فہرست خطبات

1- معرفت باری تعالیٰ، زمین و آسمان اور آدمؑ کی خلقت، احکام و حج
2- عرب قبل از بعثت، اہل بیتؑ کی فضیلت اور ایک جماعت کی منقصت
3- (خطبہ شقشقیہ) خلفائے ثلاثہ کی حکومت کے بارے میں آپؑ کا نظریہ
4- آپکیؑ کی دوررس بصیرت، یقین کامل اور موسیؑ کا خوفزدہ ہونا
5- پیغمبرﷺ کے بعد جب ابو سفیان نے آپؑ کی بیعت کرنا چاہی
6- طلحہ و زبیر کے تعاقب سےآپؑ کو روکا گیا تو اس موقع پر فرمایا
7- منافقین کی حالت
8- جب زبیر نے یہ کہا میں نے دل سے بیعت نہ کی تھی تو آپؑ نے فرما
9- اصحاب جمل کا بوداپن
10- طلحہ و زبیر کے بارے میں
11- محمد بن حنفیہ کو آداب حرم کی تعلیم
12- عمل کا کردار اور مدار نیت پر ہے۔
13- بصرہ اور اہل بصرہ کی مذمت میں
14- اہل بصرہ کی مذمت میں
15- عثمان کی دی ہوئی جا گیریں جب پلٹا لیں تو فرمایا
16- جب اہل مدینہ نے آپؑ کے ہاتھ پر بیعت کی تو فرمایا
17- مسند قضا پر بیٹھنے والے نا اہلوں کی مذمت میں
18- علماء کے مختلف الاراء ہونے کی مذمت اور تصویب کی رد
19- اشعث بن قیس کی غداری و نفاق کا تذکرہ
20- موت کی ہولناکی اور اس سے عبرت اندوزی
21- دنیا میں سبکبار رہنے کی تعلیم
22- قتل عثمان کا الزام عائد کرنے والوں کے بارے میں
23- حسد سے باز رہنے اور عزیزو اقارب سے حسن سلوک کے بارے میں
24- جنگ پر آمادہ کرنے کے لیے فرمایا
25- بسر کے حملے کے بعد جنگ سے جی چرانے والوں سے فرمایا
26- عرب قبل از بعثت اور پیغمبرﷺ کے بعد دنیا کی بے رخی
27- جہاد پر برانگیختہ کرنےکے لیے فرمایا
28- دنیا کی بے ثباتی اور زاد آخرت کی اہمیت کا تذکرہ
29- جنگ کے موقعہ پر حیلے بہانے کرنے والوں کے متعلق فرمایا
30- قتل عثمان کے سلسلے میں آپؑ کی روش
31- جنگ جمل پہلے ابن عباس کو زبیر کے پاس جب بھیجنا
32- دنیا کی مذمت اور اہل دنیا کی قسمیں
33- جب جنگ جمل کے لیے روانہ ہوئے تو فرمایا
34- اہل شام کے مقابلے میں لوگوں کو آمادۂ جنگ کرنے کے لیے فرمایا
35- تحکیم کے بارے میں فرمایا
36- اہل نہروان کو ان کے انجام سے مطلع کرنے کے لیے فرمایا
37- اپنی استقامت دینی و سبقت ایمانی کے متعلق فرمایا
38- شبہہ کی وجہ تسمیہ اور دوستان خدا و دشمنان خدا کی مذمت
39- جنگ سے جی چرانے والوں کی مذمت میں
40- خوارج کے قول «لاحکم الا للہ» کے جواب میں فرمایا
41- غداری کی مذمت میں
42- نفسانی خواہشوں اور لمبی امیدوں کے متعلق فرمایا
43- جب ساتھیوں نے جنگ کی تیاری کے لیے کہا تو آپؑ نے فرمایا
44- جب مصقلہ ابن ہبیرہ معاویہ کے پاس بھاگ گیا تو آپؑ نے فرمایا
45- اللہ کی عظمت اور جلالت اور دنیا کی سبکی و بے وقاری کے متعلق
46- جب شام کی جانب روانہ ہوئے تو فرمایا
47- کوفہ پر وارد ہونے والی مصیبتوں کے متعلق فرمایا
48- جب شام کی طرف روانہ ہوئے تو فرمایا
49- اللہ کی عظمت و بزرگی کے بارے میں فرمایا
50- حق و باطل کی آمیزش کے نتائج
51- جب شامیوں نے آپؑ کے ساتھیوں پر پانی بند کر دیا تو فرمایا
52- دنیا کے زوال وفنا اور آخرت کے ثواب و عتاب کے متعلق فرمایا
53- گوسفند قربانی کے اوصاف
54- آپؑ کے ہاتھ پر بیعت کرنے والوں کا ہجوم
55- میدان صفین میں جہاد میں تاخیر پر اعتراض ہوا تو فرمایا
56- میدان جنگ میں آپؑ کی صبر و ثبات کی حالت
57- معاویہ کے بارے میں فرمایا
58- خوارج کےبارے میں آپؑ کی پیشینگوئی
59- خوارج کی ہزیمت کے متعلق آپؑ کی پیشینگوئی
60- جب اچانک قتل کر دیے جانے سے ڈرایا گیا تو آپؑ نے فرمایا
61- دنیا کی بے ثباتی کا تذکرہ
62- دنیا کے زوال و فنا کے سلسلہ میں فرمایا
63- صفات باری کا تذکرہ
64- جنگ صفین میں تعلیم حرب کےسلسلے میں فرمایا
65- سقیفہ بنی ساعدہ کی کاروائی سننے کے بعد فرمایا
66- محمد بن ابی بکرکی خبر شہادت سن کر فرمایا
67- اپنے اصحاب کی کجروی اور بے رخی کے بارے میں فرمایا
68- شب ضربت سحر کے وقت فرمایا
69- اہل عراق کی مذمت میں فرمایا
70- پیغمبرﷺ پر درود بھیجنے کا طریقہ
71- حسنینؑ کی طرف سے مروان کی سفارش کی گئی تو آپؑ نے فرمایا
72- جب لوگوں نے عثمان کی بیعت کا ارادہ کیا تو آپؑ نے فرمایا
73- قتل عثمان میں شرکت کا الزام آپؑ پر لگایا گیا تو فرمایا
74- پند و نصیحت کے سلسلے میں فرمایا
75- بنی امیہ کے متعلق فرمایا
76- دعائیہ کلمات
77- منجمین کی پیشینگوئی کی رد
78- عورتوں کے فطری نقائص
79- پند و نصیحت کے سلسلے میں فرمایا
80- اہل دنیا کے ساتھ دنیا کی روش
81- موت اور اس کے بعد کی حالت، انسانی خلقت کے درجات اور نصائح
82- عمرو بن عاص کے بارے میں
83- تنزیہ بازی اور پند و نصائح کے سلسلے میں فرمایا
84- آخرت کی تیاری اور احکام شریعت کی نگہداشت کے سلسلے میں فرمایا
85- دوستان خدا کی حالت اور علماء سوء کی مذمت میں فرمایا
86- امت کے مختلف گروہوں میں بٹ جانے کے متعلق فرمایا
87- بعثت سے قبل دنیا کی حالت پراگندگی اور موجودہ دور کے لوگ
88- صفات باری اور پند و موعظت کےسلسلے میں فرمایا
89- (خطبہ اشباح) آسمان و زمین کی خلقت
90- جب آپؑ کے ہاتھ پر بیعت ہوئی تو فرمایا
91- خوارج کی بیخ کنی اور اپنے علم کی ہمہ گیری و فتنہ بنی امیہ
92- خداوند عالم کی حمد و ثناء اور انبیاء کی توصیف میں فرمایا
93- بعثت کے وقت لوگوں کی حالت اور پیغمبرﷺ کی مساعی
94- نبی کریم ﷺ کی مدح و توصیف میں فرمایا
95- اپنے اصحاب کو تنبیہہ اور سرزنش کرتے ہوئے فرمایا
96- بنی امیہ اور ان کے مظالم کے متعلق فرمایا
97- ترکِ دینا اور نیرنگیٔ عالم کے سلسلہ میں فرمایا
98- اپنی سیرت و کردار اور اہل بیتؑ کی عظمت کے سلسلہ میں فرمایا
99- عبد الملک بن مروان کی تاراجیوں کے متعلق فرمایا
100- بعد میں پیدا ہونے والے فتنوں کے متعلق فرمایا
101- زہد و تقو یٰ اور اہل دنیا کی حالت کے متعلق فرمایا
102- بعثت سے قبل لوگوں کی حالت اور پیغمبر ﷺکی تبلیغ و ہدایت
103- پیغمبر اکرمﷺ کی مدح و توصیف اور فرائضِ امام کے سلسلہ میں
104- شریعت اسلام کی گرانقدری اور پیغمبرﷺ کی عظمت کے متعلق فرمایا
105- صفین میں جب حصہ لشکر کے قدم اکھڑنے کے جم گئے تو فرمایا
106- پیغمبرﷺ کی توصیف اور لوگوں کے گوناگون حالات کے بارے میں
107- خداوند عالم کی عظمت، ملائکہ کی رفعت ،نزع کی کیفیت اور آخرت
108- فرائضِ اسلام اور علم وعمل کے متعلق فرمایا
109- دنیا کی بے ثباتی کے متعلق فرمایا
110- ملک الموت کے قبضِ رُوح کرنے کے متعلق فرمایا
111- دنیا اور اہل دنیا کے متعلق فرمایا
112- زہد و تقویٰ اور زادِ عقبیٰ کی اہمیت کے متعلق
113- طلب باران کے سلسلہ میں فرمایا
114- آخرت کی حالت اور حجاج ابن یوسف ثقفی کے مظالم کے متعلق
115- خدا کی راہ میں جان و مال سے جہاد کرنے کے متعلق فرمایا
116- اپنے دوستوں کی حالت اور اپنی اولیت کے متعلق فرمایا
117- جب اپنے ساتھیوں کو دعوت جہاد دی اور وہ خاموش رہے تو فرمایا
118- اہل بیتؑ کی عظمت اور قوانین شریعت کی اہمیت کے متعلق فرمایا
119- تحکیم کے بارے میں آپؑ پر اعتراض کیا گیا تو فرمایا
120- جب خوارج تحکیم کے نہ ماننے پر اڑ گئے تو احتجاجاً فرمایا
121- جنگ کے موقع پر کمزور اور پست ہمتوں کی مدد کرنے کی سلسلہ میں
122- میدان صفین میں فنونِ جنگ کی تعلیم دیتے ہوئے فرمایا
123- تحکیم کو قبول کرنے کے وجوہ و اسباب
124- بیت المال کی برابر کی تقسیم پر اعتراض ہوا تو فرمایا
125- خوارج کے عقائد کے رد میں
126- بصرہ میں ہونے والے فتنوں، تباہ کاریوں اور حملوں کے متعلق
127- دنیا کی بے ثباتی اور اہل دنیا کی حالت
128- حضرت ابوذر کو مدینہ بدر کیا گیا تو فرمایا
129- خلافت کو قبول کرنے کی وجہ اور والی و حاکم کے اوصاف
130- موت سے ڈرانے اور پند و نصیحت کے سلسلہ میں فرمایا
131- خداوند ِعالم کی عظمت، قرآن کی اہمیت اور پیغمبرﷺ کی بعثت
132- جب مغیرہ بن اخنس نے عثمان کی حمایت میں بولنا چاہا تو فرمایا
133- غزوہ روم میں شرکت کے لیے مشورہ مانگا گیا تو فرمایا
134- اپنی نیت کے اخلاص اور مظلوم کی حمایت کے سلسلہ میں فرمایا
135- طلحہ و زبیر اور خونِ عثمان کے قصاص اور اپنی بیعت کے متعلق
136- ظہورِ حضرت قائم علیہ السلام کے وقت دُنیا کی حالت
137- شوریٰ کے موقع پر فرمایا
138- غیبت اور عیب جوئی سے ممانعت کے سلسلہ میں فرمایا
139- سُنی سُنائی باتوں کو سچا نہ سمجھنا چاہئے
140- بے محل داد و دہش سے ممانعت اور مال کا صحیح مصرف
141- طلبِ باران کے سلسلہ میں فرمایا
142- اہل بیتؑ راسخون فی العلم ہیں اور وہی امامت وخلافت کے اہل ہیں
143- دُنیا کی اہل دُنیا کے ساتھ روش اور بدعت و سنت کا بیان
144- جب حضرت عمر نے غزوہ فارس کیلئے مشورہ لیا تو فرمایا
145- بعثتِ پیغمبر کی غرض و غایت اور اُس زمانے کی حالت
146- طلحہ وزبیر کے متعلق فرمایا
147- موت سے کچھ قبل بطور وصیّت فرمایا
148- حضرت حجتؑ کی غیبت اور پیغمبرﷺ کے بعد لوگوں کی حالت
149- فتنوں میں لوگوں کی حالت اور ظلم اور اکل حرام سے اجتناب
150- خداوند عالم کی عظمت و جلالت کا تذکرہ اور معرفت امام کے متعلق
151- غفلت شعاروں، چوپاؤں، درندوں اور عورتوں کے عادات و خصائل
152- اہل بیتؑ کی توصیف، علم وعمل کا تلازم اور اعمال کا ثمرہ
153- چمگادڑ کی عجیب و غریب خلقت کے بارے میں
154- حضرت عائشہ کے عناد کی کیفیت اور فتنوں کی حالت
155- دُنیا کی بے ثباتی، پندو موعظت اور اعضاء و جوارح کی شہادت
156- بعثت پیغمبرﷺ کا تذکرہ، بنی اُمیّہ کے مظالم اور ان کا انجام
157- لوگوں کے ساتھ آپ کا حُسنِ سلوک اور ان کی لغزشوں سے چشم پوشی
158- خداوندِعالم کی توصیف ،خوف ورجاء، انبیاءؑ کی زندگی
159- دین اسلام کی عظمت اور دُنیا سے درس عبرت حاصل کرنے کی تعلیم
160- حضرتؑ کو خلافت سے الگ رکھنے کے وجوہ
161- اللہ کی توصیف، خلقت انسان اور ضروریات زندگی کی طرف رہنمائی
162- امیرالمومنینؑ کا عثمان سے مکالمہ اور ان کی دامادی پر ایک نظر
163- مور کی عجیب و غریب خلقت اور جنّت کے دلفریب مناظر
164- شفقت و مہربانی اور ظاہر و باطن کی تعلیم اور بنی امیہ کا زوال
165- حقوق و فرائض کی نگہداشت اور تمام معاملات میں اللہ سے خوف
166- جب لوگوں نے قاتلین عثمان سے قصاص لینے کی فرمائش کی تو فرمایا
167- جب اصحاب جمل بصرہ کی جانب روانہ ہوئے تو فرمایا
168- اہل بصرہ سے تحقیق حال کے لئے آنے والے شخص سے فرمایا
169- صفین میں جب دشمن سے دوبدو ہوکر لڑنے کا ارادہ کیا تو فرمایا
170- جب آپؑ پر حرص کا الزام رکھا گیا تو اس کی رد میں فرمایا
171- خلافت کا مستحق کون ہے اور ظاہری مسلمانوں سے جنگ کرنا
172- طلحہ بن عبیداللہ کے بارے میں فرمایا
173- غفلت کرنے والوں کو تنبیہ اور آپؑ کے علم کی ہمہ گیری
174- پند دو موعظت، قرآن کی عظمت اور ظلم کی اقسام
175- حکمین کے بارے میں فرمایا
176- خداوند عالم کی توصیف، دُنیا کی بے ثباتی اور اسباب زوال نعمت
177- جب پوچھا گیا کہ کیا آپؑ نے خدا کو دیکھا ہے تو فرمایا
178- اپنے اصحاب کی مذمت میں فرمایا
179- خوارج سے مل جانے کا تہیّہ کرنے والی جماعت سے فرمایا
180- خداوند عالم کی تنزیہ و تقدیس اور قدرت کی کا ر فرمائی
181- خداوند عالم کی توصیف، قرآن کی عظمت اور عذاب آخرت سے تخویف
182- جب «لا حکم الا اللہ» کا نعرہ لگایا گیا تو فرمایا
183- خداوند عالم کی عظمت و توصیف اور ٹڈی کی عجیب و غریب خلقت
184- مسائل الٰہیات کے بُنیادی اُصول کا تذکرہ
185- فتنوں کے ابھرنے اور رزقِ حلال کے ناپید ہو جانے کے بارے میں
186- خداوند عالم کے احسانات، مرنے والوں کی حالت اور بے ثباتی دنیا
187- پختہ اور متزلزل ایمان اور دعویٰ سلونی «قبل ان تفقدونی»
188- تقویٰ کی اہمیت، ہولناکی قبر، اللہ، رسول اور اہل بیت کی معرفت
189- خداوند عالم کی توصیف، تقویٰ کی نصیحت، دنیا اور اہل دنیا
190- (خطبہ قاصعہ) جس میں ابلیس کی مذمت ہے۔
191- متقین کے اوصاف اور نصیحت پذیر طبیعتوں پر موعظت کا اثر
192- پیغمبر ﷺکی بعثت، قبائلِ عرب کی عداوت اور منافقین کی حالت
193- خداوند عالم کی توصیف، تقویٰ کی نصیحت اور قیامت کی کیفیت
194- بعثتِ پیغمبرؐ کے وقت دنیا کی حالت، دنیا کی بے ثباتی
195- حضورﷺ کے ساتھ آپؑ کی خصوصیات اور حضور ﷺ کی تجہیز و تکفین
196- خداوند عالم کے علم کی ہمہ گیری، تقویٰ کے فوائد
197- نماز، زکوٰة اور امانت کے بارے میں فرمایا
198- معاویہ کی غداری و فریب کاری اور غداروں کا انجام
199- راہ ہدایت پر چلنے والوں کی کمی اور قوم ثمود کا تذکرہ
200- جناب سیدہ سلام اللہ علیہا کے دفن کے موقع پر فرمایا
201- دنیا کی بے ثباتی اور زاد آخرت مہیا کرنے کے لیے فرمایا
202- اپنے اصحاب کو عقبیٰ کے خطرات سے متنبہ کرتے ہوئے فرمایا
203- طلحہ و زبیر نے مشورہ نہ کرنے کا شکوہ کیا تو فرمایا
204- صفین میں شامیوں پر شب و ستم کیا گیا تو فرمایا
205- جب امام حسنؑ صفین کے میدان میں تیزی سے بڑھے تو فرمایا
206- صفین میں لشکر تحکیم کے سلسلہ میں سرکشی پر اُتر آیا تو فرمایا
207- علاء ابن زیاد حارثی کی عیادت کو موقع پر فرمایا
208- اختلاف احادیث کے وجوہ و اسباب اور رواة حدیث کے اقسام
209- خداوند عالم کی عظمت اور زمین و آسمان اور دریاؤں کی خلقت
210- حق کی حمایت سے ہاتھ اٹھا لینے والوں کے بارے میں فرمایا
211- خداوند عالم کی عظمت اور پیغمبرؐ کی توصیف و مدحت
212- پیغمبرﷺ کی خاندانی شرافت اور نیکو کاروں کے اوصاف
213- آپؑ کے دُعائیہ کلمات
214- حکمران اور رعیّت کے باہمی حقوق کے بارے میں فرمایا
215- قریش کے مظالم کے متعلق فر مایا اور بصرہ پر چڑھائی کے متعلق
216- طلحہ اور عبد الرحمن بن عتاب کو مقتول دیکھا تو فرمایا
217- متقی و پرہیزگار کے اوصاف
218- ”الہاکم التکاثر حتی زرتم المقابر“ کی تلاوت کے وقت فرمایا
219- ” رجال لا تلہیھم تجارة و لا بیع عن ذکر اللہ “ کی تلاوت کے وق
220- ” یا اٴیھا الانسان ما غرّک بربک الکریم “ کی تلاوت کے وقت فرم
221- ظلم و غصب سے کنارہ کشی، عقیل کی حالت فقر و احتیاج، اور اشعث
222- آپؑ کے دُعائیہ کلمات
223- دنیا کی بے ثباتی اور اہل قبور کی حالت بے چارگی
224- آپؑ کے دُعائیہ کلمات
225- انتشار و فتنہ سے قبل دنیا سے اٹھ جانے والوں کے متعلق فرمایا
226- اپنی بیعت کے متعلق فرمایا
227- تقویٰ کی نصیحت موت سے خائف رہنے اور زہد اختیار کرنے کے متعلق
228- جب بصرہ کی طرف روانہ ہوئے تو فرمایا
229- عبد اللہ ابن زمعہ نے آپؑ سے مال طلب کیا تو فرمایا
230- جب جعدہ ابن ہبیرہ خطبہ نہ دے سکے تو فرمایا
231- لوگوں کے اختلاف صورت و سیرت کی وجوہ و اسباب
232- پیغمبر ﷺ کو غسل و کفن دیتے وقت فرمایا
233- ہجرتِ پیغمبر ﷺ کے بعد اُن کے عقب میں روانہ ہونے کے متعلق
234- زادِ آخرت مہیا کرنے اور موت سے پہلے عمل بجا لانے کے متعلق
235- حکمین کے بارے میں فرمایا اور اہل شام کی مذمت میں فرمایا
236- آلِ محمدؑ کی توصیف اور روایت میں عقل و درایت سے کام لینا
237- جب عثمان نے ینبع چلے جانے کے لیے پیغام بھجوایا تو فرمایا
238- اصحاب کو آمادہ جنگ کرنے اور آرام طلبی سے بچنے کے لئے فرمایا

Quick Contact

ڈرو! ڈرو! اس لئے کہ بخدا اس نے اس حد تک تمہاری پردہ پوشی کی ہے کہ گویا تمہیں بخش دیا ہے۔ حکمت 29
(٢١٨) وَ مِنْ كَلَامٍ لَّهٗ عَلَیْهِ السَّلَامُ
خطبہ (۲۱۸)
قَالَهٗ بَعْدَ تِلَاوَتِهٖ: ﴿اَلْهٰىكُمُ التَّكَاثُرُۙ۝ حَتّٰی زُرْتُمُ الْمَقَابِرَؕ۝﴾.
امیر المومنین علیہ السلام نے آیت ﴿اَلْهٰىكُمُ التَّكَاثُرُۙ۝ حَتّٰی زُرْتُمُ الْمَقَابِرَؕ۝﴾: ’’تمہیں قوم قبیلے کی کثرت پر اترانے نے غافل کر دیا یہاں تک کہ تم نے قبریں دیکھ ڈالیں‘‘ [۱] کی تلاوت کرنے کے بعد فرمایا:
یَا لَهٗ مَرَامًا مَّاۤ اَبْعَدَهٗ! وَ زَوْرًا مَّاۤ اَغْفَلَهٗ! وَ خَطَرًا مَّاۤ اَفْظَعَهٗ! لَقَدِ اسْتَخْلَوْا مِنْهُمْ اَیَّ مُدَّكِرٍ، وَ تَنَاوَشُوْهُمْ مِنْ مَّكَانٍۭ بَعِیْدٍ! اَ فَبِمَصَارِعِ اٰبَآئِهِمْ یَفْخَرُوْنَ! اَمْ بِعَدِیْدِ الْهَلْكٰی یَتَكَاثَرُوْنَ!.
دیکھو تو (ان بوسیدہ ہڈیوں پر فخر کرنے والوں کا) مقصد کتنا دور از عقل ہے! اور یہ قبروں پر آنے والے کتنے غافل و بے خبر ہیں! اور یہ مہم کتنی سخت و دشوار ہے! انہوں نے مرنے والوں کو کیسی کیسی عبرت آموز چیزوں سے خالی سمجھ لیا! اور دور دراز جگہ سے انہیں (سرمایۂ افتخار بنانے کیلئے) لے لیا! کیا یہ اپنے باپ داداؤں کی لاشوں پر فخر کرتے ہیں؟ یا ہلاک کی تعداد سے اپنی کثرت میں اضافہ محسوس کرتے ہیں؟۔
یَرْتَجِعُوْنَ مِنْهُمْ اَجْسَادًا خَوَتْ، وَ حَرَكَاتٍ سَكَنَتْ، وَ لَاَنْ یَّكُوْنُوْا عِبَرًا اَحَقُّ مِنْ اَنْ یَّكُوْنُوْا مُفْتَخَرًا، وَ لَاَنْ یَّهْبِطُوْا بِهِمْ جَنَابَ ذِلَّةٍ اَحْجٰی مِنْ اَنْ یَّقُوْمُوْا بِهِمْ مَقَامَ عِزَّةٍ!.
وہ ہونے والوں ان جسموں کو پلٹانا چاہتے ہیں جو بے روح ہوچکے ہیں اور ان جنبشوں کو لوٹانا چاہتے ہیں جو تھم چکی ہیں۔ وہ سببِ افتخار بننے سے زیادہ سامانِ عبرت بننے کے قابل ہیں۔ ان کی وجہ سے عجز و فروتنی کی جگہ پر اترنا، عزت و سرفرازی کے مقام پر ٹھہرنے سے زیادہ مناسب ہے۔
لَقَدْ نَظَرُوْۤا اِلَیْهِمْ بِاَبْصَارِ الْعَشْوَةِ، وَ ضَرَبُوْا مِنْهُمْ فِیْ غَمْرَةِ جَهَالَةٍ، وَ لَوِ اسْتَنْطَقُوْا عَنْهُمْ عَرَصَاتِ تِلْكَ الدِّیَارِ الْخَاوِیَةِ، وَ الْرُّبُوْعِ الْخَالِیَةِ، لَقَالَتْ: ذَهَبُوْا فِی الْاَرْضِ ضُلَّالًا، وَ ذَهَبْتُمْ فِیْۤ اَعْقَابِهِمْ جُهَّالًا، تَطَؤٗنَ فِیْ هَامِهِمْ، وَ تَسْتَثْبِتُوْنَ فِیْۤ اَجْسَادِهِمْ، وَ تَرْتَعُوْنَ فِیْمَاۤ لَفَظُوْا، وَ تَسْكُنُوْنَ فِیْمَا خَرَّبُوْا، وَ اِنَّمَا الْاَیَّامُ بَیْنَكُمْ وَ بَیْنَهُمْ بَوَاكٍ وَّ نَوَاۗئِحُ عَلَیْكُمْ.
انہوں نے چندھیائی ہوئی آنکھوں سے انہیں دیکھا اور ان سے (عبرت لینے کی بجائے) جہالت کے گہراؤ میں اتر پڑے۔ اگر وہ ان کی سر گزشت کو ٹوٹے ہوئے مکانوں اور خالی گھروں کے صحنوں سے پوچھیں تو وہ کہیں گے کہ: وہ گمراہی کی حالت میں زمین کے اندر چلے گئے اور تم بھی بے خبری و جہالت کے عالم میں ان کے عقب میں بڑھے جا رہے ہو، تم ان کی کھوپڑیوں کو روندتے ہو اور ان کے جسموں کی جگہ پر عمارتیں کھڑی کرنا چاہتے ہو، جس چیز کو انہوں نے چھوڑ دیا ہے اس میں چر رہے ہو اور جسے وہ خالی چھوڑ کر چلے گئے ہیں اس میں آ بسے ہو اور یہ دن بھی جو تمہارے اور ان کے درمیان ہیں تم پر رو رہے ہیں اور نوحہ پڑھ رہے ہیں۔
اُولٰٓئِكُمْ سَلَفُ غَایَتِكُمْ، وَ فُرَّاطُ مَنَاهِلِكُمْ، الَّذِیْنَ كَانَتْ لَهُمْ مَقَاوِمُ الْعِزِّ، وَ حَلَبَاتُ الْفَخْرِ، مُلُوْكًا وَّ سُوَقًا، سَلَكُوْا فِیْ بُطُوْنِ الْبَرْزَخِ سَبِیْلًا سُلِّطَتِ الْاَرْضُ عَلَیْهِمْ فِیْهِ، فَاَكَلَتْ مِنْ لُّحُوْمِهِمْ، وَ شَرِبَتْ مِنْ دِمَآئِهِمْ، فَاَصْبَحُوْا فِیْ فَجَوَاتِ قُبُوْرِهِمْ جَمَادًا لَّا یَنْمُوْنَ، وَ ضِمَارًا لَّا یُوْجَدُوْنَ، لَا یُفْزِعُهُمْ وُرُوْدُ الْاَهْوَالِ، وَ لَا یَحْزُنُهُمْ تَنَكُّرُ الْاَحْوَالِ، وَ لَا یَحْفِلُوْنَ بِالرَّوَاجِفِ، وَ لَا یَاْذَنُوْنَ لِلْقَوَاصِفِ،
تمہاری منزل منتہا پر پہلے سے پہنچ جانے والے اور تمہارے سرچشموں پر قبل سے وارد ہونے والے وہی لوگ ہیں جن کیلئے عزت کی منزلیں تھیں اور فخر و سر بلندی کی فراوانی تھی، کچھ تاجدار تھے، کچھ دوسرے درجہ کے بلند منصب، مگر اب تو وہ برزخ کی گہرائیوں میں راہ پیما ہیں کہ جہاں زمین ان پر مسلط کر دی گئی ہے، جس نے ان کا گوشت کھا لیا اور لہو چوس لیا ہے، چنانچہ وہ قبر کے شگافوں میں نشو و نما کھو کر جماد کی صورت میں پڑے ہیں اور یوں نظروں سے اوجھل ہو گئے ہیں کہ (ڈھونڈھے سے) نہیں ملتے۔ نہ پُر ہول خطرات کا آنا انہیں خوفزدہ کرتا ہے، نہ حالات کا انقلاب انہیں اندوہناک بناتا ہے، نہ زلزلوں کی پروا کرتے ہیں، نہ رعد کی کڑک پر کان دھرتے ہیں۔
غُیَّبًا لَّا یُنْتَظَرُوْنَ، وَ شُهُوْدًا لَّا یَحْضُرُوْنَ، وَ اِنَّمَا كَانُوْا جَمِیْعًا فَتَشَتَّتُوْا، وَ اُلَّافًا فَافْتَرَقُوْا، وَ مَا عَنْ طُوْلِ عَهْدِهِمْ، وَ لَا بُعْدِ مَحَلِّهِمْ، عَمِیَتْ اَخْبَارُهُمْ، وَ صَمَّتْ دِیَارُهُمْ، وَ لٰكِنَّهُمْ سُقُوْا كَاْسًا بَدَّلَتْهُمْ بِالنُّطْقِ خَرَسًا، وَ بِالسَّمْعِ صَمَمًا، وَ بِالْحَرَكَاتِ سُكُوْنًا، فَكَاَنَّهُمْ فِی ارْتِجَالِ الصِّفَةِ صَرْعٰی سُبَاتٍ،
وہ ایسے غائب ہیں کہ جن کا انتظار نہیں کیا جاتا اور ایسے موجود ہیں کہ سامنے نہیں آتے، وہ مل جل کر رہتے تھے جو اَب بکھر گئے ہیں اور آپس میں میل محبت رکھتے تھے جو اَب جدا ہو گئے ہیں۔ ان کے واقعات سے بے خبری اور ان کے گھروں کی خاموشی امتداد زمانہ اور دوری منزل کی وجہ سے نہیں، بلکہ انہیں (موت کا) ایسا ساغر پلا دیا گیا ہے کہ جس نے ان کی گویائی چھین کر انہیں گونگا بنا دیا ہے اور قوت شنوائی سلب کر کے بہرا کر دیا ہے اور ان کی حرکت و جنبش کو سکون و بے حسی سے بدل دیا ہے۔ گویا کہ وہ سرسری نظر میں یوں دکھائی دیتے ہیں جیسے نیند میں لیٹے ہوئے ہوں۔
جِیْرَانٌ لَّا یَتَاَنَّسُوْنَ، وَ اَحِبَّآءُ لَا یَتَزَاوَرُوْنَ، بَلِیَتْ بَیْنَهُمْ عُرَا التَّعَارُفِ، وَ انْقَطَعَتْ مِنْهُمْ اَسْبَابُ الْاِخَآءِ، فَكُلُّهُمْ وَحِیْدٌ وَّ هُمْ جَمِیْعٌ، وَ بِجَانِبِ الْهَجْرِ وَ هُمْ اَخِلَّآءُ، لَا یَتَعَارَفُوْنَ لِلَیْلٍ صَبَاحًا، وَ لَا لِنَهَارٍ مَّسَآءً.
وہ ایسے ہمسائے ہیں جو ایک دوسرے سے انس و محبت کا لگاؤ نہیں رکھتے اور ایسے دوست ہیں جو آپس میں ملتے ملاتے نہیں۔ ان کے جان پہچان کے رابطے بوسیدہ ہوچکے ہیں اور بھائی بندی کے سلسلے ٹوٹ گئے ہیں۔ وہ ایک ساتھ ہوتے ہوئے پھر اکیلے ہیں اور دوست ہوتے ہوئے پھر علیحدہ اور جدا ہیں۔ یہ لوگ شب ہو تو اس کی صبح سے بے خبر اور دن ہو تو اس کی شام سے ناآشنا ہیں۔
اَیُّ الْجَدِیْدَیْنِ ظَعَنُوْا فِیْهِ كَانَ عَلَیْهِمْ سَرْمَدًا، شَاهَدُوْا مِنْ اَخْطَارِ دَارِهِمْ اَفْظَعَ مِمَّا خَافُوْا، وَ رَاَوْا مِنْ اٰیَاتِهَاۤ اَعْظَمَ مِمَّا قَدَّرُوْا، فَكِلْتَا الْغَایَتَیْنِ مُدَّتْ لَهُمْ اِلٰی مَبَآءَةٍ، فَاتَتْ مَبَالِغَ الْخَوْفِ وَ الرَّجَآءِ. فَلَوْ كَانُوْا یَنْطِقُوْنَ بِهَا لَعَیُوْا بِصِفَةِ مَا شَاهَدُوْا وَ مَا عَایَنُوْا.
جس رات یا جس دن [۲] میں انہوں نے رخت سفر باندھا ہے وہ ساعت ان پر ہمیشہ اور یکساں رہنے والی ہے۔ انہوں نے منزلِ آخرت کی ہولناکیوں کو اس سے بھی کہیں زیادہ ہولناک پایا جتنا انہیں ڈر تھا اور وہاں کے آثار کو اس سے عظیم تر دیکھا جتنا کہ وہ اندازہ لگاتے تھے۔ (مومنوں اور کافروں کی) منزل انتہا کو جائے بازگشت (دوزخ و جنت) تک پھیلا دیا گیا ہے وہ (کافروں کیلئے) ہر درجہ خوف سے بلند تر اور (مومنوں کیلئے ) ہر درجہ امید سے بالا ترہے۔ اگر وہ بول سکتے ہوتے جب بھی دیکھی ہوئی چیزوں کے بیان سے ان کی زبانیں گنگ ہو جاتیں۔
وَ لَئِنْ عَمِیَتْ اٰثَارُهُمْ، وَ انْقَطَعَتْ اَخْبَارُهُمْ، لَقَدْ رَجَعَتْ فِیْهِمْ اَبْصَارُ الْعِبَرِ، وَ سَمِعَتْ عَنْهُمْ اٰذَانُ الْعُقُوْلِ، وَ تَكَلَّمُوْا مِنْ غَیْرِ جِهَاتِ النُّطْقِ، فَقَالُوْا: كَلَحَتِ الْوُجُوْهُ النَّوَاضِرُ، وَ خَوَتِ الْاَجْسَادُ النَّوَاعِمُ، وَ لَبِسْنَاۤ اَهْدَامَ الْبِلٰی، وَ تَكَآءَدَنَا ضِیْقُ الْمَضْجَعِ، وَ تَوَارَثْنَا الْوَحْشَةَ، وَ تَهَكَّمَتْ عَلَیْنَا الرُّبُوْعُ الصُّمُوْتُ، فَانْمَحَتْ مَحَاسِنُ اَجْسَادِنَا، وَ تَنَكَّرَتْ مَعَارِفُ صُوَرِنَا، وَ طَالَتْ فِیْ مَسَاكِنِ الْوَحْشَةِ اِقَامَتُنَا، وَ لَمْ نَجِدْ مِنْ كَرْبٍ فَرَجًا، وَ لَا مِنْ ضِیْقٍ مُّتَّسَعًا!.
اگرچہ ان کے نشانات مٹ چکے ہیں اور ان کی خبروں کا سلسلہ قطع ہو چکا ہے، لیکن چشم بصیرت انہیں دیکھتی اور گوش عقل و خرد ان کی سنتے ہیں۔ وہ بولے مگر نطق و کلام کے طریقہ پر نہیں، بلکہ انہوں نے زبان حال سے کہا: شگفتہ چہرے بگڑ گئے، نرم و نازک بدن مٹی میں مل گئے اور ہم نے بوسیدہ کفن پہن رکھا ہے اور قبر کی تنگی نے ہمیں عاجز کر دیا ہے، خوف و دہشت کا ایک دوسرے سے ورثہ پایا ہے، ہماری خاموش منزلیں ویران ہو گئیں، ہمارے جسم کی رعنائیاں مٹ گئیں، ہماری جانی پہچانی ہوئی صورتیں بدل گئیں، ان وحشت کدوں میں ہماری مدّت رہائش دراز ہو گئی، نہ بے چینی سے چھٹکارا نصیب ہے، نہ تنگی سے فراخی حاصل ہے۔
فَلَوْ مَثَّلْتَهُمْ بِعَقْلِكَ، اَوْ كُشِفَ عَنْهُمْ مَحْجُوْبُ الْغِطَآءِ لَكَ، وَ قَدِ ارْتَسَخَتْ اَسْمَاعُهُمْ بِالْهَوَامِّ فَاسْتَكَّتْ، وَ اكْتَحَلَتْ اَبْصَارُهُمْ بِالتُّرَابِ فَخَسَفَتْ، وَ تَقَطَّعَتِ الْاَلْسِنَةُ فِیْۤ اَفْوَاهِهِمْ بَعْدَ ذَلَاقَتِهَا، وَ هَمَدَتِ الْقُلُوْبُ فِیْ صُدُوْرِهِمْ بَعْدَ یَقَظَتِهَا، وَ عَاثَ فِیْ كُلِّ جَارِحَةٍ مِّنْهُمْ جَدِیْدُ بِلًی سَمَّجَهَا، وَ سَهَّلَ طُرُقَ الْاٰفَةِ اِلَیْهَا، مُسْتَسْلِمَاتٍ فَلَاۤ اَیْدٍ تَدْفَعُ، وَ لَا قُلُوْبٌ تَجْزَعُ، لَرَاَیْتَ اَشْجَانَ قُلُوْبٍ، وَ اَقْذَآءَ عُیُوْنٍ، لَهُمْ فِیْ كُلِّ فَظَاعَةٍ صِفَةُ حَالٍ لَّا تَنْتَقِلُ، وَ غَمْرَةٌ لَّا تَنْجَلِیْ، وَ كَمْ اَكَلَتِ الْاَرْضُ مِنْ عَزِیْزِ جَسَدٍ، وَ اَنِیْقِ لَوْنٍ، كَانَ فِی الدُّنْیَا غَذِیَّ تَرَفٍ، وَ رَبِیْبَ شَرَفٍ! یَتَعَلَّلُ بِالسُّرُوْرِ فِیْ سَاعَةِ حُزْنِهٖ، وَ یَفْزَعُ اِلَی السَّلْوَةِ اِنْ مُصِیْبَةٌ نَّزَلَتْ بِهٖ، ضَنًّۢا بِغَضَارَةِ عَیْشِهٖ، وَ شَحَاحَةًۢ بِلَهْوِهٖ وَ لَعِبِهٖ!.
اب اس عالم میں کہ جب کیڑوں کی وجہ سے ان کے کان سماعت کو کھو کر بہرے ہو چکے ہیں اور ان کی آنکھیں خاک کا سرمہ لگا کر اندر کو دھنس چکی ہیں اور ان کے منہ میں زبانیں طلاقت و روانی دکھانے کے بعد پارہ پارہ ہو چکی ہیں اور سینوں میں دل چوکنا رہنے کے بعد بے حرکت ہو چکے ہیں اور ان کے ایک ایک عضو کو نت نئی بوسیدگیوں نے تباہ کرکے بد ہیئت بنا دیا ہے اور اس حالت میں کہ وہ (ہر مصیبت سہنے کیلئے) بلا مزاحمت آمادہ ہیں، ان کی طرف آفتوں کا راستہ ہموار کر دیا ہے، نہ کوئی ہاتھ ہے جو ان کا بچاؤ کرے اور نہ (پسیجنے والے ) دل ہیں جو بے چین ہو جائیں، اگر تم اپنی عقلوں میں ان کا نقشہ جماؤ، یا یہ کہ تمہارے سامنے سے ان پر پڑا ہوا پردہ ہٹا دیا جائے تو البتہ تم ان کے دلوں کے اندوہ اور آنکھوں میں پڑے ہوئے خس و خاشاک کو دیکھو گے کہ ان پر شدت و سختی کی ایسی حالت ہے کہ وہ بدلتی نہیں اور ایسی مصیبت و جان کاہی ہے کہ ہٹنے کانام نہیں لیتی اور تمہیں معلوم ہو گا کہ زمین نے کتنے باوقار جسموں اور دلفریب رنگ روپ والوں کو کھا لیا، (جو دنیا میں ناز و نعمت کے پلے اور احترام و شرف کے پرورش یافتہ تھے)، جو رنج کی گھڑیوں میں بھی مسرت انگیز چیزوں سے دل بہلاتے تھے، اگر کوئی مصیبت ان پر آ پڑتی تھی تو اپنے عیش کی تازگیوں پر للچائے رہنے اور کھیل تفریح پر فریفتہ ہونے کی وجہ سے خوش وقتیوں کے سہارے ڈھونڈتے تھے۔
فَبَیْنَا هُوَ یَضْحَكُ اِلَی الدُّنْیَا وَ تَضْحَكُ اِلَیْهِ فِیْ ظِلِّ عَیْشٍ غَفُوْلٍ، اِذْ وَطِئَ الدَّهْرُ بِهٖ حَسَكَهٗ، وَ نَقَضَتِ الْاَیَّامُ قُوَاهُ، وَ نَظَرَتْ اِلَیْهِ الْحُتُوْفُ مِنْ كَثَبٍ، فَخَالَطَهٗ بَثٌّ لَّا یَعْرِفُهٗ، وَ نَجِیُّ هَمٍّ مَّا كَانَ یَّجِدُهٗ، وَ تَوَلَّدَتْ فِیْهِ فَتَرَاتُ عِلَلٍ، اٰنَسَ مَا كَانَ بِصِحَّتِهٖ، فَفَزِعَ اِلٰی مَا كَانَ عَوَّدَهُ الْاَطِبَّآءُ مِنْ تَسْكِیْنِ الْحَارِّ بِالْقَارِّ، وَ تَحْرِیْكِ الْبَارِدِ بِالْحَارِّ، فَلَمْ یُطْفِئْ بِبَارِدٍ اِلَّا ثَوَّرَ حَرَارَةً، وَ لَا حَرَّكَ بِحَارٍّ اِلَّا هَیَّجَ بُرُوْدَةً، وَ لَا اعْتَدَلَ بِمُمَازِجٍ لِّتِلْكَ الطَّبَآئِعِ اِلَّاۤ اَمَدَّ مِنْهَا كُلَّ ذَاتِ دَآءٍ، حَتّٰی فَتَرَ مُعَلِّلُهٗ، وَ ذَهَلَ مُمَرِّضُهٗ، وَ تَعَایَاۤ اَهْلُهٗ بِصِفَةِ دَآئِهٖ. وَ خَرِسُوْا عَنْ جَوَابِ السَّآئِلِیْنَ عَنْهُ، وَ تَنَازَعُوْا دُوْنَهٗ شَجِیَّ خَبَرٍ یَّكْتُمُوْنَهٗ، فَقَآئِلٌ یَّقُوْلُ: هُوَ لِمَا بِهٖ، وَ مُمَنٍّ لَّهُمْ اِیَابَ عَافِیَتِهٖ، وَ مُصَبِّرٌ لَّهُمْ عَلٰی فَقْدِهٖ، یُذَكِّرُهُمْ اُسَی الْمَاضِیْنَ مِنْ قَبْلِهٖ.
اسی دوران میں کہ وہ غافل و مدہوش کرنے والی زندگی کی چھاؤں میں دنیا کو دیکھ دیکھ کر ہنس رہے تھے اور دنیا انہیں دیکھ دیکھ کر قہقہے لگا رہی تھی کہ اچانک زمانہ نے انہیں کانٹوں کی طرح روند دیا اور ان کے سارے زور توڑ دیئے اور قریب ہی سے موت کی نظریں ان پر پڑنے لگیں اور ایسا غم و اندوہ ان پر طاری ہوا کہ جس سے وہ آشنا نہ تھے اور ایسے اندرونی قلق میں مبتلا ہوئے کہ جس سے کبھی سابقہ نہ پڑا تھا اور اس حالت میں کہ وہ صحت سے بہت زیادہ مانوس تھے ان میں مرض کی کمزوریاں پیدا ہو گئیں، تو اب انہوں نے انہی چیزوں کی طرف رجوع کیا جن کا طبیبوں نے انہیں عادی بنا رکھا تھا کہ گرمی کے زور کو سرد دواؤں سے فرو کیا جائے اور سردی کو گرم دواؤں سے ہٹایا جائے، مگر سرد دواؤں نے گرمی کو بجھانے کی بجائے اور بھڑکا دیا اور گرم دواؤں نے ٹھنڈک کو ہٹانے کی بجائے اس کا جوش اور بڑھا دیا اور نہ ان طبیعتوں میں مخلوط ہو نے والی چیزوں سے ان کے مزاج نقطہ اعتدال پر آئے، بلکہ ان چیزوں نے ہر عضو ِماؤف کا آزار اور بڑھا دیا، یہاں تک کہ چارہ گر سست پڑ گئے، تیمار دار (مایوس ہوکر) غفلت برتنے لگے، گھر والے مرض کی حالت بیان کرنے سے عاجز آ گئے اور مزاج پرسی کرنے والوں کے جواب سے خاموشی اختیار کر لی اور اس سے چھپاتے ہوئے اس اند و ہناک خبر کے بارے میں اختلاف رائے کرنے لگے۔ ایک کہنے والا یہ کہتا تھا کہ اس کی حالت جو ہے سو ظاہر ہے اور ایک صحت و تندرستی کے پلٹ آنے کی امید دلاتا تھا اور ایک اس کی (ہونے والی) موت پر انہیں صبر کی تلقین کرتا اور اس سے پہلے گزر جانے والوں کی مصیبتیں انہیں یاد دلاتا تھا۔
فَبَیْنَا هُوَ كَذٰلِكَ عَلٰی جَنَاحٍ مِّنْ فِرَاقِ الدُّنْیَا وَ تَرْكِ الْاَحِبَّةِ، اِذْ عَرَضَ لَهٗ عَارِضٌ مِّنْ غُصَصِهٖ، فَتَحَیَّرَتْ نَوَافِذُ فِطْنَتِهٖ، وَ یَبِسَتْ رُطُوْبَةُ لِسَانِهٖ، فَكَمْ مِنْ مُّهِمٍّ مِّنْ جَوَابِهٖ عَرَفَهٗ فَعَیَّ عَنْ رَّدِّهٖ، وَ دُعَآءٍ مُّؤْلِمٍ لِّقَلْبِهٖ سَمِعَهٗ فَتَصَامَّ عَنْهُ، مِنْ كَبِیْرٍ كَانَ یُعَظِّمُهٗ، اَوْ صَغِیْرٍ كَانَ یَرْحَمُهٗ! وَ اِنَّ لِلْمَوْتِ لَغَمَرَاتٍ هِیَ اَفْظَعُ مِنْ اَنْ تُسْتَغْرَقَ بِصِفَةٍ، اَوْ تَعْتَدِلَ عَلٰی عُقُوْلِ اَهْلِ الدُّنْیَا.
اسی اثنا میں کہ وہ دنیا سے جانے اور دوستوں کو چھوڑنے کیلئے پر تول رہا تھا کہ ناگاہ گلو گیر پھندوں میں سے ایک ایسا پھندا اسے لگا کہ اس کے ہوش و حواس پاشان و پریشان ہو گئے اور زبان کی تری خشک ہو گئی اور کتنے ہی مہم سوالات تھے کہ جن کے جواب وہ جانتا تھا، مگر بیان کرنے سے عاجز ہو گیا اور کتنی ہی دلسوز صدائیں اس کے کان سے ٹکرائیں کہ جن کے سننے سے بہرا ہو گیا۔ وہ آواز یا کسی ایسے بزرگ کی ہوتی تھی جس کا یہ بڑا احترام کرتا تھا، یا کسی ایسے خورد سال کی ہوتی تھی جس پر یہ مہربان و شفیق تھا۔ موت کی سختیاں اتنی ہیں کہ مشکل ہے کہ دائرہ بیان میں آ سکیں یا اہل دنیا کی عقلوں کے اندازہ پر پوری اتر سکیں۔

۱؂اس آیت کی شان نزول یہ ہے کہ بنی عبد مناف اور بنی سہم، مال و دولت کی فراوانی اور افراد قبیلہ کی کثرت پر آپس میں تفاخر کرنے لگے اور ہر ایک اپنی کثرت دکھانے کیلئے اپنے مُردوں کو بھی شمار کرنے لگا جس پر یہ آیت نازل ہوئی کہ تمہیں مال و اولاد کی کثرت نے غافل کر دیا ہے، یہاں تک کہ تم نے زندوں کے ساتھ مُردوں کو بھی شمار کرنا شروع کر دیا۔
اس آیت کے ایک معنی یہ بھی کہے گئے ہیں کہ: مال و اولاد کی فراوانی نے تمہیں غافل کر دیا ہے، یہاں تک کہ تم مر کر قبروں تک پہنچ گئے۔ مگر امیر المومنین علیہ السلام کے ارشاد سے پہلے معنی کی تائید ہوتی ہے۔
۲؂مطلب یہ ہے کہ جو دن کے وقت مرتے ہیں ان کی نگاہوں میں ہمیشہ دن ہی رہتا ہے اور جو رات کے وقت مرتے ہیں ان کیلئے رات کا اندھیرا نہیں چھٹتا، کیونکہ وہ ایسے مقام پر ہیں کہ جہاں چاند، سورج کی گردش اور شب و روز کا چکر نہیں ہوتا۔ اس مضمون کو ایک شاعر نے اس طرح ادا کیا ہے:
لَا بُدَّ مِنْ يَّوْمٍۭ بِلَا لَيْلَةٍ
اَوْ لَيْلَةٍ تَاْتِیْ بِلَا يَوْمٍ‏
’’پھر اجالی رات کا منظر نہ دیکھے گا یہ دن، صبح کا جلوہ نہ دیکھے گی کبھی شامِ فراق‘‘۔

   
جملہ حقوق © 2020 محفوظ ہیں۔
info@balagha.org