فہرست خطبات

1- معرفت باری تعالیٰ، زمین و آسمان اور آدمؑ کی خلقت، احکام و حج
2- عرب قبل از بعثت، اہل بیتؑ کی فضیلت اور ایک جماعت کی منقصت
3- (خطبہ شقشقیہ) خلفائے ثلاثہ کی حکومت کے بارے میں آپؑ کا نظریہ
4- آپکیؑ کی دوررس بصیرت، یقین کامل اور موسیؑ کا خوفزدہ ہونا
5- پیغمبرﷺ کے بعد جب ابو سفیان نے آپؑ کی بیعت کرنا چاہی
6- طلحہ و زبیر کے تعاقب سےآپؑ کو روکا گیا تو اس موقع پر فرمایا
7- منافقین کی حالت
8- جب زبیر نے یہ کہا میں نے دل سے بیعت نہ کی تھی تو آپؑ نے فرما
9- اصحاب جمل کا بوداپن
10- طلحہ و زبیر کے بارے میں
11- محمد بن حنفیہ کو آداب حرم کی تعلیم
12- عمل کا کردار اور مدار نیت پر ہے۔
13- بصرہ اور اہل بصرہ کی مذمت میں
14- اہل بصرہ کی مذمت میں
15- عثمان کی دی ہوئی جا گیریں جب پلٹا لیں تو فرمایا
16- جب اہل مدینہ نے آپؑ کے ہاتھ پر بیعت کی تو فرمایا
17- مسند قضا پر بیٹھنے والے نا اہلوں کی مذمت میں
18- علماء کے مختلف الاراء ہونے کی مذمت اور تصویب کی رد
19- اشعث بن قیس کی غداری و نفاق کا تذکرہ
20- موت کی ہولناکی اور اس سے عبرت اندوزی
21- دنیا میں سبکبار رہنے کی تعلیم
22- قتل عثمان کا الزام عائد کرنے والوں کے بارے میں
23- حسد سے باز رہنے اور عزیزو اقارب سے حسن سلوک کے بارے میں
24- جنگ پر آمادہ کرنے کے لیے فرمایا
25- بسر کے حملے کے بعد جنگ سے جی چرانے والوں سے فرمایا
26- عرب قبل از بعثت اور پیغمبرﷺ کے بعد دنیا کی بے رخی
27- جہاد پر برانگیختہ کرنےکے لیے فرمایا
28- دنیا کی بے ثباتی اور زاد آخرت کی اہمیت کا تذکرہ
29- جنگ کے موقعہ پر حیلے بہانے کرنے والوں کے متعلق فرمایا
30- قتل عثمان کے سلسلے میں آپؑ کی روش
31- جنگ جمل پہلے ابن عباس کو زبیر کے پاس جب بھیجنا
32- دنیا کی مذمت اور اہل دنیا کی قسمیں
33- جب جنگ جمل کے لیے روانہ ہوئے تو فرمایا
34- اہل شام کے مقابلے میں لوگوں کو آمادۂ جنگ کرنے کے لیے فرمایا
35- تحکیم کے بارے میں فرمایا
36- اہل نہروان کو ان کے انجام سے مطلع کرنے کے لیے فرمایا
37- اپنی استقامت دینی و سبقت ایمانی کے متعلق فرمایا
38- شبہہ کی وجہ تسمیہ اور دوستان خدا و دشمنان خدا کی مذمت
39- جنگ سے جی چرانے والوں کی مذمت میں
40- خوارج کے قول «لاحکم الا للہ» کے جواب میں فرمایا
41- غداری کی مذمت میں
42- نفسانی خواہشوں اور لمبی امیدوں کے متعلق فرمایا
43- جب ساتھیوں نے جنگ کی تیاری کے لیے کہا تو آپؑ نے فرمایا
44- جب مصقلہ ابن ہبیرہ معاویہ کے پاس بھاگ گیا تو آپؑ نے فرمایا
45- اللہ کی عظمت اور جلالت اور دنیا کی سبکی و بے وقاری کے متعلق
46- جب شام کی جانب روانہ ہوئے تو فرمایا
47- کوفہ پر وارد ہونے والی مصیبتوں کے متعلق فرمایا
48- جب شام کی طرف روانہ ہوئے تو فرمایا
49- اللہ کی عظمت و بزرگی کے بارے میں فرمایا
50- حق و باطل کی آمیزش کے نتائج
51- جب شامیوں نے آپؑ کے ساتھیوں پر پانی بند کر دیا تو فرمایا
52- دنیا کے زوال وفنا اور آخرت کے ثواب و عتاب کے متعلق فرمایا
53- گوسفند قربانی کے اوصاف
54- آپؑ کے ہاتھ پر بیعت کرنے والوں کا ہجوم
55- میدان صفین میں جہاد میں تاخیر پر اعتراض ہوا تو فرمایا
56- میدان جنگ میں آپؑ کی صبر و ثبات کی حالت
57- معاویہ کے بارے میں فرمایا
58- خوارج کےبارے میں آپؑ کی پیشینگوئی
59- خوارج کی ہزیمت کے متعلق آپؑ کی پیشینگوئی
60- جب اچانک قتل کر دیے جانے سے ڈرایا گیا تو آپؑ نے فرمایا
61- دنیا کی بے ثباتی کا تذکرہ
62- دنیا کے زوال و فنا کے سلسلہ میں فرمایا
63- صفات باری کا تذکرہ
64- جنگ صفین میں تعلیم حرب کےسلسلے میں فرمایا
65- سقیفہ بنی ساعدہ کی کاروائی سننے کے بعد فرمایا
66- محمد بن ابی بکرکی خبر شہادت سن کر فرمایا
67- اپنے اصحاب کی کجروی اور بے رخی کے بارے میں فرمایا
68- شب ضربت سحر کے وقت فرمایا
69- اہل عراق کی مذمت میں فرمایا
70- پیغمبرﷺ پر درود بھیجنے کا طریقہ
71- حسنینؑ کی طرف سے مروان کی سفارش کی گئی تو آپؑ نے فرمایا
72- جب لوگوں نے عثمان کی بیعت کا ارادہ کیا تو آپؑ نے فرمایا
73- قتل عثمان میں شرکت کا الزام آپؑ پر لگایا گیا تو فرمایا
74- پند و نصیحت کے سلسلے میں فرمایا
75- بنی امیہ کے متعلق فرمایا
76- دعائیہ کلمات
77- منجمین کی پیشینگوئی کی رد
78- عورتوں کے فطری نقائص
79- پند و نصیحت کے سلسلے میں فرمایا
80- اہل دنیا کے ساتھ دنیا کی روش
81- موت اور اس کے بعد کی حالت، انسانی خلقت کے درجات اور نصائح
82- عمرو بن عاص کے بارے میں
83- تنزیہ بازی اور پند و نصائح کے سلسلے میں فرمایا
84- آخرت کی تیاری اور احکام شریعت کی نگہداشت کے سلسلے میں فرمایا
85- دوستان خدا کی حالت اور علماء سوء کی مذمت میں فرمایا
86- امت کے مختلف گروہوں میں بٹ جانے کے متعلق فرمایا
87- بعثت سے قبل دنیا کی حالت پراگندگی اور موجودہ دور کے لوگ
88- صفات باری اور پند و موعظت کےسلسلے میں فرمایا
89- (خطبہ اشباح) آسمان و زمین کی خلقت
90- جب آپؑ کے ہاتھ پر بیعت ہوئی تو فرمایا
91- خوارج کی بیخ کنی اور اپنے علم کی ہمہ گیری و فتنہ بنی امیہ
92- خداوند عالم کی حمد و ثناء اور انبیاء کی توصیف میں فرمایا
93- بعثت کے وقت لوگوں کی حالت اور پیغمبرﷺ کی مساعی
94- نبی کریم ﷺ کی مدح و توصیف میں فرمایا
95- اپنے اصحاب کو تنبیہہ اور سرزنش کرتے ہوئے فرمایا
96- بنی امیہ اور ان کے مظالم کے متعلق فرمایا
97- ترکِ دینا اور نیرنگیٔ عالم کے سلسلہ میں فرمایا
98- اپنی سیرت و کردار اور اہل بیتؑ کی عظمت کے سلسلہ میں فرمایا
99- عبد الملک بن مروان کی تاراجیوں کے متعلق فرمایا
100- بعد میں پیدا ہونے والے فتنوں کے متعلق فرمایا
101- زہد و تقو یٰ اور اہل دنیا کی حالت کے متعلق فرمایا
102- بعثت سے قبل لوگوں کی حالت اور پیغمبر ﷺکی تبلیغ و ہدایت
103- پیغمبر اکرمﷺ کی مدح و توصیف اور فرائضِ امام کے سلسلہ میں
104- شریعت اسلام کی گرانقدری اور پیغمبرﷺ کی عظمت کے متعلق فرمایا
105- صفین میں جب حصہ لشکر کے قدم اکھڑنے کے جم گئے تو فرمایا
106- پیغمبرﷺ کی توصیف اور لوگوں کے گوناگون حالات کے بارے میں
107- خداوند عالم کی عظمت، ملائکہ کی رفعت ،نزع کی کیفیت اور آخرت
108- فرائضِ اسلام اور علم وعمل کے متعلق فرمایا
109- دنیا کی بے ثباتی کے متعلق فرمایا
110- ملک الموت کے قبضِ رُوح کرنے کے متعلق فرمایا
111- دنیا اور اہل دنیا کے متعلق فرمایا
112- زہد و تقویٰ اور زادِ عقبیٰ کی اہمیت کے متعلق
113- طلب باران کے سلسلہ میں فرمایا
114- آخرت کی حالت اور حجاج ابن یوسف ثقفی کے مظالم کے متعلق
115- خدا کی راہ میں جان و مال سے جہاد کرنے کے متعلق فرمایا
116- اپنے دوستوں کی حالت اور اپنی اولیت کے متعلق فرمایا
117- جب اپنے ساتھیوں کو دعوت جہاد دی اور وہ خاموش رہے تو فرمایا
118- اہل بیتؑ کی عظمت اور قوانین شریعت کی اہمیت کے متعلق فرمایا
119- تحکیم کے بارے میں آپؑ پر اعتراض کیا گیا تو فرمایا
120- جب خوارج تحکیم کے نہ ماننے پر اڑ گئے تو احتجاجاً فرمایا
121- جنگ کے موقع پر کمزور اور پست ہمتوں کی مدد کرنے کی سلسلہ میں
122- میدان صفین میں فنونِ جنگ کی تعلیم دیتے ہوئے فرمایا
123- تحکیم کو قبول کرنے کے وجوہ و اسباب
124- بیت المال کی برابر کی تقسیم پر اعتراض ہوا تو فرمایا
125- خوارج کے عقائد کے رد میں
126- بصرہ میں ہونے والے فتنوں، تباہ کاریوں اور حملوں کے متعلق
127- دنیا کی بے ثباتی اور اہل دنیا کی حالت
128- حضرت ابوذر کو مدینہ بدر کیا گیا تو فرمایا
129- خلافت کو قبول کرنے کی وجہ اور والی و حاکم کے اوصاف
130- موت سے ڈرانے اور پند و نصیحت کے سلسلہ میں فرمایا
131- خداوند ِعالم کی عظمت، قرآن کی اہمیت اور پیغمبرﷺ کی بعثت
132- جب مغیرہ بن اخنس نے عثمان کی حمایت میں بولنا چاہا تو فرمایا
133- غزوہ روم میں شرکت کے لیے مشورہ مانگا گیا تو فرمایا
134- اپنی نیت کے اخلاص اور مظلوم کی حمایت کے سلسلہ میں فرمایا
135- طلحہ و زبیر اور خونِ عثمان کے قصاص اور اپنی بیعت کے متعلق
136- ظہورِ حضرت قائم علیہ السلام کے وقت دُنیا کی حالت
137- شوریٰ کے موقع پر فرمایا
138- غیبت اور عیب جوئی سے ممانعت کے سلسلہ میں فرمایا
139- سُنی سُنائی باتوں کو سچا نہ سمجھنا چاہئے
140- بے محل داد و دہش سے ممانعت اور مال کا صحیح مصرف
141- طلبِ باران کے سلسلہ میں فرمایا
142- اہل بیتؑ راسخون فی العلم ہیں اور وہی امامت وخلافت کے اہل ہیں
143- دُنیا کی اہل دُنیا کے ساتھ روش اور بدعت و سنت کا بیان
144- جب حضرت عمر نے غزوہ فارس کیلئے مشورہ لیا تو فرمایا
145- بعثتِ پیغمبر کی غرض و غایت اور اُس زمانے کی حالت
146- طلحہ وزبیر کے متعلق فرمایا
147- موت سے کچھ قبل بطور وصیّت فرمایا
148- حضرت حجتؑ کی غیبت اور پیغمبرﷺ کے بعد لوگوں کی حالت
149- فتنوں میں لوگوں کی حالت اور ظلم اور اکل حرام سے اجتناب
150- خداوند عالم کی عظمت و جلالت کا تذکرہ اور معرفت امام کے متعلق
151- غفلت شعاروں، چوپاؤں، درندوں اور عورتوں کے عادات و خصائل
152- اہل بیتؑ کی توصیف، علم وعمل کا تلازم اور اعمال کا ثمرہ
153- چمگادڑ کی عجیب و غریب خلقت کے بارے میں
154- حضرت عائشہ کے عناد کی کیفیت اور فتنوں کی حالت
155- دُنیا کی بے ثباتی، پندو موعظت اور اعضاء و جوارح کی شہادت
156- بعثت پیغمبرﷺ کا تذکرہ، بنی اُمیّہ کے مظالم اور ان کا انجام
157- لوگوں کے ساتھ آپ کا حُسنِ سلوک اور ان کی لغزشوں سے چشم پوشی
158- خداوندِعالم کی توصیف ،خوف ورجاء، انبیاءؑ کی زندگی
159- دین اسلام کی عظمت اور دُنیا سے درس عبرت حاصل کرنے کی تعلیم
160- حضرتؑ کو خلافت سے الگ رکھنے کے وجوہ
161- اللہ کی توصیف، خلقت انسان اور ضروریات زندگی کی طرف رہنمائی
162- امیرالمومنینؑ کا عثمان سے مکالمہ اور ان کی دامادی پر ایک نظر
163- مور کی عجیب و غریب خلقت اور جنّت کے دلفریب مناظر
164- شفقت و مہربانی اور ظاہر و باطن کی تعلیم اور بنی امیہ کا زوال
165- حقوق و فرائض کی نگہداشت اور تمام معاملات میں اللہ سے خوف
166- جب لوگوں نے قاتلین عثمان سے قصاص لینے کی فرمائش کی تو فرمایا
167- جب اصحاب جمل بصرہ کی جانب روانہ ہوئے تو فرمایا
168- اہل بصرہ سے تحقیق حال کے لئے آنے والے شخص سے فرمایا
169- صفین میں جب دشمن سے دوبدو ہوکر لڑنے کا ارادہ کیا تو فرمایا
170- جب آپؑ پر حرص کا الزام رکھا گیا تو اس کی رد میں فرمایا
171- خلافت کا مستحق کون ہے اور ظاہری مسلمانوں سے جنگ کرنا
172- طلحہ بن عبیداللہ کے بارے میں فرمایا
173- غفلت کرنے والوں کو تنبیہ اور آپؑ کے علم کی ہمہ گیری
174- پند دو موعظت، قرآن کی عظمت اور ظلم کی اقسام
175- حکمین کے بارے میں فرمایا
176- خداوند عالم کی توصیف، دُنیا کی بے ثباتی اور اسباب زوال نعمت
177- جب پوچھا گیا کہ کیا آپؑ نے خدا کو دیکھا ہے تو فرمایا
178- اپنے اصحاب کی مذمت میں فرمایا
179- خوارج سے مل جانے کا تہیّہ کرنے والی جماعت سے فرمایا
180- خداوند عالم کی تنزیہ و تقدیس اور قدرت کی کا ر فرمائی
181- خداوند عالم کی توصیف، قرآن کی عظمت اور عذاب آخرت سے تخویف
182- جب «لا حکم الا اللہ» کا نعرہ لگایا گیا تو فرمایا
183- خداوند عالم کی عظمت و توصیف اور ٹڈی کی عجیب و غریب خلقت
184- مسائل الٰہیات کے بُنیادی اُصول کا تذکرہ
185- فتنوں کے ابھرنے اور رزقِ حلال کے ناپید ہو جانے کے بارے میں
186- خداوند عالم کے احسانات، مرنے والوں کی حالت اور بے ثباتی دنیا
187- پختہ اور متزلزل ایمان اور دعویٰ سلونی «قبل ان تفقدونی»
188- تقویٰ کی اہمیت، ہولناکی قبر، اللہ، رسول اور اہل بیت کی معرفت
189- خداوند عالم کی توصیف، تقویٰ کی نصیحت، دنیا اور اہل دنیا
190- (خطبہ قاصعہ) جس میں ابلیس کی مذمت ہے۔
191- متقین کے اوصاف اور نصیحت پذیر طبیعتوں پر موعظت کا اثر
192- پیغمبر ﷺکی بعثت، قبائلِ عرب کی عداوت اور منافقین کی حالت
193- خداوند عالم کی توصیف، تقویٰ کی نصیحت اور قیامت کی کیفیت
194- بعثتِ پیغمبرؐ کے وقت دنیا کی حالت، دنیا کی بے ثباتی
195- حضورﷺ کے ساتھ آپؑ کی خصوصیات اور حضور ﷺ کی تجہیز و تکفین
196- خداوند عالم کے علم کی ہمہ گیری، تقویٰ کے فوائد
197- نماز، زکوٰة اور امانت کے بارے میں فرمایا
198- معاویہ کی غداری و فریب کاری اور غداروں کا انجام
199- راہ ہدایت پر چلنے والوں کی کمی اور قوم ثمود کا تذکرہ
200- جناب سیدہ سلام اللہ علیہا کے دفن کے موقع پر فرمایا
201- دنیا کی بے ثباتی اور زاد آخرت مہیا کرنے کے لیے فرمایا
202- اپنے اصحاب کو عقبیٰ کے خطرات سے متنبہ کرتے ہوئے فرمایا
203- طلحہ و زبیر نے مشورہ نہ کرنے کا شکوہ کیا تو فرمایا
204- صفین میں شامیوں پر شب و ستم کیا گیا تو فرمایا
205- جب امام حسنؑ صفین کے میدان میں تیزی سے بڑھے تو فرمایا
206- صفین میں لشکر تحکیم کے سلسلہ میں سرکشی پر اُتر آیا تو فرمایا
207- علاء ابن زیاد حارثی کی عیادت کو موقع پر فرمایا
208- اختلاف احادیث کے وجوہ و اسباب اور رواة حدیث کے اقسام
209- خداوند عالم کی عظمت اور زمین و آسمان اور دریاؤں کی خلقت
210- حق کی حمایت سے ہاتھ اٹھا لینے والوں کے بارے میں فرمایا
211- خداوند عالم کی عظمت اور پیغمبرؐ کی توصیف و مدحت
212- پیغمبرﷺ کی خاندانی شرافت اور نیکو کاروں کے اوصاف
213- آپؑ کے دُعائیہ کلمات
214- حکمران اور رعیّت کے باہمی حقوق کے بارے میں فرمایا
215- قریش کے مظالم کے متعلق فر مایا اور بصرہ پر چڑھائی کے متعلق
216- طلحہ اور عبد الرحمن بن عتاب کو مقتول دیکھا تو فرمایا
217- متقی و پرہیزگار کے اوصاف
218- ”الہاکم التکاثر حتی زرتم المقابر“ کی تلاوت کے وقت فرمایا
219- ” رجال لا تلہیھم تجارة و لا بیع عن ذکر اللہ “ کی تلاوت کے وق
220- ” یا اٴیھا الانسان ما غرّک بربک الکریم “ کی تلاوت کے وقت فرم
221- ظلم و غصب سے کنارہ کشی، عقیل کی حالت فقر و احتیاج، اور اشعث
222- آپؑ کے دُعائیہ کلمات
223- دنیا کی بے ثباتی اور اہل قبور کی حالت بے چارگی
224- آپؑ کے دُعائیہ کلمات
225- انتشار و فتنہ سے قبل دنیا سے اٹھ جانے والوں کے متعلق فرمایا
226- اپنی بیعت کے متعلق فرمایا
227- تقویٰ کی نصیحت موت سے خائف رہنے اور زہد اختیار کرنے کے متعلق
228- جب بصرہ کی طرف روانہ ہوئے تو فرمایا
229- عبد اللہ ابن زمعہ نے آپؑ سے مال طلب کیا تو فرمایا
230- جب جعدہ ابن ہبیرہ خطبہ نہ دے سکے تو فرمایا
231- لوگوں کے اختلاف صورت و سیرت کی وجوہ و اسباب
232- پیغمبر ﷺ کو غسل و کفن دیتے وقت فرمایا
233- ہجرتِ پیغمبر ﷺ کے بعد اُن کے عقب میں روانہ ہونے کے متعلق
234- زادِ آخرت مہیا کرنے اور موت سے پہلے عمل بجا لانے کے متعلق
235- حکمین کے بارے میں فرمایا اور اہل شام کی مذمت میں فرمایا
236- آلِ محمدؑ کی توصیف اور روایت میں عقل و درایت سے کام لینا
237- جب عثمان نے ینبع چلے جانے کے لیے پیغام بھجوایا تو فرمایا
238- اصحاب کو آمادہ جنگ کرنے اور آرام طلبی سے بچنے کے لئے فرمایا

Quick Contact

’’یقین‘‘ کی بھی چار شاخیں ہیں: روشن نگاہی، حقیقت رسی، عبرت اندوزی اور اَگلوں کا طور طریقہ۔ حکمت 30
(٢٢٥) وَ مِنْ كَلَامٍ لَّهٗ عَلَیْهِ السَّلَامُ
خطبہ (۲۲۵)
لِلّٰهِ بِلَآءُ فُلَانٍ، فَقَدْ قَوَّمَ الْاَوَدَ، وَ دَاوَی الْعَمَدَ، خَلَّفَ الْفِتْنَةَ وَ اَقَامَ السُّنَّةَ! ذَهَبَ نَقِیَّ الثَّوْبِ، قَلِیْلَ الْعَیْبِ. اَصَابَ خَیْرَهَا، وَ سَبَقَ شَرَّهَا، اَدّٰۤی اِلَی اللهِ طَاعَتَهٗ، وَ اتَّقَاهُ بِحَقِّهٖ، رَحَلَ وَ تَرَكَهُمْ فِیْ طُرُقٍ مَّتَشَعِّبَةٍ، لَا یَهْتَدِیْ فِیْهَا الضَّالُّ، وَ لَا یَسْتَیْقِنُ الْمُهْتَدِیْ.
فلاں شخص [۱] کی کارکردگیوں کی جزا اللہ دے! انہوں نے ٹیڑھے پن کو سیدھا کیا، مرض کا چارہ کیا، فتنہ و فساد کو پیچھے چھوڑ گئے، سنت کو قائم کیا، صاف ستھرے دامن اور کم عیبوں کے ساتھ دنیا سے رخصت ہوئے، (دنیا کی) بھلائیوں کو پا لیا اور اُس کی شر انگیزیوں سے آگے بڑھ گئے۔ اللہ کی اطاعت بھی کی اور اس کا پورا پورا خوف بھی کھایا۔ خود چلے گئے اور لوگوں کو ایسے متفرق راستوں میں چھوڑ گئے جن میں گم کردہ راہ راستہ نہیں پا سکتا اور ہدایت یافتہ یقین تک نہیں پہنچ سکتا۔

۱؂ابن ابی الحدید نے تحریر کیا ہے کہ لفظ ’’فلاں‘‘ کنایہ ہے حضرتِ عمر سے اور یہ کلمات انہی کی مدح و توصیف میں کہے گئے ہیں، جیسا کہ سیّد رضیؒ کے تحریر کردہ نسخہ نہج البلاغہ میں لفظ ’’فلاں‘‘ کے نیچے انہی کے ہاتھ کا لکھا ہوا لفظ عمر موجود تھا۔
یہ ہے ابن ابی الحدید کا دعویٰ، مگر دیکھنا یہ ہے کہ اگر سیّد رضیؒ نے بطور تشریح حضرت عمر کا نام لکھا ہوتا تو جس طرح ان کی دوسری تشریحات موجود ہیں اس تشریح کو بھی موجود ہونا چاہئے تھا اور ان نسخوں میں بھی اس کا وجود ہونا چاہیے تھا کہ جو ان کے نسخہ سے نقل ہوتے رہے ہیں۔ چنانچہ اب بھی موصل میں مستعصم باللہ کے دور کے شُہرہ آفاق خطاط یاقوت المستعصمی کے ہاتھ کا لکھا ہوا قدیم ترین نہج البلاغہ کا نسخہ موجود ہے، مگر سیّد رضی کی اس تشریح کی نشاندہی کسی ایک نے بھی نہیں کی۔ اور اگر ابن ابی الحدید کی اس روایت کو صحیح بھی مان لیا جائے تو اسے زائد سے زائد جناب رضیؒ کی ذاتی رائے کہا جا سکتا ہے جسے کسی قوی دلیل کی موجودگی میں بطور مؤید تو پیش کیا جا سکتا ہے مگر مستقلاً اس شخصی رائے کو کوئی اہمیت نہیں دی جا سکتی۔
حیرت ہے کہ ابن ابی الحدید ساتویں ہجری میں سیّد رضیؒ کے ڈھائی سو برس بعد یہ افادہ فرماتے ہیں کہ اس سے حضرت عمر مراد ہیں اور یہ کہ خود سیّد رضیؒ نے اس کی تصریح کر دی تھی، چنانچہ ان کے تتبع میں بعض دوسرے شارحین نے بھی یہی لکھنا شروع کر دیا، لیکن سیّد رضیؒ کے معاصرین میں سے جن لوگوں نے بھی نہج البلاغہ کے متعلق کچھ لکھا ہے ان کی تحریرات میں اس کا کچھ پتہ نہیں چلتا۔ حالانکہ بحیثیت معاصر ہونے کے سیّد رضیؒ کی تحریر پر انہیں زیادہ مطلع ہونا چاہئے تھا۔ چنانچہ علامہ علی ابن الناصر جو جناب سیّد رضیؒ کے ہم عصر تھے اور انہی کے دور میں نہج البلاغہ کی شرح ’’اعلام نہج البلاغۃ‘‘ کے نام سے لکھتے ہیں وہ اس خطبہ کے ذیل میں تحریر فرماتے ہیں:
مَدَحَ بَعْضَ اَصْحَابِهٖ بِحُسْنِ السِّيْرَةِ، وَ اَنَّهٗ مَاتَ قَبْلَ الْفِتْنَةِ الَّتِیْ وَقَعَتْ بَعْدَ رَسُوْلِ اللّٰهِ - ﷺ.
حضرت نے اپنے اصحاب میں سے ایک ایسے شخص کو حسنِ سیرت کے ساتھ سراہا ہے کہ جو پیغمبر ﷺ کے بعد پیدا ہونے والے فتنہ سے پہلے ہی انتقال کر چکا تھا۔[۱]
اس کی تائید علامہ قطب الدین راوندی متوفی ۵۷۳ ہجری کی شرح نہج البلاغہ سے بھی ہوتی ہے۔ چنانچہ ابن میثم نے ان کا یہ قول نقل کیا ہے:
اِنَّمَاۤ اَرَادَ بَعْضَ اَصْحَابِهٖ فِیْ زَمَنِ رَسُوْلِ اللّٰهِ ﷺ مِمَّنْ مَّاتَ قَبْلَ وُقُوْعِ الْفِتَنِ وَ انْتِشَارِهَا. ۔
حضرتؑ نے اس سے زمانہ پیغمبرؐ کے اپنے ایک ایسے ساتھی کو مراد لیا جو فتنہ کے برپا ہونے اور پھیلنے سے پہلے ہی رحلت کر چکا تھا۔[۲]
اگر یہ کلمات حضرتِ عمر کے متعلق ہوتے اور اس کے متعلق کوئی قابلِ اعتماد سند ہوتی تو ابنِ ابی الحدید اس سند و روایت کو درج کرتے اور اس کا ذکر تاریخ میں آتا اور زبانوں پر اس کا چرچا ہوتا، مگر یہاں تو اثباتِ مُدعا کیلئے خود ساختہ قرائن کے علاوہ کچھ نظر ہی نہیں آتا۔ چنانچہ وہ «خَیْرَهَا» و «شَرَّهَا» کی ضمیر کا مرجع ’’خلافت‘‘ کو قرار دیتے ہوئے لکھتے ہیں کہ یہ کلمات ایسے ہی شخص پر صادق آ سکتے ہیں جو تسلط و اقتدار رکھتا ہو، کیونکہ اقتدار کے بغیر ناممکن ہے کہ سنت کی ترویج اور بدعت کی روک تھام کی جا سکے۔
یہ ہے اس دلیل کا خلاصہ جسے اس مقام پر پیش کیا ہے، حالانکہ اس کی کوئی دلیل نہیں کہ ضمیر کا مرجع ’’خلافت‘‘ ہے، بلکہ وہ ضمیر ’’دنیا‘‘ کی طرف راجع ہو سکتی ہے جو سیاقِ کلام سے مستفاد ہے اور مفادِ عامہ کی حفاظت اور ترویج سنت کیلئے اقتدار کی شرط لگا دینا امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا دروازہ بند کر دینا ہے، حالانکہ خداوند عالم نے شرطِ اقتدار کے بغیر اُمت کے ایک گروہ پر یہ فریضہ عائد کیا ہے:
﴿وَلْتَكُنْ مِّنْكُمْ اُمَّةٌ يَّدْعُوْنَ اِلَى الْخَيْرِ وَيَاْمُرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَيَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ‌ؕ﴾
تم میں سے ایک ایسا گروہ ہونا چاہئیے جو نیکی کی طرف بلائے اور اچھے کاموں کا حکم دے اور بُرے کاموں سے روکے۔[۳]
اسی طرح پیغمبر ﷺ سے مروی ہے کہ:
لَا يَزَالُ النَّاسُ بِخَيْرٍ مَاۤ اَمَرُوْا بِالْمَعْرُوْفِ وَ نَهَوْا عَنِ الْمُنْكَرِ وَ تَعَاوَنُوْا عَلَى الْبِرِّ وَ التَّقْوٰى‏.
لوگ جب تک امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کرتے رہیں گے اور نیکی اور تقویٰ پر ایک دوسرے کا ہاتھ بٹاتے رہیں گے وہ بھلائی پر باقی رہیں گے۔[۴]
یونہی امیر المومنین علیہ السلام اپنی ایک وصیت میں عمومیت کے ساتھ فرماتے ہیں کہ:
اَقِيْمُوْا هٰذَيْنِ الْعَمُوْدَيْنِ وَ اَوْقِدُوْا هٰذَيْنِ الْمِصْبَاحَيْنِ.
توحید اور سنت کے ستونوں کو قائم کرو اور ان دونوں چراغوں کو روشن رکھو۔[۵]
ان ارشادات میں کہیں بھی اس طرف اشارہ نہیں کہ اس فریضه کی انجام دہی حکومت و اقتدار کے بغیر نہیں ہو سکتی اور واقعات بھی یہ بتاتے ہیں کہ امرا و سلاطین لشکر و سپاہ اور قوت و طاقت کے باوجود برائیوں کو اس حد تک نہ مٹا سکے اور نیکیوں کو اس قدر رواج نہ دے سکے جس قدر بعض گمنام اور شکستہ حال درویش دل و دماغ پر اپنی روحانیت کا نقش بٹھا کر اخلاقی رفعتوں کو ابھار گئے۔ حالانکہ ان کی پشت پر نہ فوج و سپاہ ہوتی تھی اور نہ بے سر و سامانی کے علاوہ کوئی سر و سامان ہوتا تھا۔ بے شک تسلط و اقتدار سروں کو جھکا سکتا ہے، لیکن ضروری نہیں کہ دلوں میں نیکی کی راہ بھی پیدا کر سکے۔ تاریخ بتاتی ہے کہ بیشتر اسلامی تاجداروں نے اسلامی خد و خال کو مٹا کر رکھ دیا اور اسلام اپنے بقا و فروغ میں صرف اُن بے نواؤں کا مرہونِ منت رہا جن کی جھولی میں فقر و نامرادی کے علاوہ کچھ نہ ہوتا تھا۔
اگر اسی پر اصرار ہو کہ اس سے صرف ایک حکمران ہی مراد لیا جا سکتا ہے تو کیوں نہ اس سے حضرتؑ کا کوئی ایسا ساتھی مراد لیا جائے جو کسی صوبہ پر حکمران رہ چکا ہو، جیسے حضرت سلمان فارسی جن کی تجہیز و تکفین کیلئے حضرتؑ مدائن تشریف لے گئے اور بعید نہیں کہ ان کے دفن کرنے کے بعد ان کی زندگی اور آئین
(ابن ابی الحدید نے) آخر میں اثباتِ مدّعا کیلئے طبری کی اس روایت کو پیش کیا ہے:
عَنِ الْمُغِيْرَةِ بْنِ شُعْبَةَ، قَالَ: لَمَّا مَاتَ عُمَرُ رَضِیَ اللّٰهُ عَنْهُ بَكَتْهُ ابْنَةُ اَبِیْ حَثْمَۃَ، فَقَالَتْ: وَا عُمَرَاهُ! اَقَامَ الْاَوَدَ، وَ اَبْرَاَ الْعَمَدَ، اَمَاتَ الْفِتَنَ، وَ اَحْيَا السُّنَنَ، خَرَجَ نَقِیَّ الثَّوْبِ، بَرِيْٓـئًا مِّنَ الْعَيْبِ. قَالَ: وَ قَالَ الْمُغِيْرَةُ بْنُ شُعْبَةَ: لَمَّا دُفِنَ عُمَرُ اَتَيْتُ عَلِيًّا ؑ وَ اَنَا اُحِبُّ اَنْ اَسْمَعَ مِنْهُ فِیْ عُمَرَ شَيْئًا، فَخَرَجَ يَنْفُضُ رَاْسَهٗ وَلِحْيَتَهٗ وَقَدِ اغْتَسَلَ، وَ هُوَ مُلْتَحِفٌۢ بِثَوْبٍ، لَا يَشُكُّ اَنَّ الْاَمْرَ يَصِيْرُ اِلَيْهِ، فَقَالَ: يَرْحَمُ اللّٰهُ ابْنَ الْخَطَّابِ! لَقَدْ صَدَقَتِ ابْنَةُ اَبِیْ حَثْمَةَ، لَقَدْ ذَهَبَ بِخَيْرِهَا، وَ نَجَا مِنْ شَرِّهَا، اَمَا وَاللّٰهِ! مَا قَالَتْ، وَ لٰكِنْ قُوِّلَتْ.
مغیرہ ابن شعبہ سے روایت ہے کہ جب حضرتِ عمرؓ انتقال کر گئے تو بنت ابی حثمہ نے روتے ہوئے کہا کہ: ہائے عمر! تُو وہ تھا جس نے ٹیڑھے پن کو سیدھا کیا، بیماریوں کو دور کیا، فتنوں کو مٹایا اور سنتوں کو زندہ کیا، پاکیزہ دامن اور عیبوں سے بچ کر چل بسا۔ (مؤرخ طبری کہتے ہیں کہ) مغیرہ نے بیان کیا کہ: جب حضرت عمر دفن ہو گئے تو میں حضرت علی علیہ السلام کے پاس آیا اور میں چاہتا تھا کہ آپؑ سے حضرت عمر کے بارے میں کچھ سنوں۔ چنانچہ میرے جانے پر حضرتؑ باہر تشریف لائے اس حالت میں کہ آپؑ غسل فرما کر ایک کپڑے میں لپٹے ہوئے تھے اور سر اور داڑھی کے بالوں کو جھٹک رہے تھے اور آپؑ کو اس میں کوئی شبہ نہ تھا کہ خلافت آپؑ ہی کی طرف پلٹے گی۔ اس موقع پر آپؑ نے فرمایا: خدا ابن خطاب پر رحم کرے! بنت ابی حثمہ نے سچ کہا ہے کہ وہ خلافت کے فائدے اٹھا گئے اور بعد میں پیدا ہونے والے فتنوں سے بچ نکلے۔ خدا کی قسم! بنت ابی حثمہ نے کہا نہیں بلکہ اس سے کہلوایا گیا ہے۔ (طبری، ج۳، ص۲۸۵)
اس واقعہ کا راوی مغیرہ ابن شعبہ ہے جس کا اُمِّ جمیل کے ساتھ فعلِ بد کا مرتکب ہونا اور شہادت کے باوجود حضرت عمر کا اُسے حد سے بچا لے جانا اور معاویہ کے حکم سے اس کا کوفہ میں علانیہ امیر المومنین ؑ پر سبّ و شتم کرنا تاریخی مسلمات میں سے ہے۔ اس بنا پر اس کی روایت کا جو وزن ہو سکتا ہے وہ ظاہر ہے اور پھر درایتاً بھی اس روایت کو قبول نہیں کیا جا سکتا، کیونکہ مغیرہ کا یہ کہنا کہ امیر المومنین علیہ السلام کو اپنی خلافت میں کوئی شبہ نہ تھا حقیقت کے خلاف ہے۔ آخر وہ کون سے قرائن تھے جن سے اُس نے یہ اندازہ لگایا؟ جبکہ تاریخی حقائق اس کے سراسر خلاف ہیں اور اگر کسی کی خلافت یقینی تھی تو وہ حضرتِ عثمان تھے۔ چنانچہ عبد الرحمٰن ابن عوف نے شوریٰ کے موقع پر امیر المومنین علیہ السلام سے کہا کہ:
يَا عَلِیُّ! لَا تَجْعَلْ عَلٰى نَفْسِكَ سَبِيْلًا، فَاِنِّیْ قَدْ نَظَرْتُ وَ شَاوَرْتُ النَّاسَ، فَاِذَا هُمْ لَا يَعْدِلُونَ بِعُثْمَانَ.
اے علیؑ! تم اپنے لئے ضرر کی صورت پیدا نہ کرو۔ میں نے دیکھ بھال لیا ہے اور لوگوں سے مشورہ بھی لیا ہے، وہ سب عثمان کو چاہتے ہیں۔ (طبری، ج۳، ص۲۹۷)
چنانچہ حضرتؑ کو خلافت کے نہ ملنے کا پورا یقین تھا، جیسا کہ خطبہ شقشقیہ کے ذیل میں تاریخ طبری سے نقل کیا جا چکا ہے کہ امیر المومنین علیہ السلام نے ارکانِ شوریٰ کے نام دیکھتے ہی عباس ابن عبد المطلب سے فرما دیا تھا کہ: خلافت عثمان کے علاوہ کسی اور کو نہیں مل سکتی، کیونکہ تمام اختیارات عبد الرحمٰن کو سونپ دیے گئے ہیں اور وہ عثمان کے بہنوئی ہوتے ہیں اور سعد ابن ابی وقاص، عبد الرحمٰن کے عزیز و ہم قبیلہ ہیں اور یہ دونوں مل کر خلافت انہی کو دیں گے۔
اس موقع پر یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ وہ کون سا جذبہ تھا جس نے مغیرہ کے دل میں یہ تڑپ پیدا کی کہ وہ حضرت عمر کے متعلق امیر المومنین علیہ السلام سے کچھ کہلوائے؟ اگر وہ یہ جانتا تھا کہ حضرتؑ ان کے متعلق اچھے خیالات رکھتے ہیں تو ان کے تاثرات کا بھی اندازہ ہو سکتا تھا اور اگر یہ سمجھتا تھا کہ امیر المومنین علیہ السلام اُن کے متعلق حسنِ ظن نہیں رکھتے تو پوچھنے کا مقصد اس کے علاوہ کچھ نہیں ہو سکتا کہ آپؑ جو کچھ فرمائیں اسے اُچھال کر فضا کو ان کے خلاف اور ارکانِ شوریٰ کو ان سے بدظن کیا جائے اور ارکانِ شوریٰ کے نظریات تو اسی سے ظاہر ہیں کہ وہ انتخابِ خلافت میں سیرت شیخین کی پابندی لگا کر شیخین سے اپنی عقیدت کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ ان حالات میں جب مغیرہ نے یہ سازش کرنا چاہی تو آپ ؑنے حکایت واقعہ کے طور پر یہ فرمایا: «لَقَدْ ذَهَبَ بِخَيْرِهَا، وَ نَجَا مِنْ شَرِّهَا» ۔ اس جملہ کو مدح و توصیف سے کوئی لگاؤ نہیں۔ یقیناً وہ اپنے دور میں ہر طرح کے فائدے اٹھاتے رہے اور بعد میں پیدا ہونے والے فتنوں سے ان کا دَور خالی رہا۔
ابنِ ابی الحدید اس روایت کو درج کرنے کے بعد لکھتے ہیں کہ:
وَ هٰذَا كَمَا تَرٰى يَقْوِی الظَّنُّ اَنَّ الْمُرَادَ وَ الْمَعْنٰی بِالْكَلَامِ اِنَّمَا هُوَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ‏.
اس روایت سے یہ ظن قوی ہو جاتا ہے کہ اس کلام سے مراد و مقصود عمر ابن خطاب ہیں۔[۶]
اگر اس کلام سے وہ کلمات مراد ہیں جو بنت ابی حثمہ نے کہے ہیں کہ جن کے متعلق امیر المومنین علیہ السلام نے فرمایا کہ: یہ اس کے دل کی آواز نہیں بلکہ اس سے کہلوائے گئے ہیں تو بیشک اس سے حضرت عمر مراد ہیں۔ لیکن یہ کہ یہ الفاظ امیر المومنین علیہ السلام نے ان کی مدح میں کہے ہیں تو یہ کہیں ثابت نہیں ہوتا، بلکہ اس روایت سے تو صراحتاً یہ ثابت ہوتا ہے کہ یہ الفاظ بنت ابی حثمہ نے کہے تھے۔ خدا جانے کس بنا پر بنت ابی حثمہ کے الفاظ کو درج کر کے یہ دعویٰ کرنے کی جرأت کی جاتی ہے کہ یہ الفاظ امیر المومنین علیہ السلام نے حضرت عمر کے بارے میں کہے ہیں۔ بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ امیر المومنین علیہ السلام نے کسی موقع پر یہ الفاظ کسی کے متعلق کہے ہوں گے اور بنتِ ابی حثمہ نے حضرت عمر کے انتقال پر ان سے ملتے جلتے ہوئے الفاظ کہے تو حضرت علی علیہ السلام کے کلمات کو بھی حضرت عمر کی مدح میں سمجھ لیا گیا، ورنہ عقل اعتزال کے علاوہ کوئی عقل یہ تجویز نہیں کر سکتی کہ بنت ابی حثمہ کے کہے ہوئے الفاظ کو اس کی دلیل قرار دیا جائے کہ امیر المومنین علیہ السلام نے حضرت عمر کی مدح میں یہ الفاظ فرمائے ہیں۔ کیا خطبہ شقشقیہ کی تصریحات کے بعد یہ توقع ہو سکتی ہے کہ امیر المومنین علیہ السلام نے ایسے الفاظ کہے ہوں گے۔ اور پھر غور طلب بات یہ ہے کہ اگر یہ الفاظ حضرت عمر کی رحلت کے موقع پر فرمائے ہوتے تو جب آپؑ شوریٰ کے موقع پر علانیہ سیرتِ شیخین کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیتے ہیں تو آپؑ سے یہ نہیں کہا جاتا کہ کل تو آپؑ یہ فرما رہے تھے کہ انہوں نے سنت کو قائم کیا اور بدعت کو مٹایا تو جب ان کی سیرت سُنت سے ہمنوا ہے تو پھر سنت کو تسلیم کرنے کے بعد سیرت سے انکار کرنے کے کیا معنی ہوتے ہیں؟!۔

[۱]۔ اعلام نہج البلاغہ، ص ۱۹۲۔
[۲]۔ شرح نہج البلاغہ، ابن میثم، ج ۴، ص ۹۷۔
[۳]۔ سورۂ آل عمران، آیت ۱۰۴۔
[۴]۔ تہذیب الاحکام، ج ۶، ص ۱۸۱۔
[۵]۔ نہج البلاغہ، خطبہ ۱۴۷۔
[۶]۔ شرح ابن ابی الحدید، ج ۱۲، ص ۵۔