فہرست خطبات

1- معرفت باری تعالیٰ، زمین و آسمان اور آدمؑ کی خلقت، احکام و حج
2- عرب قبل از بعثت، اہل بیتؑ کی فضیلت اور ایک جماعت کی منقصت
3- (خطبہ شقشقیہ) خلفائے ثلاثہ کی حکومت کے بارے میں آپؑ کا نظریہ
4- آپکیؑ کی دوررس بصیرت، یقین کامل اور موسیؑ کا خوفزدہ ہونا
5- پیغمبرﷺ کے بعد جب ابو سفیان نے آپؑ کی بیعت کرنا چاہی
6- طلحہ و زبیر کے تعاقب سےآپؑ کو روکا گیا تو اس موقع پر فرمایا
7- منافقین کی حالت
8- جب زبیر نے یہ کہا میں نے دل سے بیعت نہ کی تھی تو آپؑ نے فرما
9- اصحاب جمل کا بوداپن
10- طلحہ و زبیر کے بارے میں
11- محمد بن حنفیہ کو آداب حرم کی تعلیم
12- عمل کا کردار اور مدار نیت پر ہے۔
13- بصرہ اور اہل بصرہ کی مذمت میں
14- اہل بصرہ کی مذمت میں
15- عثمان کی دی ہوئی جا گیریں جب پلٹا لیں تو فرمایا
16- جب اہل مدینہ نے آپؑ کے ہاتھ پر بیعت کی تو فرمایا
17- مسند قضا پر بیٹھنے والے نا اہلوں کی مذمت میں
18- علماء کے مختلف الاراء ہونے کی مذمت اور تصویب کی رد
19- اشعث بن قیس کی غداری و نفاق کا تذکرہ
20- موت کی ہولناکی اور اس سے عبرت اندوزی
21- دنیا میں سبکبار رہنے کی تعلیم
22- قتل عثمان کا الزام عائد کرنے والوں کے بارے میں
23- حسد سے باز رہنے اور عزیزو اقارب سے حسن سلوک کے بارے میں
24- جنگ پر آمادہ کرنے کے لیے فرمایا
25- بسر کے حملے کے بعد جنگ سے جی چرانے والوں سے فرمایا
26- عرب قبل از بعثت اور پیغمبرﷺ کے بعد دنیا کی بے رخی
27- جہاد پر برانگیختہ کرنےکے لیے فرمایا
28- دنیا کی بے ثباتی اور زاد آخرت کی اہمیت کا تذکرہ
29- جنگ کے موقعہ پر حیلے بہانے کرنے والوں کے متعلق فرمایا
30- قتل عثمان کے سلسلے میں آپؑ کی روش
31- جنگ جمل پہلے ابن عباس کو زبیر کے پاس جب بھیجنا
32- دنیا کی مذمت اور اہل دنیا کی قسمیں
33- جب جنگ جمل کے لیے روانہ ہوئے تو فرمایا
34- اہل شام کے مقابلے میں لوگوں کو آمادۂ جنگ کرنے کے لیے فرمایا
35- تحکیم کے بارے میں فرمایا
36- اہل نہروان کو ان کے انجام سے مطلع کرنے کے لیے فرمایا
37- اپنی استقامت دینی و سبقت ایمانی کے متعلق فرمایا
38- شبہہ کی وجہ تسمیہ اور دوستان خدا و دشمنان خدا کی مذمت
39- جنگ سے جی چرانے والوں کی مذمت میں
40- خوارج کے قول «لاحکم الا للہ» کے جواب میں فرمایا
41- غداری کی مذمت میں
42- نفسانی خواہشوں اور لمبی امیدوں کے متعلق فرمایا
43- جب ساتھیوں نے جنگ کی تیاری کے لیے کہا تو آپؑ نے فرمایا
44- جب مصقلہ ابن ہبیرہ معاویہ کے پاس بھاگ گیا تو آپؑ نے فرمایا
45- اللہ کی عظمت اور جلالت اور دنیا کی سبکی و بے وقاری کے متعلق
46- جب شام کی جانب روانہ ہوئے تو فرمایا
47- کوفہ پر وارد ہونے والی مصیبتوں کے متعلق فرمایا
48- جب شام کی طرف روانہ ہوئے تو فرمایا
49- اللہ کی عظمت و بزرگی کے بارے میں فرمایا
50- حق و باطل کی آمیزش کے نتائج
51- جب شامیوں نے آپؑ کے ساتھیوں پر پانی بند کر دیا تو فرمایا
52- دنیا کے زوال وفنا اور آخرت کے ثواب و عتاب کے متعلق فرمایا
53- گوسفند قربانی کے اوصاف
54- آپؑ کے ہاتھ پر بیعت کرنے والوں کا ہجوم
55- میدان صفین میں جہاد میں تاخیر پر اعتراض ہوا تو فرمایا
56- میدان جنگ میں آپؑ کی صبر و ثبات کی حالت
57- معاویہ کے بارے میں فرمایا
58- خوارج کےبارے میں آپؑ کی پیشینگوئی
59- خوارج کی ہزیمت کے متعلق آپؑ کی پیشینگوئی
60- جب اچانک قتل کر دیے جانے سے ڈرایا گیا تو آپؑ نے فرمایا
61- دنیا کی بے ثباتی کا تذکرہ
62- دنیا کے زوال و فنا کے سلسلہ میں فرمایا
63- صفات باری کا تذکرہ
64- جنگ صفین میں تعلیم حرب کےسلسلے میں فرمایا
65- سقیفہ بنی ساعدہ کی کاروائی سننے کے بعد فرمایا
66- محمد بن ابی بکرکی خبر شہادت سن کر فرمایا
67- اپنے اصحاب کی کجروی اور بے رخی کے بارے میں فرمایا
68- شب ضربت سحر کے وقت فرمایا
69- اہل عراق کی مذمت میں فرمایا
70- پیغمبرﷺ پر درود بھیجنے کا طریقہ
71- حسنینؑ کی طرف سے مروان کی سفارش کی گئی تو آپؑ نے فرمایا
72- جب لوگوں نے عثمان کی بیعت کا ارادہ کیا تو آپؑ نے فرمایا
73- قتل عثمان میں شرکت کا الزام آپؑ پر لگایا گیا تو فرمایا
74- پند و نصیحت کے سلسلے میں فرمایا
75- بنی امیہ کے متعلق فرمایا
76- دعائیہ کلمات
77- منجمین کی پیشینگوئی کی رد
78- عورتوں کے فطری نقائص
79- پند و نصیحت کے سلسلے میں فرمایا
80- اہل دنیا کے ساتھ دنیا کی روش
81- موت اور اس کے بعد کی حالت، انسانی خلقت کے درجات اور نصائح
82- عمرو بن عاص کے بارے میں
83- تنزیہ بازی اور پند و نصائح کے سلسلے میں فرمایا
84- آخرت کی تیاری اور احکام شریعت کی نگہداشت کے سلسلے میں فرمایا
85- دوستان خدا کی حالت اور علماء سوء کی مذمت میں فرمایا
86- امت کے مختلف گروہوں میں بٹ جانے کے متعلق فرمایا
87- بعثت سے قبل دنیا کی حالت پراگندگی اور موجودہ دور کے لوگ
88- صفات باری اور پند و موعظت کےسلسلے میں فرمایا
89- (خطبہ اشباح) آسمان و زمین کی خلقت
90- جب آپؑ کے ہاتھ پر بیعت ہوئی تو فرمایا
91- خوارج کی بیخ کنی اور اپنے علم کی ہمہ گیری و فتنہ بنی امیہ
92- خداوند عالم کی حمد و ثناء اور انبیاء کی توصیف میں فرمایا
93- بعثت کے وقت لوگوں کی حالت اور پیغمبرﷺ کی مساعی
94- نبی کریم ﷺ کی مدح و توصیف میں فرمایا
95- اپنے اصحاب کو تنبیہہ اور سرزنش کرتے ہوئے فرمایا
96- بنی امیہ اور ان کے مظالم کے متعلق فرمایا
97- ترکِ دینا اور نیرنگیٔ عالم کے سلسلہ میں فرمایا
98- اپنی سیرت و کردار اور اہل بیتؑ کی عظمت کے سلسلہ میں فرمایا
99- عبد الملک بن مروان کی تاراجیوں کے متعلق فرمایا
100- بعد میں پیدا ہونے والے فتنوں کے متعلق فرمایا
101- زہد و تقو یٰ اور اہل دنیا کی حالت کے متعلق فرمایا
102- بعثت سے قبل لوگوں کی حالت اور پیغمبر ﷺکی تبلیغ و ہدایت
103- پیغمبر اکرمﷺ کی مدح و توصیف اور فرائضِ امام کے سلسلہ میں
104- شریعت اسلام کی گرانقدری اور پیغمبرﷺ کی عظمت کے متعلق فرمایا
105- صفین میں جب حصہ لشکر کے قدم اکھڑنے کے جم گئے تو فرمایا
106- پیغمبرﷺ کی توصیف اور لوگوں کے گوناگون حالات کے بارے میں
107- خداوند عالم کی عظمت، ملائکہ کی رفعت ،نزع کی کیفیت اور آخرت
108- فرائضِ اسلام اور علم وعمل کے متعلق فرمایا
109- دنیا کی بے ثباتی کے متعلق فرمایا
110- ملک الموت کے قبضِ رُوح کرنے کے متعلق فرمایا
111- دنیا اور اہل دنیا کے متعلق فرمایا
112- زہد و تقویٰ اور زادِ عقبیٰ کی اہمیت کے متعلق
113- طلب باران کے سلسلہ میں فرمایا
114- آخرت کی حالت اور حجاج ابن یوسف ثقفی کے مظالم کے متعلق
115- خدا کی راہ میں جان و مال سے جہاد کرنے کے متعلق فرمایا
116- اپنے دوستوں کی حالت اور اپنی اولیت کے متعلق فرمایا
117- جب اپنے ساتھیوں کو دعوت جہاد دی اور وہ خاموش رہے تو فرمایا
118- اہل بیتؑ کی عظمت اور قوانین شریعت کی اہمیت کے متعلق فرمایا
119- تحکیم کے بارے میں آپؑ پر اعتراض کیا گیا تو فرمایا
120- جب خوارج تحکیم کے نہ ماننے پر اڑ گئے تو احتجاجاً فرمایا
121- جنگ کے موقع پر کمزور اور پست ہمتوں کی مدد کرنے کی سلسلہ میں
122- میدان صفین میں فنونِ جنگ کی تعلیم دیتے ہوئے فرمایا
123- تحکیم کو قبول کرنے کے وجوہ و اسباب
124- بیت المال کی برابر کی تقسیم پر اعتراض ہوا تو فرمایا
125- خوارج کے عقائد کے رد میں
126- بصرہ میں ہونے والے فتنوں، تباہ کاریوں اور حملوں کے متعلق
127- دنیا کی بے ثباتی اور اہل دنیا کی حالت
128- حضرت ابوذر کو مدینہ بدر کیا گیا تو فرمایا
129- خلافت کو قبول کرنے کی وجہ اور والی و حاکم کے اوصاف
130- موت سے ڈرانے اور پند و نصیحت کے سلسلہ میں فرمایا
131- خداوند ِعالم کی عظمت، قرآن کی اہمیت اور پیغمبرﷺ کی بعثت
132- جب مغیرہ بن اخنس نے عثمان کی حمایت میں بولنا چاہا تو فرمایا
133- غزوہ روم میں شرکت کے لیے مشورہ مانگا گیا تو فرمایا
134- اپنی نیت کے اخلاص اور مظلوم کی حمایت کے سلسلہ میں فرمایا
135- طلحہ و زبیر اور خونِ عثمان کے قصاص اور اپنی بیعت کے متعلق
136- ظہورِ حضرت قائم علیہ السلام کے وقت دُنیا کی حالت
137- شوریٰ کے موقع پر فرمایا
138- غیبت اور عیب جوئی سے ممانعت کے سلسلہ میں فرمایا
139- سُنی سُنائی باتوں کو سچا نہ سمجھنا چاہئے
140- بے محل داد و دہش سے ممانعت اور مال کا صحیح مصرف
141- طلبِ باران کے سلسلہ میں فرمایا
142- اہل بیتؑ راسخون فی العلم ہیں اور وہی امامت وخلافت کے اہل ہیں
143- دُنیا کی اہل دُنیا کے ساتھ روش اور بدعت و سنت کا بیان
144- جب حضرت عمر نے غزوہ فارس کیلئے مشورہ لیا تو فرمایا
145- بعثتِ پیغمبر کی غرض و غایت اور اُس زمانے کی حالت
146- طلحہ وزبیر کے متعلق فرمایا
147- موت سے کچھ قبل بطور وصیّت فرمایا
148- حضرت حجتؑ کی غیبت اور پیغمبرﷺ کے بعد لوگوں کی حالت
149- فتنوں میں لوگوں کی حالت اور ظلم اور اکل حرام سے اجتناب
150- خداوند عالم کی عظمت و جلالت کا تذکرہ اور معرفت امام کے متعلق
151- غفلت شعاروں، چوپاؤں، درندوں اور عورتوں کے عادات و خصائل
152- اہل بیتؑ کی توصیف، علم وعمل کا تلازم اور اعمال کا ثمرہ
153- چمگادڑ کی عجیب و غریب خلقت کے بارے میں
154- حضرت عائشہ کے عناد کی کیفیت اور فتنوں کی حالت
155- دُنیا کی بے ثباتی، پندو موعظت اور اعضاء و جوارح کی شہادت
156- بعثت پیغمبرﷺ کا تذکرہ، بنی اُمیّہ کے مظالم اور ان کا انجام
157- لوگوں کے ساتھ آپ کا حُسنِ سلوک اور ان کی لغزشوں سے چشم پوشی
158- خداوندِعالم کی توصیف ،خوف ورجاء، انبیاءؑ کی زندگی
159- دین اسلام کی عظمت اور دُنیا سے درس عبرت حاصل کرنے کی تعلیم
160- حضرتؑ کو خلافت سے الگ رکھنے کے وجوہ
161- اللہ کی توصیف، خلقت انسان اور ضروریات زندگی کی طرف رہنمائی
162- امیرالمومنینؑ کا عثمان سے مکالمہ اور ان کی دامادی پر ایک نظر
163- مور کی عجیب و غریب خلقت اور جنّت کے دلفریب مناظر
164- شفقت و مہربانی اور ظاہر و باطن کی تعلیم اور بنی امیہ کا زوال
165- حقوق و فرائض کی نگہداشت اور تمام معاملات میں اللہ سے خوف
166- جب لوگوں نے قاتلین عثمان سے قصاص لینے کی فرمائش کی تو فرمایا
167- جب اصحاب جمل بصرہ کی جانب روانہ ہوئے تو فرمایا
168- اہل بصرہ سے تحقیق حال کے لئے آنے والے شخص سے فرمایا
169- صفین میں جب دشمن سے دوبدو ہوکر لڑنے کا ارادہ کیا تو فرمایا
170- جب آپؑ پر حرص کا الزام رکھا گیا تو اس کی رد میں فرمایا
171- خلافت کا مستحق کون ہے اور ظاہری مسلمانوں سے جنگ کرنا
172- طلحہ بن عبیداللہ کے بارے میں فرمایا
173- غفلت کرنے والوں کو تنبیہ اور آپؑ کے علم کی ہمہ گیری
174- پند دو موعظت، قرآن کی عظمت اور ظلم کی اقسام
175- حکمین کے بارے میں فرمایا
176- خداوند عالم کی توصیف، دُنیا کی بے ثباتی اور اسباب زوال نعمت
177- جب پوچھا گیا کہ کیا آپؑ نے خدا کو دیکھا ہے تو فرمایا
178- اپنے اصحاب کی مذمت میں فرمایا
179- خوارج سے مل جانے کا تہیّہ کرنے والی جماعت سے فرمایا
180- خداوند عالم کی تنزیہ و تقدیس اور قدرت کی کا ر فرمائی
181- خداوند عالم کی توصیف، قرآن کی عظمت اور عذاب آخرت سے تخویف
182- جب «لا حکم الا اللہ» کا نعرہ لگایا گیا تو فرمایا
183- خداوند عالم کی عظمت و توصیف اور ٹڈی کی عجیب و غریب خلقت
184- مسائل الٰہیات کے بُنیادی اُصول کا تذکرہ
185- فتنوں کے ابھرنے اور رزقِ حلال کے ناپید ہو جانے کے بارے میں
186- خداوند عالم کے احسانات، مرنے والوں کی حالت اور بے ثباتی دنیا
187- پختہ اور متزلزل ایمان اور دعویٰ سلونی «قبل ان تفقدونی»
188- تقویٰ کی اہمیت، ہولناکی قبر، اللہ، رسول اور اہل بیت کی معرفت
189- خداوند عالم کی توصیف، تقویٰ کی نصیحت، دنیا اور اہل دنیا
190- (خطبہ قاصعہ) جس میں ابلیس کی مذمت ہے۔
191- متقین کے اوصاف اور نصیحت پذیر طبیعتوں پر موعظت کا اثر
192- پیغمبر ﷺکی بعثت، قبائلِ عرب کی عداوت اور منافقین کی حالت
193- خداوند عالم کی توصیف، تقویٰ کی نصیحت اور قیامت کی کیفیت
194- بعثتِ پیغمبرؐ کے وقت دنیا کی حالت، دنیا کی بے ثباتی
195- حضورﷺ کے ساتھ آپؑ کی خصوصیات اور حضور ﷺ کی تجہیز و تکفین
196- خداوند عالم کے علم کی ہمہ گیری، تقویٰ کے فوائد
197- نماز، زکوٰة اور امانت کے بارے میں فرمایا
198- معاویہ کی غداری و فریب کاری اور غداروں کا انجام
199- راہ ہدایت پر چلنے والوں کی کمی اور قوم ثمود کا تذکرہ
200- جناب سیدہ سلام اللہ علیہا کے دفن کے موقع پر فرمایا
201- دنیا کی بے ثباتی اور زاد آخرت مہیا کرنے کے لیے فرمایا
202- اپنے اصحاب کو عقبیٰ کے خطرات سے متنبہ کرتے ہوئے فرمایا
203- طلحہ و زبیر نے مشورہ نہ کرنے کا شکوہ کیا تو فرمایا
204- صفین میں شامیوں پر شب و ستم کیا گیا تو فرمایا
205- جب امام حسنؑ صفین کے میدان میں تیزی سے بڑھے تو فرمایا
206- صفین میں لشکر تحکیم کے سلسلہ میں سرکشی پر اُتر آیا تو فرمایا
207- علاء ابن زیاد حارثی کی عیادت کو موقع پر فرمایا
208- اختلاف احادیث کے وجوہ و اسباب اور رواة حدیث کے اقسام
209- خداوند عالم کی عظمت اور زمین و آسمان اور دریاؤں کی خلقت
210- حق کی حمایت سے ہاتھ اٹھا لینے والوں کے بارے میں فرمایا
211- خداوند عالم کی عظمت اور پیغمبرؐ کی توصیف و مدحت
212- پیغمبرﷺ کی خاندانی شرافت اور نیکو کاروں کے اوصاف
213- آپؑ کے دُعائیہ کلمات
214- حکمران اور رعیّت کے باہمی حقوق کے بارے میں فرمایا
215- قریش کے مظالم کے متعلق فر مایا اور بصرہ پر چڑھائی کے متعلق
216- طلحہ اور عبد الرحمن بن عتاب کو مقتول دیکھا تو فرمایا
217- متقی و پرہیزگار کے اوصاف
218- ”الہاکم التکاثر حتی زرتم المقابر“ کی تلاوت کے وقت فرمایا
219- ” رجال لا تلہیھم تجارة و لا بیع عن ذکر اللہ “ کی تلاوت کے وق
220- ” یا اٴیھا الانسان ما غرّک بربک الکریم “ کی تلاوت کے وقت فرم
221- ظلم و غصب سے کنارہ کشی، عقیل کی حالت فقر و احتیاج، اور اشعث
222- آپؑ کے دُعائیہ کلمات
223- دنیا کی بے ثباتی اور اہل قبور کی حالت بے چارگی
224- آپؑ کے دُعائیہ کلمات
225- انتشار و فتنہ سے قبل دنیا سے اٹھ جانے والوں کے متعلق فرمایا
226- اپنی بیعت کے متعلق فرمایا
227- تقویٰ کی نصیحت موت سے خائف رہنے اور زہد اختیار کرنے کے متعلق
228- جب بصرہ کی طرف روانہ ہوئے تو فرمایا
229- عبد اللہ ابن زمعہ نے آپؑ سے مال طلب کیا تو فرمایا
230- جب جعدہ ابن ہبیرہ خطبہ نہ دے سکے تو فرمایا
231- لوگوں کے اختلاف صورت و سیرت کی وجوہ و اسباب
232- پیغمبر ﷺ کو غسل و کفن دیتے وقت فرمایا
233- ہجرتِ پیغمبر ﷺ کے بعد اُن کے عقب میں روانہ ہونے کے متعلق
234- زادِ آخرت مہیا کرنے اور موت سے پہلے عمل بجا لانے کے متعلق
235- حکمین کے بارے میں فرمایا اور اہل شام کی مذمت میں فرمایا
236- آلِ محمدؑ کی توصیف اور روایت میں عقل و درایت سے کام لینا
237- جب عثمان نے ینبع چلے جانے کے لیے پیغام بھجوایا تو فرمایا
238- اصحاب کو آمادہ جنگ کرنے اور آرام طلبی سے بچنے کے لئے فرمایا

Quick Contact

جو اپنے نفس کی تعلیم و تادیب کرلے وہ دوسروں کی تعلیم و تادیب کرنے والے سے زیادہ احترام کا مستحق ہے۔ حکمت 73
(١١) وَ مِنْ كَلَامٍ لَّهٗ عَلَیْهِ السَّلَامُ
خطبہ (۱۱)
لِابْنِهٖ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَنَفِيِّةِ لَمَّاۤ اَعْطَاهُ الرَّايَةَ يَوْمَ الْجَمَلِ:
جب جنگ جمل میں عَلم اپنے فرزند محمد بن حنفیہ [۱] کو دیا تو ان سے فرمایا:
تَزُوْلُ الْجِبَالُ وَ لَا تَزُلْ، عَضَّ عَلٰى نَاجِذِكَ، اَعِرِ اللهَ جُمْجُمَتَكَ، تِدْ فِی الْاَرْضِ قَدَمَكَ، اِرْمِ بِبَصَرِكَ اَقْصَى الْقَوْمِ، وَ غُضَّ بَصَرَكَ، وَ اعْلَمْ اَنَّ النَّصْرَ مِنْ عِنْدِ اللهِ سُبْحَانَهٗ.
پہاڑ اپنی جگہ چھوڑ دیں مگر تم اپنی جگہ سے نہ ہٹنا، اپنے دانتوں کو بھینچ لینا، اپنا کاسۂ سر اللہ کو عاریت دے دینا، اپنے قدم زمین میں گاڑ دینا، لشکر کی آخری صفوں پر اپنی نظر رکھنا اور (دشمن کی کثرت و طاقت سے) آنکھوں کو بند کر لینا اور یقین رکھنا کہ مدد خدا ہی کی طرف سے ہوتی ہے۔ [۲]

۱؂محمد بن حنفیہ
’’محمد ابن حنفیہ‘‘ امیر المومنین علیہ السلام کے صاحبزادے تھے اور مادری نسبت سے انہیں ’’ابن حنفیہ‘‘ کہا جاتا ہے۔ ان کی والدہ گرامی کا نام ’’خولہ بنت جعفر‘‘ تھا جو قبیلہ بنی حنیفہ کی نسبت سے ’’حنفیہ‘‘ کے لقب سے یاد کی جاتی تھیں۔ جب اہل یمامہ کو زکوٰة کے روک لینے پر مرتد قرار دے کر قتل و غارت کیا گیا اور ان کی عورتوں کو کنیزوں کی صورت میں مدینہ لایا گیا تو ان کے ساتھ آپ بھی وارد مدینہ ہوئیں۔ جب ان کے قبیلہ والے اس پر مطلع ہوئے تو وہ امیر المومنینؑ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور ان سے خواہش کی کہ وہ انہیں کنیزی کے داغ سے بچا کر ان کی خاندانی عزت و شرافت کو بچائیں۔ چنانچہ حضرتؑ نے انہیں خرید کر آزاد کر دیا اور بعد میں ان سے عقد کیا اور ’’محمد‘‘ کی ولادت ہوئی۔
بیشتر مؤرخین نے ان کی کنیت ’’ابو القاسم‘‘ تحریر کی ہے۔چنانچہ صاحبِ استیعاب نے ابو راشد ابن حفص زہری کا یہ قول نقل کیا ہے کہ:
میں نے صحابہ زادوں میں سے چار ایسے افراد دیکھے ہیں جن میں سے ہر ایک کا نام محمد اور کنیت ابو القاسم تھی:
(۱) محمد ابنِ حنفیہ، (۲) محمد ابنِ ابو بکر، (۳)محمد ابنِ طلحہ، (۴) محمد ابنِ سعد‘‘۔
اس کے بعد تحریر ہے کہ:
’’محمد ابنِ طلحہ‘‘ کا نام اور کنیت پیغمبر ﷺ نے رکھی تھی۔[۱]
اور واقدی نے لکھا ہے کہ: محمد ابنِ ابی بکر کا نام اور کنیت حضرت عائشہ نے تجویز کی تھی۔[۲]
بظاہر پیغمبر اکرم ﷺ کا محمد ابنِ طلحہ کیلئے اس نام اور کنیت کو جمع کر دینا درست نہیں معلوم ہوتا، کیونکہ بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ پیغمبر ﷺ نے اس کو امیر المومنین علیہ السلام کے ایک فرزند کیلئے مخصوص کر دیا تھا اور ’’وہ محمد ابنِ حنفیہ‘‘ تھے۔ چنانچہ ابنِ خلکان نے محمد ابنِ حنفیہ کے حالات کے ضمن میں لکھا ہے:
وَ اَمَّا كُنْيَتُهٗ بِاَبِی الْقَاسِمِ فَيُقَالُ: اِنَّهَا رُخْصَةٌ مِّنْ رَّسُوْلِ اللهِ ﷺ، وَ اِنَّهٗ قَالَ لِعَلِیٍّ رَّضِیَ اللهُ عَنْهُ: سَيُوْلَدُ لَكَ بَعْدِیْ غُلَامٌ وَّ قَدْ نَحَلْتُهُ اسْمِیْ وَ كُنْيَتِیْ وَ لَا تَحُلُّ لِاَحَدٍ مِنْ اُمَّتِیْ بَعْدَهٗ.
لیکن ان کی کنیت ابو القاسم اس بنا پر تھی جو کہا جاتا ہے کہ: یہ رسول اللہ ﷺ کی خصوصی اجازت تھی کہ آپؐ نے علی ابنِ ابی طالب علیہ السلام سے فرمایا کہ: میرے بعد تمہارے ہاں ایک لڑکا پیدا ہو گا، میں نے اسے اپنا نام اور اپنی کنیت عطا کی ہے اور اس کے بعد میری اُمت میں سے کسی کیلئے اس کنیت اور نام کو جمع کرنا جائز نہ ہو گا۔ (وفیات الاعیان، ج۱، ص۴۴۹)
اس قول کے پیش نظر کیونکر یہ صحیح سمجھا جا سکتا ہے کہ پیغمبر ﷺ نے اس نام اور کنیت کو کسی اور کیلئے بھی جمع کر دیا ہو گا،جب کہ خصوصی اجازت کے معنی ہی یہ ہوتے ہیں کہ کوئی دوسرا اس میں شریک نہ ہو اور پھر بعض لوگوں نے ’’ابن طلحہ‘‘ کی کنیت ’’ابوالقاسم‘‘ کے بجائے ’’ابو سلیمان‘‘ تحریر کی ہے جس سے ہمارے مسلک کو مزید تائید حاصل ہوتی ہے۔ یوں ہی محمد ابنِ ابی بکر کی کنیت اگر اس بنا پر تھی کہ ان کے بیٹے کا نام قاسم تھا جو فقہائے مدینہ میں سے تھے تو حضرت عائشہ کے یہ کنیت تجویز کرنے کے کیا معنی؟ اور اگر نام کے ساتھ ہی کنیت تجویز کر دی تھی تو بعد میں محمد بن ابی بکر نے اس چیز کو کیونکر گوارا کر لیا ہوگا، جب کہ امیر المومنین علیہ السلام کے زیرِ سایہ پرورش پانے کی وجہ سے پیغمبر ﷺ کا یہ ارشاد ان سے مخفی نہیں رہ سکتا تھا اور پھر یہ کہ اکثر لوگوں نے ان کی کنیت ’’ابو عبد الرحمن‘‘ لکھی ہے جس سے ابو راشد کے قول کو ضعف پہنچتا ہے۔
ان لوگوں کی کنیت کا ابو القاسم ہونا تو درکنار خود ابن حنفیہ کی بھی یہ کنیت ثابت نہیں ہے۔ اگرچہ ابن خلکان نے امیر المومنین علیہ السلام کے اس فرزند سے کہ جس کیلئے پیغمبر ﷺ نے یہ خصوصیت قرار دی ہے محمد ابن حنفیہ ہی کو مراد لیا ہے، مگر علامہ مامقانی تحریر کرتے ہیں کہ:
ھٰذَا التَّطْبِیْقُ مِنِ ابْنِ خَلَکَانَ اشْتِبَاہٌ، وَ اِنَّمَا الْمُرَادُ بِالذَّكَرِ الَّذِىْ يُوْلَدُ لِعَلِىٍّ ؑ وَ لَا یَحِلُّ لِغَیْرِہِ الْجَمْعُ بَیْنَ اسْمِہٖ و کُنْیَتِہٖ ﷺ، ھُوَ الْحُجَّۃُ الْمُنْتَظَرُ اَرْوَاحُنَا فِدَاہُ دَوْنَ مُحَمَّدِ ابْنِ الْحَنَفِیَّۃِ، وَ کَوْنُ مُحَمَّدِ ابْنِ الْحَنَفِیَّۃِ اَبَا الْقَاسِمِ غَيْرُ مُسَلَّمٍ، وَ اِنَّمَا ذَكَرَهٗ بَعْضُ الْعَامَّةِ غَفْلَةً عَنِ الْمُرَادِ بِالْوَلَدِ الْمَذْكُوْرِ فِی النَّبَوِیِّ ﷺ.
اس حدیث کو محمد ابن حنفیہ پر منطبق کرنے میں ابنِ خلکان کو اشتباہ ہوا ہے، کیونکہ امیر المومنین علیہ السلام کے اس فرزند سے مراد کہ جس کے علاوہ کسی اور کیلئے نام اور کنیت کو جمع کرنا جائز نہیں ہے، وہ حضرت حجت (ارواحنا فداہ) ہیں نہ محمد ابن حنفیہ اور نہ ان کی کنیت ابوالقاسم ثابت ہے، بلکہ اہل سنت نے مرادِ پیغمبرؐ سے غافل رہنے کی بنا پر اس سے محمد ابن حنفیہ کو مراد لے لیا ہے۔[۳]
بہر حال محمد ابن حنفیہ صلاح و تقویٰ میں نمایاں، زہد و عبادت میں ممتاز، علم و فضل میں بلند مرتبہ اور باپ کی شجاعت کے ورثہ دار تھے۔ جمل و صفین میں ان کے کارناموں نے ان کی شجاعت و بے جگری کی ایسی دھاک عرب پر بٹھا دی تھی کہ اچھے اچھے شاہ زور آپ کے نام سے کانپ اٹھتے تھے اور امیر المومنین علیہ السلام کو بھی ان کی ہمت و شجاعت پر ناز تھا اور ہمیشہ معرکوں میں انہیں آگے آگے رکھتے تھے۔
چنانچہ شیخ بہائی علیہ الرحمہ نے کشکول میں تحریر کیا ہے کہ:
علی ابن ابی طالب علیہ السلام انہیں جنگوں میں پیش پیش رکھتے تھے اور حسن و حسین علیہما السلام کو معرکوں میں پیش قدمی کی اجازت نہ دیتے تھے اور یہ فرمایا کرتے تھے کہ: «ھُوَ وَلَدِیْ وَ ھُمَا ابْنَا رَسُوْلِ اللہِ» : ’’یہ میرا بیٹا ہے اور وہ دونوں رسول ﷺ کے بیٹے ہیں‘‘، اور جب ایک خارجی نے ابن حنفیہ سے یہ کہا کہ: علیؑ تمہیں جنگ کے شعلوں میں دھکیل دیتے ہیں اور حسنؑ و حسینؑ کو بچالے جاتے ہیں تو آپ نے کہا کہ: «اَنَا یَمِیْنُہٗ وَ ھُمَا عَیْنَاہُ، فَھُوَ یَدْفَعُ عَنْ عَیْنَیْہِ بِیَمِیْنِہٖ» : ’’میں ان کا دست و بازو تھا اور وہ دونوں بمنزلہ آنکھوں کے تھے اور وہ ہاتھ سے آنکھوں کی حفاظت کیا کرتے تھے‘‘۔[۴]
لیکن علامہ مامقانی نے تنقیح المقال میں لکھا ہے کہ:
یہ ابن حنیفہ کا جواب نہیں بلکہ خود امیر المومنین علیہ السلام کا ارشاد ہے کہ جب جنگِ صفین میں محمد نے شکوہ آمیز لہجے میں آپؑ سے اس کا ذکر کیا تو آپؑ نے فرمایا کہ: تو میرا ہاتھ ہے اور وہ میری آنکھیں ہیں، لہٰذا ہاتھ کو آنکھوں کی حفاظت کرنا چاہئے۔[۵]
بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ پہلے امیر المومنین علیہ السلام نے محمد ابن حنفیہ کو یہ جواب دیا ہو گا اور بعد میں کسی نے محمد ابن حنفیہ سے اس چیز کا ذکر کیا ہو گا تو انہوں نے اس جواب کو پیش کر دیا ہو گا کہ اس سے زیادہ بلیغ جواب ہو نہیں سکتا اور اس جملہ کی بلاغت سے اس کی تائید ہوتی ہے کہ یہ پہلے علی ابن ابی طالب علیہ السلام کی زبانِ بلاغت ترجمان ہی سے نکلا ہے کہ جسے بعد میں محمد ابن حنفیہ نے اپنا لیا ہے۔ اس لئے یہ دونوں روایتیں صحیح سمجھی جا سکتی ہیں اور ان میں کوئی منافات نہیں۔
بہر صورت آپ عہد ثانی میں پیدا ہوئے اور عبدالملک ابنِ مروان کے دورِ حکومت میں ۶۵ سال کی عمر میں انتقال فرمایا۔ سنہ وفات بعض نے ۸۰ ھ اور بعض نے ۸۱ ھ لکھا ہے اور محلِ وفات میں بھی اختلاف ہے۔ بعض نے ’’مدینہ‘‘، بعض نے ’’ایلہ‘‘ اور بعض نے ’’طائف‘‘ تحریر کیا ہے۔
۲؂جب جنگِ جمل میں محمد ابن حنفیہ کو میدان کی طرف بھیجا تو ان سے فرمایا کہ: بیٹا کوهِ عزم و ثبات بن کر دشمن کے سامنے اس طرح جم جاؤ کہ تمہیں فوج کے ریلے جنبش نہ دے سکیں اور دانت پیس کر دشمن پر حملہ کرو، کیونکہ دانت پر دانت جما لینے سے سر کے اعصاب میں تناؤ پیدا ہو جاتا ہے جس سے تلوار کا وار اُچٹ جاتا ہے۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر فرمایا ہے:
وَ عَضُّوْا عَلَى النَّوَاجِذِ، فَاِنَّهٗ اَنْۢبٰى لِلسُّيُوْفِ عَنِ الْهَامِ.
دانتوں کو بھنچ لو کہ اس سے تلوار کی دھار سر سے اچٹ جاتی ہے۔[۶]
پھر فرماتے ہیں کہ: بیٹا اپنا سر اللہ کو عاریت دے دو، تا کہ اس حیاتِ فانی کے بدلے حیاتِ باقی حاصل کر سکو۔ کیونکہ عاریت دی ہوئی چیز کے واپس لینے کا حق ہوتا ہے، لہٰذا جان سے بے نیاز ہو کر لڑو۔ اور یوں بھی اگر خیال جان میں اٹکا رہے گا تو مہلکوں میں قدم رکھنے سے ہچکچاؤ گے جس سے تمہاری شجاعت پر حرف آئے گا اور دیکھو اپنے قدموں کو ڈگمگانے نہ دو، کیونکہ قدموں کی لغزش سے دشمن کی ہمت بڑھ جایا کرتی ہے اور اکھڑے ہوئے قدم حریف کے قدم جما دیا کرتے ہیں اور آخری صفوں کو اپنا مطمح نظر بناؤ تا کہ دشمن تمہارے عزم کی بلندیوں سے مرعوب ہو جائیں اور ان کی صفوں کو چیر کر نکل جانے میں تمہیں آسانی ہو اور ان کی نقل و حرکت بھی تم سے مخفی نہ رہے اور دیکھو ان کی کثرت کو نگاہ میں نہ لانا ورنہ حوصلہ پست اور ہمت ٹوٹ جائے گی۔ اس جملہ کے یہ معنی بھی ہو سکتے ہیں کہ: اس طرح آنکھیں پھاڑ کر نہ دیکھنا کہ ہتھیاروں کی چمک دمک نگاہوں میں خیرگی پیدا کر دے اور دشمن اس سے فائدہ اٹھا کر وار کر بیٹھے۔ اور اس چیز کو ہمیشہ پیش نظر رکھو کہ فتح و کامرانی اللہ کی طرف سے ہوتی ہے۔ ﴿اِنْ يَّنْصُرْكُمُ اللّٰهُ فَلَا غَالِبَ لَـكُمْ‌ۚ﴾[۷]: ’’اگر اللہ نے تمہاری مدد کی تو پھر کوئی تم پر غالب نہیں آ سکتا‘‘۔لہٰذا مادی اسباب پر بھروسا کرنے کے بجائے اس کی تائید و نصرت کا سہارا ڈھونڈو۔

[۱]۔ الاستیعاب فی معرفۃ الاصحاب، ابن عبد البر، ج۳، ص ۱۳۷۱-۱۳۷۲ مطبوعہ دار الجیل، بیروت، ۱۹۹۲ء ، طبعہ الاولیٰ۔
[۲]۔ الاستیعاب فی معرفۃ الاصحاب، ج ۳، ص ۱۳۶۶۔
[۳]۔ تنقیح المقال، علامہ مقامانی، ج ۳، ص ۱۱۲۔
[۴]۔ کشکول شیخ بہائی، ج ۳، ص ۹۲۔
[۵]۔ تنقیح المقال، ج ۳، ص ۱۱۲۔
[۶]۔ نہج البلاغہ، خطبہ ۶۴۔
[۷]۔ سورۂ آل عمران، آیت ۱۶۰۔