فہرست خطبات

1- معرفت باری تعالیٰ، زمین و آسمان اور آدمؑ کی خلقت، احکام و حج
2- عرب قبل از بعثت، اہل بیتؑ کی فضیلت اور ایک جماعت کی منقصت
3- (خطبہ شقشقیہ) خلفائے ثلاثہ کی حکومت کے بارے میں آپؑ کا نظریہ
4- آپکیؑ کی دوررس بصیرت، یقین کامل اور موسیؑ کا خوفزدہ ہونا
5- پیغمبرﷺ کے بعد جب ابو سفیان نے آپؑ کی بیعت کرنا چاہی
6- طلحہ و زبیر کے تعاقب سےآپؑ کو روکا گیا تو اس موقع پر فرمایا
7- منافقین کی حالت
8- جب زبیر نے یہ کہا میں نے دل سے بیعت نہ کی تھی تو آپؑ نے فرما
9- اصحاب جمل کا بوداپن
10- طلحہ و زبیر کے بارے میں
11- محمد بن حنفیہ کو آداب حرم کی تعلیم
12- عمل کا کردار اور مدار نیت پر ہے۔
13- بصرہ اور اہل بصرہ کی مذمت میں
14- اہل بصرہ کی مذمت میں
15- عثمان کی دی ہوئی جا گیریں جب پلٹا لیں تو فرمایا
16- جب اہل مدینہ نے آپؑ کے ہاتھ پر بیعت کی تو فرمایا
17- مسند قضا پر بیٹھنے والے نا اہلوں کی مذمت میں
18- علماء کے مختلف الاراء ہونے کی مذمت اور تصویب کی رد
19- اشعث بن قیس کی غداری و نفاق کا تذکرہ
20- موت کی ہولناکی اور اس سے عبرت اندوزی
21- دنیا میں سبکبار رہنے کی تعلیم
22- قتل عثمان کا الزام عائد کرنے والوں کے بارے میں
23- حسد سے باز رہنے اور عزیزو اقارب سے حسن سلوک کے بارے میں
24- جنگ پر آمادہ کرنے کے لیے فرمایا
25- بسر کے حملے کے بعد جنگ سے جی چرانے والوں سے فرمایا
26- عرب قبل از بعثت اور پیغمبرﷺ کے بعد دنیا کی بے رخی
27- جہاد پر برانگیختہ کرنےکے لیے فرمایا
28- دنیا کی بے ثباتی اور زاد آخرت کی اہمیت کا تذکرہ
29- جنگ کے موقعہ پر حیلے بہانے کرنے والوں کے متعلق فرمایا
30- قتل عثمان کے سلسلے میں آپؑ کی روش
31- جنگ جمل پہلے ابن عباس کو زبیر کے پاس جب بھیجنا
32- دنیا کی مذمت اور اہل دنیا کی قسمیں
33- جب جنگ جمل کے لیے روانہ ہوئے تو فرمایا
34- اہل شام کے مقابلے میں لوگوں کو آمادۂ جنگ کرنے کے لیے فرمایا
35- تحکیم کے بارے میں فرمایا
36- اہل نہروان کو ان کے انجام سے مطلع کرنے کے لیے فرمایا
37- اپنی استقامت دینی و سبقت ایمانی کے متعلق فرمایا
38- شبہہ کی وجہ تسمیہ اور دوستان خدا و دشمنان خدا کی مذمت
39- جنگ سے جی چرانے والوں کی مذمت میں
40- خوارج کے قول «لاحکم الا للہ» کے جواب میں فرمایا
41- غداری کی مذمت میں
42- نفسانی خواہشوں اور لمبی امیدوں کے متعلق فرمایا
43- جب ساتھیوں نے جنگ کی تیاری کے لیے کہا تو آپؑ نے فرمایا
44- جب مصقلہ ابن ہبیرہ معاویہ کے پاس بھاگ گیا تو آپؑ نے فرمایا
45- اللہ کی عظمت اور جلالت اور دنیا کی سبکی و بے وقاری کے متعلق
46- جب شام کی جانب روانہ ہوئے تو فرمایا
47- کوفہ پر وارد ہونے والی مصیبتوں کے متعلق فرمایا
48- جب شام کی طرف روانہ ہوئے تو فرمایا
49- اللہ کی عظمت و بزرگی کے بارے میں فرمایا
50- حق و باطل کی آمیزش کے نتائج
51- جب شامیوں نے آپؑ کے ساتھیوں پر پانی بند کر دیا تو فرمایا
52- دنیا کے زوال وفنا اور آخرت کے ثواب و عتاب کے متعلق فرمایا
53- گوسفند قربانی کے اوصاف
54- آپؑ کے ہاتھ پر بیعت کرنے والوں کا ہجوم
55- میدان صفین میں جہاد میں تاخیر پر اعتراض ہوا تو فرمایا
56- میدان جنگ میں آپؑ کی صبر و ثبات کی حالت
57- معاویہ کے بارے میں فرمایا
58- خوارج کےبارے میں آپؑ کی پیشینگوئی
59- خوارج کی ہزیمت کے متعلق آپؑ کی پیشینگوئی
60- جب اچانک قتل کر دیے جانے سے ڈرایا گیا تو آپؑ نے فرمایا
61- دنیا کی بے ثباتی کا تذکرہ
62- دنیا کے زوال و فنا کے سلسلہ میں فرمایا
63- صفات باری کا تذکرہ
64- جنگ صفین میں تعلیم حرب کےسلسلے میں فرمایا
65- سقیفہ بنی ساعدہ کی کاروائی سننے کے بعد فرمایا
66- محمد بن ابی بکرکی خبر شہادت سن کر فرمایا
67- اپنے اصحاب کی کجروی اور بے رخی کے بارے میں فرمایا
68- شب ضربت سحر کے وقت فرمایا
69- اہل عراق کی مذمت میں فرمایا
70- پیغمبرﷺ پر درود بھیجنے کا طریقہ
71- حسنینؑ کی طرف سے مروان کی سفارش کی گئی تو آپؑ نے فرمایا
72- جب لوگوں نے عثمان کی بیعت کا ارادہ کیا تو آپؑ نے فرمایا
73- قتل عثمان میں شرکت کا الزام آپؑ پر لگایا گیا تو فرمایا
74- پند و نصیحت کے سلسلے میں فرمایا
75- بنی امیہ کے متعلق فرمایا
76- دعائیہ کلمات
77- منجمین کی پیشینگوئی کی رد
78- عورتوں کے فطری نقائص
79- پند و نصیحت کے سلسلے میں فرمایا
80- اہل دنیا کے ساتھ دنیا کی روش
81- موت اور اس کے بعد کی حالت، انسانی خلقت کے درجات اور نصائح
82- عمرو بن عاص کے بارے میں
83- تنزیہ بازی اور پند و نصائح کے سلسلے میں فرمایا
84- آخرت کی تیاری اور احکام شریعت کی نگہداشت کے سلسلے میں فرمایا
85- دوستان خدا کی حالت اور علماء سوء کی مذمت میں فرمایا
86- امت کے مختلف گروہوں میں بٹ جانے کے متعلق فرمایا
87- بعثت سے قبل دنیا کی حالت پراگندگی اور موجودہ دور کے لوگ
88- صفات باری اور پند و موعظت کےسلسلے میں فرمایا
89- (خطبہ اشباح) آسمان و زمین کی خلقت
90- جب آپؑ کے ہاتھ پر بیعت ہوئی تو فرمایا
91- خوارج کی بیخ کنی اور اپنے علم کی ہمہ گیری و فتنہ بنی امیہ
92- خداوند عالم کی حمد و ثناء اور انبیاء کی توصیف میں فرمایا
93- بعثت کے وقت لوگوں کی حالت اور پیغمبرﷺ کی مساعی
94- نبی کریم ﷺ کی مدح و توصیف میں فرمایا
95- اپنے اصحاب کو تنبیہہ اور سرزنش کرتے ہوئے فرمایا
96- بنی امیہ اور ان کے مظالم کے متعلق فرمایا
97- ترکِ دینا اور نیرنگیٔ عالم کے سلسلہ میں فرمایا
98- اپنی سیرت و کردار اور اہل بیتؑ کی عظمت کے سلسلہ میں فرمایا
99- عبد الملک بن مروان کی تاراجیوں کے متعلق فرمایا
100- بعد میں پیدا ہونے والے فتنوں کے متعلق فرمایا
101- زہد و تقو یٰ اور اہل دنیا کی حالت کے متعلق فرمایا
102- بعثت سے قبل لوگوں کی حالت اور پیغمبر ﷺکی تبلیغ و ہدایت
103- پیغمبر اکرمﷺ کی مدح و توصیف اور فرائضِ امام کے سلسلہ میں
104- شریعت اسلام کی گرانقدری اور پیغمبرﷺ کی عظمت کے متعلق فرمایا
105- صفین میں جب حصہ لشکر کے قدم اکھڑنے کے جم گئے تو فرمایا
106- پیغمبرﷺ کی توصیف اور لوگوں کے گوناگون حالات کے بارے میں
107- خداوند عالم کی عظمت، ملائکہ کی رفعت ،نزع کی کیفیت اور آخرت
108- فرائضِ اسلام اور علم وعمل کے متعلق فرمایا
109- دنیا کی بے ثباتی کے متعلق فرمایا
110- ملک الموت کے قبضِ رُوح کرنے کے متعلق فرمایا
111- دنیا اور اہل دنیا کے متعلق فرمایا
112- زہد و تقویٰ اور زادِ عقبیٰ کی اہمیت کے متعلق
113- طلب باران کے سلسلہ میں فرمایا
114- آخرت کی حالت اور حجاج ابن یوسف ثقفی کے مظالم کے متعلق
115- خدا کی راہ میں جان و مال سے جہاد کرنے کے متعلق فرمایا
116- اپنے دوستوں کی حالت اور اپنی اولیت کے متعلق فرمایا
117- جب اپنے ساتھیوں کو دعوت جہاد دی اور وہ خاموش رہے تو فرمایا
118- اہل بیتؑ کی عظمت اور قوانین شریعت کی اہمیت کے متعلق فرمایا
119- تحکیم کے بارے میں آپؑ پر اعتراض کیا گیا تو فرمایا
120- جب خوارج تحکیم کے نہ ماننے پر اڑ گئے تو احتجاجاً فرمایا
121- جنگ کے موقع پر کمزور اور پست ہمتوں کی مدد کرنے کی سلسلہ میں
122- میدان صفین میں فنونِ جنگ کی تعلیم دیتے ہوئے فرمایا
123- تحکیم کو قبول کرنے کے وجوہ و اسباب
124- بیت المال کی برابر کی تقسیم پر اعتراض ہوا تو فرمایا
125- خوارج کے عقائد کے رد میں
126- بصرہ میں ہونے والے فتنوں، تباہ کاریوں اور حملوں کے متعلق
127- دنیا کی بے ثباتی اور اہل دنیا کی حالت
128- حضرت ابوذر کو مدینہ بدر کیا گیا تو فرمایا
129- خلافت کو قبول کرنے کی وجہ اور والی و حاکم کے اوصاف
130- موت سے ڈرانے اور پند و نصیحت کے سلسلہ میں فرمایا
131- خداوند ِعالم کی عظمت، قرآن کی اہمیت اور پیغمبرﷺ کی بعثت
132- جب مغیرہ بن اخنس نے عثمان کی حمایت میں بولنا چاہا تو فرمایا
133- غزوہ روم میں شرکت کے لیے مشورہ مانگا گیا تو فرمایا
134- اپنی نیت کے اخلاص اور مظلوم کی حمایت کے سلسلہ میں فرمایا
135- طلحہ و زبیر اور خونِ عثمان کے قصاص اور اپنی بیعت کے متعلق
136- ظہورِ حضرت قائم علیہ السلام کے وقت دُنیا کی حالت
137- شوریٰ کے موقع پر فرمایا
138- غیبت اور عیب جوئی سے ممانعت کے سلسلہ میں فرمایا
139- سُنی سُنائی باتوں کو سچا نہ سمجھنا چاہئے
140- بے محل داد و دہش سے ممانعت اور مال کا صحیح مصرف
141- طلبِ باران کے سلسلہ میں فرمایا
142- اہل بیتؑ راسخون فی العلم ہیں اور وہی امامت وخلافت کے اہل ہیں
143- دُنیا کی اہل دُنیا کے ساتھ روش اور بدعت و سنت کا بیان
144- جب حضرت عمر نے غزوہ فارس کیلئے مشورہ لیا تو فرمایا
145- بعثتِ پیغمبر کی غرض و غایت اور اُس زمانے کی حالت
146- طلحہ وزبیر کے متعلق فرمایا
147- موت سے کچھ قبل بطور وصیّت فرمایا
148- حضرت حجتؑ کی غیبت اور پیغمبرﷺ کے بعد لوگوں کی حالت
149- فتنوں میں لوگوں کی حالت اور ظلم اور اکل حرام سے اجتناب
150- خداوند عالم کی عظمت و جلالت کا تذکرہ اور معرفت امام کے متعلق
151- غفلت شعاروں، چوپاؤں، درندوں اور عورتوں کے عادات و خصائل
152- اہل بیتؑ کی توصیف، علم وعمل کا تلازم اور اعمال کا ثمرہ
153- چمگادڑ کی عجیب و غریب خلقت کے بارے میں
154- حضرت عائشہ کے عناد کی کیفیت اور فتنوں کی حالت
155- دُنیا کی بے ثباتی، پندو موعظت اور اعضاء و جوارح کی شہادت
156- بعثت پیغمبرﷺ کا تذکرہ، بنی اُمیّہ کے مظالم اور ان کا انجام
157- لوگوں کے ساتھ آپ کا حُسنِ سلوک اور ان کی لغزشوں سے چشم پوشی
158- خداوندِعالم کی توصیف ،خوف ورجاء، انبیاءؑ کی زندگی
159- دین اسلام کی عظمت اور دُنیا سے درس عبرت حاصل کرنے کی تعلیم
160- حضرتؑ کو خلافت سے الگ رکھنے کے وجوہ
161- اللہ کی توصیف، خلقت انسان اور ضروریات زندگی کی طرف رہنمائی
162- امیرالمومنینؑ کا عثمان سے مکالمہ اور ان کی دامادی پر ایک نظر
163- مور کی عجیب و غریب خلقت اور جنّت کے دلفریب مناظر
164- شفقت و مہربانی اور ظاہر و باطن کی تعلیم اور بنی امیہ کا زوال
165- حقوق و فرائض کی نگہداشت اور تمام معاملات میں اللہ سے خوف
166- جب لوگوں نے قاتلین عثمان سے قصاص لینے کی فرمائش کی تو فرمایا
167- جب اصحاب جمل بصرہ کی جانب روانہ ہوئے تو فرمایا
168- اہل بصرہ سے تحقیق حال کے لئے آنے والے شخص سے فرمایا
169- صفین میں جب دشمن سے دوبدو ہوکر لڑنے کا ارادہ کیا تو فرمایا
170- جب آپؑ پر حرص کا الزام رکھا گیا تو اس کی رد میں فرمایا
171- خلافت کا مستحق کون ہے اور ظاہری مسلمانوں سے جنگ کرنا
172- طلحہ بن عبیداللہ کے بارے میں فرمایا
173- غفلت کرنے والوں کو تنبیہ اور آپؑ کے علم کی ہمہ گیری
174- پند دو موعظت، قرآن کی عظمت اور ظلم کی اقسام
175- حکمین کے بارے میں فرمایا
176- خداوند عالم کی توصیف، دُنیا کی بے ثباتی اور اسباب زوال نعمت
177- جب پوچھا گیا کہ کیا آپؑ نے خدا کو دیکھا ہے تو فرمایا
178- اپنے اصحاب کی مذمت میں فرمایا
179- خوارج سے مل جانے کا تہیّہ کرنے والی جماعت سے فرمایا
180- خداوند عالم کی تنزیہ و تقدیس اور قدرت کی کا ر فرمائی
181- خداوند عالم کی توصیف، قرآن کی عظمت اور عذاب آخرت سے تخویف
182- جب «لا حکم الا اللہ» کا نعرہ لگایا گیا تو فرمایا
183- خداوند عالم کی عظمت و توصیف اور ٹڈی کی عجیب و غریب خلقت
184- مسائل الٰہیات کے بُنیادی اُصول کا تذکرہ
185- فتنوں کے ابھرنے اور رزقِ حلال کے ناپید ہو جانے کے بارے میں
186- خداوند عالم کے احسانات، مرنے والوں کی حالت اور بے ثباتی دنیا
187- پختہ اور متزلزل ایمان اور دعویٰ سلونی «قبل ان تفقدونی»
188- تقویٰ کی اہمیت، ہولناکی قبر، اللہ، رسول اور اہل بیت کی معرفت
189- خداوند عالم کی توصیف، تقویٰ کی نصیحت، دنیا اور اہل دنیا
190- (خطبہ قاصعہ) جس میں ابلیس کی مذمت ہے۔
191- متقین کے اوصاف اور نصیحت پذیر طبیعتوں پر موعظت کا اثر
192- پیغمبر ﷺکی بعثت، قبائلِ عرب کی عداوت اور منافقین کی حالت
193- خداوند عالم کی توصیف، تقویٰ کی نصیحت اور قیامت کی کیفیت
194- بعثتِ پیغمبرؐ کے وقت دنیا کی حالت، دنیا کی بے ثباتی
195- حضورﷺ کے ساتھ آپؑ کی خصوصیات اور حضور ﷺ کی تجہیز و تکفین
196- خداوند عالم کے علم کی ہمہ گیری، تقویٰ کے فوائد
197- نماز، زکوٰة اور امانت کے بارے میں فرمایا
198- معاویہ کی غداری و فریب کاری اور غداروں کا انجام
199- راہ ہدایت پر چلنے والوں کی کمی اور قوم ثمود کا تذکرہ
200- جناب سیدہ سلام اللہ علیہا کے دفن کے موقع پر فرمایا
201- دنیا کی بے ثباتی اور زاد آخرت مہیا کرنے کے لیے فرمایا
202- اپنے اصحاب کو عقبیٰ کے خطرات سے متنبہ کرتے ہوئے فرمایا
203- طلحہ و زبیر نے مشورہ نہ کرنے کا شکوہ کیا تو فرمایا
204- صفین میں شامیوں پر شب و ستم کیا گیا تو فرمایا
205- جب امام حسنؑ صفین کے میدان میں تیزی سے بڑھے تو فرمایا
206- صفین میں لشکر تحکیم کے سلسلہ میں سرکشی پر اُتر آیا تو فرمایا
207- علاء ابن زیاد حارثی کی عیادت کو موقع پر فرمایا
208- اختلاف احادیث کے وجوہ و اسباب اور رواة حدیث کے اقسام
209- خداوند عالم کی عظمت اور زمین و آسمان اور دریاؤں کی خلقت
210- حق کی حمایت سے ہاتھ اٹھا لینے والوں کے بارے میں فرمایا
211- خداوند عالم کی عظمت اور پیغمبرؐ کی توصیف و مدحت
212- پیغمبرﷺ کی خاندانی شرافت اور نیکو کاروں کے اوصاف
213- آپؑ کے دُعائیہ کلمات
214- حکمران اور رعیّت کے باہمی حقوق کے بارے میں فرمایا
215- قریش کے مظالم کے متعلق فر مایا اور بصرہ پر چڑھائی کے متعلق
216- طلحہ اور عبد الرحمن بن عتاب کو مقتول دیکھا تو فرمایا
217- متقی و پرہیزگار کے اوصاف
218- ”الہاکم التکاثر حتی زرتم المقابر“ کی تلاوت کے وقت فرمایا
219- ” رجال لا تلہیھم تجارة و لا بیع عن ذکر اللہ “ کی تلاوت کے وق
220- ” یا اٴیھا الانسان ما غرّک بربک الکریم “ کی تلاوت کے وقت فرم
221- ظلم و غصب سے کنارہ کشی، عقیل کی حالت فقر و احتیاج، اور اشعث
222- آپؑ کے دُعائیہ کلمات
223- دنیا کی بے ثباتی اور اہل قبور کی حالت بے چارگی
224- آپؑ کے دُعائیہ کلمات
225- انتشار و فتنہ سے قبل دنیا سے اٹھ جانے والوں کے متعلق فرمایا
226- اپنی بیعت کے متعلق فرمایا
227- تقویٰ کی نصیحت موت سے خائف رہنے اور زہد اختیار کرنے کے متعلق
228- جب بصرہ کی طرف روانہ ہوئے تو فرمایا
229- عبد اللہ ابن زمعہ نے آپؑ سے مال طلب کیا تو فرمایا
230- جب جعدہ ابن ہبیرہ خطبہ نہ دے سکے تو فرمایا
231- لوگوں کے اختلاف صورت و سیرت کی وجوہ و اسباب
232- پیغمبر ﷺ کو غسل و کفن دیتے وقت فرمایا
233- ہجرتِ پیغمبر ﷺ کے بعد اُن کے عقب میں روانہ ہونے کے متعلق
234- زادِ آخرت مہیا کرنے اور موت سے پہلے عمل بجا لانے کے متعلق
235- حکمین کے بارے میں فرمایا اور اہل شام کی مذمت میں فرمایا
236- آلِ محمدؑ کی توصیف اور روایت میں عقل و درایت سے کام لینا
237- جب عثمان نے ینبع چلے جانے کے لیے پیغام بھجوایا تو فرمایا
238- اصحاب کو آمادہ جنگ کرنے اور آرام طلبی سے بچنے کے لئے فرمایا

Quick Contact

یقین کی حالت میں سونا شک کی حالت میں نماز پڑھنے سے بہتر ہے۔ حکمت 97
(١٢٦) وَ مِنْ كَلَامٍ لَّهٗ عَلَیْهِ السَّلَامُ
خطبہ (۱۲۶)
فِیْمَا یُخْبِرُ بِهٖ عَنِ الْمَلَاحِمِ بِالْبَصْرَةِ
اس میں بصرہ کے اندر برپا ہونے والے ہنگاموں کا تذکرہ ہے
یاۤ اَحْنَفُ! كَاَنِّیْ بِهٖ وَ قَدْ سَارَ بِالْجَیْشِ الَّذِیْ لَا یَكُوْنُ لَهٗ غُبَارٌ وَّ لَا لَجَبٌ، وَ لَا قَعْقَعَةُ لُجُمٍ، وَ لَا حَمْحَمَةُ خَیْلٍ، یُثِیْرُوْنَ الْاَرْضَ بِاَقْدَامِهِمْ كَاَنَّهاۤ اَقْدَامُ النَّعَامِ.
اے احنف! میں اس شخص کو اپنی آنکھوں سے دیکھ رہا ہوں کہ وہ ایک ایسے لشکر کو لے کر بڑھ رہا ہے کہ جس میں نہ گرد و غبار ہے، نہ شور و غوغا، نہ لگاموں کی کھڑکھڑاہٹ ہے اور نہ گھوڑوں کے ہنہنانے کی آواز۔ وہ لوگ زمین کو اپنے پَیروں سے جو شتر مرغ کے پیروں کے مانند ہیں روند رہے ہوں گے۔
یُوْمِئُ بِذٰلِكَ اِلٰی صَاحِبِ الزِّنْجِ. ثُمَّ قَالَ ؑ:
سیّد رضی کہتے ہیں کہ: حضرتؑ نے اس سے حبشیوں کے سردار [۱] کی طرف اشارہ کیا ہے۔ پھر آپؑ نے فرمایا:
وَیْلٌ لِّسِكَـكِكُمُ الْعَامِرَةِ، وَ الدُّوْرِ الْمُزَخْرَفَةِ الَّتِیْ لَهَاۤ اَجْنِحَةٌ كَاَجْنَحَةِ النُّسُوْرِ، وَ خَرَاطِیْمُ كَخَرَاطِیْمِ الْفِیَلَةِ، مِنْ اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ لَا یُنْدَبُ قَتِیْلُهُمْ، وَ لَا یُفْقَدُ غَآئِبُهُمْ. اَنَا كَآبُّ الدُّنْیَا لِوَجْهِهَا، وَ قَادِرُهَا بِقَدْرِهَا، وَ نَاظِرُهَا بِعَیْنِهَا.
ان لوگوں کے ہاتھوں سے کہ جن کے قتل ہو جانے والوں پر بین نہیں کیا جاتا اور گم ہونے والوں کو ڈھونڈھا نہیں جاتا، تمہاری ان آباد گلیوں اور سجے سجائے مکانوں کیلئے تباہی ہے کہ جن کے چھجے گِدوں کے پروں اور ہاتھیوں کی سونڈوں کے مانند ہیں۔ میں دنیا کو اوندھے منہ گرانے والا اور اس کی بساط کا صحیح اندازہ رکھنے والا اور اس کے لائق حال نگاہوں سے دیکھنے والا ہوں۔
[مِنْهُ: یُوْمِئُ بِہٖۤ اِلٰی وَصْفِ الْاَتْرَاكِ]
[اسی خطبہ کے ذیل میں ترکوں کی حالت کی طرف اشارہ کیا ہے]
كَاَنِّیْۤ اَرَاهُمْ قَوْمًا كَاَنَّ وُجُوْهَهُمُ الْمَجَانُّ الْمُطْرَقَةُ، یَلْبَسُوْنَ السَّرَقَ وَ الدِّیْبَاجَ، وَ یَعْتَقِبُوْنَ الْخَیْلَ الْعِتَاقَ، وَ یَكُوْنُ هُنَاكَ اسْتِحْرَارُ قَتْلٍ، حَتّٰی یَمْشِیَ الْمَجْرُوْحُ عَلَی الْمَقْتُوْلِ، وَ یَكُوْنَ الْمُفْلِتُ اَقَلَّ مِنَ الْمَاْسُوْرِ!.
میں ایسے لوگوں [۲] کو دیکھ رہا ہوں کہ جن کے چہرے ان ڈھالوں کی طرح ہیں کہ جن پر چمڑے کی تہیں منڈھی ہوئی ہوں۔ وہ ابریشم و دیبا کے کپڑے پہنتے ہیں اور اصیل گھوڑوں کو عزیز رکھتے ہیں اور وہاں کشت و خون کی گرم بازاری ہو گی، یہاں تک کہ زخمی کشتوں کے اوپر سے ہو کر گزریں گے اور بچ کر بھاگ نکلنے والے اسیر ہونے والوں سے کم ہوں گے۔
فَقَالَ لَهٗ بَعْضُ اَصْحَابِهٖ: لَقَدْ اُعْطِیْتَ یَاۤ اَمِیْرَ الْمُؤْمِنِیْنَ عِلْمَ الْغَیْبِ! فَضَحِكَ ؑ وَ قَالَ لِلرَّجُلِ ـ وَ كَانَ كَلْبِیًّاـ:
(اس موقع پر) آپؑ کے اصحاب میں سے ایک شخص نے جو قبیلہ بنی کلب سے تھا عرض کیا کہ: یا امیرالمومنینؑ! آپؑ کو تو علم غیب [۳] حاصل ہے۔ جس پر آپؑ ہنسے اور فرمایا:
یاۤ اَخَا كَلْبٍ! لَیْسَ هُوَ بِعِلْمِ غَیْبٍ، وَ اِنَّمَا هُوَ تَعَلُّمٌ مِّنْ ذِیْ عِلْمٍ، وَ اِنَّمَا عِلْمُ الْغَیْبِ عِلْمُ السَّاعَةِ، وَ مَا عَدَّدَهُ اللهُ سُبْحَانَهٗ بِقَوْلِهٖ: ﴿اِنَّ اللّٰهَ عِنْدَهٗ عِلْمُ السَّاعَةِ ۚ ...﴾ الْاٰیَةَ، فَیَعْلَمُ سُبْحَانَهٗ مَا فِی الْاَرْحَامِ مِنْ ذَكَرٍ اَوْ اُنْثٰی، وَ قَبِیْحٍ اَوْ جَمِیْلٍ، وَ سَخِیٍّ اَوْ بَخِیْلٍ، وَ شَقیٍّ اَوْ سَعِیْدٍ، وَ مَنْ یَّكُوْنُ فِی النَّارِ حَطَبًا، اَوْ فِی الْجِنَانِ لِلنَّبِیِّیْنَ مُرَافِقًا، فَهٰذَا عِلْمُ الْغَیْبِ الَّذِیْ لَا یَعْلَمُهٗۤ اَحَدٌ اِلَّا اللهُ، وَ مَا سِوٰی ذٰلِكَ فَعِلْمٌ عَلَّمَهُ اللهُ نَبِیَّهٗ بِہٖ فَعَلَّمَنِیْهِ، وَ دَعَا لِیْ بِاَنْ یَّعِیَهٗ صَدْرِیْ، وَ تَضْطَمَّ عَلَیْهِ جَوَانِحِیْ.
اے برادر کلبی! یہ علم غیب نہیں، بلکہ ایک صاحب علم (رسولؐ) سے معلوم کی ہوئی باتیں ہیں۔علم غیب تو قیامت کی گھڑی اور ان چیزوں کے جاننے کا نام ہے کہ جنہیں اللہ سبحانہ نے ﴿اِنَّ اللّٰهَ عِنْدَهٗ عِلْمُ السَّاعَةِ ۚ ...﴾ والی آیت میں شمار کیا ہے۔ چنانچہ اللہ ہی جانتا ہے کہ شکموں میں کیا ہے، نر ہے یا مادہ، بد صورت ہے یا خوبصورت، سخی ہے یا بخیل، بدبخت ہے یا خوش نصیب اور کون جہنم کا ایندھن ہو گا اور کون جنت میں نبیوں کا رفیق ہو گا۔ یہ وہ علم غیب ہے جسے اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ رہا دوسری چیزوں کا علم تو وہ اللہ نے اپنے نبیؐ کو دیا اور نبیؐ نے مجھے بتایا اور میرے لئے دُعا فرمائی کہ میرا سینہ انہیں محفوظ رکھے اور میری پسلیاں انہیں سمیٹے رہیں۔

۱؂علی ابن محمد ’’رے‘‘ کے مضافات میں ورزنین نامی ایک گاؤں میں پیدا ہوا۔ خوارج کے فرقہ ازارقہ سے تعلق رکھتا تھا اور خود کو محمد ابن احمد مختفی ابن عیسیٰ ابن زید ابن علی کا فرزند کہہ کر سیادت کا مدعی بنتا تھا، مگر اہل انساب و سیر نے اس کے دعوائے سیادت کو تسلیم کرنے سے انکار کیا ہے اور اس کے باپ کا نام ’’محمد ابن احمد‘‘ کے بجائے ’’محمد ابنِ ابراہیم‘‘ تحریر کیا ہے جو قبیلہ عبدالقیس سے تھا اور ایک سندھی کنیز کے بطن سے متولد ہوا تھا۔
علی ابن محمد نے ۲۵۵ھ میں مہتدی باللہ کے دور میں خروج کیا اور اطراف بصرہ میں بسنے والے غلاموں کو مال و دولت اور آزادی کا لالچ دے کر اپنے ساتھ ملا لیا اور ۱۷ شوال ۲۵۷ھ میں مار دھاڑ کرتا ہوا بصرہ کے اندر داخل ہوا اور صرف دو دن میں تیس ہزار افراد کو کہ جن میں بچے، بوڑھے، عورتیں سب ہی تھیں موت کے گھاٹ اتار دیا اور ظلم و سفاکی اور وحشت و خونخواری کی انتہا کر دی۔ مکانوں کو مسمار کر دیا اور مسجدوں میں آگ لگا دی اور لگاتار چودہ برس تک قتل و غارت گری کے بعد موفق کے دور میں صفر ۲۷۰ھ میں قتل ہوا اور لوگوں کو اس کی تباہ کاریوں سے نجات ملی۔
امیر المومنین علیہ السلام کی یہ پیشین گوئی ان پیشین گوئیوں میں سے ہے جو آپؑ کے علم امامت پر روشنی ڈالتی ہیں۔ چنانچہ اس کے لشکر کی جو کیفیت بیان فرمائی ہے کہ نہ اس میں گھوڑوں کے ہنہنانے کی آواز اور نہ ہتھیاروں کے کھڑکھڑانے کی صدا ہو گی، ایک تاریخی حیثیت رکھتی ہے۔ جیسا کہ مُؤرخ طبری نے لکھا ہے کہ: جب یہ خروج کے ارادے سے مقام کرخ کے قریب پہنچا تو وہاں کے لوگوں نے اس کا خیر مقدم کیا اور ایک شخص نے ایک گھوڑا بطور تحفہ اسے پیش کیا، مگر تلاش کے باوجود اس کیلئے لگام نہ مل سکی۔ آخر ایک رسی کی لگام دے کر اس پر سوار ہوا اور یونہی اس کے لشکر میں اس وقت صرف تین تلواریں تھیں: ایک خود اس کے پاس اور ایک علی ابن ابان مہلبی اور ایک محمد ابن مسلم کے پاس اور بعد میں لوٹ مار سے کچھ اور اسلحہ ان کے ہاتھ لگ گیا تھا۔
۲؂امیر المومنین علیہ السلام کی یہ پیشین گوئی تاتاریوں کے حملہ کے متعلق ہے جو ترکستان کے شمال مشرق کی جانب صحرائے منگولیا کے رہنے والے تھے۔
ان نیم وحشی قبیلوں کی زندگی لوٹ مار اور قتل و غارت میں گزرتی تھی اور آپس میں لڑتے بھڑتے اور گرد و نواح پر حملے کرتے رہتے تھے۔ ہر قبیلہ کا سردار الگ الگ ہوتا تھا جو ان کی حفاظت کا ذمہ دار سمجھا جاتا تھا۔ چنگیز خان جو انہی تاتاری قبائل کے حکمران خاندان کا ایک فرد اور بڑا باہمت و جرأت مند تھا ان تمام منتشر و پراگندہ قبیلوں کو منظم کرنے کیلئے اٹھا اور ان کے مزاحم ہونے کے باوجود اپنی قوت و حسن تدبیر سے ان پر قابو پانے میں کامیاب ہو گیا اور ایک کثیر تعداد اپنے پرچم کے نیچے جمع کر کے ۶۰۶ھ میں سیلاب کی طرح امنڈا اور شہروں کو غرق اور آبادیوں کو ویران کرتا ہوا شمالی چین تک کا علاقہ فتح کر لیا۔
جب اس کا اقتدار قائم ہو گیا تو اس نے اپنے ہمسایہ ملک ترکستان کے فرمانروا علاؤ الدین خوارزم شاہ کی طرف دست مصالحت بڑھایا اور ایک وفد بھیج کر اس سے عہد لیا کہ تاتاری تاجر اس کے علاقہ میں خرید و فروخت کیلئے آتے جاتے رہیں گے۔ ان کے جان و مال کو کسی قسم کا گزند نہ پہنچایا جائے۔ چنانچہ کچھ عرصہ تک وہ بے کھٹکے آتے جاتے رہے، مگر ایک موقع پر اس نے تاتاری تاجروں پر جاسوسی کا الزام لگا کر ان کا مال لوٹ لیا اور انہیں والیٔ اترار کے ذریعہ قتل کروا دیا۔ چنگیز خان کو جب معاہدہ کی خلاف ورزی اور تاتاری تاجروں کے مارے جانے کا علم ہوا تو اس کی آنکھوں سے شرارے برسنے لگے، غصہ میں پیچ و تاب کھانے لگا اور علاؤ الدین کو پیغام بھیجا کہ وہ تاتاری تاجروں کا مال واپس کرے اور والیٔ اترار کو اس کے حوالے کرے، مگر علاؤ الدین اپنی قوت و طاقت کے نشہ میں مدہوش تھا، اس نے کوئی پروا نہ کی اور عاقبت نا اندیشی سے کام لیتے ہوئے چنگیز خان کے ایلچی کو بھی مروا دیا۔ اب چنگیز خان میں تابِ ضبط نہ رہی۔ اس کی آنکھوں میں خون اتر آیا۔ شمشیر بکف اٹھ کھڑا ہوا اور تاتاری جنگجو باد رفتار گھوڑے دوڑاتے ہوئے بخارا پر چڑھ دوڑے۔ علاؤ الدین بھی چار لاکھ نبرد آزماؤں کے ساتھ مقابلہ کو نکلا مگر تاتاریوں کے تابڑ توڑ حملوں کو نہ روک سكا اور چند ہی حملوں میں سپر انداختہ ہو کر جیحون کے راستہ سے نیشاپور کی طرف بھاگ کھڑا ہوا۔ تاتاریوں نے بخارا کی اینٹ سے اینٹ بجا دی۔ مسجدوں اور مدرسوں کو مسمار اور گھروں کو پھونک کر راکھ کا ڈھیر کر دیا اور بلا امتیاز زن و مرد سب کو موت کے گھاٹ اتار دیا اور اگلے سال سمرقند پر یورش کی اور اسے بھی تباہ و برباد کر کے رکھ دیا۔
علاؤ الدین کے نکل بھاگنے کے بعد اس کے بیٹے جلال الدین خوارزم شاہ نے حکومت کی باگ ڈور سنبھال لی تھی۔ تاتاریوں نے اس کا بھی پیچھا کیا، مگر وہ دس برس تک اِدھر سے اُدھر بھاگتا پھرا اور ان کے ہاتھ نہ لگا اور آخر دریا کو عبور کر کے اپنی حدودِ سلطنت سے باہر نکل گیا۔ اس اثنا میں تاتاریوں نے آباد زمینوں کو ویران اور نسلِ انسانی کو تباہ کرنے میں کوئی دقیقہ اٹھا نہ رکھا۔ نہ کوئی شہر ان کی غارت گریوں سے بچ سکا اور نہ کوئی آبادی ان کی پامالیوں سے محفوظ رہ سکی۔ جدھر کا رخ کیا مملکتوں کو تہ و بالا کر دیا، حکومتوں کا تختہ الٹ دیا اور تھوڑے عرصہ میں ایشیا کے بالائی حصہ پر اپنا اقتدار قائم کر لیا۔
جب ۶۲۲ھ میں چنگیز خان کا انتقال ہوا تو اس کی جگہ اس کا بیٹا اوکتائی خان تخت نشین ہوا جس نے ۶۲۸ھ میں جلال الدین کو ڈھونڈھ نکالا اور اسے قتل کر دیا۔ اس کے بعد چنگیز خان کے دوسرے لڑکے تولی خان کا بیٹا منکو خان تخت حکومت پر بیٹھا۔ منکو خان کے بعد قوبیلائی خان مملکت کے ایک حصہ کا وارث ہوا اور وسط ایشیا اس کے بھائی ہلاکو خان کے حصہ میں آیا۔ جب سلطنت چنگیز خان کے پوتوں میں بٹ گئی تو ہلاکو خان اسلامی ممالک کو تسخیر کرنے کی فکر میں تھا ہی کہ خراسان کے حنفیوں نے شافعیوں کی ضد میں آ کر اسے خراسان پر حملہ کرنے کی دعوت دی۔ چنانچہ اس نے خراسان پر چڑھائی کر دی اور حنفیوں نے اپنے کو تاتاری تلواروں سے محفوظ سمجھتے ہوئے شہر کے دروازے کھول دیئے۔ مگر تاتاریوں نے حنفیوں اور شافعیوں میں کوئی امتیاز نہ کیا اور جو سامنے آیا اسے تہ تیغ کر دیا اور وہاں کی بیشتر آبادی کو قتل کرنے کے بعد اسے اپنے مقبوضات میں داخل کر لیا اور انہی شافعیوں اور حنفیوں کے جھگڑوں نے اس کیلئے عراق تک کے فتوحات کا دروازہ کھول دیا۔ چنانچہ خراسان کو فتح کرنے کے بعد اس کی ہمت بڑھ گئی اور ۶۵۶ھ میں دو لاکھ تاتاریوں کے ساتھ بغداد کی جانب لشکر کشی کی۔ معتصم باللہ کی فوج اور اہل بغداد نے مل کر مقابلہ کیا مگر اس سیلاب بلا کو روکنا ان کے بس میں نہ تھا۔ چنانچہ تاتاری مار دھاڑ کرتے ہوئے عاشورا کے دن بغداد کے اندر داخل ہو گئے اور چالیس دن تک اپنی خون آشام تلواروں کی پیاس بجھاتے رہے۔ گلی کوچوں میں خون کی ندیاں بہا دیں، راستے لاشوں سے پاٹ دیئے، لاکھوں آدمیوں کو تہ تیغ کر دیا اور معتصم باللہ کو پیروں کے نیچے روند کر مار ڈالا اور صرف وہی لوگ بچ سکے جو کنوؤں اور تہ خانوں میں چھپ کر ان کی انکھوں سے اوجھل رہ سکے۔ یہ تھی بغداد کی وہ تباہی کہ جس سے عباسی سلطنت بنیاد سے ہل گئی اور اس کا پرچم پھر لہرانہ سکا۔
بعض مؤرخین نے اس تباہی و بربادی کی ذمہ داری ابن علقمی پر عائد کی ہے کہ اس نے شیعوں کے قتلِ عام اور محلہ کرخ کی تباہی سے متاثر ہو کر نصیر الدین طوسی وزیر ہلاکو خان کی وساطت سے اسے بغداد پر حملہ آور ہونے کی دعوت دی۔ اگر ایسا ہو بھی تو اس تاریخی حقیقت کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا کہ اس سے پہلے اسلامی ممالک پر حملہ کرنے کی تحریک خلیفہ عباسی الناصر لدین اللہ کر چکا تھا۔ چنانچہ جب خوارزمیوں نے مرکز خلافت کے اقتدار کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیا تو اس نے چنگیز خان کو خوارزم پر حملہ کرنے کیلئے کہلوایا تھا جس سے تاتاریوں کو یہ اندازہ ہو گیا کہ مسلمانوں میں یکجہتی و اتحاد نہیں ہے اور پھر حنفیوں نے شافعیوں کی سرکوبی کیلئے ہلاکو خان کو بلاوا بھیجا تھا جس کے نتیجہ میں خراسان پر ان کا اقتدار قائم ہو گیا اور بغداد کی طرف پیش قدمی کرنے کیلئے انہیں راستہ مل گیا۔ ان حالات میں بغداد کی تباہی کا ذمہ دار صرف ابن علقمی کو ٹھہرانا اور الناصر لدین اللہ کی تحریک اور حنفی و شافعی نزاع کو نظر انداز کر دینا حقیقت پر پردہ ڈالنا ہے، جب کہ بغداد کی تباہی کا پیش خیمہ یہی خراسان کی فتح تھی کہ جس کا سبب وہاں کے حنفی باشندے تھے۔ چنانچہ اسی فتح کی وجہ سے اس کا اتنا حوصلہ ہوا کہ وہ مسلمانوں کے مرکز پر حملہ آور ہو، ورنہ محض ایک شخص کے پیغام کا نتیجہ یہ نہیں ہو سکتا کہ وہ بغداد ایسے قدیم مرکز پر یلغار کرتا ہوا پہنچ جاتا کہ جس کی سطوت و ہیبت کی دھاک ایک دنیا کے دلوں پر بیٹھی ہوئی تھی۔
ذاتی طور پر عالم الغیب ہونا اور چیز ہے اور اللہ کی طرف سے کسی امر پر مطلع ہو کر خبر دینا دوسری چیز ہے۔ انبیاء و اولیاء علیہم السلام کو جو مستقبل کا علم ہوتا ہے وہ اللہ ہی کے سکھانے اور بتانے سے ہوتا ہے اگر کوئی ذاتی طور پر مستقبل میں وقوع پذیر ہونے والی چیزوں سے آگاہ ہے تو وہ صرف اللہ سبحانہ ہے۔ البتہ وہ جس کو چاہتا ہے امور غیب پر مطلع کر دیتا ہے، چنانچہ اس کا ارشاد ہے:
﴿عٰلِمُ الْغَيْبِ فَلَا يُظْهِرُ عَلٰى غَيْبِهٖۤ اَحَدًا ۙ‏ ﴿۲۶﴾ اِلَّا مَنِ ارْتَضٰى مِنْ رَّسُوْلٍ﴾
وہی غیب کا جاننے والا ہے اور اپنی غیب کی بات کسی پر ظاہر نہیں کرتا، مگر جس پیغمبر کو وہ پسند فرمائے۔(۱)
یونہی امیر المومنین علیہ السلام کو بھی مستقبل کا علم تعلیم رسولؐ و القائے ربانی سے حاصل ہوتا تھا جس کیلئے آپؑ کا یہ کلام شاہد ہے۔ البتہ کبھی بعض چیزوں پر مطلع کرنے کی مصلحت یا ضرورت نہیں ہوتی تو انہیں پردۂ خفا میں رہنے دیا جاتا ہے جن پر کوئی آگاہ نہیں ہو سکتا، جیسا کہ قدرت کا ارشاد ہے:
﴿ اِنَّ اللّٰهَ عِنْدَهٗ عِلْمُ السَّاعَةِ‌ ۚ وَيُنَزِّلُ الْغَيْثَ‌ ۚ وَيَعْلَمُ مَا فِى الْاَرْحَامِ‌ ؕ وَمَا تَدْرِىْ نَفْسٌ مَّاذَا تَكْسِبُ غَدًا‌ ؕ وَّمَا تَدْرِىْ نَـفْسٌۢ بِاَىِّ اَرْضٍ تَمُوْتُ ‌ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَلِيْمٌ خَبِيْرٌ ‏ ﴾
بے شک قیامت کا علم اللہ ہی کے پاس ہے اور وہی مینہ برساتا ہے اور شکموں میں جو کچھ ہے وہ جانتا ہے اور کوئی شخص یہ نہیں جانتا کہ وہ کل کیا کرے گا اور نہ کوئی شخص یہ جانتا ہے کہ وہ کس سرزمین پر مرے گا۔ بے شک اللہ (ان چیزوں سے) آگاہ اور با خبر ہے۔(۲)

[۱]۔ سورۂ جن، آیت ۲۶-۲۷۔
[۲]۔ سورۂ لقمان، آیت ۳۴۔