوسف ثقفی کے مظالم کے متعلق
115- خدا کی راہ میں جان و مال سے جہاد کرنے کے متعلق فرمایا
116- اپنے دوستوں کی حالت اور اپنی اولیت کے متعلق فرمایا
117- جب اپنے ساتھیوں کو دعوت جہاد دی اور وہ خاموش رہے تو فرمایا
118- اہل بیتؑ کی عظمت اور قوانین شریعت کی اہمیت کے متعلق فرمایا
119- تحکیم کے بارے میں آپؑ پر اعتراض کیا گیا تو فرمایا
120- جب خوارج تحکیم کے نہ ماننے پر اڑ گئے تو احتجاجاً فرمایا
121- جنگ کے موقع پر کمزور اور پست ہمتوں کی مدد کرنے کی سلسلہ میں
122- میدان صفین میں فنونِ جنگ کی تعلیم دیتے ہوئے فرمایا
123- تحکیم کو قبول کرنے کے وجوہ و اسباب
124- بیت المال کی برابر کی تقسیم پر اعتراض ہوا تو فرمایا
125- خوارج کے عقائد کے رد میں
126- بصرہ میں ہونے والے فتنوں، تباہ کاریوں اور حملوں کے متعلق
127- دنیا کی بے ثباتی اور اہل دنیا کی حالت
128- حضرت ابوذر کو مدینہ بدر کیا گیا تو فرمایا
129- خلافت کو قبول کرنے کی وجہ اور والی و حاکم کے اوصاف
130- موت سے ڈرانے اور پند و نصیحت کے سلسلہ میں فرمایا
131- خداوند ِعالم کی عظمت، قرآن کی اہمیت اور پیغمبرﷺ کی بعثت
132- جب مغیرہ بن اخنس نے عثمان کی حمایت میں بولنا چاہا تو فرمایا
133- غزوہ روم میں شرکت کے لیے مشورہ مانگا گیا تو فرمایا
134- اپنی نیت کے اخلاص اور مظلوم کی حمایت کے سلسلہ میں فرمایا
135- طلحہ و زبیر اور خونِ عثمان کے قصاص اور اپنی بیعت کے متعلق
136- ظہورِ حضرت قائم علیہ السلام کے وقت دُنیا کی حالت
137- شوریٰ کے موقع پر فرمایا
138- غیبت اور عیب جوئی سے ممانعت کے سلسلہ میں فرمایا
139- سُنی سُنائی باتوں کو سچا نہ سمجھنا چاہئے
140- بے محل داد و دہش سے ممانعت اور مال کا صحیح مصرف
141- طلبِ باران کے سلسلہ میں فرمایا
142- اہل بیتؑ راسخون فی العلم ہیں اور وہی امامت وخلافت کے اہل ہیں
143- دُنیا کی اہل دُنیا کے ساتھ روش اور بدعت و سنت کا بیان
144- جب حضرت عمر نے غزوہ فارس کیلئے مشورہ لیا تو فرمایا
145- بعثتِ پیغمبر کی غرض و غایت اور اُس زمانے کی حالت
146- طلحہ وزبیر کے متعلق فرمایا
147- موت سے کچھ قبل بطور وصیّت فرمایا
148- حضرت حجتؑ کی غیبت اور پیغمبرﷺ کے بعد لوگوں کی حالت
149- فتنوں میں لوگوں کی حالت اور ظلم اور اکل حرام سے اجتناب
150- خداوند عالم کی عظمت و جلالت کا تذکرہ اور معرفت امام کے متعلق
151- غفلت شعاروں، چوپاؤں، درندوں اور عورتوں کے عادات و خصائل
152- اہل بیتؑ کی توصیف، علم وعمل کا تلازم اور اعمال کا ثمرہ
153- چمگادڑ کی عجیب و غریب خلقت کے بارے میں
154- حضرت عائشہ کے عناد کی کیفیت اور فتنوں کی حالت
155- دُنیا کی بے ثباتی، پندو موعظت اور اعضاء و جوارح کی شہادت
156- بعثت پیغمبرﷺ کا تذکرہ، بنی اُمیّہ کے مظالم اور ان کا انجام
157- لوگوں کے ساتھ آپ کا حُسنِ سلوک اور ان کی لغزشوں سے چشم پوشی
158- خداوندِعالم کی توصیف ،خوف ورجاء، انبیاءؑ کی زندگی
159- دین اسلام کی عظمت اور دُنیا سے درس عبرت حاصل کرنے کی تعلیم
160- حضرتؑ کو خلافت سے الگ رکھنے کے وجوہ
161- اللہ کی توصیف، خلقت انسان اور ضروریات زندگی کی طرف رہنمائی
162- امیرالمومنینؑ کا عثمان سے مکالمہ اور ان کی دامادی پر ایک نظر
163- مور کی عجیب و غریب خلقت اور جنّت کے دلفریب مناظر
164- شفقت و مہربانی اور ظاہر و باطن کی تعلیم اور بنی امیہ کا زوال
165- حقوق و فرائض کی نگہداشت اور تمام معاملات میں اللہ سے خوف
166- جب لوگوں نے قاتلین عثمان سے قصاص لینے کی فرمائش کی تو فرمایا
167- جب اصحاب جمل بصرہ کی جانب روانہ ہوئے تو فرمایا
168- اہل بصرہ سے تحقیق حال کے لئے آنے والے شخص سے فرمایا
169- صفین میں جب دشمن سے دوبدو ہوکر لڑنے کا ارادہ کیا تو فرمایا
170- جب آپؑ پر حرص کا الزام رکھا گیا تو اس کی رد میں فرمایا
171- خلافت کا مستحق کون ہے اور ظاہری مسلمانوں سے جنگ کرنا
172- طلحہ بن عبیداللہ کے بارے میں فرمایا
173- غفلت کرنے والوں کو تنبیہ اور آپؑ کے علم کی ہمہ گیری
174- پند دو موعظت، قرآن کی عظمت اور ظلم کی اقسام
175- حکمین کے بارے میں فرمایا
176- خداوند عالم کی توصیف، دُنیا کی بے ثباتی اور اسباب زوال نعمت
177- جب پوچھا گیا کہ کیا آپؑ نے خدا کو دیکھا ہے تو فرمایا
178- اپنے اصحاب کی مذمت میں فرمایا
179- خوارج سے مل جانے کا تہیّہ کرنے والی جماعت سے فرمایا
180- خداوند عالم کی تنزیہ و تقدیس اور قدرت کی کا ر فرمائی
181- خداوند عالم کی توصیف، قرآن کی عظمت اور عذاب آخرت سے تخویف
182- جب «لا حکم الا اللہ» کا نعرہ لگایا گیا تو فرمایا
183- خداوند عالم کی عظمت و توصیف اور ٹڈی کی عجیب و غریب خلقت
184- مسائل الٰہیات کے بُنیادی اُصول کا تذکرہ
185- فتنوں کے ابھرنے اور رزقِ حلال کے ناپید ہو جانے کے بارے میں
186- خداوند عالم کے احسانات، مرنے والوں کی حالت اور بے ثباتی دنیا
187- پختہ اور متزلزل ایمان اور دعویٰ سلونی «قبل ان تفقدونی»
188- تقویٰ کی اہمیت، ہولناکی قبر، اللہ، رسول اور اہل بیت کی معرفت
189- خداوند عالم کی توصیف، تقویٰ کی نصیحت، دنیا اور اہل دنیا
190- (خطبہ قاصعہ) جس میں ابلیس کی مذمت ہے۔
191- متقین کے اوصاف اور نصیحت پذیر طبیعتوں پر موعظت کا اثر
192- پیغمبر ﷺکی بعثت، قبائلِ عرب کی عداوت اور منافقین کی حالت
193- خداوند عالم کی توصیف، تقویٰ کی نصیحت اور قیامت کی کیفیت
194- بعثتِ پیغمبرؐ کے وقت دنیا کی حالت، دنیا کی بے ثباتی
195- حضورﷺ کے ساتھ آپؑ کی خصوصیات اور حضور ﷺ کی تجہیز و تکفین
196- خداوند عالم کے علم کی ہمہ گیری، تقویٰ کے فوائد
197- نماز، زکوٰة اور امانت کے بارے میں فرمایا
198- معاویہ کی غداری و فریب کاری اور غداروں کا انجام
199- راہ ہدایت پر چلنے والوں کی کمی اور قوم ثمود کا تذکرہ
200- جناب سیدہ سلام اللہ علیہا کے دفن کے موقع پر فرمایا
201- دنیا کی بے ثباتی اور زاد آخرت مہیا کرنے کے لیے فرمایا
202- اپنے اصحاب کو عقبیٰ کے خطرات سے متنبہ کرتے ہوئے فرمایا
203- طلحہ و زبیر نے مشورہ نہ کرنے کا شکوہ کیا تو فرمایا
204- صفین میں شامیوں پر شب و ستم کیا گیا تو فرمایا
205- جب امام حسنؑ صفین کے میدان میں تیزی سے بڑھے تو فرمایا
206- صفین میں لشکر تحکیم کے سلسلہ میں سرکشی پر اُتر آیا تو فرمایا
207- علاء ابن زیاد حارثی کی عیادت کو موقع پر فرمایا
208- اختلاف احادیث کے وجوہ و اسباب اور رواة حدیث کے اقسام
209- خداوند عالم کی عظمت اور زمین و آسمان اور دریاؤں کی خلقت
210- حق کی حمایت سے ہاتھ اٹھا لینے والوں کے بارے میں فرمایا
211- خداوند عالم کی عظمت اور پیغمبرؐ کی توصیف و مدحت
212- پیغمبرﷺ کی خاندانی شرافت اور نیکو کاروں کے اوصاف
213- آپؑ کے دُعائیہ کلمات
214- حکمران اور رعیّت کے باہمی حقوق کے بارے میں فرمایا
215- قریش کے مظالم کے متعلق فر مایا اور بصرہ پر چڑھائی کے متعلق
216- طلحہ اور عبد الرحمن بن عتاب کو مقتول دیکھا تو فرمایا
217- متقی و پرہیزگار کے اوصاف
218- ”الہاکم التکاثر حتی زرتم المقابر“ کی تلاوت کے وقت فرمایا
219- ” رجال لا تلہیھم تجارة و لا بیع عن ذکر اللہ “ کی تلاوت کے وق
220- ” یا اٴیھا الانسان ما غرّک بربک الکریم “ کی تلاوت کے وقت فرم
221- ظلم و غصب سے کنارہ کشی، عقیل کی حالت فقر و احتیاج، اور اشعث
222- آپؑ کے دُعائیہ کلمات
223- دنیا کی بے ثباتی اور اہل قبور کی حالت بے چارگی
224- آپؑ کے دُعائیہ کلمات
225- انتشار و فتنہ سے قبل دنیا سے اٹھ جانے والوں کے متعلق فرمایا
226- اپنی بیعت کے متعلق فرمایا
227- تقویٰ کی نصیحت موت سے خائف رہنے اور زہد اختیار کرنے کے متعلق
228- جب بصرہ کی طرف روانہ ہوئے تو فرمایا
229- عبد اللہ ابن زمعہ نے آپؑ سے مال طلب کیا تو فرمایا
230- جب جعدہ ابن ہبیرہ خطبہ نہ دے سکے تو فرمایا
231- لوگوں کے اختلاف صورت و سیرت کی وجوہ و اسباب
232- پیغمبر ﷺ کو غسل و کفن دیتے وقت فرمایا
233- ہجرتِ پیغمبر ﷺ کے بعد اُن کے عقب میں روانہ ہونے کے متعلق
234- زادِ آخرت مہیا کرنے اور موت سے پہلے عمل بجا لانے کے متعلق
235- حکمین کے بارے میں فرمایا اور اہل شام کی مذمت میں فرمایا
236- آلِ محمدؑ کی توصیف اور روایت میں عقل و درایت سے کام لینا
237- جب عثمان نے ینبع چلے جانے کے لیے پیغام بھجوایا تو فرمایا
238- اصحاب کو آمادہ جنگ کرنے اور آرام طلبی سے بچنے کے لئے فرمایا

Quick Contact

دشمن پر قابو پاؤ تو اس قابو پانے کا شکرانہ اس کو معاف کر دینا قرار دو۔ حکمت 10
(١٦) وَ مِنْ كَلَامٍ لَّهٗ عَلَیْهِ السَّلَامُ
خطبہ (۱۶)
لَمَّا بُوْيِـعَ بِالْمَدِيْنـَةِ
جب مدینہ میں آپؑ کی بیعت ہوئی تو فرمایا
ذِمَّتِیْ بِمَاۤ اَقُوْلُ رَهِیْنَةٌ، ﴿وَ اَنَا بِهٖ زَعِیْمٌ۝﴾. اِنَّ مَنْ صَرَّحَتْ لَهُ الْعِبَرُ عَمَّا بَیْنَ یَدَیْهِ مِنَ الْمَثُلَاتِ حَجَزَتْہُ التَّقْوٰى عَنْ تَقَحُّمِ الشُّبُهَاتِ، اَلَا وَ اِنَّ بَلِیَّتَكُمْ قَدْ عَادَتْ كَهَیْئَتِهَایَوْمَ بَعَثَ اللهُ نَبِیَّکُمْ ﷺ، وَ الَّذِیْ بَعَثَهٗ بِالْحَقِّ لَتُبَلْبَلُنَّ بَلْبَلَةً، وَ لَتُغَرْبَلُنَّ غَرْبَلَةً وَ لَتُسَاطُنَّ سَوْطَ الْقِدْرِ حَتّٰى یَعُوْدَ اَسْفَلُكُمْ اَعْلَاكُمْ، وَ اَعْلَاكُمْ اَسْفَلَكُمْ، وَ لَیَسْبِقَنَّ سَابِقُوْنَ كَانُوْا قَصُرُوْا، وَ لَيَقْصُرَنَّ سَبَّاقُوْنَ كَانُوْا سَبَقُوْا. وَاللهِ! مَا كَتَمْتُ وَشْمَةً وَّ لَا كَذَبْتُ كِذْبَةً، وَ لَقَدْ نُبِّئْتُ بِهٰذَا الْمَقَامِ وَ هٰذَا الْیَوْمِ.
میں اپنے قول کا ذمہ دار اور اس کی صحت کا ضامن ہوں۔ جس شخص کو اس کے دیدۂ عبرت نے گزشتہ عقوبتیں واضح طور سے دکھا دی ہوں، اسے تقویٰ شبہات میں اندھا دھند کودنے سے روک لیتا ہے۔ تمہیں جاننا چاہیے کہ تمہارے لئے وہی ابتلاآت پھر پلٹ آئے ہیں جو رسول ﷺ کی بعثت کے وقت تھے۔ اس ذات کی قسم جس نے رسول ﷺ کو حق و صداقت کے ساتھ بھیجا! تم بری طرح تہ و بالا کئے جاؤ گے اور اس طرح چھانٹے جاؤ گے جس طرح چھلنی سے کسی چیز کو چھانا جاتا ہے اور اس طرح خلط ملط کئے جاؤ گے جس طرح (چمچے سے) ہنڈیا، یہاں تک کہ تمہارے ادنیٰ اعلیٰ اور اعلیٰ ادنیٰ ہو جائیں گے جو پیچھے تھے آگے بڑھ جائیں گے اور جو ہمیشہ آگے رہتے تھے وہ پیچھے چلے جائیں گے۔ خدا کی قسم! میں نے کوئی بات پردے میں نہیں رکھی، نہ کبھی کذب بیانی سے کام لیا۔ مجھے اس مقام اور اس دن کی پہلے ہی سے خبر دی جا چکی ہے۔
اَلَا وَ اِنَّ الْخَطَایَا خَیْلٌ شُمُسٌ حُمِلَ عَلَیْهَاۤ اَهْلُهَا، وَ خُلِعَتْ لُجُمُهَا فَتَقَحَّمَتْ بِهِمْ فِی النَّارِ، اَلَا وَ اِنَّ التَّقْوٰى مَطَایَا ذُلُلٌ حُمِلَ عَلَیْهَاۤ اَهْلُهَا، وَ اُعْطُوْاۤ اَزِمَّتَها، فَاَوْرَدَتْهُمُ الْجَنَّةَ.
معلوم ہونا چاہیے کہ گناہ ان سرکش گھوڑوں کے مانند ہیں جن پر ان کے سواروں کو سوار کر دیا گیا ہو اور باگیں بھی ان کی اتار دی گئی ہوں اور وہ لے جا کر انہیں دوزخ میں پھاند پڑیں۔ اور تقویٰ رام کی ہوئی سواریوں کے مانند ہے جن پر ان کے سواروں کو سوار کیا گیا ہو، اس طرح کہ باگیں ان کے ہاتھ میں دے دی گئی ہوں اور وہ انہیں (با اطمینان) لے جا کر جنت میں اتار دیں۔
حَقٌّ وَّ بَاطِلٌ، وَ لِكُلٍّ اَهْلٌ، فَلَئِنْ اَمِرَ الْبَاطِلُ لَقَدِیْمًا فَعَلَ، وَ لَئِنْ قَلَّ الْحَقُّ فَلَرُبَّمَا وَ لَعَلَّ، وَ لَقَلَّمَاۤ اَدْبَرَ شَیْءٌ فَاَقْبَلَ.
ایک حق ہوتا ہے اور ایک باطل اور کچھ حق والے ہوتے ہیں، کچھ باطل والے۔ اب اگر باطل زیادہ ہو گیا تو یہ پہلے بھی بہت ہوتا رہا ہے اور اگر حق کم ہو گیا ہے تو بسا اوقات ایسا ہوا ہے اور بہت ممکن ہے کہ وہ اس کے بعد باطل پر چھا جائے۔ اگرچہ ایسا کم ہی ہوتا ہے کہ کوئی چیز پیچھے ہٹ کر آگے بڑھے۔
اَقُوْلُ: اِنَّ فِیْ هٰذَا الْكَلَامِ الْاَدْنٰى مِنْ مَّوَاقِعِ الْاِحْسَانِ مَا لَا تَبْلُغُهٗ مَوَاقِعُ الْاِسْتِحْسَانِ، وَ اِنَّ حَظَّ الْعَجَبِ مِنْهُ اَكْثَرُ مِنْ حَظِّ الْعَجَبِ بِهٖ، وَ ــ فِيْهِ مَعَ الْحَالِ الَّتِیْ وَصَفْنَا ــ زَوَآئِدُ مِنَ الْفَصَاحَةِ، لَا يَقُوْمَ بِهَا لِسَانٌ ، وَ لَا يَطَّلِعُ فَجَّهَا اِنْسَانٌ، وَ لَا يَعْرِفُ مَاۤ اَقُوْلُ اِلَّا مَنْ ضَرَبَ فِیْ هٰذِهِ الصِّنَاعَةِ بِحَقٍّ، وَ جَرٰى فِيْهَا عَلٰى عِرْقٍ، ﴿وَ مَا یَعْقِلُهَاۤ اِلَّا الْعٰلِمُوْنَ۝﴾.
علامہ رضیؒ فرماتے ہیں کہ: اس مختصر سے کلام میں واقعی خوبیوں کے اتنے مقام ہیں کہ احساس خوبی کا اس کے تمام گوشوں کو پا نہیں سکتا اور اس کلام سے حیرت و استعجاب کا حصہ پسندیدگی کی مقدار سے زیادہ ہوتا ہے۔ اس حالت کے باوجود جو ہم نے بیان کی ہے اس میں فصاحت کے اتنے بے شمار پہلو ہیں کہ جن کے بیان کرنے کا یارا نہیں، نہ کوئی انسان اس کی عمیق گہرائیوں تک پہنچ سکتا ہے۔ میری اس بات کو وہی جان سکتا ہے جس نے اس فن کا پورا پورا حق ادا کیا ہو اور اس کے رگ و ریشہ سے واقف ہو اور’’جاننے والوں کے سوا کوئی ان کو نہیں سمجھ سکتا‘‘۔
[وَ مِنْ هٰذِهِ الْخُطْبَةِ]
[اسی خطبے کا ایک حصہ یہ ہے:]
شُغِلَ مَنِ الْجَنَّةُ وَ النَّارُ اَمَامَهٗ، سَاعٍ سَرِیْعٌ نَجَا، وَ طَالِبٌۢ بَطِیْءٌ رَّجَا، وَ مُقَصِّرٌ فِی النَّارِ هَوٰى. الْیَمِیْنُ وَ الشِّمَالُ مَضَلَّةٌ، وَ الطَّرِیْقُ الْوُسْطٰى هِیَ الْجَادَّةُ عَلَیْهَا بَاقِی الْكِتَابِ وَ اٰثَارُ النُّبُوَّةِ، وَ مِنْهَا مَنْفَذُ السُّنَّةِ، وَ اِلَیْهَا مَصِیْرُ الْعَاقِبَةِ.
جس کے پیشِ نظر دوزخ و جنت ہو، اس کی نظر کسی اور طرف نہیں اٹھ سکتی، جو تیز قدم دوڑنے والا ہے وہ نجات یافتہ ہے اور جو طلبگار ہو، مگر سست رفتار اسے بھی توقع ہو سکتی ہے، مگر جو (ارادةً) کو تاہی کرنے والا ہو اسے تو دوزخ ہی میں گرنا ہے۔دائیں بائیں گمراہی کی راہیں ہیں اور درمیانی راستہ ہی صراطِ مستقیم ہے۔ اس راستے پر اللہ کی ہمیشہ رہنے والی کتاب اور نبوت کے آثار ہیں۔ اسی سے شریعت کا نفاذ و اجرا ہوا اور اسی کی طرف آخر کار بازگشت ہے۔
هَلَكَ مَنِ ادَّعٰى، وَ خَابَ مَنِ افْتَرٰى، مَنْ اَبْدٰى صَفْحَتَهٗ لِلْحَقِّ هَلَكَ، وَ كَفٰى بِالْمَرْءِ جَهْلًاۤ اَلَّا یَعْرِفَ قَدْرَهٗ، لَایَهْلِكُ عَلَى التَّقْوٰى سِنْخُ اَصْلٍ، وَ لَا یَظْمَاُ عَلَیْهَا زَرْعُ قَوْمٍ. فَاسْتَتِرُوْا فِیْ بُیُوْتِكُمْ، ﴿وَ اَصْلِحُوْا ذَاتَ بَیْنِكُمْ۪ ﴾، وَ التَّوْبَةُ مِنْ وَّرَآئِكُمْ، وَ لَا یَحْمَدْ حَامِدٌ اِلَّا رَبَّهٗ، وَ لَا یَلُمْ لَآئِمٌ اِلَّا نَفْسَهٗ.
جس نے (غلط) ادّعا کیا وہ تباہ و برباد ہوا اور جس نے افترا باندھا وہ ناکام و نامراد رہا [۱] ۔ جو حق کے مقابلے میں کھڑا ہوتا ہے تباہ ہو جاتا ہے اور انسان کی جہالت اس سے بڑھ کر کیا ہو گی کہ وہ اپنی قدر و منزلت کو نہ پہچانے [۲] ۔ وہ اصل و اساس، جو تقویٰ پر ہو برباد نہیں ہوتی اور اس کے ہوتے ہوئے کسی قوم کی کشت (عمل) بے آب و خشک نہیں رہتی۔ تم اپنے گھر کے گوشوں میں چھپ کر بیٹھ جاؤ، آپس کے جھگڑوں کی اصلاح کرو، توبہ تمہارے عقب میں ہے۔ حمد کرنے والا صرف اپنے پروردگار کی حمد کرے اور بھلا برا کہنے والا اپنے ہی نفس کی ملامت کرے۔

۱؂بعض نسخوں میں: «مَنْ اَبْدٰى صَفْحَتَهٗ لِلْحَقِّ هَلَكَ» کے بعد «عِنْدَ جَهَلَةِ النَّاسِ» بھی مرقوم ہے۔ اس بنا پر اس جملہ کے یہ معنی ہوں گے کہ جو حق کی خاطر کھڑا ہو وہ جاہلوں کے نزدیک تباہ و برباد ہوتا ہے۔
۲؂عظمت و جلالِ الٰہی سے دل و دماغ کے متاثر ہونے کا نام تقویٰ ہے جس کے نتیجے میں انسان کی روح خوف و خشیت الٰہی سے معمور ہو جاتی ہے اور اس کا لازمی نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ عبادت و ریاضت میں سر گرمی پیدا ہو جاتی ہے۔ ناممکن ہے کہ دل میں اس کا خوف بسا ہو اور اس کا اظہار انسان کے افعال و اعمال سے نہ ہو اور عبادت و نیاز مندی سے چونکہ نفس کی اصلاح اور روح کی تربیت ہوتی ہے، لہٰذا جوں جوں عبادت میں اضافہ ہوتا ہے، نفس کی پاکیزگی بڑھتی جاتی ہے۔ اسی لئے قرآن کریم میں تقویٰ کا اطلاق کبھی خوف و خشیت پر، کبھی بندگی اور نیاز مندی پر اور کبھی پاکیزگی قلب و روح پر ہوا کرتا ہے۔ چنانچہ ﴿وَّاِيَّاىَ فَاتَّقُوْنِ﴾[۱] میں تقویٰ سے مراد خوف ہے اور ﴿اتَّقُوا اللّٰهَ حَقَّ تُقٰتِهٖ﴾ [۲] میں تقویٰ سے مراد عبادت و بندگی ہے اور ﴿وَيَخْشَ اللّٰهَ وَيَتَّقْهِ فَاُولٰٓٮِٕكَ هُمُ الْفَآٮِٕزُوْنَ‏﴾[۳] میں تقویٰ سے مراد پاکیزگی نفس اور طہارتِ قلب ہے۔
احادیث میں تقویٰ کے تین درجے قرار دیئے گئے ہیں:
پہلا درجہ یہ ہے کہ انسان واجبات کی پابندی اور محرمات سے کنارہ کشی کرے۔
دوسرا درجہ یہ ہے کہ مستحبات کی بھی پابندی کرے اور مکروہات سے بھی دامن بچا کر رہے۔
تیسرا درجہ یہ ہے کہ شبہات میں مبتلا ہونے کے اندیشہ سے حلال چیزوں سے بھی ہاتھ اٹھالے۔
پہلا درجہ عوام کا، دوسرا درجہ خواص کا اور تیسرا درجہ خاص الخواص کا ہے۔ چنانچہ خداوندِ عالم نے ان تینوں درجوں کی طرف اس آیت میں اشارہ کیا ہے:
﴿لَـيْسَ عَلَى الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ جُنَاحٌ فِيْمَا طَعِمُوْۤا اِذَا مَا اتَّقَوا وَّاٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ ثُمَّ اتَّقَوا وَّاٰمَنُوْا ثُمَّ اتَّقَوا وَّاَحْسَنُوْا‌ ؕ وَاللّٰهُ يُحِبُّ الْمُحْسِنِيْ﴾
جن لوگوں نے ایمان قبول کیا اور اچھے اعمال بجا لائے ان پر جو وہ (پہلے) کھا پی چکے ہیں اس میں کچھ گناہ نہیں۔ جب انہوں نے پرہیز گاری اختیار کر لی اور ایمان لے آئے اور نیک کام کئے، پھر پرہیز گاری کی اور ایمان لے آئے پھر پرہیز گاری کی اور اچھے کام کئے اور اللہ اچھے کام کرنے والوں کو دوست رکھتا ہے۔[۴]
امیر المومنین علیہ السلام فرماتے ہیں کہ اسی عمل کیلئے جماؤ ہے جس کی بنیاد تقویٰ پر ہو اور وہی کشتِ عمل پھلے پھولے گی جسے تقویٰ کے پانی سے سینچا گیا ہو، کیونکہ عبادت وہی ہے جس میں احساس عبودیت کارفرما ہو، جیسا کہ اللہ سبحانہ کا ارشاد ہے:
﴿ اَفَمَنْ اَسَّسَ بُنْيَانَهٗ عَلٰى تَقْوٰى مِنَ اللّٰهِ وَرِضْوَانٍ خَيْرٌ اَمْ مَّنْ اَسَّسَ بُنْيَانَهٗ عَلٰى شَفَا جُرُفٍ هَارٍ فَانْهَارَ بِهٖ فِىْ نَارِ جَهَـنَّمَ﴾
کیا وہ شخص کہ جس نے اپنی عمارت کی بنیاد خدا کے خوف اور اس کی خوشنودی پر رکھی، وہ بہتر ہے یا وہ جس نے اپنی عمارت کی بنیاد ایک گرنے والی کھائی کے کنارے پر رکھی کہ جو اسے لے کر جہنم کی آگ میں گر پڑے۔[۵]
چنانچہ ہر وہ اعتقاد جس کی اساس، علم و یقین پر نہ ہو اس عمارت کے مانند ہے جو بغیر بنیاد کے کھڑی کی گئی ہو، جس میں ثبات و قرار نہیں ہو سکتا اور ہر وہ عمل جو بغیر تقویٰ کے ہو اس کھیتی کے مانند ہے جو آبیاری کے نہ ہونے کی وجہ سے سوُکھ جائے۔

[۱]۔ سورۂ بقرہ، آیت ۴۱۔
[۲]۔ سورۂ آل عمران، آیت ۱۰۲۔
[۳]۔ سورۂ نور، آیت ۵۲۔
[۴]۔ سورۂ مائدہ، آیت ۹۳۔
[۵]۔ سورۂ توبہ، آیت ۱۰۹۔