فہرست خطبات

1- معرفت باری تعالیٰ، زمین و آسمان اور آدمؑ کی خلقت، احکام و حج
2- عرب قبل از بعثت، اہل بیتؑ کی فضیلت اور ایک جماعت کی منقصت
3- (خطبہ شقشقیہ) خلفائے ثلاثہ کی حکومت کے بارے میں آپؑ کا نظریہ
4- آپکیؑ کی دوررس بصیرت، یقین کامل اور موسیؑ کا خوفزدہ ہونا
5- پیغمبرﷺ کے بعد جب ابو سفیان نے آپؑ کی بیعت کرنا چاہی
6- طلحہ و زبیر کے تعاقب سےآپؑ کو روکا گیا تو اس موقع پر فرمایا
7- منافقین کی حالت
8- جب زبیر نے یہ کہا میں نے دل سے بیعت نہ کی تھی تو آپؑ نے فرما
9- اصحاب جمل کا بوداپن
10- طلحہ و زبیر کے بارے میں
11- محمد بن حنفیہ کو آداب حرم کی تعلیم
12- عمل کا کردار اور مدار نیت پر ہے۔
13- بصرہ اور اہل بصرہ کی مذمت میں
14- اہل بصرہ کی مذمت میں
15- عثمان کی دی ہوئی جا گیریں جب پلٹا لیں تو فرمایا
16- جب اہل مدینہ نے آپؑ کے ہاتھ پر بیعت کی تو فرمایا
17- مسند قضا پر بیٹھنے والے نا اہلوں کی مذمت میں
18- علماء کے مختلف الاراء ہونے کی مذمت اور تصویب کی رد
19- اشعث بن قیس کی غداری و نفاق کا تذکرہ
20- موت کی ہولناکی اور اس سے عبرت اندوزی
21- دنیا میں سبکبار رہنے کی تعلیم
22- قتل عثمان کا الزام عائد کرنے والوں کے بارے میں
23- حسد سے باز رہنے اور عزیزو اقارب سے حسن سلوک کے بارے میں
24- جنگ پر آمادہ کرنے کے لیے فرمایا
25- بسر کے حملے کے بعد جنگ سے جی چرانے والوں سے فرمایا
26- عرب قبل از بعثت اور پیغمبرﷺ کے بعد دنیا کی بے رخی
27- جہاد پر برانگیختہ کرنےکے لیے فرمایا
28- دنیا کی بے ثباتی اور زاد آخرت کی اہمیت کا تذکرہ
29- جنگ کے موقعہ پر حیلے بہانے کرنے والوں کے متعلق فرمایا
30- قتل عثمان کے سلسلے میں آپؑ کی روش
31- جنگ جمل پہلے ابن عباس کو زبیر کے پاس جب بھیجنا
32- دنیا کی مذمت اور اہل دنیا کی قسمیں
33- جب جنگ جمل کے لیے روانہ ہوئے تو فرمایا
34- اہل شام کے مقابلے میں لوگوں کو آمادۂ جنگ کرنے کے لیے فرمایا
35- تحکیم کے بارے میں فرمایا
36- اہل نہروان کو ان کے انجام سے مطلع کرنے کے لیے فرمایا
37- اپنی استقامت دینی و سبقت ایمانی کے متعلق فرمایا
38- شبہہ کی وجہ تسمیہ اور دوستان خدا و دشمنان خدا کی مذمت
39- جنگ سے جی چرانے والوں کی مذمت میں
40- خوارج کے قول «لاحکم الا للہ» کے جواب میں فرمایا
41- غداری کی مذمت میں
42- نفسانی خواہشوں اور لمبی امیدوں کے متعلق فرمایا
43- جب ساتھیوں نے جنگ کی تیاری کے لیے کہا تو آپؑ نے فرمایا
44- جب مصقلہ ابن ہبیرہ معاویہ کے پاس بھاگ گیا تو آپؑ نے فرمایا
45- اللہ کی عظمت اور جلالت اور دنیا کی سبکی و بے وقاری کے متعلق
46- جب شام کی جانب روانہ ہوئے تو فرمایا
47- کوفہ پر وارد ہونے والی مصیبتوں کے متعلق فرمایا
48- جب شام کی طرف روانہ ہوئے تو فرمایا
49- اللہ کی عظمت و بزرگی کے بارے میں فرمایا
50- حق و باطل کی آمیزش کے نتائج
51- جب شامیوں نے آپؑ کے ساتھیوں پر پانی بند کر دیا تو فرمایا
52- دنیا کے زوال وفنا اور آخرت کے ثواب و عتاب کے متعلق فرمایا
53- گوسفند قربانی کے اوصاف
54- آپؑ کے ہاتھ پر بیعت کرنے والوں کا ہجوم
55- میدان صفین میں جہاد میں تاخیر پر اعتراض ہوا تو فرمایا
56- میدان جنگ میں آپؑ کی صبر و ثبات کی حالت
57- معاویہ کے بارے میں فرمایا
58- خوارج کےبارے میں آپؑ کی پیشینگوئی
59- خوارج کی ہزیمت کے متعلق آپؑ کی پیشینگوئی
60- جب اچانک قتل کر دیے جانے سے ڈرایا گیا تو آپؑ نے فرمایا
61- دنیا کی بے ثباتی کا تذکرہ
62- دنیا کے زوال و فنا کے سلسلہ میں فرمایا
63- صفات باری کا تذکرہ
64- جنگ صفین میں تعلیم حرب کےسلسلے میں فرمایا
65- سقیفہ بنی ساعدہ کی کاروائی سننے کے بعد فرمایا
66- محمد بن ابی بکرکی خبر شہادت سن کر فرمایا
67- اپنے اصحاب کی کجروی اور بے رخی کے بارے میں فرمایا
68- شب ضربت سحر کے وقت فرمایا
69- اہل عراق کی مذمت میں فرمایا
70- پیغمبرﷺ پر درود بھیجنے کا طریقہ
71- حسنینؑ کی طرف سے مروان کی سفارش کی گئی تو آپؑ نے فرمایا
72- جب لوگوں نے عثمان کی بیعت کا ارادہ کیا تو آپؑ نے فرمایا
73- قتل عثمان میں شرکت کا الزام آپؑ پر لگایا گیا تو فرمایا
74- پند و نصیحت کے سلسلے میں فرمایا
75- بنی امیہ کے متعلق فرمایا
76- دعائیہ کلمات
77- منجمین کی پیشینگوئی کی رد
78- عورتوں کے فطری نقائص
79- پند و نصیحت کے سلسلے میں فرمایا
80- اہل دنیا کے ساتھ دنیا کی روش
81- موت اور اس کے بعد کی حالت، انسانی خلقت کے درجات اور نصائح
82- عمرو بن عاص کے بارے میں
83- تنزیہ بازی اور پند و نصائح کے سلسلے میں فرمایا
84- آخرت کی تیاری اور احکام شریعت کی نگہداشت کے سلسلے میں فرمایا
85- دوستان خدا کی حالت اور علماء سوء کی مذمت میں فرمایا
86- امت کے مختلف گروہوں میں بٹ جانے کے متعلق فرمایا
87- بعثت سے قبل دنیا کی حالت پراگندگی اور موجودہ دور کے لوگ
88- صفات باری اور پند و موعظت کےسلسلے میں فرمایا
89- (خطبہ اشباح) آسمان و زمین کی خلقت
90- جب آپؑ کے ہاتھ پر بیعت ہوئی تو فرمایا
91- خوارج کی بیخ کنی اور اپنے علم کی ہمہ گیری و فتنہ بنی امیہ
92- خداوند عالم کی حمد و ثناء اور انبیاء کی توصیف میں فرمایا
93- بعثت کے وقت لوگوں کی حالت اور پیغمبرﷺ کی مساعی
94- نبی کریم ﷺ کی مدح و توصیف میں فرمایا
95- اپنے اصحاب کو تنبیہہ اور سرزنش کرتے ہوئے فرمایا
96- بنی امیہ اور ان کے مظالم کے متعلق فرمایا
97- ترکِ دینا اور نیرنگیٔ عالم کے سلسلہ میں فرمایا
98- اپنی سیرت و کردار اور اہل بیتؑ کی عظمت کے سلسلہ میں فرمایا
99- عبد الملک بن مروان کی تاراجیوں کے متعلق فرمایا
100- بعد میں پیدا ہونے والے فتنوں کے متعلق فرمایا
101- زہد و تقو یٰ اور اہل دنیا کی حالت کے متعلق فرمایا
102- بعثت سے قبل لوگوں کی حالت اور پیغمبر ﷺکی تبلیغ و ہدایت
103- پیغمبر اکرمﷺ کی مدح و توصیف اور فرائضِ امام کے سلسلہ میں
104- شریعت اسلام کی گرانقدری اور پیغمبرﷺ کی عظمت کے متعلق فرمایا
105- صفین میں جب حصہ لشکر کے قدم اکھڑنے کے جم گئے تو فرمایا
106- پیغمبرﷺ کی توصیف اور لوگوں کے گوناگون حالات کے بارے میں
107- خداوند عالم کی عظمت، ملائکہ کی رفعت ،نزع کی کیفیت اور آخرت
108- فرائضِ اسلام اور علم وعمل کے متعلق فرمایا
109- دنیا کی بے ثباتی کے متعلق فرمایا
110- ملک الموت کے قبضِ رُوح کرنے کے متعلق فرمایا
111- دنیا اور اہل دنیا کے متعلق فرمایا
112- زہد و تقویٰ اور زادِ عقبیٰ کی اہمیت کے متعلق
113- طلب باران کے سلسلہ میں فرمایا
114- آخرت کی حالت اور حجاج ابن یوسف ثقفی کے مظالم کے متعلق
115- خدا کی راہ میں جان و مال سے جہاد کرنے کے متعلق فرمایا
116- اپنے دوستوں کی حالت اور اپنی اولیت کے متعلق فرمایا
117- جب اپنے ساتھیوں کو دعوت جہاد دی اور وہ خاموش رہے تو فرمایا
118- اہل بیتؑ کی عظمت اور قوانین شریعت کی اہمیت کے متعلق فرمایا
119- تحکیم کے بارے میں آپؑ پر اعتراض کیا گیا تو فرمایا
120- جب خوارج تحکیم کے نہ ماننے پر اڑ گئے تو احتجاجاً فرمایا
121- جنگ کے موقع پر کمزور اور پست ہمتوں کی مدد کرنے کی سلسلہ میں
122- میدان صفین میں فنونِ جنگ کی تعلیم دیتے ہوئے فرمایا
123- تحکیم کو قبول کرنے کے وجوہ و اسباب
124- بیت المال کی برابر کی تقسیم پر اعتراض ہوا تو فرمایا
125- خوارج کے عقائد کے رد میں
126- بصرہ میں ہونے والے فتنوں، تباہ کاریوں اور حملوں کے متعلق
127- دنیا کی بے ثباتی اور اہل دنیا کی حالت
128- حضرت ابوذر کو مدینہ بدر کیا گیا تو فرمایا
129- خلافت کو قبول کرنے کی وجہ اور والی و حاکم کے اوصاف
130- موت سے ڈرانے اور پند و نصیحت کے سلسلہ میں فرمایا
131- خداوند ِعالم کی عظمت، قرآن کی اہمیت اور پیغمبرﷺ کی بعثت
132- جب مغیرہ بن اخنس نے عثمان کی حمایت میں بولنا چاہا تو فرمایا
133- غزوہ روم میں شرکت کے لیے مشورہ مانگا گیا تو فرمایا
134- اپنی نیت کے اخلاص اور مظلوم کی حمایت کے سلسلہ میں فرمایا
135- طلحہ و زبیر اور خونِ عثمان کے قصاص اور اپنی بیعت کے متعلق
136- ظہورِ حضرت قائم علیہ السلام کے وقت دُنیا کی حالت
137- شوریٰ کے موقع پر فرمایا
138- غیبت اور عیب جوئی سے ممانعت کے سلسلہ میں فرمایا
139- سُنی سُنائی باتوں کو سچا نہ سمجھنا چاہئے
140- بے محل داد و دہش سے ممانعت اور مال کا صحیح مصرف
141- طلبِ باران کے سلسلہ میں فرمایا
142- اہل بیتؑ راسخون فی العلم ہیں اور وہی امامت وخلافت کے اہل ہیں
143- دُنیا کی اہل دُنیا کے ساتھ روش اور بدعت و سنت کا بیان
144- جب حضرت عمر نے غزوہ فارس کیلئے مشورہ لیا تو فرمایا
145- بعثتِ پیغمبر کی غرض و غایت اور اُس زمانے کی حالت
146- طلحہ وزبیر کے متعلق فرمایا
147- موت سے کچھ قبل بطور وصیّت فرمایا
148- حضرت حجتؑ کی غیبت اور پیغمبرﷺ کے بعد لوگوں کی حالت
149- فتنوں میں لوگوں کی حالت اور ظلم اور اکل حرام سے اجتناب
150- خداوند عالم کی عظمت و جلالت کا تذکرہ اور معرفت امام کے متعلق
151- غفلت شعاروں، چوپاؤں، درندوں اور عورتوں کے عادات و خصائل
152- اہل بیتؑ کی توصیف، علم وعمل کا تلازم اور اعمال کا ثمرہ
153- چمگادڑ کی عجیب و غریب خلقت کے بارے میں
154- حضرت عائشہ کے عناد کی کیفیت اور فتنوں کی حالت
155- دُنیا کی بے ثباتی، پندو موعظت اور اعضاء و جوارح کی شہادت
156- بعثت پیغمبرﷺ کا تذکرہ، بنی اُمیّہ کے مظالم اور ان کا انجام
157- لوگوں کے ساتھ آپ کا حُسنِ سلوک اور ان کی لغزشوں سے چشم پوشی
158- خداوندِعالم کی توصیف ،خوف ورجاء، انبیاءؑ کی زندگی
159- دین اسلام کی عظمت اور دُنیا سے درس عبرت حاصل کرنے کی تعلیم
160- حضرتؑ کو خلافت سے الگ رکھنے کے وجوہ
161- اللہ کی توصیف، خلقت انسان اور ضروریات زندگی کی طرف رہنمائی
162- امیرالمومنینؑ کا عثمان سے مکالمہ اور ان کی دامادی پر ایک نظر
163- مور کی عجیب و غریب خلقت اور جنّت کے دلفریب مناظر
164- شفقت و مہربانی اور ظاہر و باطن کی تعلیم اور بنی امیہ کا زوال
165- حقوق و فرائض کی نگہداشت اور تمام معاملات میں اللہ سے خوف
166- جب لوگوں نے قاتلین عثمان سے قصاص لینے کی فرمائش کی تو فرمایا
167- جب اصحاب جمل بصرہ کی جانب روانہ ہوئے تو فرمایا
168- اہل بصرہ سے تحقیق حال کے لئے آنے والے شخص سے فرمایا
169- صفین میں جب دشمن سے دوبدو ہوکر لڑنے کا ارادہ کیا تو فرمایا
170- جب آپؑ پر حرص کا الزام رکھا گیا تو اس کی رد میں فرمایا
171- خلافت کا مستحق کون ہے اور ظاہری مسلمانوں سے جنگ کرنا
172- طلحہ بن عبیداللہ کے بارے میں فرمایا
173- غفلت کرنے والوں کو تنبیہ اور آپؑ کے علم کی ہمہ گیری
174- پند دو موعظت، قرآن کی عظمت اور ظلم کی اقسام
175- حکمین کے بارے میں فرمایا
176- خداوند عالم کی توصیف، دُنیا کی بے ثباتی اور اسباب زوال نعمت
177- جب پوچھا گیا کہ کیا آپؑ نے خدا کو دیکھا ہے تو فرمایا
178- اپنے اصحاب کی مذمت میں فرمایا
179- خوارج سے مل جانے کا تہیّہ کرنے والی جماعت سے فرمایا
180- خداوند عالم کی تنزیہ و تقدیس اور قدرت کی کا ر فرمائی
181- خداوند عالم کی توصیف، قرآن کی عظمت اور عذاب آخرت سے تخویف
182- جب «لا حکم الا اللہ» کا نعرہ لگایا گیا تو فرمایا
183- خداوند عالم کی عظمت و توصیف اور ٹڈی کی عجیب و غریب خلقت
184- مسائل الٰہیات کے بُنیادی اُصول کا تذکرہ
185- فتنوں کے ابھرنے اور رزقِ حلال کے ناپید ہو جانے کے بارے میں
186- خداوند عالم کے احسانات، مرنے والوں کی حالت اور بے ثباتی دنیا
187- پختہ اور متزلزل ایمان اور دعویٰ سلونی «قبل ان تفقدونی»
188- تقویٰ کی اہمیت، ہولناکی قبر، اللہ، رسول اور اہل بیت کی معرفت
189- خداوند عالم کی توصیف، تقویٰ کی نصیحت، دنیا اور اہل دنیا
190- (خطبہ قاصعہ) جس میں ابلیس کی مذمت ہے۔
191- متقین کے اوصاف اور نصیحت پذیر طبیعتوں پر موعظت کا اثر
192- پیغمبر ﷺکی بعثت، قبائلِ عرب کی عداوت اور منافقین کی حالت
193- خداوند عالم کی توصیف، تقویٰ کی نصیحت اور قیامت کی کیفیت
194- بعثتِ پیغمبرؐ کے وقت دنیا کی حالت، دنیا کی بے ثباتی
195- حضورﷺ کے ساتھ آپؑ کی خصوصیات اور حضور ﷺ کی تجہیز و تکفین
196- خداوند عالم کے علم کی ہمہ گیری، تقویٰ کے فوائد
197- نماز، زکوٰة اور امانت کے بارے میں فرمایا
198- معاویہ کی غداری و فریب کاری اور غداروں کا انجام
199- راہ ہدایت پر چلنے والوں کی کمی اور قوم ثمود کا تذکرہ
200- جناب سیدہ سلام اللہ علیہا کے دفن کے موقع پر فرمایا
201- دنیا کی بے ثباتی اور زاد آخرت مہیا کرنے کے لیے فرمایا
202- اپنے اصحاب کو عقبیٰ کے خطرات سے متنبہ کرتے ہوئے فرمایا
203- طلحہ و زبیر نے مشورہ نہ کرنے کا شکوہ کیا تو فرمایا
204- صفین میں شامیوں پر شب و ستم کیا گیا تو فرمایا
205- جب امام حسنؑ صفین کے میدان میں تیزی سے بڑھے تو فرمایا
206- صفین میں لشکر تحکیم کے سلسلہ میں سرکشی پر اُتر آیا تو فرمایا
207- علاء ابن زیاد حارثی کی عیادت کو موقع پر فرمایا
208- اختلاف احادیث کے وجوہ و اسباب اور رواة حدیث کے اقسام
209- خداوند عالم کی عظمت اور زمین و آسمان اور دریاؤں کی خلقت
210- حق کی حمایت سے ہاتھ اٹھا لینے والوں کے بارے میں فرمایا
211- خداوند عالم کی عظمت اور پیغمبرؐ کی توصیف و مدحت
212- پیغمبرﷺ کی خاندانی شرافت اور نیکو کاروں کے اوصاف
213- آپؑ کے دُعائیہ کلمات
214- حکمران اور رعیّت کے باہمی حقوق کے بارے میں فرمایا
215- قریش کے مظالم کے متعلق فر مایا اور بصرہ پر چڑھائی کے متعلق
216- طلحہ اور عبد الرحمن بن عتاب کو مقتول دیکھا تو فرمایا
217- متقی و پرہیزگار کے اوصاف
218- ”الہاکم التکاثر حتی زرتم المقابر“ کی تلاوت کے وقت فرمایا
219- ” رجال لا تلہیھم تجارة و لا بیع عن ذکر اللہ “ کی تلاوت کے وق
220- ” یا اٴیھا الانسان ما غرّک بربک الکریم “ کی تلاوت کے وقت فرم
221- ظلم و غصب سے کنارہ کشی، عقیل کی حالت فقر و احتیاج، اور اشعث
222- آپؑ کے دُعائیہ کلمات
223- دنیا کی بے ثباتی اور اہل قبور کی حالت بے چارگی
224- آپؑ کے دُعائیہ کلمات
225- انتشار و فتنہ سے قبل دنیا سے اٹھ جانے والوں کے متعلق فرمایا
226- اپنی بیعت کے متعلق فرمایا
227- تقویٰ کی نصیحت موت سے خائف رہنے اور زہد اختیار کرنے کے متعلق
228- جب بصرہ کی طرف روانہ ہوئے تو فرمایا
229- عبد اللہ ابن زمعہ نے آپؑ سے مال طلب کیا تو فرمایا
230- جب جعدہ ابن ہبیرہ خطبہ نہ دے سکے تو فرمایا
231- لوگوں کے اختلاف صورت و سیرت کی وجوہ و اسباب
232- پیغمبر ﷺ کو غسل و کفن دیتے وقت فرمایا
233- ہجرتِ پیغمبر ﷺ کے بعد اُن کے عقب میں روانہ ہونے کے متعلق
234- زادِ آخرت مہیا کرنے اور موت سے پہلے عمل بجا لانے کے متعلق
235- حکمین کے بارے میں فرمایا اور اہل شام کی مذمت میں فرمایا
236- آلِ محمدؑ کی توصیف اور روایت میں عقل و درایت سے کام لینا
237- جب عثمان نے ینبع چلے جانے کے لیے پیغام بھجوایا تو فرمایا
238- اصحاب کو آمادہ جنگ کرنے اور آرام طلبی سے بچنے کے لئے فرمایا

Quick Contact

پورا عالم و دانا وہ ہے جو لوگوں کو رحمت خدا سے مایوس اور اس کی طرف سے حاصل ہونے والی آسائش و راحت سے نا امید نہ کرے اور نہ انہیں اللہ کے عذاب سے بالکل مطمئن کر دے۔ حکمت 90
(١٧٤) وَ مِنْ خُطْبَةٍ لَّهٗ عَلَیْهِ السَّلَامُ
خطبہ (۱۷۴)
اِنْتَفِعُوْا بِبَیَانِ اللهِ، وَ اتَّعِظُوْا بِمَوَاعِظِ اللهِ، وَ اقْبَلُوْا نَصِیْحَةَ اللهِ، فَاِنَّ اللهَ قَدْ اَعْذَرَ اِلَیْكُمْ بِالْجَلِیَّةِ، وَ اتَّخَذَ عَلَیْكُمْ الْحُجَّةَ، وَ بَیَّنَ لَكُمْ مَحَابَّهٗ مِنَ الْاَعْمَالِ، وَ مَكَارِهَهٗ مِنْهَا، لِتَتَّبِعُوْا هٰذِهٖ، وَ تَجْتَنِبُوْا هٰذِهٖ، فَاِنَّ رَسُوْلَ اللهِ- ﷺ كَانَ یَقُوْلُ: «اِنَّ الْجَنَّةَ حُفَّتْ بِالْمَكَارِهٖ، وَ اِنَّ النَّارَ حُفَّتْ بِالشَّهَوَاتِ».
خداوند عالم کے ارشادات سے فائدہ اٹھاؤ اور اس کے موعظوں سے نصیحت حاصل کرو اور اس کی نصیحتوں کو مانو، کیونکہ اس نے واضح دلیلوں سے تمہارے لئے کسی عذر کی گنجائش نہیں رکھی اور تم پر (پوری طرح) حجت کو تمام کردیا ہے اور اپنے پسندیدہ و ناپسند اعمال تم سے بیان کر دیئے ہیں تاکہ اچھے اعمال بجا لاؤ اور برے کاموں سے بچو۔ رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے کہ: «جنت ناگواریوں میں گھری ہوئی ہے اور دوزخ خواہشوں میں گھرا ہوا ہے»۔
وَ اعْلَمُوْۤا اَنَّهٗ مَا مِنْ طَاعَةِ اللهِ شَیْءٌ اِلَّا یَاْتِیْ فِیْ كُرْهٍ، وَ مَا مِنْ مَّعْصِیَةِ اللهِ شَیءٌ اِلَّا یَاْتِیْ فِیْ شَهْوَةٍ. فَرَحِمَ اللهُ رَجُلًا نَّزَعَ عَنْ شَهْوَتِهٖ، وَ قَمَعَ هَوٰی نَفْسِهٖ، فَاِنَّ هٰذِهِ النَّفْسَ اَبْعَدُ شَیْءٍ مَّنْزِعًا، وَ اِنَّهَا لَا تَزَالُ تَنْزِ عُ اِلٰی مَعْصِیَةٍ فِیْ هَوًی.
یاد رکھو کہ اللہ کی ہر اطاعت ناگوار صورت میں اور اس کی ہر معصیت عین خواہش بن کر سامنے آتی ہے۔ خدا اس شخص پر رحمت کرے جس نے خواہشوں سے دوری اختیار کی اور اپنے نفس کے ہوا و ہوس کو جڑ بنیاد سے اکھیڑ دیا، کیونکہ نفس خواہشوں میں لا محدود درجہ تک بڑھنے والا ہے اور وہ ہمیشہ خواہش و آرزوئے گناہ کی طرف مائل ہوتا ہے۔
وَ اعْلَمُوْا ـ عِبَادَ اللهِ! ـ اَنَّ الْمُؤْمِنَ لَا یُمْسِیْ وَ لَا یُصْبِـحُ اِلَّا وَ نَفْسُهٗ ظَنُوْنٌ عِنْدَهُ، فَلَا یَزَالُ زَارِیًا عَلَیْهَا وَ مُسْتَزِیْدًا لَهَا. فَكُوْنُوْا كَالسَّابِقِیْنَ قَبْلَكُمْ، وَ الْمَاضِیْنَ اَمَامَكُمْ. قَوَّضُوْا مِنَ الدُّنْیَا تَقْوِیْضَ الرَّاحِلِ، وَ طَوَوْهَا طَیَّ الْمَنَازِلِ.
اللہ کے بند و! تمہیں معلوم ہونا چاہیے کہ مومن (زندگی کے) صبح وشام میں اپنے نفس سے بد گمان رہتا ہے اور اس پر (کوتاہیوں کا) الزام لگاتا ہے اور اس سے (عبادتوں میں) اضافہ کا خواہشمند رہتا ہے۔ تم ان لوگوں کی طرح بنو کہ جو تم سے پہلے آگے بڑھ چکے ہیں اور تمہارے قبل اس راہ سے گزر چکے ہیں۔ انہوں نے دنیا سے یوں اپنا رخت ِسفر باندھا جس طرح مسافر اپنا ڈیرا اٹھا لیتا ہے اور دنیا کو اس طرح طے کیا جس طرح (سفر کی ) منزلوں کو۔
وَاعْلَمُوْۤا اَنَّ هٰذَا الْقُرْاٰنَ هُوَ النَّاصِحُ الَّذِیْ لَا یَغُشُّ، وَالْهَادِی الَّذِیْ لَا یُضِلُّ، وَالْمُحَدِّثُ الَّذِیْ لَا یَكْذِبُ. وَمَا جَالَسَ هٰذَا الْقُرْاٰنَ اَحَدٌ اِلَّا قَامَ عَنْهُ بِزِیَادَةٍ اَوْ نُقْصَانٍ: زِیَادَةٍ فِیْ هُدًی، اَوْ نُقْصَانٍ مِّنْ عَمًی.
یاد رکھو کہ یہ قرآن ایسا نصیحت کرنے والا ہے جو فریب نہیں دیتا اور ایسا ہدایت کرنے والا ہے جو گمراہ نہیں کرتا اور ایسا بیان کرنے والا ہے جو جھوٹ نہیں بولتا۔ جو بھی اس قرآن کا ہم نشین ہوا وہ ہدایت کو بڑھا کر اور گمراہی و ضلالت کو گھٹا کر اس سے الگ ہوا۔
وَ اعْلَمُوْۤا اَنَّهٗ لَیْسَ عَلٰۤی اَحَدٍۭ بَعْدَ الْقُرْاٰنِ مِنْ فَاقَةٍ، وَ لَا لِاَحَدٍ قَبْلَ الْقُرْاٰنِ مِنْ غِنًی، فَاسْتَشْفُوْهُ مِنْ اَدْوَآئِكُمْ، وَ اسْتَعِیْنُوْا بِهٖ عَلٰی لَاْوَآئِكُمْ، فَاِنَّ فِیْهِ شِفَآءً مِنْ اَكْبَرِ الدَّآءِ، وَ هُوَ الْكُفْرُ وَ النِّفَاقُ، وَ الْغَیُّ وَ الضَّلَالُ، فَاسْئَلُوا اللهَ بِهٖ، وَ تَوَجَّهُوْۤا اِلَیْهِ بِحُبِّهٖ، وَ لَا تَسْئَلُوْا بِهٖ خَلْقَهٗ، اِنَّهٗ مَا تَوَجَّهَ الْعِبَادُ اِلَی اللهِ بِمِثْلِهٖ.
جان لو کہ کسی کو قرآن (کی تعلیمات) کے بعد (کسی اور لائحہ عمل کی) احتیاج نہیں رہتی اور نہ کوئی قرآن سے (کچھ سیکھنے) سے پہلے اس سے بے نیاز ہو سکتا ہے۔ اس سے اپنی بیماریوں کی شفا چاہو اور اپنی مصیبتوں پر اس سے مدد مانگو۔ اس میں کفر و نفاق اور ہلاکت و گمراہی جیسی بڑی بڑی مرضوں کی شفا پائی جاتی ہے۔ اس کے وسیلہ سے اللہ سے مانگو اور اس کی دوستی کو لئے ہوئے اس کا رخ کرو اور اسے لوگوں سے مانگنے کا ذریعہ نہ بناؤ۔ یقیناً بندوں کیلئے اللہ کی طرف متوجہ ہونے کا اس جیسا کوئی ذریعہ نہیں۔
وَ اعْلَمُوْۤا اَنَّهٗ شَافِعٌ مُّشَفَّعٌ، وَ قَآئِلٌ مُّصَدَّقٌ، وَ اَنَّهٗ مَنْ شَفَعَ لَهُ الْقُرْاٰنُ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ شُفِّـعَ فِیْهِ، وَ مَنْ مَّحَلَ بِهِ الْقُرْاٰنُ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ صُدِّقَ عَلَیْهِ، فَاِنَّهٗ یُنَادِیْ مُنَادٍ یَوْمَ الْقِیٰمةِ: اَلَا اِنَّ كُلَّ حَارِثٍ مُّبْتَلًی فِیْ حَرْثِهٖ وَ عَاقِبَةِ عَمَلِهٖ غَیْرَ حَرَثَةِ الْقُراٰنِ، فَكُوْنُوْا مِنْ حَرَثَتِهٖ وَ اَتْبَاعِهٖ، وَ اسْتَدِلُّوْهُ عَلٰی رَبِّكُمْ، وَ اسْتَنْصِحُوْهُ عَلٰۤی اَنْفُسِكُمْ، وَ اتَّهِمُوْا عَلَیْهِ اٰرَآءَكُمْ، وَ اسْتَغِشُّوْا فِیْهِ اَهْوَآءَكُمْ.
تمہیں معلوم ہونا چاہیے کہ قرآن ایسا شفاعت کرنے والا ہے جس کی شفاعت مقبول اور ایسا کلام کرنے والا ہے (جس کی ہر بات) تصدیق شدہ ہے۔ قیامت کے دن جس کی یہ شفاعت کرے گا وہ اس کے حق میں مانی جائے گی او راس روز جس کے عیوب بتائے گا تو اس کے بارے میں بھی اس کے قول کی تصدیق کی جائے گی۔ قیامت کے دن ایک ندا دینے والا پکار کر کہے گا کہ: دیکھو! قرآن کی کھیتی بو نے والوں کے علاوہ ہر بونے والا اپنی کھیتی اور اپنے اعمال کے نتیجہ میں مبتلا ہے،لہٰذا تم قرآن کی کھیتی بونے والے اور اس کے پیروکار بنو اور اپنے پروردگار تک پہنچنے کیلئے اسے دلیل راہ بناؤ اور اپنے نفسوں کیلئے اس سے پند و نصیحت چاہو اور اس کے خلاف اپنی رایوں پر بھروسا نہ کرو اور اس کے مقابلہ میں اپنی خواہشوں کو غلط و فریب خوردہ سمجھو۔
اَلْعَمَلَ الْعَمَلَ، ثُمَّ النِّهَایَةَ النِّهَایَةَ، وَ الْاِسْتِقَامَةَ الْاِسْتِقَامَةَ، ثُمَّ الصَّبْرَ الصَّبْرَ، وَ الْوَرَعَ الْوَرَعَ! اِنَّ لَكُمْ نِهَایَةً فَانْتَهُوْا اِلٰی نِهَایَتِكُمْ، وَ اِنَّ لَكُمْ عَلَمًا فَاهْتَدُوْا بِعَلَمِكُمْ، وَ اِنَّ لِلْاِسْلَامِ غَایَةً فَانْتَهُوْۤا اِلٰی غَایَتِهٖ. وَ اخْرُجُوْۤا اِلَی اللهِ بِمَا افْتَرَضَ عَلَیْكُمْ مِنْ حَقِّهٖ، وَ بَیَّنَ لَكُمْ مِنْ وَّظَآئِفِهٖ. اَنَا شَاهِدٌ لَّكُمْ، وَ حَجِیْجٌ یَّوْمَ الْقِیٰمَةِ عَنْكُمْ.
عمل کر و،عمل کرو اور عاقبت و انجام کو دیکھو، استوار و برقرار رہو، پھر یہ کہ صبر کرو، صبر کرو، تقویٰ و پرہیز گاری اختیار کرو۔ تمہارے لئے ایک منزل منتہا ہے اپنے کو وہاں تک پہنچاؤ اور تمہارے لئے ایک نشان ہے اس سے ہدایت حاصل کر و۔ اسلام کی ایک حد ہے، تم اس حد و انتہا تک پہنچو۔ اللہ نے جن حقوق کی ادائیگی کو تم پر فرض کیا ہے اور جن فرائض کو تم سے بیان کیا ہے انہیں ادا کر کے اس سے عہدہ برآ ہو جاؤ۔ میں تمہارے اعمال کا گواہ اور قیامت کے دن تمہاری طرف سے حجت پیش کر نے والا ہوں۔
اَلَا وَ اِنَّ الْقَدَرَ السَّابِقَ قَدْ وَقَعَ، وَ الْقَضَآءَ الْمَاضِیَ قَدْ تَوَرَّدَ، وَ اِنِّیْ مُتَكَلِّمٌۢ بِعِدَةِ اللهِ وَ حُجَّتِهٖ، قَالَ اللهُ تَعَالٰی: ﴿اِنَّ الَّذِیْنَ قَالُوْا رَبُّنَا اللّٰهُ ثُمَّ اسْتَقَامُوْا تَتَنَزَّلُ عَلَیْهِمُ الْمَلٰٓىِٕكَةُ اَلَّا تَخَافُوْا وَ لَا تَحْزَنُوْا وَ اَبْشِرُوْا بِالْجَنَّةِ الَّتِیْ كُنْتُمْ تُوْعَدُوْنَ۝﴾.
دیکھو! جو کچھ ہونا تھا وہ ہو چکا اور جو فیصلہ خداوندی تھا وہ سامنے آ گیا۔ میں الٰہی وعدہ و برہان کی رو سے کلام کرتا ہوں۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ: ’’بے شک وہ لوگ جنہوں نے یہ کہا کہ ہمارا پروردگار اللہ ہے اور پھر وہ اس (عقیدہ) پر جمے رہے، ان پر فرشتے اترتے ہیں اور (یہ کہتے ہیں) کہ تم خوف نہ کھاؤ اور غمگین نہ ہو۔ تمہیں اس جنت کی بشارت ہو جس کا تم سے وعدہ کیا گیا ہے‘‘۔
وَقَدْ قُلْتُمْ: ﴿رَبُّنَا اللهُ﴾، فَاسْتَقِیْمُوْا عَلٰی كِتَابِهٖ، وَ عَلٰی مِنْهَاجِ اَمْرِهٖ، وَ عَلَی الطَّرِیْقَةِ الصَّالِحَةِ مِنْ عِبَادَتِهٖ، ثُمَّ لَا تَمْرُقُوْا مِنْهَا، وَ لَا تَبْتَدِعُوْا فِیْهَا، وَ لَا تُخَالِفُوْا عَنْهَا، فَاِنَّ اَهْلَ الْمُرُوْقِ مُنْقَطَعٌۢ بِهِمْ عِنْدَ اللهِ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ.
اب تمہارا قول تو یہ ہے کہ: ’’ہمارا پروردگار اللہ ہے‘‘ تو اب اس کی کتاب اور اس کی شریعت کی راہ اور اس کی عبادت کے نیک طریقہ پر جمے رہو اور پھر اس سے نکل نہ بھاگو اور نہ اس میں بدعتیں پیدا کر و اور نہ اس کے خلاف چلو۔ اس لئے کہ اس راہ سے نکل بھاگنے والے قیامت کے دن اللہ (کی رحمت) سے جدا ہونے والے ہیں۔
ثُمَّ اِیَّاكُمْ وَ تَهْزِیْعَ الْاَخْلَاقِ وَ تَصْرِیْفَهَا، وَ اجْعَلُوا اللِّسَانَ وَاحِدًا، وَ لْيَخْزُنِ الرَّجُلُ لِسَانَهٗ، فَاِنَّ هٰذَا اللِّسَانَ جَمُوْحٌۢ بِصَاحِبِهٖ.
پھر یہ کہ تم اپنے اخلاق و اطوار کو پلٹنے اور انہیں ادلنے بدلنے سے پرہیز کرو۔ دو رخی اور متلون مزاجی سے بچتے رہو اور ایک زبان رکھو۔ انسان کو چاہیے کہ وہ اپنی زبان کو قابو میں رکھے۔ اس لئے کہ یہ اپنے مالک سے منہ زوری کرنے والی ہے۔
وَاللهِ! ماۤ اَرٰی عَبْدًا یَّتَّقِیْ تَقْوٰی تَنْفَعُهٗ حَتّٰی یَخْزُنَ لِسَانَهٗ، وَ اِنَّ لِسَانَ الْمُؤْمِنِ مِنْ وَّرَآءِ قَلْبِهٖ، وَ اِنَّ قَلْبَ الْمُنَافِقِ مِنْ وَّرَآءِ لِسَانِهٖ: لِاَنَّ الْمُؤْمِنَ اِذَاۤ اَرَادَ اَنْ یَّتَكَلَّمَ بَكَلَامٍ تَدَبَّرَهٗ فِیْ نَفْسِهٖ، فَاِنْ كَانَ خَیْرًا اَبْدَاهُ، وَ اِنْ كَانَ شَرًّا وَّارَاهُ، وَ اِنَّ الْمُنَافِقَ یَتَكَلَّمُ بِمَاۤ اَتٰی عَلٰی لِسَانِهٖ لَا یَدْرِی مَاذَا لَهٗ، وَ مَاذَا عَلَیْهِ.
خدا کی قسم! میں نے کسی پرہیزگار کو نہیں دیکھا کہ تقویٰ اس کیلئے مفید ثابت ہوا ہو جب تک کہ اس نے اپنی زبان کی حفاظت نہ کی ہو۔ بے شک مومن کی زبان اس کے دل کے پیچھے ہے اور منافق کا دل اس کی زبان کے پیچھے ہے، کیونکہ مومن جب کوئی بات کہنا چاہتا ہے تو پہلے اسے دل میں سوچ لیتا ہے، اگر وہ اچھی بات ہوتی ہے تو اسے ظاہر کرتا ہے اور اگر بری ہوتی ہے تو اسے پوشیدہ ہی رہنے دیتا ہے اور منافق کی زبان پر جو آتا ہے کہہ گزرتا ہے، اسے یہ کچھ خبر نہیں ہوتی کہ کون سی بات اس کے حق میں مفید ہے اور کون سی مضر ہے۔
وَ لَقَدْ قَالَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ: «لَا یَسْتَقِیْمُ اِیْمَانُ عَبْدٍ حَتّٰی یَسْتَقِیْمَ قَلْبُهٗ. وَ لَا یَسْتَقِیْمُ قَلْبُهٗ حَتّٰی یَسْتَقِیْمَ لِسَانُهٗ». فَمَنِ اسْتَطَاعَ مِنْكُمْ اَنْ یَلْقَی اللهَ وَ هُوَ نَقِیُّ الرَّاحَةِ مِنْ دِمَآءِ الْمُسْلِمِیْنَ وَ اَمْوَالِهِمْ، سَلِیْمُ اللِّسَانِ مِنْ اَعْرَاضِهِمْ، فَلْیَفْعَلْ.
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے کہ: «کسی بندے کا ایمان اس وقت تک مستحکم نہیں ہوتا جب تک اس کا دل مستحکم نہ ہو اور دل اس وقت تک مستحکم نہیں ہوتا جب تک زبان مستحکم نہ ہو»۔ لہٰذا تم میں سے جس سے یہ بن پڑے کہ وہ اللہ کے حضور میں اس طرح پہنچے کہ اس کا ہاتھ مسلمانوں کے خون اور ان کے مال سے پاک و صاف اور اس کی زبان ان کی آبرو ریزی سے محفوظ رہے تو اسے ایسا ہی کرنا چاہیے۔
وَ اعْلَمُوْا عِبَادَ اللهِ! اَنَّ الْمُؤْمِنَ یَسْتَحِلُّ الْعَامَ مَا اسْتَحَلَّ عَامًا اَوَّلَ، وَ یُحَرِّمُ الْعَامَ مَا حَرَّمَ عَامًا اَوَّلَ، وَ اَنَّ مَاۤ اَحْدَثَ النَّاسُ لَا یُحِلُّ لَكُمْ شَیْئًا مِّمَّا حُرِّمَ عَلَیْكُمْ، وَ لٰكِنَّ الْحَلَالَ مَاۤ اَحَلَّ اللهُ، وَ الْحَرَامَ مَا حَرَّمَ اللهُ، فَقَدْ جَرَّبْتُمُ الْاُمُوْرَ وَ ضَرَّسْتُمُوْهَا، وَ وُعِظْتُمْ بِمَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ، وَ ضُرِبَتِ الْاَمْثَالُ لَكُمْ، وَ دُعِیتُمْ اِلَی الْاَمْرِ الْوَاضِحِ، فَلَا یَصَمُّ عَنْ ذٰلِكَ اِلَّاۤ اَصَمُّ، وَ لَا یَعْمٰی عَنْ ذٰلِكَ اِلَّاۤ اَعْمٰی.
خد اکے بندو! یاد رکھو کہ مومن اس سال بھی اسی چیز کو حلال سمجھتا ہے جسے پار سال حلال سمجھ چکا ہے اور اس سال بھی اسی چیز کو حرام کہتا ہے جسے گزشتہ سال حرام کہہ چکا ہے اور یاد رکھو کہ لوگوں کی پیدا کی ہوئی بدعتیں ان چیزوں کو جو خدا کی طرف سے حرام ہیں حلال نہیں کر سکتیں،بلکہ حلال وہ ہے جسے اللہ نے حلال کیا ہے اور حرام وہ ہے جسے اللہ نے حرام کیا ہے۔ تم تمام چیزوں کو تجربہ و آزمائش سے پرکھ چکے ہو اور پہلے لوگوں سے تمہیں پند و نصیحت بھی کی جا چکی ہے اور (حق و باطل کی) مثالیں بھی تمہارے سامنے پیش کی جا چکی ہیں اور واضح حقیقتوں کی طرف تمہیں دعوت دی جا چکی ہے۔ اب اس آواز کے سننے سے قاصر وہی ہو سکتا ہے جو واقعی بہرا ہو اور اس کے دیکھنے سے معذور وہی سمجھا جا سکتا ہے جو اندھا ہو۔
وَ مَنْ لَّمْ یَنْفَعْهُ اللهُ بِالْبَلَآءِ وَ التَّجَارِبِ لَمْ یَنْتَفِعْ بِشَیْءٍ مِّنَ الْعِظَةِ، وَاَتَاهُ التَّقْصِیْرُ مِنْ اَمَامِهٖ، حَتّٰی یَعْرِفَ مَاۤ اَنْكَرَ، وَ یُنْكِرَ مَا عَرَفَ. وَاِنَّمَا النَّاسُ رَجُلَانِ: مُتَّبِـعٌ شِرْعَةً، وَ مُبْتَدِعٌۢ بِدْعَةً لَّیْسَ مَعَهٗ مِنَ اللهِ سُبْحَانَهٗ بُرْهَانُ سُنَّةٍ وَّ لَا ضِیَآءُ حُجَّةٍ.
اور جسے اللہ کی آزمائشوں اور تجربوں سے فائدہ نہ پہنچے وہ کسی پند و نصیحت سے فائدہ نہیں اٹھا سکتا۔ اسے زیاں کاریاں ہی درپیش ہوں گی، یہاں تک کہ وہ بری باتوں کو اچھا اور اچھی باتوں کو برا سمجھے گا۔ چونکہ لوگ دو قسم کے ہوتے ہیں: ایک شریعت کے پیروکار اور دوسرے بدعت ساز کہ جن کے پاس نہ سنت پیغمبرؑ کی کوئی سند ہوتی ہے اور نہ دلیل وبرہان کی کوئی روشنی۔
وَ اِنَّ اللهَ سُبْحَانَهٗ لَمْ یَعِظْ اَحَدًۢا بِمِثْلِ هٰذَا الْقُرْاٰنِ، فَاِنَّهٗ حَبْلُ اللهِ الْمَتِیْنُ، وَ سَبَبُهُ الْاَمِیْنُ، وَ فِیْهِ رَبِیْعُ الْقَلْبِ، وَ یَنَابِیْعُ الْعِلْمِ، وَ مَا لِلْقَلْبِ جِلَآءٌ غَیْرُهٗ، مَعَ اَنَّهٗ قَدْ ذَهَبَ الْمُتَذَكِّرُوْنَ، وَ بَقِیَ النَّاسُوْنَ اَوِ الْمُتَنَاسُوْنَ. فَاِذَا رَاَیْتُمْ خَیْرًا فَاَعِیْنُوْا عَلَیْهِ، وَ اِذَا رَاَیْتُمْ شَرًّا فَاذْهَبُوْا عَنْهُ، فَاِنَّ رَسُوْلَ اللهِ ﷺ -كَانَ یَقُوْلُ: «یَابْنَ اٰدَمَ! اعْمَلِ الْخَیْرَ وَ دَعِ الشَّرَّ، فَاِذَاۤ اَنْتَ جَوَادٌ قَاصِدٌ».
بلاشبہ اللہ سبحانہ نے کسی کو ایسی نصیحت نہیں کی جو اس قرآن کے مانند ہو، کیونکہ یہ اللہ کی مضبوط رسی اور امانتدار وسیلہ ہے۔ اسی میں دل کی بہار اور علم کے سر چشمے ہیں اور اسی سے (آئینہ) قلب پر جلا ہوتی ہے، باوجودیکہ یاد رکھنے والے گزر گئے اور بھول جانے والے یا بھلاوے میں ڈالنے والے باقی رہ گئے ہیں۔ اب تمہارا کام یہ ہے کہ بھلائی کو دیکھو تو اسے تقویت پہنچاؤ اور برائی کو دیکھو تو اس سے (دامن بچا کر) چل دو۔ اس لئے کہ رسول اللہ ﷺ فرمایا کرتے تھے کہ: «اے فرزند آدم! اچھے کام کر اور برائیوں کو چھوڑ دے۔ اگر تو نے ایسا کیا تو تو نیک چلن اور راست رو ہے»۔
اَلَا وَ اِنَّ الظُّلْمَ ثَلَاثَةٌ: فَظُلْمٌ لَّا یُغْفَرُ، وَ ظُلْمٌ لَّا یُتْرَكُ، وَ ظُلْمٌ مَّغْفُوْرٌ لَّا یُطْلَبُ.
دیکھو! ظلم تین طرح کا ہوتا ہے: ایک ظلم وہ جو بخشا نہیں جائے گا اور دوسرا ظلم وہ جس کا (مواخذہ) چھوڑا نہیں جائے گا، تیسرا وہ جو بخش دیا جائے گا اور اس کی باز پرس نہیں ہو گی۔
فَاَمَّا الظُّلْمُ الَّذِیْ لَا یُغْفَرُ فَالشِّرْكُ بِاللهِ، قَالَ اللهُ تَعَالٰی: ﴿اِنَّ اللّٰهَ لَا یَغْفِرُ اَنْ یُّشْرَكَ بِهٖ ﴾، وَ اَمَّا الظُّلْمُ الَّذِیْ یُغْفَرُ فَظُلْمُ الْعَبْدِ نَفْسَهٗ عِنْدَ بَعْضِ الْهَنَاتِ، وَ اَمَّا الظُّلْمُ الَّذِیْ لَا یُتْرَكُ فَظُلْمُ الْعِبَادِ بَعْضِهِمْ بَعْضًا. الْقِصَاصُ هُنَاكَ شَدِیْدٌ، لَیْسَ هُوَ جَرْحًا بِالْمُدٰی وَ لَا ضَرْبًۢا بِالسِّیَاطِ، وَ لٰكِنَّهٗ مَا یُسْتَصْغَرُ ذٰلِكَ مَعَهٗ.
لیکن وہ ظلم جو بخشا نہیں جائے گا وہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرانا ہے، جیسا کہ اللہ سبحانہ کا ارشاد ہے کہ: ’’خدا اس (گناہ) کو نہیں بخشتا کہ اس کے ساتھ شرک کیا جائے‘‘۔ اور وہ ظلم جو بخش دیا جائے گا وہ ہے جو بندہ چھوٹے چھوٹے گناہوں کا مرتکب ہو کر اپنے نفس پر کرتا ہے۔ اور وہ ظلم کہ جسے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا وہ بندوں کا ایک دوسرے پر ظلم و زیادتی کرنا ہے جس کا آخرت میں سخت بدلہ لیا جائے گا۔وہ کوئی چھریوں سے کچوکے دینا اور کوڑوں سے مارنا نہیں ہے، بلکہ ایک ایسا سخت عذاب ہے جس کے مقابلے میں یہ چیزیں بہت ہی کم ہیں۔
فَاِیَّاكُمْ وَ التَّلَوُّنَ فِیْ دِیْنِ اللهِ، فَاِنَّ جَمَاعَةً فِیْمَا تَكْرَهُوْنَ مِنَ الْحَقّ خَیْرٌ مِّنْ فُرْقَةٍ فِیْمَا تُحِبُّوْنَ مِنَ الْبَاطِلِ، وَ اِنَّ اللهَ سُبْحَانَهٗ لَمْ یُعْطِ اَحَدًۢا بِفُرْقَةٍ خَیْرًا مِمَّنْ مَّضٰی، وَ لَا مِمَّنْۢ بَقِیَ.
دین خدا میں رنگ بدلنے سے بچو، کیونکہ تمہارا حق پر ایکا کر لینا جسے تم ناپسند کرتے ہو، باطل راستوں پر جا کر بٹ جانے سے جو تمہارا محبوب مشغلہ ہے، بہتر ہے۔ بے شک اللہ سبحانہ نے اگلوں اور پچھلوں میں سے کسی کو متفرق اور پراگندہ ہو جانے سے کوئی بھلائی نہیں دی۔
یَاۤ اَیُّهَا النَّاسُ! طُوْبٰی لِمَنْ شَغَلَهٗ عَیْبُهٗ عَنْ عُیُوْبِ النَّاسِ، وَ طُوْبٰی لِمَنْ لَّزِمَ بَیْتَهٗ، وَ اَكَلَ قُوْتَهٗ، وَ اشْتَغَلَ بِطَاعَةِ رَبِّهٖ، وَ بَكٰی عَلٰی خَطِیْٓئَتِهٖ، فَكَانَ مِنْ نَّفْسِهٖ فِیْ شُغُلٍ، وَ النَّاسُ مِنْهُ فِیْ رَاحَةٍ!.
اے لوگو! لائق مبارکباد وہ شخص ہے جسے اپنے عیوب دوسروں کی عیب گیری سے باز رکھیں اور قابل مبارکباد وہ شخص ہے جو اپنے گھر (کے گوشہ) میں بیٹھ جائے اور جو کھانا میسر آ جائے کھا لے اور اپنے اللہ کی عبادت میں لگا رہے اور اپنے گناہوں پر آنسو بہائے کہ اس طرح وہ بس اپنی ذات کی فکر میں رہے اور دوسرے لوگ اس سے آرام میں رہیں۔