Quick Contact

صدقہ کامیاب دوا ہے۔ حکمت 6

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
پیش گفتار
اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ وَ الصَّلٰوۃُ وَ السَّلَامُ عَلٰی سَیِّدِ الْاَنْبِیَآءِ وَ الْمُرْسَلِیْنَ وَ اٰلِہِ الطَّیِّبِیْنَ الطَّاهِرِیْنَ الْمَعْصُوْمِیْنَ.
اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے انسان کو خلق کیا اور اس کی ہدایت کیلئے جہاں معصوم راہنما معین کئے وہاں اپنی طرف سے لا ریب کتابیں بھی نازل فرمائیں۔ چنانچہ وہ الٰہی نمائندے قول و عمل سے اپنا فریضہ انجام دیتے رہے اور اللہ کی کتاب کی تشریح فرماتے رہے۔ اللہ سبحانہ نے جہاں ان ہادیانِ حق کی عظمت مختلف طریقوں سے بیان فرمائی وہاں قلم و کتاب کی قسمیں کھا کر تحریر کی اہمیت سے بھی مطلع فرمایا۔ اللہ کے ان نمائندوں کی گفتگو ’’حدیث‘‘ کے نام سے محفوظ ہوتی رہی اور ہدایت کا سر چشمہ قرار پاتی رہی۔
یہ سلسلہ یونہی چلتا رہا یہاں تک کہ حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ پر نبوت ختم ہوئی اور آپؐ پر نازل ہونے والی کتاب پہلی تمام کتابوں کی ناسخ بن کر قیامت تک کی راہنمائی کی ضامن بنی۔ آپؐ نے اپنی زندگی کے آخری ایام میں جب دین کی تکمیل کا اعلان کیا تبھی اپنے بعد کے قیامت تک کے ہادیوں کو قرآن کریم کا ہم پلہ قرار دیا اور مشہور و متواتر حدیث ثقلین کے ذریعے اُمت کو ان کی عظمت سے آگاہ کیا اور ان سے تمسک اور وابستگی کو نجات و سعادت کا ضامن قرار دیا۔ چنانچہ آپ ﷺ فرمایا:
اِنِّیْ تَارِكٌ فِيْكُمُ الثَّقَلَيْنِ مَاۤ اِنْ تَمَسَّكْتُمْ بِهِمَا لَنْ تَضِلُّوْا: كِتَابَ اللهِ وَ عِتْرَتِیْ اَهْلَ بَيْتِیْ، وَ اِنَّهُمَا لَنْ يَّفْتَرِقَا حَتّٰى يَرِدَا عَلَىَّ الْحَوْضِ.
تحقیق! میں تمہارے درمیان دو گرانقدر چیزیں چھوڑے جا رہا ہوں، جب تک تم ان سے متمسک رہے ہر گز گمراہ نہ ہو گے، وہ اللہ کی کتاب اور میری عترت، میرے اہل بیت علیہ السلام ہیں اور یہ ہر گز ایک دوسرے سے جدا نہ ہوں گے، یہاں تک کہ میرے پاس حوض(کوثر)تک جائیں گے۔ [۱]
اسی کے ساتھ آپ ﷺ نے بے شمار مقامات اور مناسبات پر اپنے ارشادات جلیلہ کے ذریعے اپنے ابن عم حضرت امیر المومنین علی علیہ السلام کی قدسی شخصیت اور ان کی عظیم علمی منزلت کو بیان فرمایا۔ جیسا کہ آپ ﷺ کا ارشاد گرامی ہے:
اَنَا مَدِينَةُ الْعِلْمِ وَعَلِیٌّ بَابُهَا، فَمَنْ اَرَادَ الْعِلْمَ فَلْيَاْتِهٖ مِنْ بَابِهٖ.
میں علم کا شہر اور علیؑ اس کا دراوزہ ہیں۔ پس جو علم کا ارادہ رکھتا ہے اسے اس دروازہ سے آنا ہو گا۔ [۲]
اور اپنے بعد علی علیہ السلام کے قرآن مجید کے حقیقی ترجمان و مفسر ہونے پر اپنےاس فرمانِ ذیشان کے ذریعے مہر تصدیق ثبت فرمائی کہ:
عَلِیٌّ مَّعَ الْقُرْاٰنِ وَ الْقُرْاٰنُ مَعَ عَلِیٍّ، لَا يَفْتَرِقَانِ حَتّٰى يَرِدَا عَلَیَّ الْحَوْضَ.
علیؑ قرآن کے ساتھ ہے اور قرآن علیؑ کے ساتھ ہے۔ یہ جدا نہ ہوں گے،یہاں تک کہ میرے پاس حوض پر آ پہنچیں گے۔ [۳]
پیغمبر اکرم ﷺ کے بعد اللہ کی کتاب کی تفسیر اور رسول اللہ ﷺ کی سیرت کی تشریح امیرالمومنین علیہ السلام نے بیان کی۔ امام علیہ السلام کبھی خطبوں اور کلام کی صورت میں ارشاد فرماتے رہے اور چاہنے والے اسے ہدایت کا خزانہ سمجھ کر جمع کرتے رہے، اور کبھی کتابت کی اہمیت کو مدنظر رکھتے ہوئے خود لکھواتے رہے اور یوں ہدایت کی راہ کو روشنی بخشتے رہے۔ اسی کے ساتھ خود آپؑ نے اپنے فرمان کے ذریعے ان ہدایت کے لازوال چشموں سے جناب حسنین شریفین علیہ السلام ، اپنے اہل و اصحاب اور محبان و موالیان کے ساتھ تمام عالم انسانیت کو فیضیاب ہونے کی تاکید فرمائی۔ چنانچہ ارشاد فرمایا:
اُوْصِیْكُمَا وَ جَمِیْعَ وَلَدِیْ وَ اَهْلِیْ وَ مَنْ بَلَغَهٗ كِتَابِیْ...
میں تم دونوں، اپنی تمام اولاد، اپنے کنبہ کو اور جن تک میری یہ تحریر پہنچے، سب کو وصیت کرتا ہوں۔ [۴]
ابتدا میں امام علیہ السلام کے کلام کو اصبغ بن نباتہ جیسے آپؑ کے جلیل القدر اصحاب تحریرکرتے رہے اور ایک بہت بڑا سرمایہ اکٹھا ہو گیا۔ زمانہ کے گزرنے کے ساتھ ساتھ یہ سرمایہ بکھرتا رہا اور چوتھی صدی کے اواخر میں علامہ سیّد رضی کی کتاب ’’خصائص الائمہ‘‘ میں امام کے چند فرامین کو پڑھ کر لوگوں نے سیّد رضیؒ سے امیرالمومنین علیہ السلام کے فرامین کو الگ سے جمع کرنے کی خواہش کی تو سیّد نے ان کی درخوست کو قبول کرتے ہوئے ان فرامین کی جمع آوری کا آغاز کیا اور ۴۰۰ ہجری میں اس سے فارغ ہوئے اور اس مجموعہ کا نام ’’نہج البلاغہ‘‘ رکھا۔
نہج البلاغہ کو جو شہرت ملی وہ بعد از کتابِ خدا شاید ہی کسی کتاب کو ملی ہو۔اب اس بے پناہ شہرت کا سبب امام کا علم ہے، یا آپؑ کے کلام کی جامعیت، یا سیّد رضیؒ کا خلوص؟ تو یقیناً اگر کہا جائے کہ سب وجوہ شامل ہیں تو زیادہ مناسب ہو گا۔
سیّد رضیؒ نے اس کلام کے بارے کیا خوب جملہ فرمایا:
لِاَنَّ كَلَامَهٗ ؑ الْكَلَامُ الَّذِیْ عَلَیْهِ مَسْحَةٌ مِّنَ الْعِلْمِ الْاِلٰهِیْ، وَ فِیْهِ عَبْقَةٌ مِّنَ الْكَلَامِ النَّبَوِیِّ.
اس لئے کہ آپؑ کا کلام وہ ہے جس میں علم الٰہی کی جھلک اور کلام نبویؐ کی خوشبو ہے۔ [۵]
نہج البلاغہ کے تعارف، اس کی جامعیت اور اس کی تالیف و جمع آوری کے بارے میں سینکڑوں کتابیں لکھی گئیں اور اس ترجمہ میں سیّد العلماء علامہ علی نقی نقن اعلی اللہ مقامہ کا علمی مقدمہ ایک شاہکار کی حیثیت رکھتا ہے۔
اہل سنت کے مشہور عالم اور بیس جلدوں پر مشتمل شرح نہج البلاغہ کے مصنف جناب ابن ابی الحدید متوفی ۶۵۵ ہجری، نہج البلاغہ کے بارے میں لکھتے ہیں:
اِنَّ كَثِيْرًا مِّنْ فُصُوْلِهٖ دَاخِلٌ فِیْ بَابِ الْمُعْجِزَاتِ الْمُحَمَّدِيَّةِ لِاشْتِمَالِهَا عَلَى‏الْاَخْبَارِ الْغَيْبِيَّةِ وَ خُرُوْجِهَا عَنْ وُّسْعِ الطَّبِيْعَةِ الْبَشَرِيَّةِ.
اس کتاب کے اکثر حصے معجزاتِ محمدیہؐ میں داخل ہیں، کیونکہ ان میں وہ غیبی خبریں شامل ہیں جو عام فرد بشر کی طاقت سے باہر ہیں۔ [۶]
نہج البلاغہ کو قرآن مجید کی تفسیر کے طور پر پیش کرتے ہوئے علامہ ابن ابی الحدید خطبہ ۲۱۸ کی شرح میں لکھتے ہیں:
وَ اُقْسِمُ بِمَنْ تُقْسِمُ الْاُمَمُ كُلُّهَا بِهٖ! لَقَدْ قَرَاْتُ هٰذِهِ الْخُطْبَةَ مُنْذُ خَمْسِيْنَ سَنَةً وَّ اِلَى الْاٰنَ اَكْثَرَ مِنْ اَلْفِ مَرَّةً، مَا قَرَاْتُهَا قَطُّ اِلَّا وَ اَحْدَثَتْ عِنْدِیْ رَوْعَةً وَّ خَوْفًا وَّ عِظَةً، وَ اَثَرَتْ فِیْ قَلْبِیْ وَجِيْبًا وَّ فِیْۤ اَعْضَآئِیْ رَعْدَةً، وَ لَا تَاَمَّلْتُهَا اِلَّا وَ ذَكَرْتُ الْمَوْتٰى مِنْ اَهْلِیْ وَ اَقَارِبِیْ وَ اَرْبَابِ وُدِّیْ، وَ خَيَّلْتُ فِیْ نَفْسِیْ اَنِّیْۤ اَنَا ذٰلِكَ الشَّخْصُ الَّذِیْ وَصَفَ ؑ حَالَهٗ.
میں اس خدا کی قسم اٹھا کر کہ جس کی ذات کی تمام امتیں قسم کھاتی ہیں! اس حقیقت کا اعتراف کرتا ہوں کہ میں گزشتہ پچاس سال سے اس خطبہ کو ہزار مرتبہ سے زیادہ پڑھ چکا ہوں۔ یہ حقیقت ہے کہ میں نے جب بھی اسے پڑھا اس نے مجھ میں خوفِ خدا، قیامت کی یاد اور وعظ و نصیحت کی حالت کو زندہ کیا، اس کے ہر بار مطالعے سےمیرے دل کی دھڑکنیں تیز ہو گئیں اور اعضائے بدن پر لرزہ طاری ہو گیا۔ میں نے جب بھی اسے پڑھا میرے رشتہ داروں، عزیزوں اور پیاروں کی موت میرے سامنے مجسم ہو گئی اور ہر بار مجھے یہی احساس ہوا کہ جیسے میں ہی وہ شخص ہوں جس کی حالت کو امیر المومنین علیہ السلام نے اس خطبہ میں بیان کیا ہے۔ [۷]
نہج البلاغہ میں توحید کے بیان کے بارے میں ابن ابی الحدید رقمطراز ہیں:
وَ اعْلَمْ اَنَّ التَّوْحِيْدَ وَ الْعَدْلَ وَ الْمَبَاحِثَ الشَّرِيْفَةَ الْاِلٰهيَّةَ مَا عُرِفَتْ اِلَّا مِنْ كَلَامِ هٰذَا الرَّجُلِ، وَ اَنَّ كَلَامَ غَيْرِهٖ مِنْ اَكَابِرِ الصَّحَابَةِ لَمْ يَتَضَمَّنْ شَيْئًا مِّنْ ذٰلِكَ اَصْلًا وَّ لَا كَانُوْا يَتَصَوَّرُوْنَهٗ، وَ لَوْ تَصَوَّرُوْهُ لَذَكَرُوْهُ، وَ هٰذِهِ الْفَضِيْلَةُ عِنْدِیْ اَعْظَمُ فَضَآئِلِهٖ ؑ.‏
جان لیجئے! توحید و عدل اور دوسری عظیم الٰہی ابحاث کی معرفت اس ہستی کے علاوہ کسی سے حاصل نہیں ہوئی۔ کسی اور بزرگ صحابی کا کلام ان مطالب کو حاوی نہیں، بلکہ یہ مطالب ان کی فکر میں بھی نہیں تھے۔ اگر وہ ان موضوعات کا تصور رکھتے ہوتے تو اسے بیان کرتے اور علی علیہ السلام کی یہ فضیلت میرے نزدیک سب سے بڑی فضیلت ہے۔ [۸]
مصر کےمشہور مفتی جناب علامہ شیخ محمد عبدہ متوفی ۱۳۲۳ ہجری اپنی شرح نہج البلاغہ کے مقدمہ میں تحریر فرماتے ہیں:
وَ اَحْيَانًا كُنْتُ اَشْهَدُ اَنَّ عَقْلًا نُوْرَانِيًّا لَّا يَشْبَهُ خَلْقًا جَسَدَانِيًّا، فَصَلَ عَنِ الْمَوْكِبِ الْاِلٰهِیِّ وَ اتَّصَلَ بِالرُّوْحِ الْاِنْسَانِیِّ، فَخَلَعَهٗ عَنْ غَاشِيَاتِ الطَّبِيْعَةِ، وَ سَمَا بِهٖ اِلَی الْمَلَكُوْتِ الْاَعْلٰی، وَ نَمَا بِهٖ اِلٰی مَشْهَدِ النُّوْرِ الْاَجْلٰی، وَ سَكَنَ بِهٖ اِلٰی عَمَارِ جَانِبِ التَّقْدِيْسِ، بَعْدَ اسْتِخَلَاصِهٖ مِنْ شَوَآئِبِ التَّلْبِيْسِ.
(کتاب نہج البلاغہ کے مطالعے کے دوران (بعض اوقات میں ایسے مشاہدہ کرتا تھا کہ ایک نورانی عقل جو جسمانی مخلوق سے کسی حیثیت سے بھی مشابہ نہیں ہے، بارگاہِ خداوندی سے الگ ہوئی اور انسانی روح سے متصل ہوکر اسے طبیعت کے پردوں اورمادیت کے حجابوں سے نکال کر اسے عالم ملکوت تک پہنچادیا اورتجلیات ربانی کے مرکز تک بلند کردیا اور لے جاکر عالم قدسی کا ساکن بنا دیا۔ [۹]
نہج البلاغہ کے بارے میں آیت اللہ خمینی(رہ) فرماتے ہیں:
یہ ایک شفا بخش معجون اور فردی و اجتماعی دردوں کی دوا ہے۔ [۱۰]
آیت اللہ خامنہ ای فرماتے ہیں:
نہج البلاغہ حقیقت میں علی بن ابی طالب علیہ السلام کے تعارف اور پہچان کی کتاب ہے۔ نہج البلاغہ ایک مجسم انسانِ کامل ہے۔ نہج البلاغہ، اسلام کی بے نظیر میراث ہے جسے زندہ رکھنا فقط شیعہ نہیں، بلکہ تمام مسلمانوں کا اولین فریضہ ہے۔ [۱۱]
نہج البلاغہ سے علی علیہ السلام کی صدائیں سنائی دیتی ہیں۔ گویا آپؑ آج صدا دے رہے ہیں:
﴿فَاَیْنَ تَذْهَبُوْنَ﴾! وَ ﴿اَنّٰی تُؤْفَكُوْنَ﴾! وَ الْاَعْلَامُ قَآئِمَةٌ، وَ الْاٰیَاتُ وَاضِحَةٌ، وَ الْمَنَارُ مَنْصُوْبَةٌ.
تم کہاں جا رہے ہو اور تمہیں کدھر موڑا جا رہا ہے؟ حالانکہ ہدایت کے پرچم بلند ہیں، نشانیاں ظاہر و روشن ہیں اور حق کے مینار نصب ہیں۔ [۱۲]
نہج البلاغہ میں حضرت امیر المومنین علی علیہ السلام ہماری نجات کا حقیقی نسخہ بیان کرتے ہوں ارشاد فرماتے ہیں:
فَاتَّقُوا اللهَ عِبَادَ اللهِ، وَ فِرُّوْا اِلَى اللهِ مِنَ اللهِ وَ امْضُوْا فِیْ الَّذِیْ نَهَجَهٗ لَكُمْ، وَ قُوْمُوْا بِمَا عَصَبَهٗ بِكُمْ، فَعَلِیٌّ ضَامِنٌ لِّفَلْجِكُمْ اٰجِلًا، اِنْ لَمْ تُمْنَحُوْهُ عَاجِلًا.
اللہ کے بندو! اللہ سے ڈرو اور اس کے غضب سے بھاگ کر اُس کے دامنِ رحمت میں پناہ لو، اللہ کی دکھائی ہوئی راہ پر چلو اور اس کے عائد کردہ احکام بجا لاؤ۔ اگر یہ روش اپناؤ تو علیؑ تمہاری نجات اُخروی کا ضامن ہے، اگرچہ اس دنیا میں کامیابی و کامرانی تمہیں نصیب نہ ہو۔ [۱۳]
نہج البلاغہ سے ایسے اقتباسات نقل کئے جائیں تو یہ خود ایک ضخیم کتاب بنتی ہے اور ان اقتباسات پر مشتمل کئی کتابیں لکھی جا چکی ہیں، اس لئے ہم اسے قارئین کے مطالعہ پر چھوڑتے ہیں۔
المختصر یہ کہ نہج البلاغہ اللہ کے ولی کا، اللہ کے بندوں کو، اللہ کی طرف بلانے کا دعوت نامہ ہے۔ نیز یہ اللہ کے بندوں کو اللہ کا تعارف کرانے کا جامع و کامل ذریعہ اور اللہ کی کتاب کی بہترین تفسیر ہے۔
علامہ مفتی جعفر حسین(رہ)نے اردو دان طبقہ پر احسان کیا کہ نہج البلاغہ کا اردو میں ترجمہ کیا اور نہج البلاغہ کےعربی ادب کے معیار کو سامنے رکھتے ہوئے اردو ادب کی تمام باریکیاں ترجمہ میں ملحوظ خاطر رکھیں۔ مفتی صاحب نے ۱۸ رجب ۱۳۷۵ ہجری کو یہ ترجمہ مکمل کیا۔ اگرچہ اس سے پہلے اور بعد میں نہج البلاغہ کے اردو میں کئی ترجمے ہوئے مگر علم دوست حلقوں میں جو مقبولیت اسے ملی وہ کسی اور ترجمہ کو نہیں ملی۔ اس وقت جب اردو اور فارسی میں درجنوں ترجمے موجود ہیں ان کو سامنے رکھتے ہوئے مفتی صاحب کے ترجمہ کو دقت سے دیکھا جائے تو مفتی صاحب کے کمال علمی کا اندازہ ہوتا ہے۔
علامہ مفتی جعفر حسین اعلی اللہ مقامہ کی زندگی میں پہلی بار نہج البلاغہ تین جلدوں میں ’’ادارۂ علمیہ پاکستان لاہور‘‘کی طرف سے شائع ہوا۔ مفتی صاحب کی زندگی میں ہی دوسری بار چند نئے حواشی اور کچھ تصحیح کے ساتھ ’’اضافہ شدہ ایڈیشن‘‘ امامیہ کتب خانہ لاہور کی طرف سے شائع ہوا۔
دوسرے ایڈیشن میں جو اضافات شامل کئے گئے ان کی چند مثالیں پیش خدمت ہیں:
مثلا خطبہ ۱۵۳ میں ادارۂ علمیہ والے ایڈیشن میں حاشیہ نہیں ہے اور امامیہ کتب خانہ والے میں چمگادڑ سے متعلق حاشیہ کا اضافہ کیا گیا ہے۔
یا خطبہ ۱۶۳ میں پہلے ایڈیشن میں حاشیہ نہیں ہے اور دوسرے ایڈیشن میں حاشیہ موجود ہے۔
یا خطبہ ۱۹ میں علامہ سیّد رضیؒ کی تشریح کی عربی عبارت نہیں ہے، جبکہ دوسرے ایڈیشن میں درج ہے۔
عربی اور اردو عبارات میں بھی کئی مقامات پر دوسرے ایڈیشن میں تصحیح کی گئی ہے۔
پہلے ایڈیشن کی تیسری جلد کے آخر میں اٹھاون (۵۸) اغلاط کی نشاندہی کی گئی جن کی دوسرے ایڈیشن میں تصحیح کر دی گئی۔
البتہ دوسرے ایڈیشن میں تصحیح کے بعد جو اغلاط رہ گئیں وہ پھر مسلسل اسی انداز سے چھپتی رہیں۔ ایک کوشش امامیہ پبلیکیشنز لاہور والوں نے کی جو قابل قدر ہے مگر اس میں بھی درجنوں غلطیاں موجود ہیں اور پیراگراف بھی نہیں بنائے گئے۔
موجودہ ایڈیشن کی انفرادیت
الحمدللہ نہج البلاغہ کی مقبولیت روز بروز بڑ ھ رہی ہے اور متعدد ادارے اچھے سے اچھے انداز میں نہج البلاغہ کو طبع کرانے میں مشغول ہیں اور درجنوں قسم کے ایڈیشن بازار میں موجود ہیں۔ مرکزِ افکار اسلامی بھی ایک مدت سے کلام امیر المومنینؑ کو محبان امیر المومنینؑ تک پہنچانے کیلئے کوشاں ہے اور اس کیلئے متعدد قدم اٹھائے جن کے یہاں بیان کی ضرورت نہیں۔ طباعت کے حوالے سے ہمیشہ جن عمومی یا خصوصی کمزوریوں کا سامنا ہوتا تھا ان کو مدنظر رکھتے ہوئے مرکز افکار اسلامی نے مکمل طور پر نئے سرے سے نہج البلاغہ کے زیر نظر ایڈیشن کو شائع کرانے کا ارادہ کیا۔ اس اشاعت میں جن امور کو مدنظر رکھا گیا ان میں سے کچھ درج ذیل ہیں:
[1] سب سے پہلے عربی متن کی تصحیح کیلئے کام شروع کیا گیا تو اس نسخے کی تلاش شروع ہوئی جس سے مفتی صاحب نے استفادہ کیا تھا۔ چونکہ عربی میں کئی نسخے ہیں اور مفتی صاحب نے کہیں تحریر نہیں فرمایا کہ ان کے سامنے کونسا نسخہ تھا، تاکہ اس کے مطابق عربی کو دیکھاجائے۔ چنانچہ چند ماہ کی مسلسل کوشش اور ایران و عراق اور دیگر اسلامی ممالک میں دستیاب نہج البلاغہ کے درجن بھر نسخوں سے مفتی صاحب والے نسخہ کی تطبیق کے بعد واضح ہوا کہ مفتی صاحب نے عربی کتابت کیلئے شیخ محمد عبدہ مصری کا ’’مطبعۃ الاستقامة مصر‘‘ والا تین جلدی نسخہ استعمال کیا۔
چنانچہ اس نسخہ کو سامنے رکھتے ہوئے عربی عبارات کو مفتی صاحب کے نسخہ سے تطبیق دی اور اگر کہیں مفتی صاحب کا نسخہ شیخ محمد عبدہ والے نسخہ سے الگ تھا تو درج ذیل نسخوں کو دیکھا گیا جس میں اس بات کو ملحوظ رکھا گیا کہ اگر کوئی ایک نسخہ مفتی صاحب والے نسخہ سے مطابقت رکھتا ہے تو مفتی صاحب والی عربی عبارت کو باقی رکھا گیا اور اگر مفتی صاحب والا نسخہ کسی سے مطابقت نہیں رکھتا تو مفتی صاحب کے ترجمہ کو دیکھا گیا کہ جس عربی عبارت سے مفتی صاحب کا ترجمہ ملتا ہے اس عربی عبارت کو درج کیا گیا اوراگر ترجمہ میں کوئی فرق واضح نہیں ہوتا تھا تو جو عبارت اکثر نسخوں میں تھی اس کے مطابق عبارت کو رکھا گیا۔ اس مرحلہ پر جن نسخوں کو مدنظر رکھا گیا ان میں:
شیخ محمد عبدہ کا مصری نسخہ
حرم امیر المؤمنینؑ سے طبع شدہ الشیخ قیس بہجت العطار کا تحقیق شدہ نسخہ
حرم امیر المؤمنینؑ ہی سے طبع شدہ السید ہاشم میلانی کا تحقیق شدہ نسخہ
بنیاد نہج البلاغہ کا نسخہ
صبحی صالح کا نسخہ
منہاج البراعہ شرح نہج البلاغہ کا نسخہ
ابن میثم بحرانی کی شرح والا نسخہ
مصادر نہج البلاغہ، سیّد عبدالزہرا والا نسخہ
شیخ محمد عبدہ کا موسسۃ التاریخ العربی، بیروت لبنان والا نسخہ
آقائے دشتی کا نسخہ
پیام امام آقای مکارم والا نسخہ
اور چند موارد میں آقای مرعشی نجفی کے مکتبہ سے شائع ہونے والے پانچویں صدی کے مخطوطہ سے استفادہ کیا گیا۔
[2] اردو نہج البلاغہ کے پہلے شائع ہونے والے نسخوں میں عربی عبارت اور اردو ترجمہ ایک دوسرے کے مقابل نہیں تھا، بلکہ طولانی خطبات میں ایسا بھی تھا کہ عربی ایک صفحہ پر ہے تو اردو اس سے اگلے صفحہ پر۔ جبکہ اس نسخہ میں عربی کے سامنے اس کا اردو ترجمہ لایا گیا۔
[3] عربی اور اردو عبارتوں میں پیراگراف کا کوئی خیال نہیں رکھا گیا تھا۔ بعض عبارتیں مسلسل تین صفحات پر جاری تھیں۔ اس نسخہ میں انہیں بڑی محنت سے چھوٹے پیرا گرافوں میں تقسیم کیا گیا جس کیلئے متعدد فارسی تراجم اور عربی میں چھپنے والے نسخوں کو مدنظر رکھا گیا۔
[4] عربی رسم الخط کیلئے اردو دان طبقہ کے ہاں رائج قرآنی رسم الخط کو استعمال کیا گیا۔
[5] اردو عبارت کیلئے بہترین فونٹ کو استعمال کیا گیا۔
[6] عربی اور اردو عبارتوں کی (،) (.)۔(جیسی علامات لگا کر دقت سے جملہ بندی کی گئی تاکہ ترجمہ سمجھنے میں آسانی ہو اور کسی کو آپؑ کا کلام حفظ کرنا یا اس کی تلاوت کرنی ہو تو اسے بھی دقت نہ ہو۔
[7] حواشی کی عربی عبارات کو حتی المقدور حد تک اصل ماخذ سے تطبیق کیا گیا۔
[8] حواشی میں موجود عربی عبارتوں اور اشعارکی مکمل اعراب گزاری کی گئی تاکہ عام قارئین کو عربی عبارت پڑھنے میں آسانی ہو۔
[9] نہج البلاغہ کے متن یا حواشی میں جہاں آیات آئیں ان کیلئے مخصوص علامات کا استعمال کر کے انہیں واضح اور نمایاں کیا گیا۔ اس سلسلے میں عربی کیلئے اور اردو میں () کی علامتوں کا استعمال کیا گیا تاکہ کتاب کے اصل متن یا حاشیہ میں موجود قرآنی آیات کا قاری کو با آسانی علم ہو جائے) ۔
[10] نہج البلاغہ کے متن میں موجود احادیث نبوی اور مخصوص جملات و عبارات کو (» «) کی علامتوں کے درمیان لکھ کر نمایاں کیا گیا۔
[11] حواشی کی عبارتوں میں موجود آیات کے مکمل حوالہ جات درج کئے گئے۔
[12] حواشی میں جہاں کلام معصوم ہے اس میں نہج البلاغہ کے اصل متنِ والا فونٹ استعمال کیا گیا اور متن یا جواشی میں عام عربی عبارت کیلئے متن سے الگ رسم الخط استعمال کیا گیا۔
[13] حواشی کی عربی عبارات کے جہاں مفتی صاحب نے حوالے درج کئے انہیں اسی طرح پیراگراف کے آخر میں بریکٹوں میں درج کر دیا اور جہاں حوالے موجود نہ تھے وہاں ہم نے اپنے پاس دستیاب ماخذ سے دیکھ کر حوالہ جات کو فٹ نوٹ کی صورت میں شامل کر دیا۔
[14] پرنٹنگ کے مرحلے میں کاغذ و جلد اور دیگر چیزوں کا معیار آپ کے سامنے موجود ہے اس کا فیصلہ آپ خود کریں گے۔
[15] تحقیق و تطبیق کے دوران گزشتہ نسخوں میں چند موارد ایسے بھی دیکھنے میں آئے جہاں عربی عبارت تھی مگر ترجمہ نہیں تھا یا اردو ترجمہ موجود تھا مگر عربی عبارت درج نہ تھی۔ چنانچہ اس کی باریک بینی سے اصلاح کی گئی۔ اس کے چند موارد درج ذیل تھے:
خطبہ ۱۵۳ میں پہلے ایڈیشن میں: ’’اور ان کی پناہ میں ہوتے ہیں ’’کا جملہ موجود ہے اور دوسرے ایڈیشن میں موجود نہیں۔
خطبہ ۱۷۴ میں پہلے ایڈیشن میں جملہ’’اور اس کے خلاف خود اپنی رایوں پر بھروسا نہ کرو‘‘ موجود ہے، جبکہ دوسرے ایڈیشن میں یہ موجود نہیں ہے۔
خطبہ ۱۹۱ خطبۃ المتقین میں ’’ حِرْصًا فِی الْعِلْمِ ‘‘ کا ترجمہ نہیں ہے۔
خطبہ ۲۱۸ میں ’’كَانَ فِی الدُّنْیَا غَذِیَّ تَرَفٍ، وَ رَبِیْبَ شَرَفٍ‘‘ کا ترجمہ درج نہیں ہے۔
مکتوب ۵۳ میں ’’وَ الْحَقُّ کُلُّہٗ ثَقِیْلٌ‘‘ کا ترجمہ درج نہیں تھا۔
خطبہ ۲۰۳ میں ’’وَ لَا وَقَعَ حُكْمٌ جَهِلْتُهٗ، ۔۔۔‘‘ سے تین جملوں کا ترجمہ نہیں ہے۔
ایسے کئی اور موارد بھی ہیں جن کی مناسب انداز میں تصحیح کر دی گئی۔
المختصر یہ کہ ہم نے کلام علی ؑ کی خدمت کو عبادت جان کر ایک ایک حرف اور زبر زیر کی تصحیح کیلئے انتہائی دقت اور باریک بینی سے اپنی مقدور بھر کوشش کی ہے۔ دُعا ہے اللہ قبول فرمائے اور کلامِ امامؑ سے فائدہ اٹھانے کی توفیق عطا فرمائے۔ اس تمام سعی و کوشش کے باوجود اگر ہم سے کوئی چیز رہ گئی ہو تو یقیناً قارئین کرام ہمیں اس سے مطلع فرما کر شکریہ کا موقع دیں گے تاکہ آئندہ اشاعت میں اس کی تصحیح کر لی جائے۔
پروردگار عالم کلام امیر کائناتؑ کے صدقے میں ان حضرات کے مرحومین کی مغفرت فرمائے اور ان کے رزق میں برکت و وسعت فرمائے اور ہماری اس کوشش کو شرفِ قبولیت عطا فرما کر اسے ہماری نجات کا ذریعہ بنائے۔
اٰمِیْن، یَا رَبَّ الْعَالَمِیْنَ
مقبول حسین علوی
مرکز افکار اسلامی پاکستان

[۱]۔ الارشاد، شیخ مفید، ج ۱، ص ۲۳۳، معجم صغیر، طبرانی، ج ۱، ص ۲۳۲، حدیث ۳۷۶۔
[۲]۔ معجم کبیر،طبرانی، ج ۹، ص ۲۷۸، حدیث ۱۰۸۹۸۔
[۳]۔ الصواعق المحرقہ، ج ۲، ص ۳۶۱۔
[۴]۔ نہج البلاغہ، مکتوب نمبر ۴۷۔
[۵]۔ مقدمہ نہج البلاغہ، از سید رضی ۔
[۶]۔ شرح ابن ابی الحدید، ج ۱، ص ۴-۵۔
[۷]۔ شرح ابن ابی الحدید، ج ۱۱، ص ۱۵۳۔
[۸]۔ شرح ابن ابی الحدید، ج ۶، ص ۳۴۶۔
[۹]۔ شرح نہج البلاغہ ، شیخ محمد عبدہ، ج ۱، ص 4، مطبوعہ دارالمعرفۃ، بیروت
[۱۰]۔ ہزارۂ نہج البلاغہ کا پیغام۔
[۱۱]۔ ہزارۂ نہج البلاغہ
[۱۲]۔ نہج البلاغہ، خطبہ نمبر ۸۵۔
[۱۳]۔ نہج البلاغہ، خطبہ نمبر ۲۴۔